حجاب کا مسئلہ، مرد و خواتین کیا کریں؟ محمد عامر خاکوانی

میں اس کا حامی ہوں کہ مردوں کو غض بصر سے کام لینا چاہیے یعنی دیدے پھاڑ پھاڑ کر خواتین کو دیکھنے کے بجائے اپنی آنکھیں نیچے کر لینی چاہییں۔ اس کی تلقین بھی کرنی چاہیے۔ یہ بات، سوچ پھیلانی چاہیے۔ اس کے لیے اپنے نفس پر جبر کرنا پڑتا ہے، مشکل کام ہے، مگر ظاہر ہے کوشش کرنی چاہیے، اسی یقینی بنانا چاہیے۔ اس کے باوجود میں اس کا بھی حامی ہوں کہ خواتین کو مناسب لباس میں، اپنے جسم کو اچھی طرح سے ڈھانپ کر باہر نکلنا چاہیے۔

میرے لیے یہ تو ممکن نہیں کہ میں سماج میں، اپنے ارد گرد کے تمام مردوں کو آنکھیں نیچے کرنے پر قائل، مجبور کر سکوں۔ یہ تو بسا اوقات جنگ و جدل کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ البتہ ممکن ہے کہ اپنے قریبی رشتوں، اپنی بیوی، اپنی بیٹی کو سلیقے سے سمجھاؤں کہ باہر نکلتے وقت ایسا لباس پہنیں جس میں ان کا جسم مناسب طریقے سے ڈھانپا ہو، پردے کی ضرورت پوری ہو رہی ہو۔ عبایا یا نقاب نہ سہی، مگر چادر سلیقے سے اوڑھی ہو۔ چست، جسم کو نمایاں کرنے والا لباس نہ ہو۔ گھر میں کبھی خواتین قدرے ریلیکس لباس میں پھر رہی ہوتی ہیں، انہیں توجہ دلائی جائے کہ باہر نکلنے کا لباس نسبتاً مختلف، زیادہ ڈیسنٹ اور ساتر ہونا چاہیے ۔

مجھے یہ دلیل سمجھ نہیں آ سکتی کہ بچیوں، لڑکیوں، خواتین کو ساتر لباس پہننے کا نہ کہا جائے اور مردوں سے مطالبہ کیا جائے کہ ہم تو جو جی چاہے گا پہنیں گی، مگر آپ لوگ اپنی آنکھیں نیچے رکھیں۔ یہ دلیل لغو ہے۔ ہم عام زندگی میں دوسروں سے مطالبہ کم اور اپنے طور پر اپنے معاملات کی حفاظت کی تدبیر زیادہ کرتے ہیں۔ سماج کا فرض ہے کہ وہ کسی دوسرے کے مال کو نہ چُرائے، ہم مگر انھیں یہ اخلاقی درس دینے تک نہیں رہتے، اپنی حفاظت کا بھرپور انتظام کرتے ہیں، حتیٰ کہ سکیورٹی گارڈز رکھنے پڑیں تو رکھتے ہیں۔ بازار جائیں تو دکاندار کو من پسند نرخ دینے کے باوجود بھی خطرہ ہوتا ہے کہ وہ غلط چیز دے گا تو پوری چھان بین کر کےاس پر نظر رکھ کر اچھی خریداری کو یقینی بناتے ہیں۔ اسی طرح زندگی کے دیگرمعاملات میں ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   لبرلز کی خوشنودی کے لیے عمران، نواز ایک ہو گئے - انصار عباسی

میں اس پر البتہ یکسو ہوں کہ مطالبہ صرف خواتین سے نہیں کرنا چاہیے، مردوں کو بھی اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔ یہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا حکم ہے۔ آنکھیں نیچی اللہ کا حکم مانتے ہوئے کریں اور اس کے بہتر اجر کی امید رکھیں۔ ریاست کو بھی چاہیے کہ وہ خواتین کی ہراسمنٹ کے حوالے سے غیر معمولی مستعدی کرے، آوازے کسنے، بدتمیزی کرنے والے یا اس سے بھی آگے بڑھنے والوں کو نشان عبرت بنائے۔ یہ انتظامیہ، سماج دونوں کی ذمہ داری ہے۔

خواتین کا ساتر لباس میں ملبوس ہونا بھی ان کی ذمہ داری ہے۔ یہ مردوں کا بھی حق ہے۔

یہ یاد رہے کہ معصوم بچیوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے بدبخت جنونی یا خواتین پر درندوں کی طرح حملہ آور ہونے والے مستثنیات میں سے ہیں، ایسے درندوں کو بھیانک سزائیں دینی چاہییں۔ ان کے نزدیک صنف نازک کچا گوشت ہے، ان کے نزدیک معصوم بچیاں یا بچے بھی صرف گوشت ہی ہیں۔ ان ذہنی بیماروں والا معاملہ الگ ہے، دین نے ان کے لیے سخت ترین سزائیں تجویز کر رکھی ہیں، قوانین پر عملدرآمد ہو اور اس کے ساتھ ساتھ ان نفسیاتی مسائل کو سلجھانے کی بھی گراس روٹ لیول پر کوششیں ہوں۔ تاہم اس کا مقصد یہ نہیں کہ مرد اور عورت دونوں اپنی ذمہ داری سے غافل ہوں۔ دونوں کو اپنے اپنے دائرے میں کچھ باتیں کرنے، کچھ نہ کرنے کا حکم ہے۔ وہ انھیں پورا کرنا ہی ہوگا۔ ریاست ان احکام پر عملدرآمد کرائے، مگر یہ سب سلیقے، قرینے سے ہو۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.