عمران خان کی ناکامی، اصل وجہ کیا ہے؟ محمد عامر خاکوانی

چند دن پہلے کتابوں کی ایک نمائش میں گیا۔ اس پر کالم بھی لکھا تھا۔ کتابیں خریدنے کے بعد ادائیگی کے لیے قطار میں لگ گیا۔ خاصی طویل قطار تھی۔ کچھ دیر انتظار کرنا پڑا۔ پیچھے کھڑے دو نوجوان وقت گزاری کی خاطر گفتگو کر رہے تھے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی ان کی باتیں سننا پڑیں۔ دونوں نوجوانوں نے پچھلے سال انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کو ووٹ دیا تھا۔ عمران خان کے لیے وہ حسن ظن رکھتے اور شریف خاندان سے سخت نالاں تھے۔ نرم گوشے کے باوجود انہیں تشویش تھی کہ عمران خان کی ناقص گورننس سے کاروبار بالکل تباہ ہوگیا ہے۔ ایک کا تعلق کنسٹرکشن سے جبکہ دوسرا آئی ٹی کے حوالے سے سامان منگوانے کے شعبہ سے تعلق رکھتا تھا۔ تعمیرات کے شعبے والا بتا رہا تھا کہ مارکیٹ بالکل بیٹھ گئی ہے، نئے پراجیکٹ شروع ہو رہے ہیں نہ ہی خریدار موجود ہیں۔ کہنے لگا پچھلے دس پندرہ برسوں میں ایسی بری صورتحال کبھی نہیں دیکھی گئی۔ دوسرا نوجوان ڈالر کی قیمت میں غیر معمولی اضافے پر دل برداشتہ تھا، جس کے باعث ان کا شعبہ برباد ہوگیا۔ کہنے لگا کہ ڈالر کی پرواز کی وجہ سے صرف ہماری نہیں بلکہ بہت سے شعبوں کی مارکیٹ شدید متاثر ہوئی ہے۔ میں نے کنسٹرکشن والے نوجوان سے پوچھا کہ وجہ کیا ہے؟ کہنے لگا، مارکیٹ میں کیش فلو ہے ہی نہیں۔ حکومت نے کئی بڑے پراجیکٹس کی پیمنٹس روکی ہوئی ہیں۔ بلڈرز کے پاس پیسہ ہی نہیں تو وہ اگلے پراجیکٹس کہاں سے شروع کریں؟

اس سے ملتی جلتی کہانیاں ہر جگہ سننے میں مل رہی ہیں۔ جہاں جاؤ کوئی نہ کوئی دل گرفتہ شخص اپنی پریشان کن کہانی لیے مل جائے گا۔ دو تین دن پہلے ایک جاننے والے نے بتایا کہ فیڈ کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے سے پولٹری انڈسٹری تباہ ہوگئی ہے، کئی کئی ہزار مرغیوں کے شیڈ والے رُل گئے ہیں اور ان کے خرچے پورے نہیں ہو رہے۔ اگلے روز مجھے کہیں جانا تھا، گاڑی کی عدم دستیابی کی وجہ سے کریم منگوائی۔ اس کا کیپٹن (ڈرائیور) نہایت معقول صورت، خاصا کھاتا پیتا آدمی لگ رہا تھا۔ چند منٹ بعد تصدیق ہوگئی۔ بتانے لگے کہ میرا رئیل اسٹیٹ کا بزنس ہے، کاروبار آج کل بالکل ہی نہیں چل رہا تو مجبورا کریم چلانی پڑ رہی ہے۔گاڑی اپنی ہے، جب کبھی کسی کلائنٹ کا فون آ جائے تو کریم کا کنکشن فون بند کر کے پلاٹ دکھانے چلا جاتا ہوں، ورنہ گاڑی چلاتے رہتے ہیں کہ چلو دال روٹی ہی چلتی رہے۔

مجھے اندازہ ہے کہ اس قسم کی باتوں پر حکومتی مؤقف کیا ہے۔ تحریک انصاف کے بہت سے لوگ میری فیس بک ٹائم لائن میں شامل ہیں، ان میں سے بعض نوجوان عرق ریزی سے حکومتی اقتصادی پالیسیوں کے فیوض و برکات بیان کرتے رہتے ہیں۔ معاشیات میرا مضمون نہیں۔ یہ سادہ بات مگر جانتا ہوں کہ اگر خلق خدا پریشان اور تنگ حال ہے تو حکومتی پالیسی میں غلطی ضرور ہے۔ آپ بازار خریداری کے لیے جائیں۔ مہنگائی کی خوفناک لہر سے واسطہ تو پڑے گاہی، مگر بیشتر جگہوں پر دکاندار سفاکانہ مسکراہٹ کے ساتھ یہ جملہ ضرور بولیں گے ، ”نیا پاکستان ہے، اب یہ ریٹ برداشت کریں۔“ ۔ بعض کہہ دیتے ہیں کہ ووٹ ہم نے بھی عمران خان کو دیا تھا، مگر اب پچھتا رہے ہیں۔ بال کٹوانے جانا پڑے، سفر میں کسی انتظار گاہ میں کچھ وقت گزارنا مطلوب ہو، ہر جگہ عوام سخت مایوس، دل برداشتہ نظر آتے ہیں۔ اگر غلطی سے کسی کاروباری فرد سے واسطہ پڑ جائے، امپورٹ ایکسپورٹ سے اس کا تعلق ہو تو پھر ان کی تلخ کلامی دیدنی ہوتی ہے۔ ایک تاثر ہر جگہ واضح، غیر مبہم انداز میں ملے گا کہ حکومت ناکام ہوچکی۔ عمران خان نہ صرف ناکام ہوئے بلکہ بری طرح ناکام۔ یہ ٹکڑا بھی لازمی شامل ہوگا کہ مستقبل قریب یا بعید میں بہتری کی بھی کوئی امید نہیں۔
گ
زشتہ روز ہارون الرشید صاحب نے اپنے کالم میں عمران خان کی ناکامی کا جائزہ لیا۔ تین اسباب گنوائے، ”عمران خان سیاست کو نہیں سمجھتا، معاشیات تو زیادہ پیچیدہ موضوع ہے، دوسراپہلے دن سے وہ ادنیٰ مشیروں میں گھرا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ان مشیروں کی علمی، اخلاقی سطح گرتی جا رہی ہے، ناقص سیاست دان، ناقص سول سرونٹ۔ تیسراعمران بری طرح اپنی برگزیدگی کے زعم میں مبتلا ہے، اس کا خیال ہے کہ اللہ کے کچھ منتخب بندے ہوتے ہیں، یقینا ہوتے ہیں، مگر ایک بات عمران نہیں سمجھ سکا کہ ان چُنے ہوئے لوگوں کو قوانین قدرت سے استثنا نہیں دیا جا سکتا۔ تجزیہ ناقص ہو تو عمل بےثمر۔ اپنی ذات سے اوپر اٹھنا ہوتا ہے، وہ نہیں اٹھ سکتا۔ ابھی تک نہیں اٹھ سکا۔“

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان کی اقوام متحدہ میں تقریر کا اک انتہائی اہم پہلو - محمد عبداللہ

ہارون صاحب کے تجزیے سے مکمل اتفاق ہے، ایک دو افسوسناک اضافوں کے ساتھ۔ عمران خان کی ٹیم میں شامل بعض لوگ بظاہر دیکھنے میں معقول لگ رہے تھے، مگر انہوں نے شدید مایوس کیا، جیسے ڈاکٹر یاسمین راشد۔ کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ وہ مکمل طور پر ناکام ہو جائیں گی۔ اسی طرح شفقت محمود، ڈاکٹر شیریں مزاری وغیرہ سے بھی کچھ بہتر امیدیں تھیں، انہوں نے رَج کر ہر ایک کو مایوس کیا۔ عمران خان کی اصل غلطی مگر ٹیم کے انتخاب میں کی گئی تباہ کن غلطیاں ہیں۔ جو لوگ پہلی نظر ہی میں اہل نہیں لگتے، جن سے منطقی طور پر کوئی توقع نہیں کی جا سکتی تھی، انھیں اہم ترین ذمہ داری سونپ دینا توسمجھ سے بالاتر ہے۔

پچھلی نشست میں ذکر آیا، مکرر عرض ہے کہ پنجاب میں متحرک، فعال، اہل وزیراعلیٰ کے بغیر وزیراعظم ڈیلیور نہیں کر سکتے۔ کمزور، اوسط سے کم درجے کی صلاحیت رکھنے والا وزیراعلیٰ منتخب کر کے کوئی بھی وزیراعظم بہتر نتائج کی توقع نہیں کر سکتا۔ پنجاب عملی طور پر نصف سے زیادہ پاکستان ہے۔ اتنے بڑے صوبے کی گورننس شہباز شریف جیسے جنوں والی انرجی رکھنے والے شخص سے بھی نہیں ہوسکی۔ شہباز شریف عثمان بزدار سے سو گنا زیادہ متحرک، فعال اور بیدار مغز تھے، اپنی پسند کے بیوروکریٹ بھی اکٹھے کر لیے، قوانین میں تبدیلیاں کر کے اپنی من پسند پالیسیوں پر عمل کرنے کی گنجائش پیدا کر لی۔ اس کے باوجود کامیاب نہیں ہوسکے، کیونکہ موصوف ون مین شو کے حامی، اختیارات نیچے منتقل کرنے کے قائل نہیں تھے۔ ویژن بھی محدود تھا اور نچلی بیوروکریسی میں اعتماد بھی پیدا نہ کر سکے۔ عمران خان سے توقع تھی کہ وہ ماڈرن مینجمنٹ کو سمجھنے، سوشل سیکٹرز پر توجہ دینے والے کسی متحرک، مستعد شخص کا انتخاب کریں گے۔ چلیں تجربہ کار نہ سہی، مگر اس میں پوٹینشل تو ہو، انرجی اور کچھ کر دکھانے کا عزم رکھتا ہو۔ جو اضلاع میں اچھے، دیانت دار انتظامی اور پولیس افسران لگائے۔ رائٹ پرسن فار دی رائٹ جاب۔ اس سادہ اصول پر عمل کرنے والا ایک سمجھدار، دیانت دار وزیراعلیٰ پنجاب کو درکار تھا۔ عمران خان نے کس کا تحفہ دیا، عثمان بزدار ۔انھیں شاید ابھی تک یہ بھی معلوم نہیں ہوسکا کہ وہ ایوان اقتدار میں کیا کرنے آئے ہیں؟ سرائیکی وسیب سے منتخب کیا گیا، مگر وہ خود کو سرائیکی کہلانا بھی پسند نہیں کرتے۔ انھیں سرائیکی وسیب کی سب سے پسماندہ تحصیل تونسہ کے رکن اسمبلی کے طور پر منتخب کیا گیا۔ سرائیکیوں کے ساتھ وفا تو نبھائیں۔ بزدار صاحب پنجاب کے لیے تو کیا کر تے، سرائیکیوں کے لیے بھی کچھ نہیں کر سکے۔ انہیں یہ تک نہیں معلوم کہ سرائیکی خطے کے لیے پراجیکٹ شروع کرنا الگ ہے اور سرائیکی بولنے والے عوام کے دل کو چھونے کے لیے کیا کرنے کی ضرورت ہے؟ سرائیکی زبان، ادب، سرائیکی کلچر کے لیے انہوں نے کچھ نہیں کیا۔ وہ کر بھی نہیں سکتے۔ وہ تو اپنی آبائی تحصیل تونسہ کو ضلع بنانے کی جرات نہیں کر سکے۔ صوبے کی سب سے پسماندہ تحصیل ہے، ڈی جی خان سے نوے کلومیٹر کے فاصلے پر واقع۔ ضلع بننا تونسہ کا حق ہے۔ سنٹرل پنجاب میں کئی اضلاع پندرہ بیس منٹ کے سفر کے بعد شروع ہوجاتے ہیں، منڈی بہاؤالدین، حافظ آباد، ننکانہ وغیرہ۔ بہاولپور ڈویژن ایسا بدنصیب علاقہ ہے جہاں ایک ضلع دوسرے سے دو ڈھائی گھنٹے کے فاصلے پر واقع ہے۔ لاہور سے فیصل آباد کی مسافت سمجھ لیں۔ پچاس برسوں سے وہی تین اضلاع بہاولپور، بہاولنگر، رحیم یار خان ہیں۔ کسی نے نئے اضلاع بنانے کی زحمت نہیں کی۔ احمد پور شرقیہ قدیمی تحصیل ہے، نوابان بہاولپور کا مسکن۔ ہر اعتبار سے اسے ضلع بننا چاہیے۔ اسی طرح خان پور تاریخی شہر ہے، اسے ضلع بنانا چاہیے۔ بہاولنگر میں چشتیاں کو ضلع بنایا جا سکتا ہے۔ گوجرانوالہ چھ اضلاع پر مشتمل ڈویژن ہے۔ بہاولپور بھی چھ اضلاع پر مشتمل ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ثاقب نثار اور PTI حکومت کا مشترکہ ظلم - انصار عباسی

تھل ڈویژن تھل کے لوگوں کی دیرینہ خواہش ہے۔ ظلم ہی ہے کہ بھکر، میانوالی، نور پور تھل وغیرہ سرگودھا ڈویژن جبکہ لیہ ڈی جی خان ڈویژن میں ہے جبکہ جھنگ موڑ فیصل آباد ڈویژن میں۔ لیہ والوں کو اتنا دور ڈویژنل ہیڈ کوارٹر جانا پڑتا ہے۔ تھل ڈویژن بننا چاہیے جس کا مرکز لیہ یا میانوالی بنا دیں، جھنگ موڑ اور کچھ دیگر علاقے بھی اس میں آ سکتے ہیں۔ کیا یہ باتیں وزیراعلیٰ نہیں سمجھ سکتے؟ ان کے لیے آخر کس قدر پیسوں کی ضرورت ہے؟ چلیں سرائیکی یا جنوبی پنجاب صوبہ بنانے میں فنڈز کا مسئلہ آ رہا ہوگا یا پھر پنجاب اسمبلی سے منظوری کے مراحل درپیش ہوں گے، نئے اضلاع بنانے میں تاخیر کیوں؟ سرائیکی ادبی بورڈ، ایم اے سرائیکی والوں کے لیے کالجوں میں نشستیں، بورڈ میں ایف اے آپشنل سرائیکی کی منظوری میں کیا ممانعت ہے؟

عمران خان نے کرکٹرمنصور اختر کو قوم ٹیم میں شامل رکھنا اپنی انا کا مسئلہ بنایا۔ اگر وہ عثمان بزدار اور اسی قبیل کے دیگر ناکام ہونے والوں کے لیے بھی یہی سوچیں گے تو پھر بدترین ناکامی سے انہیں کوئی نہیں بچا سکتا۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.