جو آج صاحب مسند ہیں کل نہیں‘ ہوں گے - ارشاد احمد عارف

تحریک انصاف کی حکومت کو اُڑتا تیر بغل میں لینے کا شوق بہت ہے‘ کہیں مہنگا نہ پڑ جائے۔

وزیر اعظم عمران خان نیو یارک جانے کے لئے پابہ رکاب ہیں‘ گزشتہ پینتالیس دنوں میں پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت نے بین الاقوامی اداروں اورعالمی برادری کے سامنے بھارت اور نریندر مودی کا آمرانہ اور سفاکانہ چہرہ بے نقاب کیا‘ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں عمران خان یہ بتانے جا رہے ہیں کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اورسیکولر ریاست نے کشمیری عوام کوآزادی اظہار کے بنیادی انسانی حق سے محروم کر دیا ہے ‘جملہ ذرائع ابلاغ پر پابندی ہے اور الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کو یہ بتانے کی اجازت نہیں کہ مظلوم کشمیری عوام پر کیا بیتی؟ فروری میں پاک بھارت کشیدگی اور اگست میں یکطرفہ بھارتی اقدامات کے موقع پر پاکستانی میڈیا نے جو قابل فخر ذمہ دارانہ کردار ادا کیا اس کا اعتراف پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت ایک سے زائد بار کر چکی اور دنیا بھر میں یہ تسلیم کیا گیا کہ بھارتی میڈیا کے مقابلے میں پاکستانی میڈیا آزاداور ذمہ دار ہی نہیں امن کا علمبرداربھی ہے۔

منگل کی شام وفاقی کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس کے بعد وزیر اعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بریفنگ کا آغاز کیا تو اخبار نویس یہ سن کر حیران رہ گئے کہ پاکستان کے آزاد‘ خود مختار اور ذمہ دار میڈیا کی مشکیں کسنے کے لئے حکومت نے کمر باندھ لی ہے اور سپیشل میڈیا ٹربیونلز کے قیام کی منظوری دیدی گئی ہے جو عدالتوں‘ پیمرا اور دوسرے اداروں میں موجود تمام مقدمات کی سماعت کریں گے اور نوے روز میں فیصلہ سنانے کے پابند ہوں گے۔ پاکستان ان ممالک میں سرفہرست ہے جہاں مختلف شعبوں کے لئے امتیازی قوانین کی بھر مار ہے مگر کوئی شعبہ سدھرا ہے نہ جرائم و شکایات میں کمی واقع ہوئی۔ ہر سول اور فوجی حکمران نے انگریز دور کے قوانین کو ناکافی کہہ کر نئی قانون سازی کی ‘مگر مجال ہے کہ بہتری تو درکنار اصلاح احوال کی اُمید ہی پیداہوئی ہو۔ وہی عوام ہیں‘ مایوس‘ شکستہ دل‘ شاکی اور مضطرب ‘وسائل کے فقدان اور اختیارات کی کمی کا رونا روتی وہی پولیس اور بیورو کریسی ہے اور اپنے پیشروئوں کو کوستے‘ پولیس و بیوروکریسی کے عدم تعاون کا گلہ کرتے حکمران ہیں ‘اپنے اپنے فرائض سے غافل‘ حقوق و مراعات کے طلب گار۔

میڈیا میں کالی بھیڑیں ہیں‘ کون انکار کر سکتا ہے؟ بسا اوقات بے بنیاد خبروں ‘ جانبدارانہ تجزیہ اور غیر سنجیدہ ‘ بازاری مباحث سے قارئین و ناظرین کی دلآزاری ہوتی ہے اور طے شدہ آئینی ‘ قانونی اور اخلاقی حدود سے تجاوز کی شکایات بھی سامنے آتی ہیں۔ دوسرا کون سا شعبہ مگر اس سے مستثنیٰ ہے ۔میڈیا تک بے بنیاد خبریں پہنچانے‘ اہل قلم و کیمرہ کو دھن اور دھونس سے جانبداری پر قائل کرنے اور معاشرے میں کبھی بحیلہ مذہب کبھی بنام وطن گمراہی پھیلانے کا کارخیر سیاست‘ وکالت‘ عدلیہ‘ بیورو کریسی اور پولیس کے علاوہ دوسرے کئی عصمت مآب طبقوں کا من پسند مشغلہ ہے۔ اس حمام میں سب ننگے ہیں مگر امتیازی قوانین ہمیشہ اہل صحافت کے لئے تجویز کئے جاتے ہیں۔ ایوب خان سے لے کر عمران خان تک محمد خان جونیجو کے سوا کوئی سول و فوجی حکمران نہیں جس نے میڈیا کے گھوڑے پر کاٹھی ڈالنے کی کوشش نہ کی ہو‘ ناکامی ہر ایک کوہوئی‘ کوئی فوجی حکمران اس منہ زور گھوڑے کی دولتی برداشت کر سکا نہ منتخب سیاستدان‘ جنرل پرویز مشرف ہمارے حکمرانوں میں سب سے زیادہ قوت برداشت رکھتے اور مخالفانہ بات حوصلے سے سنتے تھے۔ ملک میں الیکٹرانک میڈیا کا آغاز ان کی اجازت سے ہوا مگر اقتدار کے آخری دنوں میں میڈیا کی آزادی انہیں بھی ہضم نہ ہوئی اور ایمرجنسی کے دنوں میں الیکٹرانک میڈیا پر پابندی لگا کر وہ اپنا کریڈٹ کھو بیٹھے۔

تمام تر خرابیوں کے باوجود آزاد میڈیا ایک آئینہ ہے جس میں معاشرہ اور حکمران منہ دیکھ کر اپنی خوبصورتی اور بدصورتی کا جائزہ لے سکتا ہے۔ سانحہ ماڈل ٹائون‘ سانحہ ساہیوال اور پانامہ سکینڈل ہماری قومی تاریخ کے تین ایسے اہم اور ناقابل فراموش واقعات ہیں آزاد میڈیا کے باعث جو عوامی توجہ کا مرکز بنے اور جن میں سے دو یعنی پانامہ اور سانحہ ماڈل ٹائون کا فائدہ عمران خان نے اٹھایا۔ نقصان ظاہر ہے میاں نواز شریف اور مسلم لیگ کو ہوا۔اگر آزاد میڈیا نہ ہوتا تو یہ سانحات ہفتہ دس دن کے بعد عوام کے حافظے سے محو ہو جاتے اور خواجہ آصف میاں نواز شریف سے خوب داد پاتے کہ واہ کیا پیش گوئی کی تھی‘ یہ کہنا بھی غلط نہیں کہ عمران خان کی کامیابی میں آزاد میڈیا کا حصہ سب سے زیادہ ہے جس نے 2018ء تک اس کی امیج بلڈنگ کی اور سابقہ حکمرانوں کی بداعمالیوں کو بے نقاب کیا۔

اپوزیشن کی صفوں میں بیٹھ کر عمران خان اور ان کے ساتھی آزاد میڈیا کے گن گاتے اور اسے ریاست کا مضبوط چوتھا ستون قرار دیتے ‘مگر اقتدار سنبھالتے ہی تحریک انصاف نے میڈیا کو نشانے پر رکھ لیا ہے۔ ناقدین یہ الزام لگاتے ہیں کہ حکومت سول اور خاکی بیورو کریسی کا رٹا یا سبق دہرا رہی ہے مگر عوام اور میڈیا کو جوابدہ بہرحال حکومت ہے جس طرح قدرت اللہ شہاب اور الطاف گوہر نے بعدازاں کتابیں اور مضامین لکھ کر اپنے گناہ بخشوا لئے‘ پریس اینڈ پبلیکیشنز آرڈیننس کا طوق آج تک ایوب خان کے گلے کا ہار ہے ۔اسی طرح میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی اور میڈیا ٹربیونلز کے قیام کی صورت میں کسی کو یہ تو یاد نہیں رہے گا کہ اس وقت سیکرٹری اطلاعات کون تھا اور فواد چودھری و ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی کیا مجبوری تھی۔ آزادی اظہار کا ہر متوالا عمران خان کو مجرم ٹھہرائے گا جس نے سول اور فوجی آمروں سے جدوجہد کے ذریعے حاصل کی گئی آزادی کا گلہ گھونٹا اور الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کو امتیازی قوانین کا مزہ چکھایا۔تبدیلی کا نعرہ لگانے کے باوجود عمران خان ماضی کے کئی کرپٹ حکمرانوں کے قریبی ساتھیوں‘ لوگوں اور نیب کو مطلوب افراد کو خوش دلی سے گلے لگائے بیٹھے ہیں‘ کئی ظالمانہ قوانین کو بدل نہیں پائے‘ ریاست مدینہ کے مثالی کلچر اور قوانین کو برداشت کر رہے ہیں مگر میڈیا پر کاٹھی ڈالنے کے لئے بے تاب ہیں۔ حالانکہ اس وقت ضرورت میڈیا کو خوش رکھنے‘ اس کا تعاون حاصل کرنے کی ہے کہ اسے خواہ مخواہ ناراض اور پریشان کرنے کی نہیں۔

عمران خان اگلے ہفتے جب جنرل اسمبلی اور عالمی میڈیا کے روبرو مقبوضہ جموں و کشمیر میں میڈیا پر بھارتی پابندیوں کا ذکر کریں گے توچندا بعید نہیں کہ انہیں کسی بھارتی صحافی اور مندوب کی طرف سے یہ سن کر خفت کا سامنا کرنا پڑے حضور !آپ تو خود اپنے میڈیا کو امتیازی قوانین اور خصوصی عدالتوں کے حوالے کر رہے ہیں بھارت پر تنقید آپ کو زیب دیتی ہے؟ صحافتی کارکنوں کے حقوق اور شہریوں کی عزت و ساکھ کی حفاظت ازبس ضروری ہے مگر اس کا ڈھنڈورا پیٹ کر امتیازی قوانین کا نفاذ ؟ماضی میں ممکن ہوا نہ اب شائد کامیاب ہو‘ رہے قلم کے مزدور اور آزاد صحافت کے علمبردار تو وہ ایوب خان سے لے کر جنرل پرویز مشرف اور ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر 2019ء تک اقتدار میں آنے والے آمر مزاج سول حکمرانوں کے دور میں اپنا فرض دلیری سے ادا کرتے رہے کبھی گھبرائے نہ پیچھے ہٹے‘ اب بھی گھبرانے والے نہیں۔ انہیں ہندوستانی شاعر ڈاکٹر راحت اندوری کی نصیحت ازبر ہے ؎


اگر خلاف ہیں‘ ہونے دو ‘جان تھوڑی ہے

یہ سب دھواں ہے ‘کوئی آسمان تھوڑی ہے

لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں

یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے

ہمارے مُنہ سے جو نکلے وہی صداقت ہے

ہمارے مُنہ میں تمہاری زبان تھوڑی ہے

میں جانتا ہوں کہ دشمن بھی کم نہیں

لیکن ہماری طرح ہتھیلی پہ جان تھوڑی ہے

جو آج صاحب مَسند ہیں کل نہیں ہوں گے

کرائے دار ہیں‘ ذاتی مکان تھوڑی ہے


اُڑتا تیر بغل میں لینے کا شوق ماضی کے کسی حکمران کو راس نہیں آیا موجودہ حکمرانوں کو کیسے آئے گا؟ ذرا سوچیے۔