نو رتن تو خواہ مخواہ بدنام ہیں - محمد بلال غوری

جنرل خالد محمود عارف کا شمار ضیاء الحق کے نہایت قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب ’’ورکنگ وِد ضیاء‘‘ میں مشیروں سے متعلق ایک دلچسپ واقعہ بیان کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ضیاء الحق کے ملٹری سیکرٹری بریگیڈیئر محمود دُرانی سے پوچھا گیا کہ تین ایسے لوگوں کے نام بتائیں جنہوں نے ضیاء کی شخصیت اور اقتدار کو ضعف پہنچایا۔ انہوں نے اسلم خٹک، جنرل رفاقت اور جنرل حمید گل کا نام لیا۔ اسی طرح ان سے سوال کیا گیا کہ تین ایسے افراد کے نام بتائیں جنہوں نے ضیاء کے دورِ اقتدار کو طول بخشا۔ بریگیڈیئر محمود دُرانی نے غلام اسحاق خان، جنرل جیلانی کے علاوہ جو تیسرا نام لیا بہتر معلوم ہوتا ہے کہ اسے حذف کر دیا جائے۔ یہ تیسرا نام دراصل جنرل کے ایم عارف کا ہی ہے جنہیں اس دور کا ڈی فیکٹو وزیراعظم کہا جاتا ہے۔

ہر حاکم وقت کو امورِ سلطنت چلانے کے لئے مشیروں کا ساتھ درکار ہوتا ہے۔ بعض مشیر تو باقاعدہ ایڈوائزر یا معاونِ خصوصی جیسے عہدوں پر تعینات کئے جاتے ہیں مگر کئی مشیر بربنائے عہدہ کچن کیبنٹ کا حصہ ہوتے ہیں۔ موجودہ دور میں شاہ کے مصاحب مشیر کہلاتے ہیں مگر ماضی میں ان درباریوں کو ’’رتن‘‘ کہا جاتا تھا۔ مغل بادشاہ ہمایوں کی وفات کے بعد شہزادہ جلال الدین اکبر نے 14برس (بعض روایات کے مطابق 12سال) کی عمر میں تاج و تخت سنبھالا تو بیرم خان اتالیق مقرر ہوئے لیکن کچھ عرصہ بعد ہی حکمرانی کے گُر سکھانے والے بیرم خان کو شاہی دربار سے لاتعلق ہونا پڑا۔ بیرم خان عنانِ اقتدار کم سن بادشاہ کو سونپ کر حج کرنے کی نیت سے سعودی عرب جا رہے تھےکہ راستے میں قتل ہوگئے۔ بہرحال جلال الدین اکبر نے بیرم خان کے سایہ عاطفیت سے محروم ہونے کے بعد امورِ جہاں بانی سر انجام دینے کی غرض سے اپنے لئے جو ٹیم منتخب کی، وہ تاریخ میں نو رتنوں کے نام سے مشہور ہوئی۔ رتن موتی یا ہیرے کو کہتے ہیں اور یہ اصطلاح طنز و استہزا کا استعارہ نہ تھی بلکہ ان مصاحبین کی تعداد چونکہ 9تھی اس لئے انہیں ’’نو رتن‘‘ کہا جاتا تھا۔ بادشاہ اکبر کے ان درباریوں میں راجہ بیربل، ابو الفیض فیضی، ابو الفضل، تان سین، عبدالرحیم خانِ خاناں، مہاراجہ مان سنگھ، مُلا دو پیازہ، راجہ ٹوڈر مل اور مرزا عزیز کوکلتاش جیسے عالم و فاضل شامل تھے اور نو رتن کہلایا کرتے تھے۔ ان میں عبدالرحیم جنہیں اکبر نے خانِ خاناں کا لقب عطا کیا، بیرم خان کے فرزند تھے۔ مرزا عزیز کوکلتاش بادشاہ اکبر کے رضاعی بھائی تھے۔ اس کے علاوہ شیخ مبارک، منعم خان اور شیخ عبدالقادر بدایونی کے نام بھی اکبر کے مصاحبین کی فہرست میں شامل ہیں لیکن انہیں ’’نو رتنوں ‘‘میں شمار نہیں کیا جاتا۔ مورخین کا خیال ہے کہ کم سنی میں تخت نشین ہونے والے مغل شہزادے کو نہایت قابل مشیروں کی اس ٹیم کی بدولت ہی نہ صرف شہنشاہ اکبر بننا نصیب ہوا بلکہ اس نے کم و بیش 50 برس تک برصغیر پر حکمرانی کی۔

یہ بھی پڑھیں:   اپنی اپنی قسمت - ابو شہیر

کسی بھی حکمراں کی قابلیت و صلاحیت، اس کے ارادوں، سوچ، مستقبل کی منصوبہ بندی اور لائحہ عمل کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ کن لوگوں کو مصاحبین یا درباریوں کی صف میں شامل کیا گیا ہے۔ غالب سے معذرت کے ساتھ گویا:


کھلتا کسی پہ کیوں میرے دل کا معاملہ

’’مشیروں‘‘ کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے


کپتان کے ’’نو رتنوں‘‘ کاچرچا اکثر ہوتا رہتا ہے حالانکہ موجودہ دور میں رتنوں کا شمار کار ہائے دشوار ہے اور کم ازکم انگلیوں کی پوروں پر انہیں گننے کی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی۔ ہاں البتہ کم از کم تین رتن ایسے ہیں جو سرفہرست ہیں۔ ان میں جناب نعیم الحق، جناب مراد سعید اور جناب عون چوہدری شامل ہیں۔ اگر صرف ان تین انمول رتنوں کے محاسن بیان کرنے لگوں تو قلم کی ہمت اور قرطاس کی وسعت جواب دے جائے۔ مجھے وہ حاسدین ایک آنکھ نہیں بھاتے جو جناب نعیم الحق کو اجلاس کی صدارت کرتے دیکھ کر بھائو کھاتے ہیں۔ مجھے وہ لوگ سخت ناپسند ہیں جو جناب مراد سعید کے مرادیں پا جانے پر جل جاتے ہیں اور مجھے وہ افراد بھی زہر لگتے ہیں جو جناب عون چوہدری کے بطور مشیر وزیراعلیٰ پنجاب نکال باہر کئے جانے پر یہ شعر گنگناتے پھرتے ہیں کہ:


نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن

بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے


مجھے تب بھی بہت ملال ہوا تھا جب بطور وزیراعظم حلف اُٹھاتے ہی کپتان نے انہیں مرکز سے دور وزیراعلیٰ پنجاب کا مشیر مقرر کیا اور اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ وہ اپنا امیج بہتر کرنا چاہتے ہیں، اس لئے نو رتنوں کی فہرست میں رد و بدل کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ پرانے مصاحبین کی جگہ جو نئے رتن لائے گئے وہ بھی کچھ کم نہ تھے۔ کپتان کے چاہنے والوں کو توقع تھی کہ بس اب چند ہی روز میں کایا پلٹ جائے گی، مقدر سنور جائے گا، مشکلیں کافور اور تاریک راستے پُرنور ہو جائیں گے لیکن جب توقعات پوری نہیں ہوئیں تو ایک بیانیہ تشکیل دیا گیا کہ کپتان بذات خود تو بہت باصلاحیت، دور اندیش اور ایماندار و دیانتدار ہے مگر اسے ٹیم اچھی نہیں ملی۔ نو رتنوں کے انتخاب میں غلطی ہوئی۔ بیچارہ کپتان کیا کرے، مریخ سے مشیر لے آئے؟ آخر انہی لوگوں سے کام لینا ہے۔ یوں تمام ناکامیوں کا ملبہ بہت آسانی سے ان مشیروں اور مصاحبین پر گرا دیا گیا۔ یہ بیانیہ نیا نہیں۔ اس سے پہلے بھی حکمرانوں کی تمام خامیوں اور ناکامیوں کا ذمہ دار یہ کہہ کر اس کے رتنوں کو ٹھہرایا جاتا رہا ہے کہ یہ سب ٹیم ورک ہوتا ہے۔ ہاں اگر وہ ورلڈ کپ جیت لے تو اس کا کریڈٹ صرف کپتان کو جاتا ہے۔ تکلف برطرف! مشیر، مصاحب اور رتن بیچارے تو خواہ مخواہ بدنام ہیں ورنہ کسے دربار میں کہاں جگہ دینی ہے، کس کا مشورہ سننا ہے، یہ سب فیصلے حاکم ِ وقت خود ہی کیا کرتا ہے۔