پُورا منٹو اور تاریخِ پاکستان - امجد اسلام امجد

بہت دنوں کے بعد دو ایسی کتابیں اوپر تلے پڑھنے کا موقع ملا ہے جن کے موضوعات نہ صرف میرے دل و دماغ کے قریب ہیں بلکہ جن کا تعلق وطنِ عزیز کی تاریخ اور اس کے مختلف عوامل کو نزدیک سے دیکھنے اور ان کو معروضی طور پر سمجھنے سے ہے۔

پہلی کتاب سعادت حسن منٹو کی تمام تر تحریروں کو اُن کی اوریجنل شکل میں جمع کرنے سے ہے یہ کام آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے لوگ کر رہے ہیں اور ا س کلیات کی چوتھی جلد کا نام’’پورا منٹو‘‘ رکھا گیا ہے ۔ جس کے حوالے سے ایک تعارفی تقریب اُن کے لاہور دفتر میں ہوئی جس میں میرے علاوہ ڈاکٹر خالد سنجرانی اور ڈاکٹر ناصر عباس نیرکو اظہارِ خیال کی دعوت دی گئی تھی۔

اس کتاب کے مرتب جامعہ ملیہ ،دہلی کے ریٹائرڈ پروفیسر شمس الحق عثمانی ہیں اور ان کا منصب اس کتب میں شامل تحریروں کی تحقیق ، تدوین اور ترتیب تھا جب کہ میزبانی کے فرائض عزیزی رضا نعیم نے ادا کیے، اب ہُوا یوں کہ ہم تینوں نے اس حوالے سے کچھ باتیں تو ضرور کیں کہ یہ اُس عقل کا لازمی تقاضا تھا مگر منٹو جیسے بڑے اور عہد ساز تخلیق کار کو ان چھوٹے چھوٹے خانوں میں محدود رکھنا نہ تو ممکن تھا اور نہ مستحسن ۔ سو زیادہ تر باتیں اس مناظر میں ہوئیں کہ وہ کس غیر معمولی وژن ، پائے اور خداداد تخلیقی صلاحیتوں کا حامل تھا کہ بعض حکومتوں اور دین کے ٹھیکے داروں کی مخالفت ، میڈیا کی کم توجہی اور کتب بینی کے شوق کے زوال کے باوجود آج سب سے زیادہ کام منٹو کے افسانوں کے حوالے سے ہی دیکھنے میں آتا ہے یہ اسی کی تخلیق بصیرت کا کمال تھا کہ اُس نے آج سے ستر برس قبل کشمیر کے حوالے سے’’ٹیٹوال کا کتا‘‘ اور ’’آخری سلیوٹ‘‘ جیسی عظیم اور مستقبل گیر کہانیاں لکھیں اور یہ سوال اٹھایا کہ کشمیر کس کا ہے اور ا سکے مستقبل کا فیصلہ کن کو کرنا چاہیے؟

آج یہی سوال ہے جس کی معرفت نہ صرف پاک و ہند بلکہ دنیا بھر کے ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیمیں ایک ساتھ آواز اُٹھا رہی ہیں بلکہ اس کی وجہ سے پوری دنیا ایک بار پھر ایک ایسی جنگ کے دہانے پر آکھڑی ہوئی ہے جو سب کچھ برباد کرنے کے احکامات رکھتی ہے۔ اسی طرح منٹو کے گزشتہ صدی کی پانچویں دہائی میں ’’چچا سام کے نام‘‘ لکھے گئے خطوط ہندوستان کی تحریکِ آزادی کے حوالے سے ’’سنہ 1919کی ایک بات‘‘ یا تقسیم کے نتیجے میں ہونے والے فسادات میں انسانیت کی درماندگی کے پس منظر میں کمی ہوئی ’’گورکھ سنگھ کی وصیت‘‘ اور ’’یزید‘‘ جیسی کہانیاں اُس منٹو کا ایک بالکل مختلف روپ دکھاتی ہیں۔

جس پر جنس اور فحش نگاری کے فتوے لگائے گئے تھے سو ہوا یوں کہ کتاب ’’پورا منٹو‘‘ کی تحقیق ، تدوین اور ترتیب تو کہیں پیچھے رہ گئے مگر تخلیق کار منٹو سارے ماحول پر چھاتا چلا گیا البتہ شمس الحق عثمانی کی محنت کی عمومی داد کے ساتھ ساتھ یہ بات ہم سب نے اپنے اپنے انداز میں کی کہ تدوین کارکا کام متن کی صحت، اغلاط کی نوعیت اور زبان و بیان سے متعلق متنازعہ مسائل کی نشاندہی تو ضرورہے مگر اُسے قیاسی اصلاح سے حتیٰ الممکن گریز کرنا چاہیے۔ سیشن کے آخر میں حاضرین کی طرف سے جو سوالات کیے گئے اُن کا لب لباب بھی منٹو بطور ایک تخلیقی ادیب ہی تھا اور اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ منٹو کی تفہیم نو کا سلسلہ اب نہ صرف پہلے سے زیادہ بہتر انداز میں جاری ہے بلکہ اُس کی عظمت کو بھی تسلیم کیا جارہا ہے۔

اتفاق سے جس دوسری کتاب کا ذکر یہاں مقصود ہے اُس کا تعلق بھی ’’تفہیم نو‘‘ سے ہی ہے مگر اس کا موضوع کوئی شخص یا کتاب نہیں بلکہ ہمارا پورا معاشرہ اور وہ سیاسی تاریخ ہے جس کے نتیجے میں ہمیں وہ ملک نصیب ہوا جس کی چھت تلے جمع ہوکر سب ایک قوم کی صورت میں ڈھلے ۔ یہ کتاب جس کا اُردو ترجمہ ’’تاریخ پاکستان۔بازمبید‘‘بنتا ہے ایس ایم ظفر صاحب کی تازہ ترین تخلیق اور گنتی کے اعتبار سے اُن کی تیرہویں تصنیف ہے۔

مجھے ذاتی طور پر ان سے کم و بیش نصف صدی کی ملاقات کا افتخار حاصل ہے اور اس دوران میں، میں نے ہمیشہ انھیں ایک ’’مثالی‘‘ انسان کے طور پر دیکھا ہے اپنے پیشے یعنی وکالت میں جو مقام انھیں حاصل ہے اُس سے تو پوری دنیا واقف ہے کہ اپنی اُٹھان کے ابتدائی دنوں اور نو عمری میں ہی وہ ایسے مراتب پر فائز رہے ہیں جہاں تک پہنچنے میں لوگوں کی عمریں لگ جاتی ہیں۔

مرکزی حکومت میں وزیر قانون اور پھر سینیٹ کی رکنیت کے حوالے سے اُن کی دانش، بصیرت، استدلال اور خوش کلامی اپنی جگہ پر ایک مثال ہیں وہ اُن چند بڑے اور سنجیدہ مفکرین میں سے ہیں جو لمحہ موجود سے اوپر اُٹھ کرچیزوں کے پس منظر اور پیش منظر کو دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ میری ایک ترجمہ کردہ کتاب ’’جہنم کی دسویں گہرائی‘‘ (جو ایک بوسنین ادیب کی وہ ڈائری ہے جو اس نے قیدو بند کے دوران لکھی) بھی اصل میں اُن کی اور حکیم محمد سعید کی اپنے عہد اور عالم اسلام کی صورتِ حال سے تعلق اور کمٹ منٹ کی آئینہ دار ہے کہ انھی کے اصرار پر میں نے اس کام کا بیڑا اُٹھایا جس کا میں اپنے آپ کو اہل نہیں سمجھتا تھا ۔

ظفر صاحب کی شفقت ، محبت اور دلنوازی کی ادا ایسی ہے کہ اُن کی کہی ہوئی بات آپ کو ماننا ہی پڑتی ہے ۔ تاریخِ پاکستان کے اس گہرے محققانہ اور سچے تجزیئے میں بھی اُن کی علمی شخصیت اور اصول سے کمٹ منٹ پورے عروج پر ہے۔ حال ہی میں ہونے والی اس کی ایک تقریب میں ظفر صاحب اور چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان محترم آصف سعید کھوسہ کے علاوہ سابق چیئرمین سینیٹ محترم وسیم سجاد ، سابق سیکریٹری خارجہ شمشاد احمد، لیاقت بلوچ اور سلمان غنی نے اظہارِ خیال کیا (یہ بات الگ ہے کہ نوجوان اسٹیج سیکریٹری نے ترتیب کے اعتبار سے ساری فہرست ہی کو اُلٹ کردیا) اور سب ہی نے اعتراف کیا کہ ایسی ہی کتابوں کی ضرورت ہے۔

جن کے واسطے سے ہم اور ہمارے بعد کی نسلیں اپنی تاریخ کو جذباتیت سے ہٹ کر پوری سچائی اور ایمانداری کے ساتھ دیکھ اور سمجھ سکیں ۔ مختصر یہ کہ ایک ہی ہفتے میں پورا منٹو اور پاکستان کی مفصل تاریخ کا مطالعہ ایک ایسا تحفہ تھے جس کے میرے وژن اور اندازِ فکرو نظر کو روشنی ، یقین اور ہمت سے ہمکنار کیا، سو اس کے جواب میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ شکریہ منٹو جی، آداب سید محمد ظفر صاحب ۔