صدقۂ جاریہ - سبرینا خان

اس کی جھیل جیسی آنکھوں کے کٹورے بھر چکے تھے۔ “آپ بتائیے نا میں کیا کروں؟” اس نے بہتے آنسو صاف کئے بنا مجھ سے پوچھا۔ آج کلاس میں ہماری استاذہ نے ایک حدیث پڑھی تھی ، سنی ہم سب نے تھی کہ قرآن و حدیث کی محبت و عقیدت ہم سب کے دل میں ہے لیکن عمل کے لئے کتنے سنتے ہیں؟

یہ رَملہ جیسے دل ہوتے ہیں ۔ کلاس کے بعد جب سب اپنے اپنے گھر اڑان بھرنے کو پر تول رہے تھے تب رَملہ نے مجھ سے پوچھا تھا “فائزہ آپ اگر شام کو فارغ ہوں تو کچھ ٹائم دے سکتی ہیں مجھے؟” ۔ میرے میاں ان دنوں ملک سے باہر تھے تو میں نسبتاً فارغ تھی “ہاں کیوں نہیں، تم جب چاہو آجانا میں گھر پر ہی ہونگی” میں نے مسکرا کر مصافحہ کیا اور اپنی کتب سنبھالے ہم دونوں نے دروازے کی جانب قدم بڑھا دئیے ۔ ہم دونوں خواتین کے اس مدرسے میں قرآن فہمی کے شارٹ کورسز میں ساتھ تھے۔ میں عمر کے اس حصے میں تھی جب اپنی اولاد کا قد اور سوچ والدین سے بلند ہونے لگتی ہے اور انسان کو اپنا آپ بیکار لگنے لگتا ہے، پھر وہ کہیں اپنی مصروفیت ڈھونڈتا ہے ۔ رَملہ نے یہ کلاس خوب سوچ سمجھ کر جائن کی تھی، وہ مجھ سے کم عمر ہی لگتی تھی، صورت کے ساتھ اس کا دل بھی معصوم تھا۔ شاید لوگو کے تیکھے رویے اور تنز میں بجھے جملوں کے تیروں نے اس کا تعلق رب سے گہرا کردیا تھا کہ ہمارے معاشرے میں بے اولادی ناقابل معافی جرم ہے اور وہ مجرم تھی۔ ایک دن ہم امت مسلمہ کے مسائل پر اظہار خیال کررہے تھے رَملہ بولی “ایسا لگتا ہے ہمارے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ لاولدی ہے

” پھر ہنستے ہوئے کہنے لگی “میں اور میرے میاں دس سال امریکا رہ کر دو سال سے پاکستان موو ہوئے ہیں تو لوگوں نے ہمارا جینا دو بھر کردیا ہے جہاں جاؤ سب سے پہلا سوال بچے کتنے ہیں؟ کیوں نہیں ہیں؟ کسی کو دکھایا؟ پھر مشوروں کی ایک قطار!” اس کے مسکاتے لبوں کے پیچھے جو دکھ تھا وہ اس کی آنکھیں چھپانے میں ناکام رہی تھیں۔ “ارے چھوڑو نا! ایسے سوال تو چھوٹے دماغ والے فارغ لوگ ہی کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ہمارے لئے دی بیسٹ چوز کرتے ہیں”۔ میں نے اس کا ہاتھ نرمی سے دبایا۔ “فائزہ آپ شاید صحیح کہہ رہی ہوں لیکن مجھے تو شدید حیرت اور دکھ ہوا جب یہاں تعارفی کلاس میں بھی اسی قسم کے سوالات کئے گئے”۔ میں دل میں شرمندہ سی ہوکر رہ گئی، ہمارا معاشرہ کس قدر چھوٹی سوچ کا حامل ہے ، نہ کسی کے جذبات کا خیال ہے نہ احساس کرتے ہیں، یہ خواتین بھی معاشرے کی ہی ہیں جو سوچنے کی زحمت کم ہی کرتی ہیں ، کسی کے ساتھ بے تکلف ہونے کے لئے ایسے ذاتی سوالات کا سہارا کیوں لیا جاتا ہے؟ ۔ “تمہاری امریکا میں کیا مصروفیات ہوتی تھیں؟ ” میں نے اس کا دھیان بٹانے کو ہونہی سوال کرلیا “میں ایک اسٹور کے اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ میں کلرک تھی” اس نے بتایا ۔“واؤ! “میں نے ستائشی نظروں سے اسے دیکھا”تنخواہ تو اچھی ہوگی پھر” میں نے ہنستے ہوئے کہا “جی! بہت اچھی لیکن وہاں پر خرچے بھی اتنے ہی ہیں ، سیونگ بہت کم ہوپاتی ہے”۔

اس نے خوشگوار موڈ میں جواب دیا “وہاں بہت ہی تیز زندگی ہے، ہر شخص کو کام اور پیسے سے مطلب ہے لیکن محبت کی کمی نہیں ہے۔ میری کئی کولیگز آج بھی میرے کانٹیکٹ میں ہیں اور پاکستان کو بہت پسند کرتی ہیں ۔۔۔۔اورکبھی کسی نے مجھ سے نہیں پوچھا کہ میرے بچے کتنے ہیں؟” وہ پھر ہنس رہی تھی۔ میں بھی دل کی جھینپ مٹانے کو ہنس پڑی تھی۔ شام ہونے والی تھی میں کاموں سے فارغ ہوکر اپنا حلیہ درست کرکے رَملہ کا انتظار کرتے ہوئے اپنی نوٹ بک کھول کر پڑھنے لگی کہ کل کہیں کلاس میں خفت نہ اٹھانی پڑجائے۔ آج کی حدیث میرے سامنے تھی “حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مرنے کے بعد انسان کے تمام اعمال ختم ہوجاتے ہیں سوائے تین کے ۱-صدقہ جاریہ ۲۔علم نافع ۳-وہ نیک لڑکا/لڑکی جو اس کے لئے دعائے مغفرت کرے (رواہ مسلم)۔” میں اپنا جائزہ لکھنے ہی لگی تھی کہ ڈور بیل بجنے لگی ، میں نے گیٹ لاک سوئچ آن کیا اور تیزی سے دروازے تک پہنچی سامنے سے رَملہ اندر آتی دکھائی دی۔ “میں آپ کو کتنا تنگ کرتی ہوں” وہ کچھ شرمندہ سی ہو رہی تھی ۔ “کوئی بات نہیں میں بدلہ لے لوں گی” میں نے ہنستے ہوئے کہا “واقعی؟” وہ ہنسی “مجھے انتظار رہے گا”۔ “آپ کا وقت مزید ضائع کئے بغیر پوچھنا یہ تھا کہ آج کے سبق میں عمل کے نکات میں آپ نے کیا لکھا؟”۔

میں نے اپنی نوٹ بک اس کے سامنے رکھ دی “میں یہی سوچ رہی تھی کہ اس حدیث پر عمل کے نکات کیسے لکھے جائیں ؟”۔ میں نے جواب دیا۔ “میں نے صدقہ جاریہ کے لئے کچھ کام جو میں کرتی ہوں لکھے ہیں، نافع علم تو ابھی میں حاصل کررہی ہوں لیکن۔۔۔۔” اچانک اس کی آواز رندھ گئی “یہ تیسرا نکتہ تو ناممکن ہے، میری تو ۔۔۔۔ ”۔ وہ بے طرح رو پڑی۔ میری سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ کیا کہوں۔میں نے صدقہ جاریہ کے لئے بہت منصوبے بنائے تھے لیکن عمل کا وقت نہیں مل رہا تھا ۔ میری اولاد کیا میرے لئے دعائے مغفرت کرے گی؟ “شاید” دل میں تشکیک کے گہرے سائے لہرائے۔ اس کی تو اولاد ہی نہ تھی اور وہ اسی وجہ سے زیادہ پریشان تھی ۔ میں نے اتنی گہرائی سے “اپنے بعد” کی زندگی کو کبھی سوچا ہی نہ تھا جیسے وہ سوچ رہی تھی۔مگر میں مطمئن تھی کہ جب مرنے لگیں گے تو وصیت لکھ جائیں گے۔ پَر وہ کیوں بے سکون ہورہی تھی؟۔ “ارے۔۔۔ رَملہ دیکھو ہم جو علم حاصل کررہے ہیں نا اس کو دوسروں تک بھی ساتھ ساتھ پہنچاتے رہیں تو دو اعمال تو ہو ہی جائیں گے”۔ میں نے اس کے کندھے پر نرمی سے ہاتھ رکھا۔ “رہا تیسرا عمل ۔۔۔۔تو وہ بھی ممکن ہے” ۔ میرے اس جملے پر اس نے سر اٹھا کر بے یقینی سے میری طرف دیکھا۔مسکرا کر میں نے پانی کا گلاس اس کے ہاتھ میں تھمایا “تم آنلائن جو پروگرامات کرتی ہو اس میں کسی دن بچوں کے لئے کچھ کرلو ۔

اس کے علاوہ آرفن کئر کے تحت کسی بچے کی کفالت کی ذمہ داری لے سکتی ہو”۔ میں نے مشورے دئیے۔ “فائزہ کسی کو ایڈاپٹ کرنے کے بڑے مسائل ہیں اور میرے سسرال والے مانیں گے بھی نہیں” وہ دھیرے سے بولی۔ “نہیں یہ جو آرفن کئر کا میں بتا رہی ہوں وہاں کفالت ہوتی ہے مطلب خرچ دینا ہوتا ہے بچے اپنے سر پرست کے ساتھ ہی رہتے ہیں اور تم کو ان کی رپورٹ ملتی رہتی ہے جب چاہو ان کے گھر بھی جا سکتی ہو” ۔میں نے تفصیل بتائی اور لیپ ٹاپ پر وہ سائیٹ کھول دی۔ اس نے ضروری معلومات لیں ، اسی وقت فون کیا اور اپنے لئے دعائے مغفرت کا انتظام کرلیا۔ “فائزہ اللہ آپ کو بے حساب اجر دے” تشکر کے جذبات سے مغلوب اس نے بمشکل یہ الفاظ ادا کئے۔ اس کو رخصت کرکے میں پھر نوٹ بک کھول کر اپنا جائزہ درج کرنے لگی تھی کہ مجھے محسوس ہوا کہ اس کو صدقہ جاریہ کے “آئیڈیاز” دیتے وقت میں اپنے آپ کو کیسے بھول گئی؟ ۔وہ مجھے اپنے سے بہتر سمجھتی تھی شاید، اللہ نے میرا بھرم رکھ لیا لیکن عمل تو مجھے خود ہی کرنا تھا۔میں نے اسی کے بتائے ہوئے کچھ کام کئے اور لکھے ۔ وہ مجھ سے حدیث سمجھنے آئی تھی پر اصل میں تو وہ مجھے سکھا گئی تھی کہ صدقۂ جاریہ کے لئے زبان کے ساتھ ہاتھ پیر ہلانے پڑتے ہیں ۔کوئی نعمت پا کر بھی اجر نہیں حاصل کر پاتا اور کوئی بغیر نعمت کے ہی اجر کا مستحق قرار پاتا ہے، کوشش شرط ہے۔ #