قانتہ اور ملکہ کی دوستی - ام محمد سلمان

قانتہ یونیورسٹی سے گھر آئی تو سامنے ہی دادی ماں کو دیکھ کے خوشی سے اچھل پڑی اور بھاگ کے ان کے گلے لگ گئی۔ "اب پورے ایک ہفتے یہیں رہیں گی آپ، میں آپ کو اس سے پہلے ہرگز نہیں جانے دوں گی۔" قانتہ محبت سے دادی ماں کے کندھوں سے لپٹ گئی ۔

ارے ارے ٹھیک ہے بیٹا! جاؤ جلدی سے منہ ہاتھ دھو کر آؤ پھر کھانا کھاتے ہیں کب سے بھوک لگ رہی ہے اور ہم تمہارے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ اوکے دادی ماں! ابھی آئی۔ وہ یہ کہتے ہوئے تیزی سے اندر بھاگ گئی ۔ کھانے کے بعد قانتہ دادی ماں کے برابر میں ہی آرام کرنے لیٹ گئی، دونوں دادی پوتی میں بڑا پیار تھا ماشاءاللہ۔ خوب ادھر ادھر کی باتیں ہو رہی تھیں ۔
اچھا دادی ماں! ایک مزے کی خبر سناؤں آپ کو...؟ قانتہ چہکتے ہوئے بولی۔۔۔ اور پھر جواب کا انتظار کیے بغیر خود ہی شروع ہو گئی۔ دادی ماں! وہ جو میری دوست ہے ناں ملکہ ... وہ جو سال بھر سے مجھ سے ناراض ہے بات بھی نہیں کرتی، میرا فون بھی نہیں اٹھاتی۔۔۔ ارے ہاں ہاں یاد ہے اسے کیسے بھول سکتی ہوں... آگے بتاؤ ہوا کیا؟؟ "دادی ماں کل اس کا فون آیا تھا" قانتہ خوشی سے بھرپور لہجے میں بولی ۔ "ارے واہ ماشاءاللہ!! یہ تو کمال ہو گیا. کیا کہہ رہی تھی؟" دادی ماں! وہ بہت خوش تھی مجھ سے ایسے بات کررہی تھی جیسے ہمارے درمیان کوئی جھگڑا تھا ہی نہیں، بار بار محبت سے میری خیریت پوچھ رہی تھی... خوب ہنسی خوشی مجھ سے بات کررہی تھی اور میں اتنی خوش تھی کہ آپ کو بتا نہیں سکتی،،، میں بار بار اس سے پوچھ رہی تھی" ملکہ یہ تم ہو؟" اور وہ ہر بار ہنس کے کہتی رہی "جی جناب میں ہی ہوں" اور پھر.... پھر.... ہاں ہاں آگے بولو قانتہ پھر کیا؟؟؟ "پھر میری آنکھ کھل گئی دادی ماں " قانتہ عجیب بے بسی سے بولی ۔۔۔۔
اوہو تو یہ خواب تھا ۔

اور دادی ماں کی سمجھ میں نہ آیا اب اسے کیا کہیں ۔۔۔ (اس کی آنکھیں اپنی بہت پیاری دوست کے غم میں پھر سے نمناک ہو گئی تھیں ۔ آواز کا سارا جوش سسکیوں میں بدل گیا۔)
پھر میں نے سونے کی بہت کوشش کی کہ وہ ٹوٹا خواب پھر وہیں سے جڑ جائے۔۔۔ مگر نیند ہی نہ آکے دی۔ قانتہ بے بسی سے بولی۔ دادی ماں جانتی تھیں اسے اپنی دوست سے کتنا پیار تھا بس ذرا سی بات کو لے کر دونوں میں جھگڑا ہو گیا اور بول چال بند ہو گئی۔ رات دن کا ساتھ تھا اور قانتہ تو تھی انتہا درجے کی جذباتی۔۔۔ اس وقت تو لڑ کے بیٹھ گئی، چار دن بعد جب غصہ اترا تو بے تحاشا اپنی پیاری دوست کی یاد ستانے لگی۔ پھر قانتہ نے اسے منانے کی بہت کوشش کی مگر وہ اللہ کی بندی مان کر ہی نہ دی۔ دادی ماں تو جانتی تھیں وہ اپنی دوست کو کتنا چاہتی ہے اور کتنا یاد کرتی ہے مگر اس سلسلے میں وہ بھی کچھ نہیں کر سکتی تھیں.... سو خاموش رہیں ۔ قانتہ اپنی ہی دھن میں بول رہی تھی ۔۔۔ دادی ماں! میں نے تو ایسا کچھ نہیں کیا جو وہ یوں سارے ناطے توڑ کر بیٹھ گئی۔ میں تو اسے بہت یاد کرتی ہوں ۔ سمجھ نہیں آتا : کچھ لوگوں کی محبت ہمارے دل کی گہرائیوں میں کیوں بیٹھ جاتی ہے ..؟ ہم انھیں بھولنا چاہیں تو بھول بھی نہیں سکتے یاد کرتے ہیں تو اور تکلیف ہوتی ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے دادی ماں...؟ مثل مشہور ہے" *دل کو دل سے راہ ہوتی ہے*" تو میرے دل کی آنچ اس تک کیوں نہیں پہنچتی...؟

جب میں نے سب کچھ بھلا دیا تو وہ کیوں نہیں بھول جاتی؟ آپ کو پتا ہے میں نے اپنے اللہ سے کتنی رو رو کے دعائیں مانگی ہیں۔ پتا ہے دادی ماں! میری کتنی ساری دوست ہیں واٹس اپ پہ، فیس بک پہ، یونیورسٹی میں اور اپنے رشتہ داروں میں بھی لیکن سب مل کے بھی ملکہ کی کمی پوری نہیں کر سکتیں۔ مجھے ملکہ کی بہت کمی محسوس ہوتی ہے دادی ماں!! کتنی اچھی تھی وہ، ہمیشہ دوسروں کے کام آنے والی، لوگوں کی فکر کرنے والی ۔۔۔ لیکن بیٹا! جب تمہیں اس سے اتنی محبت ہے تو تم اپنی یہ عادت چھوڑ کیوں نہیں دیتیں بات بات پر اختلاف کرنے کی۔ دادی ماں نے رسانیت سے اسے سمجھایا ۔کیسے چھوڑ دوں دادی ماں؟ محبت اپنی جگہ، نظریات اپنی جگہ...!! مجھے بھی تو اس سے کتنی باتوں پر اختلاف ہوتا ہے لیکن میں تو اس سے رشتے ناطے نہیں توڑتی۔ اس کے نظریات کا احترام کرتی ہوں چاہے میں ان سے متفق ہوں یا نہیں!! اسے بھی تو ایسا ہی کرنا چاہیے ناں؟ اسے بھی تو میرے نظریات، افکار و خیالات کی عزت کرنی چاہیے ۔ مجھ سے تعلق توڑنے کی بجائے دلیل سے بات کرنی چاہیے....!! اختلاف کوئی بری چیز تو نہیں ہے ناں دادی ماں!! اس سے تو تحقیق کی نئی راہیں کھلتی ہیں دوسروں کے نظریات پر سوچنے اور غور کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اختلاف رائے تو اہل علم کی پہچان ہے۔ زندہ دل لوگوں کی نشانی ہے ۔ ضمیر کے زندہ ہونے کی علامت ہے کہ جب تک بات واضح نہ ہو جائے وہ اپنے نکتہ نظر سے پیچھے نہیں ہٹتے چاہے آگے ان کے جان سے پیارے رشتے ہی کیوں نہ ہوں۔۔۔ اور پھر ۔۔۔

پتھر ہی لگیں گے تجھے ہر سمت سے آکر - یہ جھوٹ کی دنیا ہے یہاں سچ نہ کہا کر
اب روتا ہے کیا تجھ سے کئی بار کہا تھا - حالات کے دھارے کے مخالف نہ بہا کر
دادی ماں نے شعر گنگناتے ہوئے اس کی بات پوری کردی... میری بچی! تو سمجھتی کیوں نہیں، محبت اور تعلقات کو بچانے کے لیے اختلافات کو پیچھے دھکیلنا پڑتا ہے۔ برداشت کرنا پڑتا ہے دوسروں کو !! ضروری نہیں ہے اپنے دوستوں کی ہر بات سے ہمیں اتفاق ہو۔ تم بے شک اختلاف کرو، اپنا نظریہ ان کے سامنے رکھو بس یہی کافی ہے۔ ضروری نہیں ہے کہ تم ان سے بحث کرو اور انھیں اپنا ہم نوا بنانے کی کوشش کرو...!! جس شخص پر تنقید کرو تو اس کا نکتہ نظر پوری دیانت داری سے سمجھو اور جس بات پر تنقید کی جارہی ہے اپنی بات اسی دائرے تک محدود رکھو ۔ اور اختلاف کے وقت کبھی مخاطب کی نیت پر حملہ نہیں کرنا چاہیے اور نہ بدگمان ہونا چاہیے ۔" دادی ماں نے بہت اچھی طرح اسے سمجھایا ۔
ایسا میں کب کرتی ہوں دادی ماں؟ ایسا تو ہمیشہ ملکہ ہی کیا کرتی تھی، قانتہ بولی ۔ یہی تو خرابی ہے کہ ہم ہمیشہ دوسرے کو غلط اور اپنے آپ کو ہی ٹھیک سمجھتے ہیں۔ حالانکہ ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا ۔ ملکہ کے پاس بھی کوئی نہ کوئی وجہ ضرور ہوگی قانتہ، وہ خواہ مخواہ تو تم سے ناراض نہیں ہے ۔

آپ کو نہیں پتا دادی ماں! وہ ایسی ہی تھی بس،،، میں بات کچھ کرتی، وہ کچھ اور سمجھ لیتی۔ جب ہم مل کے کوئی کام کرتے تو وہ چاہتی تھی سب اس کی مانیں، اس کی بات کوئی رد نہ کرے اور مجھے اس بات سے چڑ ہوتی تھی !! مگر اب وہ نہیں ہے تو میرا جی چاہتا ہے وہ مجھ سے بات تو کرے چاہے مجھ سے لڑائی ہی کرے... مجھے برا بھلا کہے... مجھے جھٹلائے ہی سہی... مگر کچھ تو بولے... کچھ تو کہے .... کوئی اپنے دوستوں کے ساتھ یوں بھی کرتا ہے بھلا؟ قانتہ دادی ماں کے گھٹنوں پہ سر رکھے رونے لگی۔ قانتہ میری بچی!! بات سمجھنے کی کوشش کرو : دوستی کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں، ہر انسان کا مزاج مختلف ہوتا ہے دوسروں کے مزاج کی رعایت رکھنی چاہیے اور جو لوگ بہت عزیز ہوتے ہیں، انسان ان کے کھونے سے تو ویسے ہی ڈرتا ہے تو پھر کیوں تعلقات کو اختلافات کی بھینٹ چڑھایا جائے؟ زندگی گزارنے کے سب کے اپنے اپنے نظریات ہوتے ہیں بیٹا! ہمیں کیا ضرورت ہے دوسروں کے نظریات سے ٹکر لینے کی؟
دوست، "دوسرے" نہیں ہوتے ہیں دادی ماں، وہ غیر نہیں ہوتے اگر انسان دوستوں سے بھی کھل کر بات نہیں کرے گا تو آخر کس سے کرے گا؟ دوستی تو احساس کے رشتے میں بندھی ہوتی ہے محبت میں گندھی ہوتی ہے پھر اس محبت میں اتنی گنجائش بھی نہیں ہوتی کہ کسی دوسرے کا بھرم رکھ سکے کسی کے افکار و خیالات کی عزت کر سکے؟

یہ سب کچھ ہمیشہ میں ہی کروں، ملکہ ایسا کیوں نہیں کرتی؟ وہ سراپا سوال بنی کھڑی تھی ۔ دادی ماں اسے سمجھانے لگیں: سچے اور کھرے لوگوں کے ساتھ یہی مسئلہ ہوتا ہے میری بچی!! وہ دل کی گہرائیوں سے محبت کرتے ہیں اور اسی محبت کے بھروسے دوست پر رعب جمانے لگ جاتے ہیں اور ہر کوئی اس ادا کو پسند نہیں کرتا پگلی...!! شاید آپ ٹھیک کہتی ہیں دادی ماں! یہی میری غلطی تھی۔ وہ بہت تھکے تھکے سے لہجے میں بولی۔" پھر اب میں کیا کروں جو میری روٹھی دوست مان جائے ؟" "رب سے دعا مانگا کر میری بچی! مخلوق کے دل اسی کے قبضے میں ہیں وہ جدھر کو چاہے انھیں پھیر دے۔ اللہ نے چاہا تو تیرا خواب ضرور سچ ثابت ہوگا ان شاء اللہ" دادی ماں نے بڑے وثوق سے کہا۔ اور قانتہ کو ایسا لگا جیسے اس کے جلتے دل پر کسی نے ٹھنڈے میٹھے پانی کی پھوار برسا دی ہو ۔ کتنا اچھا ہو اگر یہ خواب سچ ہو جائے ۔ عصر کا وقت ہو چکا تھا وہ نماز پڑھنے لگی۔ نماز کے بعد چائے بنا کر سب کو دی اور اپنا کپ اٹھا کر اوپر ٹیرس پر آگئی۔ ٹھنڈی ہوا نے دل کا موسم بھی خوشگوار کر دیا تھا۔ اس نے اپنی ڈائری اٹھائی اور لکھنے لگی ۔۔۔

I miss you Malka
مغرب کا وقت ہو چلا تھا نیلے گگن میں ڈوبتا سورج کہہ رہا تھا "ہر رات کی صبح ہوتی ہے سورج کو پھر سے ابھرنے کے لیے ڈوبنا ہی پڑتا ہے" اور وہ دیکھ رہی تھی جب سورج ڈوبتا ہے تو افق کے مغربی کنارے پر کتنے خوبصورت رنگ ابھرتے ہیں پھر نیلے آسمان میں ہلکے ہلکے ستارے ٹمٹمانا شروع ہوتے ہیں اور رات ہوتے ہوتے مکمل آب و تاب سے چمکنے لگتے ہیں ۔ اور پھر حسین رات کا یہ سفر اختتام کو پہنچتا ہے تو ایک نئی صبح طلوع ہوتی ہے اک نیا سویرا نکلتا ہے امیدوں سے بھرا سورج مشرق سے روشنیاں بکھیرتا ہوا آہستہ آہستہ بلندیوں کی طرف سفر شروع کرتا ہے اور گویا یہ پیغام دیتا ہے کہ زندگی اسی اتار چڑھاؤ کا نام ہے زندگی کا چکر یونہی چلتا رہتا ہے۔ اندھیرے اور اجالے کی طرح یہ زندگی خوشیوں اور غموں کا حسین امتزاج ہے ۔ زندگی میں بہت لوگ ملتے ہیں، کچھ کو ہم چھوڑ دیتے ہیں اور کچھ ہمیں چھوڑ دیتے ہیں اور زندگی کا سرکل یونہی چلتا رہتا ہے۔ بس مایوس نہیں ہونا، جو ہمارے ہیں وہ ہم تک ضرور لوٹ کر آئیں گے بس انسان اپنے رب سے تعلق جوڑے رکھے یہ تعلق کمزور نہ ہونے دے،۔ رب ہے تو سب ہے۔ رب نہیں تو کچھ نہیں۔