تین طلاق قانون کی مخالفت کیوں؟ محمد رضی الاسلام ندوی

ابھیشیک نے اشارہ پاتے ہی پہلا سوال یہ کیا: "مسلمان حکومت کے بنائے ہوئے تین طلاق قانون پر کیوں تلملا رہے ہیں؟ یہ قانون تو ستائی ہوئی عورتوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ کتنے لوگ ہیں جو طلاق کے تین لفظ کہہ کر اپنی بیویوں کو گھر سے نکال دیتے ہیں۔ جیل کا خوف اب انہیں ایسی حرکتوں سے باز رکھے گا۔"

ابھیشیک ایک سوچنے سمجھنے والا، ملک کے حالات سے متفکر، انصاف پسند اور بہت بولڈ نوجوان ہے۔ اس سے اجتماعی ملاقات کا نظم جناب محمد اقبال ملا، مرکزی سکریٹری شعبۂ دعوت، جماعت اسلامی ہند نے کیا تھا۔ دراصل کچھ عرصہ قبل اس سے ملا صاحب کی ملاقات ٹرین کے ایک سفر میں ہوئی تھی۔ تعارف ہوا تو پتہ چلا کہ اس نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ماس کمیونیکیشن میں گریجویشن کے بعد نو بھارت ٹائمز میں کام کیا ہے، لیکن مالکان کے متعصبانہ رویہ اور اس پر اپنی پالیسیاں تھوپنے سے بددل ہوکر اس نے ملازمت چھوڑ دی۔ آج کل ایک ایجوکیشنل گروپ کے ساتھ مل کر کام کررہا ہے۔ اس نے ملک میں زیر بحث بعض مسلم مسائل پر ملا صاحب سے گفتگو کی تو انھوں نے وعدہ کیا کہ تفصیلی تبادلۂ خیال کے لیے وہ جلد بلائیں گے۔ آج کی ملاقات اسی وعدہ کا ایفا تھا۔ انھوں نے اپنے معاون جناب وارث حسین، معاون شعبہ برادر ظہیر احمد، شعبۂ خواتین کی سکریٹریز محترمہ عطیہ صدیقہ اور محترمہ رحمۃ النساء اور راقم سطور کو بلا لیا۔

ابھیشیک کے سوال پر وارث صاحب نے وضاحت کی کہ حکومت کے بنائے ہوئے قانون میں کئی خامیاں ہیں: (1) ایک سِوِل معاملے کو کریمنل معاملہ بنا دیا گیا ہے۔ (2) اس کی سزا تین برس جیل طے کی گئی ہے اور اس عرصے میں بیوی بچوں کا خرچ اٹھانے کا بھی پابند کیا گیا ہے۔ جب شوہر جیل میں رہے گا تو پھر وہ بیوی بچوں کی کفالت کیسے کرے گا؟ (3) جس عورت کی وجہ سے وہ جیل کاٹے گا، وہاں سے نکل کر اس کے ساتھ اس کے تعلقات کیسے خوش گوار رہ سکیں گے؟ (4) قانون میں کہا گیا ہے کہ تین طلاق ایک ساتھ دینے پر ایک طلاق بھی نہیں پڑے گی۔ جب کوئی کام ہوا ہی نہیں تو اس کی سزا کیسی؟

میں نے کہا کہ اس قانون سے مسلمانوں کو پریشانی اس وجہ سے ہے کہ اگر کوئی شخص ایک ساتھ تین طلاق دے دے تو تمام مسلمانوں کے نزدیک طلاق ہوجاتی ہے۔ ان کے ایک گروپ کے نزدیک تین طلاق اور دوسرے گروپ کے نزدیک ایک طلاق ہوتی ہے۔ ایک بھی طلاق نہ ہو، اس کا کوئی قائل نہیں ہے۔ حکومت نے مسلمانوں پر ایسا قانون تھوپا ہے جو ان کے مذہب کے خلاف ہے۔ ملک کے دستور میں تمام شہریوں کو اپنے اپنے مذہب پر عمل کی آزادی دی گئی ہے، پھر مسلمانوں کو اس آزادی سے کیوں محروم رکھا گیا ہے؟

ابھیشیک نے کہا کہ قانون کی ان خامیوں کو دور کرلیا جائے گا، جس طرح دوسرے بہت سے قانون کی خامیاں اجاگر کی گئیں تو حکومت نے بعد میں ان میں تبدیلیاں کیں۔

ابھیشیک کا اشکال باقی تھا۔ اس نے کہا: "بتایا جاتا ہے کہ تین طلاق کے بعد میاں بیوی کا رشتہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوجاتا ہے۔ اگر وہ دونوں پھر ساتھ میں رہنا چاہیں تو بھی نہیں رہ سکتے، جب تک کہ عورت کا نکاح کسی دوسرے مرد سے نہ کرادیا جائے، پھر وہ اس کو طلاق دے۔ اس کی ضرورت کیا ہے؟ انہیں کیوں موقع نہیں دیا جاتا کہ بعد میں اگر وہ چاہیں تو دوبارہ میاں بیوی کی حیثیت سے رہ سکیں؟

عطیہ صاحبہ نے وضاحت کی کہ اسلام نے اس کا موقع دوبار دیا ہے۔ کوئی شخص ایک بار طلاق دے، پھر دونوں میاں بیوی کی حیثیت سے رہ سکتے ہیں، دوسری بار طلاق دے، پھر بھی ان کا ازدواجی رشتہ بحال ہوسکتا ہے، لیکن اگر پھر تیسری مرتبہ وہ طلاق دے تو اسلام ان کا رشتہ ہمیشہ کے لیے کاٹ دیتا ہے، اس لیے کہ اسلام نکاح کو بہت محترم قرار دیتا ہے، وہ چاہتا ہے کہ طلاق کا اقدام بہت سوچ سمجھ کر کیا جائے، وہ اسے عورت کی توہین سمجھتا ہے کہ مرد اسے طلاق دے ، پھر رجوع کرلے، پھر طلاق دے، پھر رجوع کرلے، اسی طرح بار بار کرتا رہے۔ وہ کہتا ہے کہ اگر کسی نے تیسری مرتبہ ایسا کیا تو وہ ہمیشہ کے لیے بیوی سے محروم ہوجائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   نکاح کی اہمیت ، ضرورت اور مقصد - مولانا عبدالمتین

ابھیشیک کا سوال تھا: "اگر ایسا ہے تو لوگ ایک ہی سانس میں تین طلاق کیوں دے دیتے ہیں؟"

محترمہ رحمۃ النساء صاحبہ نے کہا: " مسلمانوں میں جہالت عام ہے، انھیں اسلام کی صحیح تعلیمات کی خبر نہیں ہے۔ اس وجہ سے وہ اسلام کی دی ہوئی سہولتوں سے خود کو محروم کرلیتے ہیں۔"

ابھیشیک نے کہا: "آپ نے بتایا کہ اگر کوئی ایک سانس میں تین طلاق دے تو آپ کے یہاں بعض لوگ اسے تین اور بعض ایک مانتے ہیں۔ یہ بات آپ لوگوں نے سپریم کورٹ میں زیر بحث مقدمہ کے موقع پر اور بعد میں قانون بنائے جاتے وقت حکومت کو کیوں نہیں بتائی؟"

ہم نے اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی۔ کچھ جواب دیا بھی، لیکن صحیح بات یہ ہے کہ ہمارے پاس اس کا جواب نہ تھا۔

"تین طلاق کے بعد عورت کا دوسرے مرد سے نکاح کرانے کے بعد اس سے طلاق دلائے بغیر آپ لوگ اسے شوہر کے ساتھ رہنے کی اجازت کیوں نہیں دیتے؟ " ابھیشیک کا اشارہ 'حلالہ' کی طرف تھا۔

محترمہ عطیہ صاحبہ نے وضاحت کی: "اسلام میں حلالہ کرنا اور کروانا دونوں حرام ہے۔ تین طلاق کے بعد مرد عورت دونوں ایک دوسرے پر حرام ہوجاتے ہیں۔ ہر ایک کو آزادی ہوتی ہے کہ جہاں چاہے اپنا نکاح کرلے۔ عورت کا کہیں دوسری جگہ نکاح ہوجائے، پھر دوسرے شوہر کا انتقال ہوجائے یا وہ بھی اسے طلاق دے دے تو اسلام نے عورت اور پہلے شوہر کو یہ سہولت دی ہے کہ وہ دونوں پھر آپس میں نکاح کرسکتے ہیں۔ لیکن تین طلاق کے بعد منصوبہ بند طریقے سے عورت کا کسی مرد سے نکاح کروا کے طلاق دلوائی جائے، تاکہ پہلے شوہر سے اس کا نکاح جائز ہوجائے، یہ اسلام میں بالکل حرام ہے۔"

ابھیشیک نے اس پر کوئی سوال نہیں کیا، پتہ نہیں وہ مطمئن ہوا تھا یا نہیں؟ عطیہ صاحبہ کے جواب سے اسلامی تعلیم کی وضاحت تو ہوگئی تھی، لیکن یہ اشکال پھر بھی باقی تھا کہ اگر حلالہ حرام ہے تو مسلم سماج میں اس کے کچھ واقعات کیوں کر پیش آتے ہیں؟!

میرے دماغ میں یہ بات گردش کررہی تھی کہ موجودہ مسلم سماج میں تین طلاق کو تین ماننے کا نتیجہ حلالہ کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ ایک آدمی تین طلاق کا کیس لے کر آتا ہے تو اسے بتایا جاتا ہے کہ تمھاری بیوی ہمیشہ کے لیے تم پر حرام ہوگئی۔ وہ روتا ہے، گڑگڑاتا ہے، کہتا ہے کہ کوئی صورت بتائیے کہ بیوی مجھے مل جائے تو کہا جاتا ہے: بس ایک صورت ہے، حلالہ۔ وہ کہتا ہے: اس کی کیا ترکیب ہے؟ تو کچھ منچلے حلالہ سینٹر کا پتہ، اس کے انچارج کا نام اور اس کا ریٹ بھی بتا دیتے ہیں۔ میرے ذہن میں آیا کہ اگر تین طلاق کو ایک مان لیا جائے، جس کی ایک فقہی مسلک میں گنجائش ہے تو حلالہ کا کاروبار بالکل بند ہوجائے گا۔ عطیہ صاحبہ مسلم سماج میں حلالہ کے رواج کا بالکلیہ انکار کر رہی تھیں اور میں یہ سوچ رہا تھا کہ شاید اس بات سے کوئی بھی مطمئن نہ ہوسکے۔

ابھیشیک نے کہا: "سماج میں بگاڑ آتا رہتا ہے۔ اسے روکنے کے لیے قانون بنایا جاتا ہے۔ جوں جوں بگاڑ میں اضافہ ہو، اس کی روک تھام کے لیے حسبِ ضرورت قانون میں بھی تبدیلی کی جانی چاہیے۔"

وارث صاحب نے وضاحت کی: "یہ انسانی قانون کا معاملہ ہے۔ انسان اپنے زمانے کی ضرورت کے اعتبار سے قانون بناتے ہیں۔ حالات بدل جاتے ہیں تو قانون میں بھی تبدیلی کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ لیکن الٰہی قانون کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ اللہ تعالیٰ انسانوں کی حال کی ضرورتوں سے واقف ہے اور مستقبل کی ضرورتوں سے بھی۔اس نے جو قوانین دیے ہیں ان میں تبدیلی کرنے کا انسانوں کو اختیار نہیں ہے۔"

یہ بھی پڑھیں:   کینڈا میں کرتار پو ر کا معجزہ - روبیہ فیصل

ابھیشیک نے اگلا سوال کیا: "طلاق کے بعد عورت کی گزر اوقات کیسے ہو؟" اس کے لیے ہندو لا میں عورت کو شوہر کی پراپرٹی میں سے حصہ دیا گیا ہے۔ آپ لوگ کہتے ہیں کہ عورت کو کچھ نہیں ملے گا۔ پھر وہ بعد میں کیسے زندگی گزارے گی؟"

میں نے وضاحت کی: "اسلام میں نکاح مرد عورت کے درمیان معاہدہ ہے۔ طلاق کی صورت میں وہ معاہدہ ختم ہوجاتا ہے۔ پھر مرد کی پراپرٹی میں سے اس عورت کو حصہ دلوانا، جس سے ہم آہنگی نہ ہونے کے نتیجے میں اس نے اسے طلاق دی ہو، مرد کے ساتھ زیادتی ہے۔"

"پھر اُس عورت کی آئندہ ضروریات کیسے پوری ہوں گی؟" ابھیشیک نے فوراً سوال کیا۔

میں نے بتایا: "اسلام میں نفقات کا پورا نظام ہے۔ لڑکی کو والدین کی پراپرٹی میں سے وراثت ملتی ہے۔ طلاق کے بعد باپ یا دوسرے قریبی رشتے داروں کی ذمے داری ہے کہ اس عورت کی کفالت کریں۔ عورت کے بچے بڑے ہوں اور کما رہے ہوں تو وہ اس کا خرچ اٹھائیں گے۔"

ابھیشیک کو اطمینان نہیں ہوا۔ اس نے کہا: "طلاق کے بعد عورت اور بچے کہاں جائیں گے؟"

عطیہ صاحبہ نے مزید وضاحت کی: " طلاق ہوتے ہی عورت بے سہارا نہیں ہوجاتی۔ عدّت کے دوران وہ شوہر سے خرچ لے گی۔ بچہ چھوٹا ہے تو اسے دودھ پلانے کی اجرت لے گی۔ اس کے بعد کئی برس تک اس کی پرورش کرنے کا معاوضہ وصول کرے گی۔"

ابھیشیک نے کہا: "کیوں نہ شوہر سے عورت کو اتنا کچھ دلا دیا جائے جس سے وہ اپنی آئندہ زندگی کی ضروریات پوری کرسکے۔"

میں نے کہا: "جس مرد سے اب عورت کا کوئی تعلق نہیں رہ گیا ہے، اسے کیوں پابند کیا جائے کہ وہ عورت کی آئندہ زندگی کی ضروریات کی تکمیل کے لیے کچھ دے۔ اگر مرد کو معلوم ہو جائے کہ طلاق کے بعد بھی اسے عورت کی ضروریات کی تکمیل کے لیے اپنی پراپرٹی کا ایک حصہ دینا ہے تو وہ اسے طلاق ہی کیوں دے گا؟ وہ اسے طلاق دیے بغیر خوب ستائے گا۔"

میں نے یہ بھی کہا: "اگر عورت کا نکاح نہ ہوا ہوتا تو اس کی ضروریات کیسے پوری ہوتیں؟ ظاہر ہے، اس کے قریبی رشتے دار پوری کرتے یا وہ خود ملازمت کرتی یا کچھ کماتی، اسی طرح طلاق کے بعد بھی اس کی ضروریات پوری ہوں گی۔"

" خلع کیا ہوتا ہے؟" ابھیشیک کا اگلا سوال تھا۔

میں نے بتایا: "نکاح کے بعد اگر میاں بیوی میں ہم آہنگی پیدا نہ ہوسکے تو اسلام نے دونوں کو علیٰحدگی کا حق دیا ہے۔ شوہر طلاق کے ذریعے اپنا یہ حق استعمال کرتا ہے اور بیوی خلع کے ذریعے۔ خلع کی صورت میں بیوی شوہر سے کہتی ہے کہ میں تمھارے ساتھ نہیں رہ سکتی، مجھے طلاق دو۔ وہ مہر واپس کر دیتی ہے اور شوہر سے علیٰحدگی حاصل کرلیتی ہے۔"

اقبال ملا صاحب پوری گفتگو میں شریک رہے۔ وہ بڑے محبت بھرے انداز میں ابھیشیک کو مخاطب کرتے اور اس کے اشکالات دور کرتے ہوئے ہمارے جوابات میں اضافہ کرتے۔

ابھیشیک کو موقع ملا تو اس نے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں کھل کر سوالات کیے اور ہم لوگوں نے حتیٰ المقدور جواب دینے اور اس کے اشکالات کو دور کرنے کی کوشش کی۔ اس نے کہا کہ میں اپنے اور دوستوں کو ساتھ میں لانے والا تھا، لیکن اس ڈر سے نہیں لایا کہ کہیں ان کے بعض سوالات آپ لوگوں کو برے نہ لگیں۔ ہم نے کہا: "ہماری اگلی ملاقات اب آپ کے دوستوں کے ساتھ ہوگی۔ انھیں اطمینان دلا دیجیے گا کہ وہ چاہے جیسے سوالات کریں، ہم بُرا نہیں مانیں گے۔''