امت مسلمہ کے مسائل اور مذہب کارڈ - عمار مظہر

ایک عرصے سے دل میں ایک خلش سی محسوس ہو رہی ہے کہ امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر انفاق میں کیوں مبتلا ہے۔ وہ امت جسے جسد واحد کہا گیا تھا آج تقسیم در تقسیم کی ایسی صورتحال میں مبتلا ہے جس سے نکلنا ناممکن نظر آتا ہے۔ امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات تو دیکھیں۔ ایک جانب مبینہ نائن الیون کے بعد افغانستان کو کھنڈرات میں بدل دیا گیا تو دوسری جانب بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا الزام دھر کے عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔ گذشتہ دو دہائیوں میں حالت یہ ہو چکی ہے کہ عالمی استعمار نے مسلم دنیا کے کسی بھی ملک میں خود مختار حکومت گرانے کے لئے ہر ممکن سازش رچائی۔ آج سوائے ترکی کے، مسلم دنیا عالمی استعمار کی کٹھ پتلی بن چکی ہے جس کی ایک وجہ تباہی و بربادی ہے تو دوسری وجہ معاشی مسائل ہیں۔

اب مسلم دنیا کے اندرونی حالات بھی دیکھ لیں۔ مسلم دنیا کو گذشتہ صدی سے ایسی فرقہ ورانہ تقسیم سے دوچار کر دیا گیا ہے کہ اب دو واضح بلاک خون مسلم کے ہی پیاسے ہیں۔ میں اکثر کہا کرتا ہوں کہ مسلم دنیا کے مسائل کا واحد اور مستقل حل حجاز مقدس سے آل سعود اور سرزمین فارس سے فرقہ ورانہ عصبیت کی قائل مبینہ انقلابی حکومتوں اور مسلم دنیا سے ان کے اثرات کا خاتمہ ہے۔ کیونکہ فرقوں کی زہریلی تلوار اٹھائے ان دونوں حکومتوں کو دنیا بھر میں خون مسلم بہانے کا قصوروار سمجھا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔

اب کچھ حال کا تذکرہ بھی کر لیں۔ رواں سال پانچ اگست کو بھارت کی ہندو انتہا پسند حکومت نے مقبوضہ جموں، کشمیر اور لداخ کی خصوصی حیثیت ختم کرکے کرفیو لگا دیا۔ ان سب اقدامات پر حکومت پاکستان سمیت دنیا بھر کی مسلم برادری کا رد عمل اور طرز عمل انتہائی افسوسناک ہے۔ خود حکومت پاکستان نے بھی اس معاملے پر انتہائی بودی خارجہ پالیسی اختیار کی اور مسلم دنیا سمیت دنیا بھر میں اپنا مؤقف بے ضرر سے انداز میں بمشکل پہنچایا، جہ جائیکہ ایک جارحانہ طرز عمل اپناتے ہوئے دنیا کو خطے میں منڈلاتے جنگ کے بادلوں کی صحیح تصویر دکھائی جاتی۔

افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ خود کو حرمین شریفین کا خادم قرار دے کر مسلم دنیا کی قیادت کے دعویدار آل سعود نے بھی اپنی روش نہیں بدلی۔ جیسے آل سعود کے آباؤ اجداد نے ترک خلافت کے خلاف مکاریوں اور دھوکے بازی کا مظاہرہ کیا، آج ان کی اولاد محمد بن سلمان کی صورت میں نہ صرف مذہبی اقدار سے بغاوت پر اتری نظر آتی ہے بلکہ اپنے اقتدار کو مسلط رکھنے کے لیے مسلم دنیا کو بھی تباہ کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر یہ نام سنتے ہی دل غم سے پھٹ پڑتا ہے۔-علی رضا

مجھے معلوم ہے کہ آل سعود کے بارے میں میرے الفاظ بہت سے لوگوں کو تکلیف دہ سے زیادہ قابل نفرت محسوس ہوں گے لیکن میرا سوال یہ ہے کہ کیا کبھی ہم نے اس پر غور کیا کہ ستر فیصد سے زائد مسلم دنیا بدامنی میں مبتلا ہے، لیکن آل سعود کی عیاشیاں ختم نہیں ہو رہیں۔ فلسطین میں دہائیوں سے مسلم لاشے گرائے جا رہے ہیں، ننھے بچوں کا قتل عام جاری ہے، اور تو اور دنیا کی سب سے بڑی فاشسٹ اور ناجائز ریاست اسرائیل دیگر مسلم ممالک میں دراندازی بھی کر رہی ہے، لیکن خود ساختہ خادمین حرمین شریفین عالمی دہشت گرد اسرائیل کے ساتھ محبت کے پینگیں چڑھا رہے ہیں۔ مصر میں تاریخ کی پہلی جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر ہزاروں مسلمانوں کو قتل کرکے اقتدار پر قبضہ کرنے والا جنرل عبد الفتاح السیسی آل سعود کا پسندیدہ شخص ہے۔ ترکی میں ایک خود مختار مسلم حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے آل سعود نے اپنی تمام تر چالبازیوں کے ذریعے فوجی بغاوت کا سامان کیا لیکن اوغوز خان کے جانشینوں نے ثابت کر دیا کہ ترک بیدار ہو چکے ہیں، اور اب آل سعود کا خاندانی انداز سازش کامیاب نہیں ہو گا۔ بھارت کشمیر میں خون کی ہولی کھیل رہا ہے کہ لیکن آل سعود سمیت عربوں کی دیگر قیادت اسی دہشت گرد کے ساتھ کاروبار میں مصروف ہے۔ لبنان، شام، لیبیا سمیت دیگر مسلم ممالک دہشت گردی کی لپیٹ میں ہیں لیکن آل سعود حجاز مقدس میں شراب و شباب کی محفلیں جمانے میں سرگرداں ہیں۔

ایسے میں حرمین شریفین کے امام بھی خاموش ہیں۔ نہ صرف خاموش ہیں بلکہ وہ شاید بھول گئے کہ اسی مقدس سرزمین سے یہ نعرہ بلند ہوا تھا کہ ظلم حاکم کے سامنے کلمہ حق بلند کرنا افضل ترین جہاد ہے۔ کیا حرمین کی امامت کرنے والے آل سعود کے خلاف افضل ترین جہاد نہیں کریں گے؟ کیا حرمین کے امام آل سعود کے ملازم ہیں یا اللہ کے غلام؟ اور تو اور حرمین کے امام خاندان شاہی کی تعریف و توصیف کے پل باندھتے ہوئے برصغیر کے قدیم درباری علما کی روایت زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
مجھے معلوم ہے اس تحریر کے بعد مجھ پر تنقید بھی بہت ہوگی لیکن میرا سوال صرف یہ ہے کہ آل سعود کس شرعی قانون کے تحت حجاز مقدس پر قابض ہیں؟ کیوں حجاز مقدس کا نام تبدیل کرکے آل سعود نے اپنے خاندان کے نام پر رکھا؟ وہ حجاز مقدس جہاں زمانہ جاہلیت میں بھی حج کے لئے جانے والوں کو مہمان تصور کرتے ہوئے ان کی ہر ممکن خدمت کی جاتی تھی آج حج کے نام پر اخراجات کی مد میں آل سعود مسلمانوں کو لوٹنے میں مصروف ہیں تو کیوں؟ حج کو ایک کاروبار کا درجہ دینے والے آل سعود کس حیثیت سے خود کو خادم حرمین کہتے ہیں؟

یہ بھی پڑھیں:   میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا - حبیب الرحمن

اب ذرا بات کر لیں انقلاب ایران کے دعویداروں کی۔ ایک مخصوص مسلک کے نام پر مسلم ممالک میں انتہا پسندی کو ہوا دینے والے انقلاب ایران کے پیروکار بھی مسلم دنیا کو تباہی کے دہانے پر لے جا رہے ہیں۔ کبھی مسلک کے نام پر عراق کے ساتھ چھیڑ چھاڑ تو کبھی دیگر ممالک میں مسلکی تفریق کا سامان ان کی تاریخ کا حصہ ہے۔ مسلم ممالک میں مسلکی تعصبات کو مالی معاونت سے ہوا دے کر ارض فارس کے حالیہ حکمران کسی کے ساتھ بھلائی نہیں کر رہے۔ ارض فارس کا سب سے بڑا مسئلہ ان کے ذہنوں میں بیٹھا خود پسندی، خود کو اعلٰی اور باقی دنیا کو ادنٰی سمجھنے کی سوچ ہے۔ بلاشبہ دیگر مسلم ممالک میں بھی فرقہ پرستی ہے لیکن اس فرقہ پرستی کو ہوا دینے میں ارض فارس اور آل سعود مرکزی کردار ہیں۔

امت مسلمہ کی حالت دیکھ کر اب تو صرف یہی کہا جا سکتا ہے کہ سب سے پہلے اس فرقہ پرستانہ سوچ اور اس کو پھیلانے والوں سے جان چھڑانا ہو گی اور پھر اپنی عظیم تاریخ کو سامنے رکھ کر دنیا بھر کے مسلمانوں کو جسد واحد کی طرح متحد ہو کر اپنا مقام آپ پیدا کرنا ہو گا۔

تحریر کے آخر میں عرض ہے کہ ان تمام تلخ حقائق سے کسی کو اذیت پہنچانا مقصود نہیں بلکہ یہ سوچ بیدار کرنا ہے کہ ہم کب تک آنکھیں بند کرکے مذہب، مسلک اور ریاست کے نام پر امت مسلمہ سے دھوکا کرنے والے حکمرانوں کو خود پر مسلط رکھیں گے اور کب تک انہیں ایک مقدس گائے کا رتبہ دیتے ہوئے ان کے خلاف اٹھنے والی حق و سچ کی آواز کو دباتے رہیں گے۔