راستوں کی بندش، دینی قیادت کی خدمت میں کچھ گزارشات - فضل ہادی حسن

حضرت انس رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان نقل کرتے ہیں ’’لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرو، ان پر سختی نہ کرو، لوگوں کو خوش خبری سناؤ اور (انھیں دین سے) متنفر نہ کرو۔‘‘ (متفق علیہ)۔ ایک دوسری روایت ہے، سعید بن ابی بردہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، میرے والد اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما کو یمن بھیجا، اس موقع پر رسول اللہ نے ہدایت فرمائی کہ ’’آسانی پیدا کرنا اور انھیں سختیوں میں مبتلا نہ کرنا اور انہیں خوش رکھنا (خوشخبری دینا) اور نفرت نہ دلانا اور آپس میں اتفاق رکھنا۔‘‘، دوسری روایت میں ہے اختلاف پیدا نہ کرنا۔ (صحیح بخاری) اسی طرح ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ ’’جس شخص نے کسی مؤمن کی دنیا کی سختیوں (اور دشواریوں) میں سے کسی سختی کو دور کیا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی سختیوں اور دشواریوں میں سے کمی کرے گا‘‘۔ (صحیح مسلم)

ایک رُخ اور رویہ:
یہ ایک رُخ ہے اسلامی تعلیمات کا، جس کی تائید میں بے شمار احادیث مبارکہ، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اور تابعین کے عمل سمیت دیگر عملی واقعات موجود ہیں، جو اس بات کی تائید کررہے ہیں کہ دینی رہنما آسانیاں پیدا کریں، محبتیں بانٹیں، اور سختیاں، تنگیاں اور نفرتیں پیدا کرنے سے احتراز کریں لیکن اس وقت ہمارے ہاں تمام دینی طبقے کا رویہ اور مزاج کیسا بن گیا ہے؟ یہ ایک طویل اور توجہ طلب موضوع ہے۔

دوسرا رویہ اور رُخ:
ہمارے ہاں دینی امور اور احکام میں جہاں علاقائی رسم و رواج اور مقامی تہذیب و ثقافت کا عمل دخل اتنا بڑھ گیا ہے کہ اس سے دین کی صحیح تعبیر کافی مشکل بلکہ الٹا نقصان کا باعث بن رہی ہے۔ اس وقت ہمارے ہاں ایک طرف ربیع الاول کے مہینے میں میلاد منانے کو باعثِ ثواب اور دین کا حصہ قرار دیا جانے لگا ہے، اور اس کو نہ منانا گناہ اور نہ منانے والوں کو الگ القابات سے نوازا جاتا ہے۔ اس وقت جو رویّہ نظر آرہا ہے، اسے دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ بہت جلد میلاد نہ منانے کو گستاخی قرار دے دیا جائے گی۔ گزشتہ چند سالوں سے میلاد کے موقع پر جلوس (اب تو یہ معاملہ چند یورپی ممالک تک بھی پہنچ گیا ہے) کا اہتمام بھی ہونے لگا ہے۔ نہیں معلوم یہ سلسلہ آگے کہاں جا کر رکے گا، واللہ اعلم۔

محرم الحرام کی صورت حال بھی سب کے سامنے ہے۔ سید الشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت پر شیعہ اور سنی دونوں کو دکھ درد اور افسوس ہے، آپ رضی اللہ عنہ کو خراج عقیدت پیش کرنے کا انداز مختلف تو ہو سکتا ہے لیکن ان کے مقام اور مرتبہ سے انکار نہیں کیا جا سکتا، کوئی بدنصیب ہی ہوگا جو سانحہ کربلا کے مظلوم شہداء اور آل رسول کے مقابلے میں قاتلین اور یزید کے ساتھ کھڑا ہو۔ البتہ جس طریقہ اور انداز کے ساتھ عزاداری کو وسعت دی جا رہی ہے (اب تو بات دھمکیوں تک جا پہنچی ہے) وہ قابل غور اور توجہ طلب ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عزاداری اور ماتم کو ایک خاص سوچ کے ساتھ ایسے وسعت دی جائے کہ سنّیوں کو بھی اس میں شامل کیا جا سکے، ایسا ماحول اور فضا بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اہلِ بیت اطہار رضوان اللہ علیہم کے نام پر اہلِ سنت کے لیے بھی اس سے انکار کی گنجائش باقی نہ رہے۔ یہ میری ذاتی رائے ہے، واللہ اعلم بالصواب۔

کئی اہل تشیع علماء دوستوں سے سنا ہے کہ ماتم کا یہ طریقہ نامناسب ہے، لیکن اس کی مخالفت کرنا پورا مکتب فکر کو اپنے خلاف کرنے کی دعوت دینا ہے، (انہوں نے مولانا حسن جان اور شعیہ رہنما علامہ گردیزی کے قاتلوں کی مثالیں پیش کیں کہ مارنے والے ہم مسلک تھے مگر انتہاپسند اور متشدد تھے)۔ حقیقت یہ ہے کہ سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ سے تعلق و محبت اور خراج تحسین کے نام پر بعض علاقوں کو نوگو ایریا بنایا جا رہا ہے۔ دہشت گردوں کی طرف سے ماتمی جلوس پر حملوں اور دھماکوں کو جواز کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ اگر عزاداری باعث ثواب یعنی ایک عبادت (جس سے اختلاف بھی کیا جاسکتا ہے) کی مانند ہے تو عبادت کے لیے راستوں کا انتخاب کیوں کیا جا رہا ہے؟

آپ کسی بھی مکتب فکر کو دیکھ لیجیے، کچھ وقت کے لیے شیعہ بن جائے یا چند لمحوں کے لیے سنی، اسی طرح دیوبندی یا بریلوی اور اہل حدیث بن کر دوسرے مکتب فکر اور عقیدہ کے بارے میں تحقیق کیجیے، بدقسمتی سے ایک خطرناک رجحان (جس میں بتدریج اضافہ بھی ہورہا ہے) دیکھنے کو ملے گا جس میں ہر ایک اپنے آپ کو مکمل برحق جبکہ باقیوں کو غلط اور باطل سمجھتا نظر آئے گا۔ کوئی اپنے گروہ کو ہی ’’مؤمنین‘‘ کا خطاب دے کر ایک الگ پہچان کے طور پر استعمال کرے گا تو دوسرا گروہ ’’موحدین‘‘ یا ’’عاشقینِ رسول‘‘ کا دعویدار نظر آئے گا۔ بات یہاں تک نہیں رُکے گی بلکہ ایک گروہ کے لیے دوسرا مبتدع/ بدعتی اور مشرک وغیرہ قرار پائےگا تو دوسرے کے لیے پہلا وہابی یا تکفیری وغیرہ، اسی طرح اپنی اپنی سوچ، مخصوص پسِ منظر اور زاویہ نگاہ کی بنیاد پر کوئی رافضی کہلانے کا مستحق قرار پائےگا تو کوئی ناصبی۔ یہ وہ افسوسناک رویہ اور خطرناک پہلو ہے جس کا سدِباب اگر ابھی نہ ہو سکا تو یہ آگے چل کر مزید نقصان کا باعث بنے گا۔ ظاہر ہے کہ اس کا سد باب تمام مکاتب فکر اور مسالک کی قیادت نے مل کر ہی کرنا ہے۔ دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث اور اہل تشیع میں معتدل، اہل علم اور صاحب بصیرت علماء کی ایک بڑی تعداد موجود ہے، انہیں آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، ورنہ عوام کی رائے صرف ایک مسلک اور مکتب کے خلاف نہیں بلکہ تمام مذہبی جماعتوں کے خلاف بنے گی۔ پشتو کی ضرب المثل ہے ’’جب آگ لگتی ہے تو سوکھی گھاس کےساتھ گیلی گھاس بھی جل جاتی ہے۔‘‘

دینی قیادت کیا کرے؟
یہ سوال ’بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا‘ جیسا ہے۔ دینی قیادت کو خود سوچنا اورسمجھنا ہوگا کہ معاملات کو دبانے، چشم پوشی کرنے، مصلحتوں یا سیاسی مفادات کا شکار ہونے سے جزوقتی فائدہ تو مل سکتا ہے لیکن یہ دیرپا اور مستقل حل نہیں بن سکتا، بلکہ اس میں نقصان کا احتمال زیادہ ہے۔ جس طرح تمام سیاسی جماعتیں معاشرے میں آگہی و عوامی شعور پیدا کرنے میں سنجیدہ نظر نہیں آ رہیں، اسی طرح ہمارا مذہبی طبقہ پاکستان میں توہین ِرسالت سے لیکر دیگر تمام مذہبی معاملات میں ایک ’’پریشر گروپ‘‘ کے طور پر میدان موجود ہے، لیکن مستقل اور قانونی حل میں ہمیشہ دیر کر دیتا ہے۔ ہمارا احتجاج، مظاہرے اور جلسے جلوس اپنی قوم اور شہریوں کے لیے باعث اذیت بنتے ہیں، مین شاہراہوں پر لوگوں کی تجارت، نقل وحرکت اور روزمرہ سرگرمیوں کو متاثر کرنے سے کون سے دینی و دنیاوی فوائد ملتے ہیں؟

پاکستان کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں احتجاج اور جلسے جلوس کے لیے کچھ مخصوص جگہوں کا باقاعدہ انتخاب کریں اور مختلف مسالک کے علماء اس میں بھرپور تعاون بلکہ پہل کریں۔ قرآن و حدیث میں بنی اسرائیل کے علماء کی حالت پڑھیں، ان کی روش بلکہ طریقہ واردات جاننے کی کوشش کریں، مغرب میں عیسائی تاریخ، کیتھولک، آرتھوڈوکس اور پروٹسٹنٹ گروہوں کے باہمی تنازعات، چرچ اور پادریوں کی من مانیاں وغیرہ پڑھیں تو ایک خوف اور فکر دامن گیر ہوتی ہے کہ کہیں ہمارا مذہبی طبقہ تو اس رویہ اور ڈگر پر نہیں چل پڑا، جس سے مغربی اقوام تنگ آ کر ریاست سے مذہب کو الگ کر کے اسے چرچ تک محدود کرنے پر مجبور ہوئیں؟

کچھ عرصہ پہلے تک صرف عاشورہ کا معاملہ تھا، بعد میں چہلم اور شہادت حضرت علی کرم اللہ وجہہ بھی ساتھ شامل ہو گئے، اسی طرح یوم وفات سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے یوم شہادت عثمان اور یوم شہادت عمر رضی اللہ عنہما تک بات آئی، یوم وفات امیر معاویہ رضی اللہ عنہ منانے کا ذکر شروع ہوگیا۔ ربیع الاول کے موقع پر جلوسوں کا سلسلہ بڑے شہروں کے بعد اب چھوٹے شہروں اور عام علاقوں تک پہنچ چکاہے۔ آپ ہجری کلینڈر اٹھائیے، سال کے کسی بھی ماہ اور دن میں امت مسلمہ کے لیے نوحہ کرنے، احتجاج کرنے یا خوشی منانے کے لیے کوئی واقعہ ضرور ملے گا، ذرا تصور کیجیے اگر اسی طرح ایام منائے جانے لگے تو معاملہ کہا ں تک پہنچے گا؟ ایام ضرور منائے جائیں لیکن مذہبی قیادت کا فریضہ ہے کہ اسے عام شہریوں اور آبادی کے لیے باعث اذیت اور پریشانی بننے سے روکے۔ اگر چلتے راستہ میں نماز جیسی اہم عبادت اور فریضہ کو باعث تکلیف و اذیت بننے کی وجہ سے ادائیگی سے منع کیا گیا ہے تو کسی اور معاملے کےلیے اجازت کیسے دی جاسکتی ہے؟ ابوسعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’تم راستوں میں بیٹھنے سے بچو!، لوگوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے اپنی مجلسوں میں بیٹھے بغیر چارہ نہیں، وہیں ہم ضروری باتیں کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر تم نہیں مانتے یعنی بیٹھے بغیر نہیں رہ سکتے تو راستے (جہاں مجلس ہے) کا حق ادا کرو۔ لوگوں نے کہا راہ کا حق کیا ہے یا رسول اللہ صلٰی اللہ علیہ وسلم؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، نگاہیں جھکا کر رکھنا اور راہ میں تکلیف (کسی کو چلنے میں) نہ دینا اور سلام کا جواب دینا اور اچھی بات کا حکم کرنا اور بُرائی سے منع کرنا۔‘‘ (صحیح مسلم)

ان احادیث کی روشنی میں دیکھیے کہ ہمارے ہاں مختلف مسالک اور دینی قیادت کس طرف جا رہے ہیں؟ نیز ان حالات اور صورتحال میں ان کی کیا کیا ذمہ دایاں بنتی ہیں؟