جماعت اسلامی کراچی، جائزہ لینے میں کیا حرج ہے - حبیب الرحمن

بہت سارے وہ لوگ جو جماعتِ اسلامی سے وابستہ ہیں، فیض احمد فیض کے اس تاریخی تبصرہ کو شاید بھول چکے ہوں جس میں فرمایا گیا تھا "ہمیں سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، سے ہوشیار رہنا چاہیے، یہ ہمارے مستقبل کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔" اس فقرے کے جواب میں صاحبِ عقل و فہم اور صاحب ایمان و یقین والے شخص، مولانا پروفیسر غفوؒر صاحب نے ایک مجلس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان بنا تو حبِ خدا و رسول میں ہے لیکن اس کی تباہی کا سبب بغضِ مودودی بنے گا۔

جماعت اسلامی اگر واقعی پاکستان کے کسی خطے میں ایک حقیقی جماعت اسلامی کی شکل میں موجود تھی، عوام میں بے پناہ مقبولیت رکھتی تھی اور جہاں کے سب عام و خاص اسے دل و جان سے پسند کرتے تھے تو وہ شہرکراچی تھا۔ اس بات کا اندازہ یوں لگائیں کہ جب بھٹو کا طوطی بولتا تھا اور پورے پاکستان، خاص طور سے کراچی میں اس کی دہشت اور وحشت کا مکمل راج تھا۔ پاکستان کے طول و عرض میں اس کی کامیابی و کامرانی کے جھنڈے گڑے ہوئے تھے اور جماعت اسلامی پورے پاکستان میں الیکشن ہارے ہوئے تھی، اس زمانے میں بھی ایک کراچی ہی تھا جو اس کی پشت پر ڈٹ کر کھڑا ہوا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کراچی کے حصے میں قومی اسمبلی کی کل سات سیٹیں ہوا کرتی تھیں، جس میں سے تین سیٹیں جماعت اسلامی نے حاصل کی تھیں، جبکہ جہاں جہاں سے بھی جماعت اسلامی ہاری تھی وہاں بھی لوگوں کی ایک بھاری تعداد نے جماعت ہی کو ووٹ دیا تھا۔ پی پی پی، جس کا ڈنکا پورے پاکستان میں بجا کرتا تھا، وہ کراچی سے صرف دو ہی نشستیں نکالنے میں کامیاب ہوئی تھی۔ کراچی میں اہلسنت والجماعت کی کامیابی میں بھی جماعت اسلامی کی حمایت کا عمل دخل تھا۔ اس طرح اگر غور کیا جائے تو کراچی جماعت اسلامی ہی کے حمایت میں کھڑا دکھائی دیتا تھا۔ ایوبی دور کے الیکشن میں بھی جماعت اسلامی کی حمایت یافتہ فاطمہ جناح نے ہی کامیابی حاصل کی تھی۔ اس کے علاوہ بی ڈی سسٹم ہو یا ضیا دور کے بلدیاتی الیکشن، کراچی نے ہمیشہ جماعت اسلامی ہی کے حق میں فیصلہ سنایا۔ یہاں اب کوئی بھی یہ نہیں سوچے گا کہ اس شہر میں کس طبقہ آبادی کی اکثریت تھی اور وہ کون لوگ تھے جو آنکھیں بند کر کے جماعت اسلامی ہی کے پیچھے کھڑے نظر آیا کرتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   اللہ کے نام پر پانی دے دو - قدسیہ ملک

جماعت اسلامی کے کارکنان اور ہمدردوں کے خلوص کا اندازہ اس بات سے لگا یا جاسکتا ہے کہ اس شہر کے لوگ وہ تھے جو انتہائی مخدوش اور بے سروسامانی کے عالم میں پاکستان آئے تھے اور بقول ذوالفقار مرزا "ننگے بھوکے" تھے لیکن وہ نہایت خلوص کے ساتھ اس کے رکن بنے، کارکن بنے، ہمدرد بنے، سپورٹر اور ووٹر بن کر اس جماعت کی جسم و جان بن گئے۔ اور وہ بھی (اجڑے پجڑے ہونے کے باوجود) بنا کسی لالچ اور مالی منفعت کے، صرف اور صرف رضاکارانہ طورپر اور محض رضائے الٰہی کے حصول کے لیے۔ جماعت سے وابستہ آج بھی مہاجرین، وہ لفظ جو آج پاکستان میں گالی بنا دیا گیا ہے، کسی مالی منفعت کے بغیر اسی لگن سے جماعت کے تنظیمی امور انجام دیتے نظر آتے ہیں، جیسے ماضی میں انجام دیتے رہے ہیں۔

جماعت اسلامی ایک بڑی منظم جماعت ہے۔ اس کے دفاتر ہیں، مراکز ہیں، جدید مواصلاتی نظام ہے، فلاحی ادارے ہیں اور اپنا ٹرانسپورٹ کا سسٹم بھی ہے۔ وہاں نہ تو کوئی اس بات پر غور کرنے کے لیے تیار ہے کہ ایسا کیوں تھا کہ یہ شہر جو جماعت کو کندھوں پر لیے پھرتا تھا، کیوں پھرتا تھا؟ نہ ہی کوئی یہ سوچنے کے لیے تیار ہے کہ کیوں یہ شہر اب مڑ کر دیکھنا بھی مشکل سے گوارا کرتا ہے، تو ایسا کیوں ہے؟

جب بھی کسی سے سوال کرتا ہوں تو جواب آتا ہے "سازش" ہے۔ شایدایسا ہی ہوگا۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر فرد اور جماعت کا ایک گریبان بھی ہوتا ہے۔ جھانک لینے میں کیا حرج ہے۔