اور آپشنز، بس ایک ہی آپشن ہے - پروفیسر جمیل چودھری

ریاست پاکستان ہرلحاظ سے طاقتور ہو۔ بے شک ڈیفنس ایک اہم شعبہ ہے۔ ہماری مسلح افواج دنیاکی کسی بھی فوج سے کم نہیں ہیں۔ اعلیٰ تربیت یافتہ اور جدید ترین اسلحہ سے لیس۔ قوم ان پر فخر کرتی ہے۔ میزائل اور ایٹم بم کی تخلیق کے بعد لوگ اطمینان محسوس کرتے ہیں۔ لیکن ریاست پاکستان کو طاقتور اس وقت کہا جائے گا جب ملکی معیشت بھی مستحکم اور بڑی ہو۔ بڑی افواج کو ایک مستحکم اور بڑی معیشت ہی سنبھال سکتی ہے۔ اپنی کمزور اور مقروض معیشت سے اب ہم سب واقف ہیں۔

ایک تازہ رپورٹ ہے کہ وزیراعظم کی معاشی ٹیم نے ان سے تفصیلی ملاقات کی اور جاری سال کے بجٹ خسارے کے بارے بتایا۔یہ خسارہ ہرطرح کے تخمینوں کے بعد 700 ارب روپے بنتا ہے اور یہ خسارہ کنڑول سے باہر نظر آتا ہے۔IMF جس کے تحت ہماری معیشت چل رہی ہے اس نے بجٹ خسارہ255۔ارب بتایاتھا۔وزیراعظم نے خسارہ کنڑول کرنے کی چھوٹی بڑی تجاویز بارے بتایا۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خسارہ پر کنٹرول کے لئے ترقیاتی پروگرام ختم یا کم کردیے جائیں گے۔ ریاست کے روزمرہ اخراجات کے لئے ہمیں اندرونی اور بیرونی قرضوں پر انحصار کرنا پڑرہا ہے۔ ہماری مجبوری ہمیں UAE جیسے ملک کے آگے ہاتھ پھیلانے پر مجبور کرتی ہے۔ اور اسی مسلم ملک نے23 اگست کو بھارتی وزیراعظم کو سب سے بڑا سول اعزاز پیش کیا۔

ہمیں اپنی معاشی کمزوری کو دور کرنے کے لئے ملک کے اندر دیکھنا چاہیے۔اس وقت تمام شعبہ جات کی معاشی سرگرمیاں آہستہ روی کا شکار ہیں۔ ضروری ہے کہ تمام کاروباری ادارے اور افراد اپنے کاروباروں میں حرکت پیداکریں۔ یہ حرکت تب پیداہوگی جب امیر پاکستانی اپنے مالیاتی وسائل کو سرمایہ کاری میں لگائیں گے۔کچھ لوگوں نے سرمایہ بنکوں سے نکال کرگھروں کی تجوریوں میں رکھ لیا ہے۔اس سے آپ کے وسائل جمود کا شکار ہیں۔اگر یہ وسائل پاکستانی کرنسی میں ہیں تو انکی قدر روزانہ کم ہورہی ہے۔ان تجوریوں میں رکھی رقوم کو آپ اپنے کاروباروں میں لگائیں۔کاروبار بڑھیں گے۔اشیاء کی پیداوار بڑھے گی تو آپ کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوگا۔پیداوار کے بڑھنے سے مہنگائی پر بھی مثبت اثرات ہوں گے۔ لوگوں کو روزگار کے مواقع بھی اسی وقت حاصل ہوں گے جب آپ کی فیکٹریوں اور کاروباروں میں اضافہ ہوگا۔ برآمدات میں اضافہ کا انحصار بھی پیداوار میں اضافے اور خاص طورپر ایسی اشیاء میں اضافے سے ہے جنہیں ہم برآمد کرتے ہیں۔ تمام دنیا آج کل برآمدات میں اضافے کے لئے کوشش کرتی رہتی ہے۔ ہم اپنے جس ہمسائے کے خلاف ہر وقت نعرے لگاتے ہیں، اس کی برآمدات بھی330 ارب ڈالر سالانہ ہیں۔ یعنی ہم سے 14گنا زیادہ۔ اور اب تو ہم سے علیحدہ ہونے والا بنگلادیش بھی سالانہ 30 ارب ڈالر کی اشیاء باہر بھیج رہا ہے، اور ہم صرف 24 ارب ڈالر کی اشیاء باہر بھیجتے ہیں۔ میں نے مثالوں کو صرف اپنے سے ملحقہ ملکوں تک محدود رکھا ہے۔

برآمدات سے ہر ملک بے شمار روپیہ کماتا ہے۔ ہماری برآمدات بھی اس وقت کم ہوئیں جب ہمیں امریکہ نے افغانستان کی دونوں جنگوں میں الجھائے رکھا۔ بہت سے دوستوں کو یہ پتہ ہوگا کہ آج سے40سال پہلے تک پاکستان کی شرح ترقی بھارت سے زیادہ تھی اور 60ء۔کی دہائی میں ہماری تیز رفتار ترقی دیکھنے کے لئے کئی ایشیائی ممالک ہمارے ملک کا دورہ کیا کرتے تھے۔ہمیں وہ رول ماڈل سمجھ کراپنے ملک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں کیاکرتے تھے۔آج کل ہماری سالانہ شرح ترقی کم ہوکر 3۔فیصد سالانہ پر آچکی ہے ا ور میں نے جس دور کی مثال دی ہے تب ہم سالانہ 7 فیصد کی رفتار سے آگے بڑھ رہے تھے۔ حضرات جنگوں نے ہی ہمیں برباد کیا۔ ہمیں اب جنگوں سے دوررہنا ہے اور ملک کی معیشت کو ترقی دینی ہے اور اسے مستحکم کرنا ہے۔ جب پاکستانی خود سرمایہ کاری کے لئے اپنے وسائل استعمال کریں گے تو دوسرے ممالک سے بھی ہم توقع کریں گے کہ وہ بھی ہمارے ملک میں آکر زراعت، صنعت، سروسز اورتجارت میں سرمایہ کاری کریں۔

یہ بھی پڑھیں:   آمریت سے بغاوت کرنے والوں کو سلام - ایم سرورصدیقی

باہر سے آنے والے سرمایہ کار 2 چیزوں کو دیکھ کر اپنا سرمایہ لاتے ہیں۔ 1 ان کے سرمائے کے بڑھنے کے یقینی امکانات ہوں۔ 2 سرمائے کو ملک کے اندر تحفظ ار سہولیات ہوں۔ ملک کے اندر مکمل امن وامان پیداکرنا اور کاروبار دوست ماحول پیداکرنا یہ حکومت وقت اور اداروں کے فرائض میں شامل ہے۔ غیر ملکی لوگ پہلے جائزہ لینے کراچی ہی آتے ہیں۔ اور کراچی کا گندہ ماحول دیکھ کر ہی واپس اپنے ملکوں کو چلے جاتے ہیں۔ بعض وقت پاکستان کے کسی بھی علاقے میں ہونے والا دھماکہ اور انسانی جانوں کا نقصان بھی غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کرنے کے راستہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ جب تک ہم اپنے ملک میں ان دہشت گردانہ دھماکوں کو مکمل طورپر ختم نہیں کریں گے، ملک میں معیشت آگے نہیں بڑھے گی۔

یہ بھی آپ جانتے ہیں کہ ہم پرFTAF کی تلوار لٹکی ہوئی ہے۔ یہ ایک بین الاقوامی ادارہ ہے جو ہم پر نظر رکھے ہوئے ہے کہ کیا پاکستانی ادارے دہشت گردوں کو مالیات کو مہیا نہیں کر رہے یا کسی اور طرح کی سہولیات۔ ہمارے دشمنوں کی یہ کوشش ہے کہ ہمیں گرے لسٹ سے بلیک لسٹ میں شفٹ کروا دیں تاکہ بین الاقوامی طورپر ہم مالیاتی جکٹر بندیوں میں آجائیں۔ پاکستان اپنی زبردست کوشش سے اس بین الاقوامی منظم سازش سے بچتا چلا آرہا ہے۔ جب ہم گرے لسٹ سے بھی نکل جائیں گے تو دوسرے ممالک کے لوگ یہاں کر سرمایہ کاری کرنے کو محفوظ سمجھیں گے۔ ہم پاکستانیوں کو اس لٹکتی ہوئی تلوار کو ہٹانا ہے اور دنیا کے خدشات ختم کرنے ہیں۔

IMF سے صرف 6 ارب ڈالر کے بدلے بھی ہم پابندیوں میں آگئے ہیں ۔حکومت کو مجبوراً بہت سی اشیاء اور سروسز کے نرخ بڑھانے پڑے ہیں۔ہم اپنی زراعت،صنعت اور دیگر شعبوں کو اتنی ترقی دیں کہ ہماری اپنی قومی آمدنی بڑھ جائے اور ہمیں قرض لیکر اپنے معاملات نہ چلانے پڑیں۔ کسی بھی نقطہ نظر سے آپ غور کریں گے تو معیشت کا مضبوط اور مستحکم ہونا ہی مسئلہ کا حل ہوگا۔ لہذا نعرے بازی اور جذباتی تقریروں کی بجائے اپنے کاروباروں،کارخانوں اور کھیتوں کی طرف توجہ دیں۔معیاری اور زیادہ سے زیادہ اشیاء کی پیداوار ہی ہمارے مسائل کاحل ہے۔ سمگلنگ بھی ہمارے لئے بہت نقصان دہ ثابت ہورہی ہے۔ اس میں ہمارے دونوں ہمسائے بھارت اور افغانستان شامل ہیں۔ اسے روکنا معیشت کی ترقی کے لئے ضروری ہے۔

آپ نے کبھی بھی میڈیا پر زراعت کا ذکر نہیں سنا ہوگا۔ یہاں Input بہت مہنگے ہوچکے ہیں۔ کھادوں اور ادویات کے نرخ 5سال پہلے کی نسبت بہت ہی بڑھ چکے ہیں۔ ہم اپنے محنتی کسانوں کو سستی اشیاء فراہم کریں گے تو اجناس کی پیداوار بڑھے گی اور نرخ بھی کم رہیں گے اور ہم ان کا کچھ حصہ بر آمد بھی کرسکیں گے۔ہمیں وصولیاں زیادہ ہوں گی۔

یہ بھی پڑھیں:   سی پیک سے جڑی معاشی ترقی - محمد عنصر عثمانی

معیشت کے تو بے شمار شعبے ہیں میں نے صرف ضروری باتوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔ مضبوط معیشت سے ہی پاکستان مضبوط ہوگا۔یہ مضبوط پاکستان ہی کشمیریوں کے لئے سہارا ہوگا۔ سید علی گیلانی نے کچھ عرصہ بیشتر انہی باتوں کی طرف توجہ دلائی تھی کہ مضبوط پاکستان ہی ہماری آزادی کا ضامن بن سکتا ہے۔ یہ بات ہر ایک کو معلوم ہونی چاہیے کہ اس وقت پاکستان کمزور ترین معاشی حالت میں ہے۔ جب پاکستان خود ہی کشکول لیکر یو اے ای، قطر اور سعودی عرب جیسے ملکوں سے قرض کی بھیک مانگے گا تو ہم کشمیریوں کی کیسے فزیکل مددکرسکتے ہیں۔ اس وقت صرف ہم ان کی سفارتی اور اخلاقی مدد ہی کرسکتے ہیں۔ یہ کام ہم نے5 اگست کے بعد بڑے پیمانے پر شروع کررکھا ہے جیسے کہ میں پہلے کئی کالموں میں لکھ چکاہوں اس سفارت کاری کو ہم نے بڑھانا بھی ہے اور مؤثر بھی بنانا ہے۔

انڈیا اپنے اکھنڈ بھارت کے ایجنڈے پر چل رہا ہے۔صرف طاقتور پاکستان ہی اس کے راستے میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ طاقت کا مفہوم میں شروع میں بتاچکا ہوں۔ڈیفنس صرف ایک شعبہ ہے۔ معیشت ڈیفنس سمیت تمام شعبہ جات کے لئے ریڑھ کی ہڈی ہے۔معیشت کے لئے تعلیم میں ترقی بنیادی عنصر ہے۔تمام لوگوں کا تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے۔اور ساتھ ہی تعلیم اور خاص طورپر اعلیٰ تعلیم میں تحقیق اور تخلیق کاکام بڑے پیمانے پر ہونا ضروری ہے۔ ہم اپنی صنعتوں،زراعت اور ٹرانسپورٹ کو نئی ٹیکنالوجیز اور طریقے یونیورسٹیوں سے فراہم کریں۔صحت کے شعبے کی ترقی بھی ضروری ہے۔ایسے ہی غربت تو ایمان کے راستے میں بھی رکاوٹ بن جاتی ہے۔

اکھنڈ بھارت کی بات میں کچھ مزید اضافہ کرنا ضروری ہے۔1947ء کے بعد ہی بھارت نے جوناگڑھ اور حیدرآباد کی مسلم ریاستوں کو اپنے اندر ضم کر لیا تھا۔ پھر مشرقی پاکستان کی بزور قوت علیحدگی اور اس کو اپنی باجگزار ریاست بنانا بھی اکھنڈ بھارت کے ایجنڈے کی کامیابی تھی۔ 5 اگست کو بھارت کا پروگرام بھی اسی ایجنڈے کی تکمیل کی طرف قدم ہے۔ بھارت کے وزراء پاکستان کے دیگرعلاقوں کا ذکر بھی کرتے رہتے ہیں۔ بھارت کے اس ایجنڈے کو صرف پاکستان ہی روک سکتا ہے۔ لیکن صرف پاکستان نہیں بلکہ طاقتور پاکستان۔ طاقت کا اہم شعبہ معیشت ہے۔ ہمارے پاس وافر مقدار میں آمدنی ہوگی تو ہم ڈیفنس، صنعت، تعلیم، سائنس تحقیق و تخلیق میں کارکردگی دکھاسکیں گے۔ غربت ختم کرسکیں گے۔ اپنی ریاست کو فلاحی ریاست بناسکیں گے۔ جیسا کہ یورپ کے اکثر ممالک فلاحی ریاستوں میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ ناروے، ڈنمارک، سوئٹزر لینڈ اور برطانیہ کی مثالیں اب عالمی سطح پر دی جاتی ہیں۔ ہم بھی کچھ دہائیوں کے لئے جنگ و جہاد کی بجائے معیشت کو ترقی دینے پر صرف کریں۔ عوام اور حکومت کی توجہ صرف اور صرف معیشت پر ہو۔اور آپشنز تو صرف ایک ہی ہے۔ مضبوط معیشت اور طاقتور پاکستان۔