کشمیرمیں کرفیو: پاکستان کی کاوشیں بے ثمر کیوں؟ علی حسنین نقوی

مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کا چالیسواں دن ہوچکا مگر تاحال محصور کشمیریوں کی مدد کے لیے کوئی نہیں پہنچ سکا۔بھارتی مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست کے بھارتی اقدامات کے بعد سے پیدا ہونے والے حالات میں کوئی بدلائو نہیں آسکا، ہاں مگر پاکستان اور آزاد کشمیرمیں بہت کچھ بدلا۔

شہ رگ کا راگ اپنی حقیقت لیکر سامنے آیا،70 اخلاقی، سیاسی، سفارتی حمایت اپنے منطقی انجام کی جانب رواں دواں ہوئی، امت مسلمہ کا بھانڈا بیچ چوراہے پر پھوٹا اور آزاد کشمیرکی سیاسی قیادت کا مفاد پرست چہرہ کیل ،مہاسے اور داغ دھبوں سے پاک ہوکر سامنے آیا ۔ اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جاسکتا کہ 72سالوں سے کشمیریوں کی ایک بڑی تعداد نے خدا، رسول اور قبلہ و کعبہ کے بعد پاکستان کو ایمان کا حصہ کا سمجھا ہے اور پاکستانی عوام نے بھی ہمیشہ کشمیریوں کے لیے بنا کسی مفاد اور لالچ کے آواز اٹھائی ہے، پاکستانی حکمرانوں کی کشمیر پالیسیز سے اختلاف ایک الگ بات ہے لیکن پاکستان کو برا کہنا یا پاکستان کے بارے میں برا سننا کوئی بھی کشمیری گوارا نہیں کرتا۔ 5 اگست کے ہندوستانی اقدام کے بعد پاکستان اور آزاد کشمیر کا رد عمل کیا رہا ۔5 اگست کے ہندوستانی اقدام کے بعد حکومت پاکستان نے ہندوستانی اقدام کی بھرپور مذمت کی اور اسے خطے کے امن کے لیئے خطرہ قرار دیا،ڈی جی آئی ایس پی آر نے متعدد مرتبہ پریس کانفرنس کی اور ہندوستانی اقدام کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کے لیے آخری گولی اور آخری سپاہی تک لڑیں گے، وزیراعظم پاکستان نے اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کے عزم کو بارہا دہرایا،

مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پارلیمنٹ اور سینٹ کے جوائنٹ سیشن ہوئے اور ہندوستانی اقدام کی بھرپور مذمت کی، پاکستان کی کاوش اور چین کی مدد سے مسئلہ کشمیر کے حوالے اقوام متحدہ بند کمرے کا اجلاس ہوا جس میں پانچ مستقل ارکان نے کشمیر کے حوالے سے بات کی اور خاموشی سے اٹھ کر چلے گئے، اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب نے اسے بڑی کامیابی قرار دیا، وزیر اعظم پاکستان نے جمعہ کو آدھہ گھنٹہ کشمیریوں سے یکجہتی کے لیے مختص کیا وزیراعظم پاکستان نے آزاد کشمیر کے دورے کیے اور کشمیریوں کو سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کا یقین دلایا ،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کے بیالیسویں اجلاس میں شرکت کے جنیوا گئے اور کشمیریوں کا مقدمہ پیش کیا وغیرہ وغیرہ یہ تو تھا جو پاکستان میں عوامی ردعمل کے علاوہ ہوا اب مختصر سا جائزہ لیتے ہیں آزاد کشمیر میں کیا ہوا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت نے بھی پاکستانی سیاسی قیادت کی پیروی کرتے ہوئے ہندوستانی اقدام کی بھرپور مذمت کی اور پاک فوج کے شانہ بشانہ کشمیر آزاد کرانے کے عزم کو بارہا دہرایا، 5 اگست کے ہندوستانی اقدام کے فوری بعد وزیراعظم آزاد کشمیر نے لائن اف کنٹرول توڑنے کے عزم کا اظہار کیا اور غیرملکی دورے پر روانہ ہوگئے اور ہندوستانی جارحیت پر عالمی ضمیر کو جگانے کی سعی کی،

یہ بھی پڑھیں:   اردو زبان قوم سے ناراض - ثمینہ اقبال

وزیراعظم آزاد کشمیر نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے امریکہ کی دوردراز ریاستوں تک کے دورے کیے، وزیراعظم کی پیروی کرتے ہوئے آزاد کشمیر کے کچھ دیگر سیاسی رہنما بھی غیر ملکی یاترا پر گئے اور لندن میں کشمیریوں کے ایک احتجاج میں سٹیج پر آکر دنیا کو کشمیریوں پر ہونے والے ظلم کی داستان سنانا چاہی لیکن بدقسمتی سے لوگوں نے روک لیا۔چڑھوئی کے کچھ نوجوانوں نے ایل او سی توڑنے کی کوشش کی اور بھارتی فائرنگ سے ایک نوجوان زخمی ہوگیا تو وزیراعظم آزادکشمیر نے لندن سے اس کی جرات کو سلام پیش کیا، جے کے ایل الف (صغیر)گروپ نے تیتری نوٹ کراسنگ پوائنٹ پر دھرنا دینے کی کال دی جسے پیپلز نیشنل الائنس نے سپورٹ کیا دھرنے کے لیے مارچ شروع ہوا تو آزاد حکومت و انتظامیہ نے بھرپور سپورٹ فراہم کی جس کے نتیجے میں 50 کے قریب مارچ کے شرکا زخمی، درجنوں گرفتار اور درجن بھر پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے،گزشتہ دنوں طویل غیر ملکی یاترا کے بعد جب وزیراعظم آزادکشمیر واپس لوٹے تو ایل او سی توڑنے کے حوالے اے پی سی بلائی گئی لیکن بدقسمتی سے وہ اے پی سی بے نتیجہ ثابت ہوئی اور اے پی سی کی جو اندرونی کہانی جو جی این این کے رپورٹر اصغر حیات منظر عام پر لائے آئے وہ یوں تھی کہ "بیرون ملک طویل قیام پر سیاسی قائدین کی وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر پر سخت تنقید،

آپ ریاست کو لاوارث چھوڑ کر باہر چلے گئے اور 27 دن بعد آئے، تنگ آکر راجہ فاروق حیدر نے کہہ دیا "میں گیا نہیں بھیجا گیا تھا" اس کے علاوہ ایک ویڈیو میں کل جماعتی حریت کانفرنس(گیلانی)کے کنوینر عبداللہ گیلانی آزاد حکومت اور بالخصوص وزیراعظم آزادکشمیر پر تنقید کرتے نظر آئے اور عملی اقدامات کا مطالبہ کرتے نظر آئے، وزیراعظم پاکستان نے کشمیریوں سے یکجہتی کے لیے 13 ستمبر کو مظفرآباد آباد میں ایک جلسے سے خطاب کا اعلان کیا تو جلسے سے پہلے پاکستان تحریک انصاف آزادکشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود کی ویڈیو وائرل ہوئی جس میں وہ مذکورہ جلسے کو آزاد کشمیر کے آمدہ الیکشن کے لیے پی ٹی آئی کی الیکشن کمپین کرتے نظر آئے، 13ستمبر کو وزیراعظم پاکستان سے راجا فاروق حیدر ایل او سی توڑنے کی اجازت مانگتے ہیں جس پر وزیر اعظم پاکستان تاحکم ثانی تک ایل او سی توڑنے سے منع کرتے ہیں اور یوں ایل او سی توڑنے اور اے پی سی کی کہانی ختم ہوجاتی ہے۔ اب یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے اس سارے عمل سے محصور کشمیریوں کو کیا فائدہ ہوا؟ غیر ملکی دورے، سیمنارز کانفرنسز، فوٹو سیشن وغیرہ وغیرہ کیا اس سے ہندوستان کے رویے میں کوئی بدلائو آیا؟ آپ کے پاس لائحہ عمل کیا ہے ؟ کرفیو کا چالیسواں ہوچکا،

یہ بھی پڑھیں:   ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑہ - حبیب الرحمن

امت مسلمہ کا بھانڈا پھوٹ چکا، عالمی برادری کی حقیقت سامنے ہے تو آپ کے پاس اخلاقی، سیاسی حمایت کے بیانات کے علاوہ دوسری قابل عمل پالیسی کیا ہے ؟ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ جے کے ایل ایف(صغیر)کا آزادی مارچ جو بھارتی اقدام کے خلاف اور محصور کشمیریوں سے یکجہتی کے لیے تھا اسے میڈیا کوریج کیوں نہ دی گئی اور کیوں ہندوستانی میڈیا کو اس پر پروپیگنڈہ کرنے اور اسے غلط رنگ دے کر پیش کرنے کا موقع دیا گیا؟ سوال یہ بھی اٹھتا ہے ایل او سی کو توڑنے کی مشترکہ کال موخر ہونے کے بعد اگر جے کے ایل ایف 4 اکتوبر کو ایل او سی توڑنے کی کوشش کرتی ہے اور ان کے ساتھ آزادی مارچ کے شرکا کے ساتھ کیا جانے والا سلوک دہرایا جاتا ہے تو اسکا کیا ردعمل ہوسکتا ہے؟سوال یہ بھی ہے کہ یک طرفہ ایل او سی توڑنے کی کوشش کتنی سود مند ثابت ہوسکتی ہے؟ میری ناقص عقل کے مطابق مذکورہ تمام سوالات کا مختصر جواب یہ ہے کہ مظلوم کشمیریوں یا تو اپنی جنگ خود لڑنی ہے یا ظلم کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھ کر قبول کرنا ہے کیونکہ اس طرف کی قیادت چاہے وہ کشمیری قیادت ہو یا پاکستانی وہ ماسوائے تسلیوں کے کچھ نہیں دے سکتی اور رہی بات ایل او سی توڑنے کی تو ایسی کوئی بھی کوشش تب تک سود مند ثابت نہیں ہوسکتی جب تک دونوں طرف سے ایک ہی وقت میں کوشش نہ کی جائے