روشنی کا سفر - ام محمد عبداللہ ( قسط 1)

ایک کمرے کے یخ بستہ سرونٹ کواٹر میں سردی سے ٹھٹھرتے اس کے وجود میں معصوم سا زہن کھول رہا تھا۔ یہ احمد تھا۔ گیارہ سالہ یتیم احمد۔ تایا ابا کہہ رہے تھے آج انہیں کاروبار میں بڑی کامیابی ملی ہے۔ لاکھوں روپوں کی کامیابی۔ لاکھوں روپوں کی کامیابی بڑی کامیابی ہوتی ہے اماں؟

اماں میں نے بھی لینی ہے کامیابی۔ لاکھوں روپے کی کامیابی تاکہ تائی اماں میرے منہ پر تھپڑ نہ مار سکے کبھی۔ بے ربط بولتے، آنکھوں کے آنسو چھپاتے اس نے سامنے پڑے چھوٹے سے میز کو زور سے ٹھوکر ماری۔ میں ان کو کامیاب ہو کر دکھاٶں گا اماں ۔ بڑا بنگلہ ، بڑی گاڑی ، بڑی دولت بڑی کامیابی ۔ وہ بڑبڑاتے ہوئے بوسیدہ سے کمبل میں لپٹ کر نیند کی آغوش میں جا گرا تھا۔ اس کے سرہانے بیٹھی ماں کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور جا چکی تھی۔ یا اللہ سب سے بڑی دولت تو ایمان کی دولت ہے ۔ اللہ میرے بچے کو ایمان کی دولت سے سرفراز فرما دے۔ یا اللہ میرا احمد میرا بچہ یا اللہ دولت ایمان اس کا دل پگھل کر آنسو بن رہا تھا اور دعائیں آسمانوں کی جانب اٹھ رہی تھیں ۔
❄❄❄
کمرے میں ایک طرف بنے آتش دان میں سرخ انگارے سردی کی شدت کے ساتھ بخوبی برسر پیکار تھے۔ ٹیوب لائٹ کی دودھیا روشنی اور عطر کی خوشبو نے کمرے کے ماحول کو بہت آسودہ بنا دیا تھا۔ ننھی زینب اپنے امی ابو کے ہمراہ بہت خوش دکھائی دے رہی تھی۔ سچ تو یہ تھا کہ وہ تینوں بہت خوش تھے اور کیوں نہ ہوتے۔ آج زینب سات برس کی ہو چکی تھی۔ آج اس نے اپنی والدہ کے ہمراہ اپنی پہلی باضابطہ نماز فجر ادا کی تھی۔ آج اس کی زندگی کا سب سے اہم دن تھا۔ اس کے والدین اسے بتا رہے تھے۔ اب وہ ماشاءاللہ سمجھدار ہو چکی ہے۔ اب وہ نماز کے زریعے دن میں پانچ مرتبہ رب کائنات سے ملاقات کی اہلیت پا چکی ہے۔ رب کائنات جس کا زکر آتے ہی اس کا دل رعب سے بھر جاتا۔

اب وہ آتش دان کے قریب بیٹھ گئے تھے۔ دودھ اور کھجور کے ساتھ ناشتہ کرتے اس کے ابو جان اسے بتانے لگے تھے۔ آج میری پیاری گڑیا نے کامیاب زندگی کی طرف اپنا پہلا قدم اٹھایا ہے۔ پیاری زینب اس زندگی میں ہم نے کبھی نہ ختم ہونے والی زندگی کی کامیابی حاصل کرنی ہے۔ یہ عظیم کامیابی اللہ اور رسول اللہؐ کی اطاعت میں ہے۔ رسول اللہؐ کی اطاعت زینب زیر لب دہرانے لگی۔ رسول اللہؐ کے زکر سے اسے لگتا جیسے رنگ و نور کی جھملاتی روشنیاں بکھر گئی ہوں۔ فضائیں خوشبوٶں سے معطر ہو گئی ہوں۔ اس کی امی جان اسی بتایا کرتیں آپؐ سراپا رحمت ہیں۔ چڑیا کے بچوں کے لیے، بلبلاتے اونٹ کے لیے، نادان بڑھیا کے لیے آنسو بہاتے بےبس غلام کے لیے۔ بچوں سے تو وہ بہت پیار کرتے تھے۔ اس کا دل چاہتا وہ اڑ کر دور نبوتؐ میں پہنچ جائے اور ان کو سلام کرے۔ پھر وہ درود شریف پڑھنے لگتی اور اسے لگتا خوبصورت پروں والے فرشتے موتیوں کی مانند درود کا ہدیہ اس کے نام کے ساتھ ان کے حضور لیے جا رہے ہیں۔ وہ اس کامیابی پر سرشار ہو جاتی۔
اس کے ابو جان اسے بتا رہے تھے۔ حضرت محمدؐ کی اطاعت ہی درحقیقت اللہ تعالی کی اطاعت ہے۔ جیسے نماز پڑھنا اللہ کی اطاعت ہے مگر نماز پڑھنے میں ہمیں رسول اللہؐ کی اطاعت کرنی ہے بیٹی۔ نماز پڑھنے کا حکم ہمیں اللہ نے دیا اور نماز پڑھنے کا طریقہ پیارے رسولؐ کے زریعے سے ہمیں سکھایا۔

یہ بھی پڑھیں:   روشنی کا سفر - ام محمد عبداللہ ( قسط نمبر 7)

زینب اپنے بابا کی باتیں بہت غور سے سن رہی تھی۔ حقیقت تو یہ ہے بیٹی کہ اللہ سے محبت کرنے کے لیے رسول اللہؐ سے محبت کرنا ضروری ہے . اور رسول اللہؐ سے محبت کرنے والے سے اللہ محبت کرتے ہیں اس پر رحم فرما کر اس کی بخشش کر دیتے ہیں۔ اور پتہ ہے زینب بیٹی محبت تقاضا کرتی ہے اطاعت کا، اتباع کا فرمانبرداری اور بات ماننے کا۔ میں اللہ اور اس کے رسولؐ سے محبت کیسے کروں بابا؟ زینب کا دل اللہ اور اس کے رسولؐ سے محبت کے لیے آمادہ تھا مگر وہ سمجھ نہ پا رہی تھی کہ یہ محبت کیسے کی جاتی ہے؟ زینب ہم رسول اللہؐ سے محبت اور ان کی اطاعت کر نہیں سکتے جب تک ہم جان نہ لیں کہ آپ کے معمولات کیا تھے؟ آپ کے شب و روز کیسے تھے؟ وہ کون سا راستہ تھا جس پر آپ تاحیات چلتے رہے۔ بس آپ کے عین آپ کے نقش قدم پر ہمیں آگے بڑھنے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کرنی ہیں۔ آپ کا راستہ؟؟ آپ کا راستہ کیسے پتہ چلے بابا؟؟ آپ کی سیرت کا ماخز قرآن پاک ہے بیٹی۔ آپؐ کی احادیث ہیں۔ سیرت رسولؐ پر لکھی جانے والی مستند علمائے کرام کی کتب ہیں۔ صحابہ اکرام کے اقوال ہیں۔ مجھے آپؐ سے متعلق جاننا ہے بابا۔ زینب شوق اور عقیدت سے بولی ..ہاں بیٹی صرف جاننا ہی نہیں بلکہ ہمیں مضبوط پکڑنا ہے آپؐ کے اقوال کو آپؐ کے افعال کو۔

حکیم صاحب اس کو بہت تیز بخار ہے۔ کل سے یہ بخار میں نہ جانے کیا کیا کہہ رہا ہے۔ احمد کی والدہ پریشانی کے عالم میں حکیم صاحب کو بتا رہی تھیں۔ حکیم صاحب نے اس کی پیشانی کو چھوا اور نبض دیکھنے لگے۔ وہ اسی علاقے کے رہنے والے اور ان کے حالات سے بخوبی واقف تھے۔ کیوں برخوردار معمولی بخار سے گھبرا گئے۔ انہوں نے مسکرا کر احمد کی جانب دیکھا جس کا چہرہ اور آنکھیں بخار کی حدت سے سرخ ہو رہی تھیں۔ نہیں، میں بزدل نہیں کہ گھبرا جاٶں۔ مجھے تو کامیاب ہونا ہے۔۔ لاکھوں کی کامیابی حکیم صاحب۔۔۔ اس کی آنکھیں جیسے شعلے برسا رہی تھیں۔ حکیم صاحب بخار نے اس کے دماغ پر اثر کر دیا ہے۔ اس کی والدہ رونے لگی تھیں۔ اسے دوا کے ساتھ ساتھ دم بھی کیجیے۔ حکیم صاحب نے اپنے چشمے کے پیچھے سے بغور احمد کو دیکھا۔ پھر کچھ سوچتے ہوئے قریب الماری سے سبز اور سنہری جلد والی کتاب نکالی۔ دوا تیار کر کے احمد کی والدہ کے حوالے کی اور کتاب احمد کے ہاتھ میں پکڑاتے ہوئے رعب دار آواز میں بولے۔ میاں جب بخار اتر جائے تو دن میں ماں کی خدمت کرنا اور رات کو ٹھہر ٹھہر کر سکون سکون سے اس کتاب کا ایک ایک حرف پڑھنا۔ اگر بزدل و بےشعور نہیں ہو تو لاکھوں کی کیا انمول کامیابی پاٶ گے۔ احمد نے کتاب تھامتے ہوئے سرورق پر نگاہ ڈالی۔ لکھا تھا پیغمبر انقلاب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

یہ بھی پڑھیں:   *روشنی کا سفر - ام محمد عبداللہ - قسط نمبر 9

چند دن کی دوا کے بعد احمد کا بخار اتر گیا تھا۔ حکیم صاحب کی نصیحت اس کے دل پر اثر کر گئی تھی۔ وہ اپنی امی کے ساتھ بالکل خاموش ہو گیا تھا۔ آج رات پہلی بار اس نے کتاب کھولی تھی۔ لکھا تھا۔ تاریخ انسانی کا ہمہ گیر اور کامل ترین انقلاب نبی کریمؐ نے برپا کیا جس میں تمام انسانی گوشوں میں واضح تبدیلی آئی۔ انقلاب نبویؐ دنیا کا واحد انقلاب ہے جس میں ظاہر سے باطن تک اور فرد سے معاشرے تک سب کچھ بدل گیا۔ اس نے صفحہ پلٹا۔ سیرت النبیؐ کی عظمت پر جہاں ہمیں قرآن پاک اور احادیث مبارکہ سے واضح دلائل ملتے ہیں وہیں غیر مسلموں کے بیانات بھی شان نبوتؐ کی عظمت پر گواہ ہیں۔انیسویں صدی کا فرانسیسی مورخ لیمنٹائن تجزیہ کرتا ہے۔ مقاصد کی عظمت، وسائل کی کمی اور نتائج کا حیرت انگیز ہونا ۔۔ اگر یہ تین معیارات ہوں کسی شخصیت کو پرکھنے کے تو بتاٶ کون ہے جو محمدﷺ کے قریب بھی دکھائی دیتا ہو۔ آگے لکھا تھا۔آپؐ کی سیرت ایک ہی زندگی میں مکمل انقلاب کی واحد مثال ہے۔
اس کی نگاہیں اگلی سطروں پر گویا جم سی گئیں۔ ایک عیسائی مورخ مائیکل ایچ ہارٹ اپنی کتاب دی ہنڈرڈ میں دنیا کی سو کامیاب ترین شخصیات میں حضرت محمدﷺ کو سرفہرست رکھتے ہوئے لکھتا ہے۔*آپؐ کی شخصیت دنیا کی واحد شخصیت ہے جو دنیاوی اور مزہبی دونوں سطح پر کامیاب ترین ہے۔*
جاری ہے