روشنی کا سفر - ام محمد عبداللہ

مسلمان ہونے کے ناطے ہمارا سب سے بڑا اور قیمتی اثاثہ پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی محبت ہے۔ جب ہم اپنی اس عقیدت اور محبت کو ظاہر کرنا چاہتے ہیں تو سیرت سے اپنے لیے کچھ نہ کچھ لیتے اور عمل کی کوشش کرتے ہیں ۔

جیسے .. آپؐ کے امتی ہونے کو اپنے لیےخوش قسمتی تصور کرتے ہیں ۔ آپؐ کے معاملات اور معمولات میں سے اپنے لیے کچھ کا انتخاب کر لیتے ہیں جیسے کبھی نوافل کا اہتمام اور کبھی مسواک وغیرہ کا۔ یا آپ کی تعلیمات میں سے کچھ عبادات کی پابندی کی کوشش کرتے ہیں . مگر پھر بھی دل میں اک کسک باقی رہ جاتی ہے۔ شدت سے خواہش و ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ ہمیں بھی سیرت سے ایسا فیض حاصل ہو جیسا صحابہ کرام کو حاصل ہوا تھا کہ ظاہر سے باطن تک اور فرد سے معاشرے تک ہرشے کلمہ انقلاب لا الہ الا اللہ کے رنگ میں رنگی جائے۔ کوئی سبب ہو کہ ہم کلی طور پر آپؐ کی تعلیمات پر عمل کرنے کی مخلصانہ کوششیں کرتے ہی چلے جائیں ۔گھر سے لے کر کھیت کھلیان تک ، کھیتوں سے لے کر منڈیوں تک ، منڈیوں سے کاروباری مراکز اور ان مراکز سے ہوتے سیاست کے میدان تک اور سیاسی جدوجہد سے گزرتے ایوان اقتدار تک اسی نظام کا رنگ غالب نظر آئے جسں کی آپؐ نے صرف تعلیمات ہی نہیں دیں نافذ کر کے بھی دکھایا۔ روشنی کا سفر ایک ایسا ہی تخیل ،، ایک ایسا ہی خواب ہے۔ یہ احمد کی کہانی ہے جو مجبوریوں اور محرومیوں میں آپؐ کی سیرت پر چلتے ہوئے مشکلات کا مردانہ وار مقابلہ کرتے کرتے پروان چڑھتا ہے اور آپؐ ہی کے نقش قدم میں اپنی کامیابی کی منزل دیکھتا ہے۔

یہ زینب کی کہانی ہے جو اگرچہ خود تو مزہبی ماحول میں پروان چڑھ رہی ہے لیکن غیر مزہبی معاشرے کے دباٶ کو بہر طور محسوس کرتی اور ہر سطح پر مسترد کرتے ہوئے سیرت رسولؐ کی پیروی پر کاربند رہنے کے لیے کوشاں ہے ۔ یہ دانیال کی کہانی ہے جو بے روزگاری کے باوجود حب رسولؐ میں اس معاشرے کی کثیف روزی کو ٹھکراتے ہوئے طیب و حلال راہیں تلاش کر کے خود بھی فائدہ اٹھاتا ہے اور دوسروں کے لیے بھی راستے کھولتا ہے ۔ یہ اشرف صاحب کی کہانی ہے جن کا دل رسول اللہ کی محبت میں منور ہے اور یہ محبت ان کے اطراف جگمگانے کا سبب بنتی ہے۔ روشنی کے اس سفر میں عام آدمی کی زندگی کا جہاد بھی ہے اور ہجرتیں بھی۔۔۔ دین پر جماٶ کے لیے شخصی کمزریوں کے ساتھ جنگ بھی جاری ہے اور معاشرے کی برائیوں کے سامنے مزاحم ہونے کا استقلال بھی ۔ روشنی کے اس سفر میں سیرت کے مختلف پہلوٶں کو محبت و عقیدت سے جاننے کی کوششیں کرتے ان کرداروں کی زندگی بھی آگے بڑھتی ہے اور اسلام کی وہ مطلوب جماعت تشکیل پاتی ہے جو برائی سے روکتی اور نیکی کا حکم دیتی ہے۔ اللہ رب العزت کےحضور دعا ہے کہ وہ اس کاوش کو قبول و مقبول فرماتے ہوئے ہمیں سیرت رسولؐ کی محبت و عقیدت بھی عطا فرمائے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق بھی۔ آمین