ضروریات سے خواہشات تک کا سفر - صدف نایاب

”آج آفس سے جلدی آجائیں گے؟“ ”کیوں؟“ ”وہ بچوں کی کتابیں لینے جانا ہے سکول کھلنے میں ایک ہفتے سے بھی کم وقت رہ گیا ہے۔ کتابیں، یونیفارم، بیگ، سٹیشنری اور جوتے سب کچھ ہی رہتا ہے۔ کتابیں پھر بائنڈنگ کیلیے بھی دینی ہیں۔“

زینب نے ایک ہی سانس میں سارے خرچے گنوا دیے دوسری طرف آفس میں بیٹھا عامر اپنی ہی کسی سوچ میں گم تھا۔ ”اچھا میں آجاوں گا۔“ عامر جو ایک گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔ اسی خیال میں بولا۔ ”کیا بات ہے عامر جب سے فون بند ہوا ہے تم کہیں کھوئے ہوئے ہو؟ کس کی کال تھی۔؟“ امجد نے سوالیہ نظروں سے عامر کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
”کچھ نہیں بس آج گھر جلدی جانا ہے ، بچوں کے سکول کا سامان لینے۔“ ”کوئی پریشانی ہے تو بتاؤـ“ امجد نے استفسار کیا۔ ”نہیں کچھ نہیں“ـ عامر زرا کتراتے ہوئے بولا
************
”بھائی وہ والا بیگ دکھانا، وہ ڈورا جس پر بنی ہوئی ہے۔ کتنے کا ہےـ؟“ ”ایک ہزار کاہے“ دکاندار نے قیمت بتاتے ہوئے کہا۔ ”کیا سوچ رہے ہیں جلدی کیجئے بچوں کو بھوک لگ رہی ہے۔“زینب نے عامر کا سوچوں میں ڈوبا ہوا چہرہ دیکھتے ہوئے کہا۔ ”بھائی کوئی ڈسکاونٹ ہے؟“ ”نہیں سر! ہر چیز کی فکس پرائس ہے۔“ ”اچھا دے دوـ“ ڈورا والا بیگ لے کر عمارہ کاچہرہ خوشی سے دمکنے لگا۔ عامر نے اپنے اردگرد دیکھا، دکان پر موجود تقریبًا تمام والدین ہی بچوں کی ضروری غیر ضروری ہر قسم کی فرمائیشیں چارو ناچار پوری کرتے نظر ائے۔ ابھی عامر والدین کی اتری ہوئی شکلیں پڑھنے کی کوشش کر ہی رہا تھا کہ پیچھے سے ایک صاحب کے چیخنے کی آوازیں آئیں۔ ”اتنی مہنگائی ہے اوپر سے تم لوگوں کے نخرے، فیسیں دوں یا بچوں کا پیٹ بھروں۔“
”سنیں سب لوگ اپ کو دیکھ رہے ہیں۔ تماشہ بن رہا ہے“ـ ان صاحب کی بیگم نے انھیں بازو سے پکڑ کر سمجھاتے ہوئے کہا۔ جو کہ عامر اور زینب کے برابر میں کھڑی تھیں۔

”سر اپ کا بل! دو بچوں کی کتابیں، سٹیشنری، یونیفارم کا سامان کل ملا کر بارہ ہزار ہو گئے۔“ دکاندار نے بل عامر کے ہاتھ میں تھامتے ہوئے کہا۔ غصہ تو اسوقت عامر کو بھی خوب ایا ہوا تھا۔مگر ضبط کے سوا چارہ نہ تھا۔ ”میں ٹیکسی کرواتا ہوں تم بچوں کے ساتھ یہیں بیٹھو۔“ عامر زینب کے پاس سامان رکھ کر چل دیا۔ ”سنیں! عمارہ کے جوتے اور علی کے پیمپر بھی لینے ہیں۔“
”کیا مصیبت ہے! تم لوگوں کی فرمائیشیں کبھی ختم ہونگی؟“ زینب اس فوری ردعمل کیلیے تیار نہ تھی۔ اس لیے بگڑ کر بولی۔”تمھیں ہی شوق تھا چار بچے ہونے چاہیئے۔اب پالنے پڑ رہے ہیں تو غصہ کیوں ہو رہے ہو۔ ضرورتیں تو پوری کرنی پڑتی ہیں۔“زینب بھی جیسے موقع ہاتھ لگتے ہی دل کے پھپھولے نکالنے لگی۔ ”افف! یہ گرمی اوپر سے گھر والوں کے چونچلےـ“ عامر پسینہ پونچھتے ہوئے دل ہی دل میں بڑبڑایا۔ گھر آکر بھی سب کا موڈ تقریبا خراب ہی تھا۔ ”سنو اب اخراجات کچھ کم کرنے کی کوشش کرو۔اب مہنگائی بہت ہو گئی ہے۔ پیٹ کی بھوک مٹانی ہے تو جبر کرنا پڑے گا۔“عامر رات کو بستر پر لیٹتے ہوئے بولا۔ ” دو ماہ گزر گئے ایک نیا سوٹ تو تم نے بنا کے دیا نہیں اور اوپر سے مجھے سمجھا رہے ہو کہ اخراجات پورے کروں۔“برسوں کی دبی خواہش نے آج زبان پر آکر ہی دم لیا۔

”گھر میں راشن ختم ہے شام کو لیتے آنا۔ روز روز بازار سے روٹی نہیں منگواسکتی ایک نان بھی اب بارہ روپے کا ہوگیا ہے۔ چینی پتی بھی کئی دفعہ مانگ چکی ہوں پڑوسیوں سے اب تو انھوں نے بھی دینے سے انکار کر دیا ہے۔بل ائے پڑے ہیں۔ کب بھرواو گے پچھلی بار بھی جرمانہ لگا تھا۔ مالک مکان دو بار اچکا ہے کرایہ لینے۔“
”ناشتہ بھی اب سکون سے نہیں کر سکتا“ـ عامر نے جلدی جلدی دو گھونٹ چائے پی اور آفس کیلیے تیار ہونے لگا۔ گیٹ سے نکلنے ہی والا تھا کہ پیچھے سے آواز آئی۔
”بابا۔۔۔ ٹیچر نے کہاہے کہ یہ والی کتابیں نہیں چلیں گی، اس سال سلیبس بدل گیا ہے اور کتابیں لینی ہونگی۔“ چھوٹی عمارہ نے اپنا بھاری بھرکم بستہ عامر کے سامنے لا کر رکھ دیا۔ عامر نے عمارہ کو تو کچھ نہ کہا بس ایک پھیکی سی مسکراہٹ دے کر آفس چل دیا۔ ”کیا حال ہیں! کس فکر میں ہوـ ہم بھی تمھارے اپنے ہی ہیں یار ہم سے کیا چھپانا، بتاو مجھے کیا بات ہے۔“امجد نے آج پھر عامر کا لٹکا ہوا منہ دیکھا تو اگلوانے کی پوری کوشش کرنے لگا۔ عامر کہنا تو بہت کچھ چاہتا تھا مگر بولنے سے ڈرتا تھا۔مگر اج جب امجداس کے پاس ہی آکر بیٹھ گیا تو عامر کو بھی اپنی زبان کھولنی پڑی اور اپنا دل کا سارا حال کہہ سنایا۔ ” تمھارا مسلہ حل ہو سکتا ہے۔ مگر کام زرا مشکل ہے۔“ عامر کے تو جیسے کان کھڑے ہوگئے۔ ”مسلہ حل ہو سکتاہے، مگر کیسے کیا کام کرنا ہوگا؟ میں اوور ٹائم بھی کروں گا“عامر کی تو جیسے آنکھیں چمکنے لگیں۔ ”کام مشکل ہے تم نہیں کر سکو گے۔“ امجد کے اس جملے نے تو جیسے عامر کے اندر اگ ہی لگا دی۔

” تم بتاو تو صحیح ـ“ ”دیکھو اب زمانہ اور وقت کچھ اور ہے۔ اس طرح نو سے پانچ والی نوکری سے پیٹ نہیں بھرا کرتے بلکہ زرا لمبا ہاتھ مارنا پڑتا ہے۔لاکھوں ہاتھ آئیں گے۔“
”میں سمجھا نہیں تمھاری بات کہنا کیا چاہتے ہو۔ میں کوئی حرام کام نہیں کروں گا ـ“ ”یہ ہی تو مسلہ ہے۔ میں نے کہا تھا تم نہیں کر سکو گے۔ آج پھر گھر جانا منہ لٹکا کر اور بھابھی بچوں کی باتیں سننا۔ ”اچھا اب بتاو بھی کیا کرنا ہوگا۔“عامر نے ایک آہ بھرتے ہوئےکہا۔ امجدبھی عامر کو دیکھ کر مسکرا دیا۔ ”زینب میں دو دن کیلیے شہر سے باہر جا رہا ہوں۔ واپسی پر تمھارے اور بچوں کیلیے چیزیں بھی لاؤں گا۔“عامر نے پیاربھری نظر زینب پر ڈالی تو وہ بھی مسکرا دی۔
*****************
”پلان نمبر ایک: عامر، شہزاد اور توقیر بنک کی پچھلی طرف سے جائیں گے جبکہ باقی سب بنک کی اگے کی طرف سے جا کر سب کو گھیریں گے جتنی دیر میں یہ سب ہو گا۔ بنک کے لوگوں کو انگیج رکھنا ہو گا۔ عامر کا کام لاکار کی دیکھ بھال ہے سمجھ گئےناں!“ ”یس بوس! اچھی طرح سے سمجھ گیا۔ لاکر کی دیکھ بھال کیسے کرنی ہےـ عامر کے چہرے سے اس وقت شاطرانہ پن جھلک رہا تھا۔ ”سب کا ففٹی ففٹی پرسنٹ ہوگا اور اس کے بعد ہم بالکل ایسے ہونگے کہ ہم ایک دوسرے کو نہیں جانتے۔ مگر عامر چونکہ ابھی نیا ہے اس کھیل میں اس لیے اس کے ایمان کی قیمت ہم زیادہ دیں گے ستر فیصد، بولو منظور ہے۔؟“ ”منظور ہے۔ویسے بھی عامر ابھی کچی گوگی ہے۔“نیلی روشنی والا یہ کمرہ عامر کی بے بسی پر ہنسنے والے لوگوں کے قہقہوں سے گونج اٹھا۔
”یہ غلط ہے۔“عامر کے ضمیر نے دل کا دروازہ کھٹکھٹایا اور وہ اپنی دھڑکن تیز محسوس کرنے لگا۔

***********
”بابا اگئے۔“ عامر ہاتھ میں ڈھیروں تھیلے پکڑے ہوئےجب گھر میں داخل ہوا تو بچوں نے دیکھتے ہی شور مچا دیا۔ ”ہائےاللہ جی! اتنی ساری چیزیں۔ عامر اپ کتنے اچھے ہیں۔ مگر اتنے سارے پیسے ائے کہاں سے یہ تو سب بہت مہنگا سامان لگ رہا ہےـ“ ”ارے پگلی! وہ کیا کہتے ہیں ناں آم کھاؤ گھٹلیاں نہ گنو۔“ زینب بھی عجیب سی کشمکش میں تھی مگر نفس نے اس پر سوچنے سمجھنے کے سارے تالے بند کر دیے تھے۔ ”اچھا عامر ہمارے نئے پڑوسی آئے ہیں۔ انھوں نے درس رکھا ہے۔ اپ آرام کیجئے گا میں وہاں سے ہو کر آتی ہوں۔“
”بہنو اج کے درس کا موضوع ہے،”گناہ کیا ہے“۔ ہر وہ کام جس پر اپ کو شک ہو اور دل میں کھٹکے وہ گناہ ہے۔ عورت کی ایک خصوصیت بتائی گئی ہے قرآن میں کہ وہ قناعت اختیار کرنے والی ہو۔جتنا رزق اللہ نے دیا ہے اس پر راضی رہنے والی ہو۔ اپنے شوہر سے شکوے شکایات کرنے کے بجائے اس کا ساتھ دے ورنہ مرد بیچارہ حرام کی طرف چلا جائے گا۔ پھر سوچئیے حرام مال آپ بھی کھائیں گی اوربچوں کی بھی اس سے پرورش کریں گی۔ تو کیا یہ جسم یہ روح جو حرام مال سے پرورش پائے گا جنت میں جانے کا مستحق ہوگا۔؟ ہمارا اصل مقصد جنت کا حصول ہےـ“
زینب کے گھر اب خوشیوں نے ڈیرے ڈال لیے تھے۔ عامر اکثر ضروری کام کا بہانہ کر کے ہفتوں ہفتوں کیلیے گھر سے غائب رہنے لگا تھا۔ زینب پوچھتی تو بہانہ کر دیتا کے نوکری کے ساتھ ساتھ کاروباربھی شروع کر رہا ہے۔

وقت گزرتا گیا عامر چوریاں کرنے میں ماہر ہوچکا تھا۔ جبکہ اس کا اپنا ایک گینگ بھی بن چکا تھا۔ زینب کے دل میں اکثر شک آتا کہ اتنا پیسہ کہاں سے آرہا ہے مگر وہ نئے نئے جوڑے،سونا، بچوں کا روشن مستقبل دیکھ کر اپنا خیال جلد ہی جھٹک دیتی۔ ”آج سب کچھ ہے میرے پاس مگر عامر وہ کہاں ہے؟“ عامر کو گھر سے گئے ہوئے ایک ماہ بیت گیا تھا۔اج زینب کمرے کی کھڑی سے سر ٹکائے عامر کو یاد کر رہی تھی۔ کچھ دن بعد عامر گھر آیا تو بہت گھبرایا ہوا تھا۔ ”زینب ہمیں جلد ہی یہ شہر چھوڑنا ہوگا۔ بلکہ ہو سکتا ہے اگلے کچھ ماہ میں یہ ملک بھی چھوڑنا پڑے۔ بس دو دن کا وقت ہے اب کچھ سمیٹنا ہوگا“ ”کیا مطلب ہے تمھارا تمھاری نوکری بچوں کی یونیورسٹی ان سب کا کیا ہوگا۔؟“ ”ابھی وقت نہیں ان سب باتوں کا بس جلد از جلد سامان لپیٹو“ـ وقت کا پہیہ گھومتا رہا۔ عامر ایک شہر سے دوسرے شہر بھاگتا پھر رہا تھا۔ ”آخر تم مجھے بتاتے کیوں نہیں یہ سب چکر کیا ہے؟“ ”تم سچ سننا چاہتی ہو۔ تو سنو نو سے پانچ کی میری نوکری ماہانا بیس سے پچیس ہزار کی تنخواہ، تمھاری اور بچوں کی خواہشات یہ سب کہاں سے پورا ہوتا۔۔۔۔۔بولو؟“ ”تو کیا تم ۔۔۔چوچوری......“؟زینب کی تو جیسے سانس ہی رک گئی منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے وہ یہ سوچ کر ہی دھک سے رہ گئ۔ ”دیکھو! پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے۔ یہ اب ہماری قسمت میں تھا تبھی ہمیں ملا۔“

رات کا تیسرا پہر تھا کہ شور کی آواز سے زینب کی آنکھ کھل گئی۔ ”عامر عامر۔۔۔۔۔دیکھو یہ کیسا شور ہے“ ”عامر تم حراست میں لے لیے گئے ہو۔ چاروں طرف سے گھر کو گھیر لیا گیا ہے۔ اب تمھارے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ تم اپنے اپ کو ہمارے حوالے کر دو۔ ورنہ ہمیں تمھارے گھر گھس کر تمھیں زبردستی پکڑنا پڑے گا“پولیس کی یہ آواز عامر کے کانوں سےبار بار ٹکرا رہی تھی۔ عامر نیند میں ہونے کے باعث سمجھ نہیں پارہا تھا کہ آیا یہ خواب ہے یا اس کی انکھیں حقیقت دیکھ رہی ہیں۔ جب کافی دیر گزر گئی اور عامر باہر نہ نکلا تو پولیس کے کچھ بندے عامر کے گھر کی سیڑھیاں چڑھنے لگے۔عامر کو ڈھونڈ کر اسے گھسیٹتے ہوئے باہر لانے لگے تو زینب چیخنے لگی۔ ”کیا کیا ہے عامر نے چھوڑ دو اسے خدارا!۔۔۔“
”بی بی اپ زرا راستے سے ہٹ جائیے بیچ میں مت آیئے۔آپ کے میاں سرداروں کے سردار ہیں۔ شہر کے مشہور و معروف مایہ ناز ڈاکو عامر سہیل صاحب۔“پولیس نے جب عامر کا یہ تعارف کروایا تو زینب کے پاون تلے زمین ہی نکل گئی۔ ”یہ کیا کیا تم نے عامر۔۔ مجھے برباد کر دیا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔“ زینب نے بلکتے ہوئے اکھڑی سانوں کے ساتھ عامر کے پاس جا کر کہا جسے پولیس بازوؤں سے پکڑ کر بری طرح اپنے شکنجے میں لیا ہوا تھا۔ ”میں نے وہ ہی کیا زینب جو تم مجھ سے چاہتی تھیں۔ مجھے نہیں اپنے آپ کو کوسو۔“عامر جو پسینے میں شرابور حواس باختہ حالت میں تھا۔ہانپتے ہوئے بولا۔

موزن کی اواز کے ساتھ ہی زینب بھی وہیں زمین پر ڈھیر ہوگئی۔ اس کا زہن، زبان، جسم، ہوائیں اور ساری کائنات چیخ چیخ کر کہہ رہیں تھیں۔”حرام مال سے پرورش کیا گیا جسم جنت میں نا جائے گا۔“ ”بے شک دنیا کی زندگی ایک بہت بڑا دھوکا ہے“ـ عمارہ، علی،عمراور امنہ بھی نیچے اگئے ۔گھر کے چوکیدار نے سارا ماجرا کہہ سنایا۔ زینب کو جلدی سے ہسپتال پہنچایا گیا۔
” کیا ہوا ہے ڈاکڑر صاحب کچھ بتائیے۔”اپ کی والدہ شدید صدمے سے دوچار ہوئی ہیں جس کے باعث ان کی یاداشت وقتی طور پر جا سکتی ہے اور جسم کے اعضا کام کرنا چھوڑ سکتے ہیں۔ مگر گھبرانے کی بات نہیں دوماہ تک یہ بحال ہو جائیں گی اگر اچھا علاج کروا لیا جائے۔۔۔“ زینب کو دو ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا تھا۔ہسپتال میں بے سدھ پڑی زینب کچھ بولتی مگر سمجھ نا اتا تھا۔ ایک رات زینب چیخنے چلانے لگی”حرام۔۔۔حرام ۔۔۔۔جنت میں نا جائے گا“ـ اٹینڈنٹ بستر پر لیٹی ہوئی عمارہ اٹھ بیٹھی”امی امی کیا ہوا؟“ عمارہ نے ڈاکڑر کو ایمرجنسی کال کی۔
”پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ اب ان کا ذہن اہستہ آہستہ اپنی اصل حالت پر آرہا ہے ۔اس لیے ابھی یہ صرف وہ واقعات ہی یادکر پارہی ہیں جو آخری بار ان کے ساتھ پیش ائے تھے۔“
”مذید کتنا وقت لگ جائے گا کیا ہم امی کو گھر لے جائیں۔وہان ان کی دیکھ بھال ہم میں کوئی کسر نہیں ہوگی“عمارہ امی کو اس قید خانہ اے لے جانا چاہتی تھی تاکہ وہ واپس اپنی زندگی کی طرف لوٹیں۔ ”ٹھیک ہے دو ہفتے تک ہم انھیں انڈر ابزرویشن رکھیں گے پھر اپ لے جا سکتی ہیں۔“
******************

”تمام ثبوتوں کی روشنی میں عدالت اس فیصلے پر پہنچی ہے کہ ملزم عامر سہیل کو دس سال قید بامشقت اور پچاس کروڑ کا بھاری جرمانہ عائد کرتی ہے۔“ عامر کی آج آخری پیشی تھی۔
”عامر عامر۔۔۔۔آجاو“ زینب بے خودی کی حالت میں چلانے لگی۔ ”امی کیا ہوا۔“علی نے ماں کا ہاتھ اپنے ہاتھوں سے سہلاتے ہوئےتسلی دینے لگا۔ ”اپنے باپ کو بچا لو۔۔۔“آج ایک عرصے کے بعد زینب کے منہ سےبے ساختہ پورا جملہ نکلا تو بچے رو پڑے۔
وقت بھلا کب کسی کیلیے ٹھرا ہے۔ دس سال کا عرصہ زندگی کا تہائی حصہ ہوتا ہے۔زینب جو کبھی جوان تھی آب بڑھاپے کے باعث مانند پڑنے لگی تھی۔ بالوں میں چاندی اور چہرے کی جھریاں آخر کب تک جلوہ افروز نا ہوتیں۔آخر کو وہ اب نانی دادی تھی۔ ”چلو تمھاری بیل ہوگئی ہے۔“ حوالدار نے جیل کا دروازہ کھولتے ہوئےکہا۔
عامر بھی اب عمر رسیدہ ہو گیا تھا۔ جیل جانے کے وقت تو پہلے ہی اس کی عمرکم نا تھی مگر اب جیل کی ازیتیں جھیل جھیل کر وہ بالکل ہی مرجھا چکا تھا۔
” ابو!“ عمر جو اب کافی بڑا ہو چکا تھا۔ ”تم عمر ہو؟۔ میرا لال۔۔۔“ دونوں باپ بیٹا ایک دوسرے کے گلے لگ کر بلک بلک کر رونے لگے۔ بچے اچھا پڑھ لکھ گئے تھے۔ جس کے باعث اعلی عہدوں پر فائز تھے۔یوں موئثرافراد کے زریعے عامر کو بروقت قید سے نکلوا لیا ورنہ ناجانے کب تک وہ اس جیل میں پڑا سڑتا رہتا۔ دادا جان!“عامر گھر میں داخل ہوا تو ننھے ننھے نواسے نواسیوں اور پوتوں نے استقبال کیا۔ ”ابو امی اپ دونوں آرام کیجئے۔“عمر کمرے کا دروازہ بند کر کے نیچے چلا گیا۔ ”میری زیبی! مجھے معاف کردو۔“عامر زینب کے پاس آکر بولا۔دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے رہے مگر بول نا پائے۔ بس ایک سیل رواں تھا جو بہتا رہا۔ ضروریات سے خواہشات تک کا سفر اور پھر تعیشات تک پہنچتا یہ سلسلہ کتنی آسانی سے تم نے طے کرلیا۔ کاش میں نے تمھیں نہ اکسایا ہوتا تو مدتوں کی یہ دوری آج ہمارے آڑے نہ اتی۔ ہم دولت نا بھی حاصل کر پاتےمگر اس بڑھاپے میں ایک دوسرے کا سہارا تو بنے رہتے۔“زینب اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے بولی۔
”اس خوشی کے موقع پر اب دکھوں کو مت یادکرو۔ چلو آو اللہ کے حضور معافی مانگیں۔ اپنی نسلوں کو سمجھائیں۔یہ دنیا ایک رنگین دھوکا ہےـ“دونوں ایک دوسرے کودیکھکر مسکرا دیے۔