ایمبولینس فیس نہ ہونے سے خاندان اجڑ گیا - سید مصعب غزنوی

سکرین پر خبر چل رہی تھی کہ ’’دو سالہ بچی کی لاش کو ہسپتال انتظامیہ کی بے حسی کی وجہ سے باپ اور چچا موٹر سائیکل پر ہسپتال لے جا رہے تھے کہ رستہ میں حادثہ کے نتیجے میں وہ دونوں بھی دم توڑ گئے۔‘‘

جب یہ خبر سنی تو ایک دم سے سوچ رک سی گئی، اور دل تھمنے لگ پڑا کہ ہم کس ملک میں رہتے ہیں؟ جہاں پر لاقانونیت کا راج ہے، جہاں پر نچلے طبقہ کا کوئی پرسان حال نہیں۔ جہاں پر انسانیت بالکل ختم ہوچکی ہے۔ جہاں پر احساس نام کو بھی باقی نہیں رہا۔ افسوس یہ معاشرہ تو تباہی کے دھانے پر آکھڑا ہوا ہے، کیونکہ جس معاشرہ سے قانون، انسانیت اور احساس ختم ہوجائے، وہ زیادہ دیر تک قائم نہیں رہتا۔

ایک دو سالہ معصوم بچی جو گھر کی رونق، ماں کے دل کی دھڑکن اور باپ کے آنکھوں کی ٹھنڈک تھی وہ ہسپتال میں بے حس لوگوں کے درمیان دم توڑ گئی۔ ایک دم سے گھر میں کہرام مچ گیا، ایک ننھی سی پری جس میں گھر والوں کی جان بستی ہے وہ بے حس لوگوں کے درمیان دم توڑ گئی۔ قیامت ٹوٹ پڑی گھر والوں پر!

میت کو گھر منتقل کرنا تھا تو سرکاری ہسپتال کی انتظامیہ نے دکھ کے بوجھ تلے دبے غریب باپ سے دو ہزار روپے کا تقاضا کر دیا، کہ میت کو گھر منتقل کرنے کے لیے یہ ایمبولینس کی فیس ہے۔ بیچارہ غریب دو ہزار کہاں سے دیتا، اس نے میت کو موٹرسائیکل پر گھر لے جانے کا ہی فیصلہ کیا اور اپنے بھائی کو ساتھ لے لیا۔ ابھی رستے میں ہی تھے کہ تیز رفتار ٹرالے نے انہیں کچل ڈالا اور وہ دونوں بھی موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ پہلے سے دکھ اور غم میں گھرے ہوئے گھر میں جب یہ خبر پہنچتی ہے تو پورے خاندان کی تو ایک دم سے دنیا ہی اجڑ جاتی ہے۔ بیچارے کہاں جاتے، کیا کرتے کس کے پاس داد رسی کے لئے جاتے۔

غریب تھے ناں تو کہاں کسی کو فرق پڑتا ہے؟ یہ تو ایک واقعہ ہے یہاں پر لوگ گدھے گاڑیوں پر، چارپائیوں پر پیدل اور موٹرسائیکل رکشہ پر مریضوں اور لاشوں کو لیئے پھرتے ہیں۔ان کی زندگیاں تو حیوانوں سے بھی بدتر ہیں، ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ ان کی کوئی سننے والا نہیں، جس کا دل کرتا ہے ان کے حقوق پامال کرتا ہے۔ جس کا دل کرتا ہے ان پر ظلم و ستم کرتا ہے، جس کا دل کرتا ہے انہیں گندگی کا ڈھیر سمجھ کر کچل دیتا ہے۔ یہ لوگ اس نظام میں اپنی زندگی سزا کے طور پر کاٹ رہے ہیں، یہ لوگ اس گلے سڑے نظام کی بدبو سے تنگ آئے پڑے ہیں۔ یقینا ان کے دل سے حکمرانوں کیے لئے دعا تو نہیں نکلتی ہوگی اب، یقینا پاکستان کے نظام سے ان کا بھروسہ اٹھ چکا ہوگا اب۔ یہ بدبودار نظام تو آخر ختم ہوکر ہی رہے گا۔

اور یقینا کل روز قیامت ان حکمرانوں کا گریبان ہوگا اور ان غریبوں کے ہاتھ ہوں گے، اور یقینا وہاں پر منصف بہترین فیصلہ کرے گا۔