کیا سعودی عرب اور ایران میں براہ راست جنگ ہو سکتی ہے؟

کئی دہائیوں سے سعودی عرب اور ایران میں جھگڑا ہے۔ وہ ایک دوسرے کے دیرینہ دشمن ہیں لیکن اب حال ہی میں کشیدگی میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

اس کی وجہ کچھ یوں بیان کی جا سکتی ہے:

ایران اور سعودی عرب ساتھ کیوں نہیں چلتے؟
سعودی عرب اور ایران دو طاقتور ہمسائے ہیں اور خطے میں اپنی برتری کے لیے شدید کوشاں ہیں۔ دہائیوں سے چلا آرہا جھگڑا مذہبی اختلافات کی وجہ سے بڑھا ہے۔ یہ دونوں ممالک اسلام کی دو مرکزی شاخوں میں سے ایک کے پیروکار ہیں۔ ایران میں شیعہ مسلمانوں کی اکثریت ہے جبکہ سعودی عرب خود کو سنی مسلمانوں کے رہبر کے طور پر دیکھتا ہے۔

یہ مذہبی فرقہ واریت مشرق وسطیٰ کے نقشے پر مزید پھیلی ہوئی دکھائی دیتی ہے جہاں کچھ ملک شیعہ یا سنی اکثریت میں ہیں وہ ایران یا سعودی عرب کی جانب مدد یا رہنمائی کے لیے دیکھتے ہیں۔

تاریخی اعتبار سے سعودی عرب ہی میں اسلام کا آغاز ہوا اور وہ خود کو مسلم دنیا کے سربراہ کے طور پر دیکھتا آیا ہے۔ لیکن یہ صورتحال سنہ 1979 میں ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد تبدیل ہو گئی جب اس نے اس خطے میں ایک نئی قسم کی ’مذہبی انقلابی‘ ریاست بنائی اور اس کا ایک مشن اس نئے نظام کو اپنی سرحدوں کے باہر بھی متعارف کروانا تھا۔

گزشتہ 15 برسوں میں خاص طور پر ایران اور سعودی عرب کے درمیان اختلافات مختلف واقعات کی وجہ سے بڑھے ہیں۔

سنہ 2003 میں امریکہ کی سربراہی میں حملے کے نتیجے میں عراق میں صدام حسین کی حکومت ختم ہو گئی، جو کہ سنی عرب تھے اور ایران کے بڑے مخالف۔ اس سے علاقے میں ایران کا مقابلہ کرنے والی ایک بڑی فوجی طاقت ختم ہو گئی۔ بغداد میں شعیہ اثر و رسوخ والی حکومت کے لیے راستہ کھل گیا اور اس وقت سے ملک میں ایران کے اثر میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اگر اب سیدھا سال 2011 کی بات کی جائے تو مختلف بغاوتوں کی بدولت عرب ممالک میں سیاسی عدم استحکام آیا جس سے پورا خطہ متاثر ہوا۔ ایران اور سعودی عرب نے اس موقع کو استعمال کرتے ہوئے خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کی خاص طور پر شام، بحرین اور یمن میں اور اسی دوران ان کے باہمی شکوک و شبہات میں مزید اضافہ ہوا۔

ایران کے ناقدین کہتے ہیں کہ وہ خطے میں اپنے آپ کو یا اپنے حمایت یافتہ گروہوں کو قائم کرنے کی پالیسی پر قائم ہے۔ اور اس طرح ایران سے بحیرہ روم تک اپنے کنٹرول والی زمینی راہداری بنانا چاہتا ہے۔


ایران کئی اعتبار سے خطے میں اپنی پالیسی میں کامیاب ہو رہا ہے اور یہی اس دشمنی میں تیزی کی ایک وجہ ہے۔

شام میں ایران اور روس کی حمایت سے صدر بشار الاسد اس قابل ہوئے کہ وہ سعودی عرب کے حمایت یافتہ باغی گروہوں کو بڑے پیمانے پر شکست دے سکیں۔

یہ بھی پڑھیں:   اس تیل کے 'جادوئی اثرات' سے واقف ہیں؟

سعودی عرب ایران کے بڑھتے اثر و رسوخ کو کم کرنے کی شدید کوشش کر رہا ہے جبکہ سعودی عرب کے نوجوان ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے فوجی اقدامات سے خطے میں مزید کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

انھوں نے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف جنگ کا اعلان کر رکھا ہے تاکہ وہاں ان کے خیال میں جو ایران کا اثر و رسوخ ہے اسے ختم کیا جا سکے، لیکن چار سال گزرنے پر اب یہ فیصلہ مہنگا ثابت ہو رہا ہے۔

ایران نے حوثی باغیوں کو ہتھیار فراہم کرنے کے الزامات کی تردید کی ہے۔ تاہم اقوام متحدہ کے ماہرین نے اپنی رپورٹ میں اخذ کیا ہے کہ تہران کی جانب سے حوثیوں کی ہتھیار اور ٹیکنالوجی کی شکل میں مدد دی جاتی ہے۔


لبنان میں حزب اللہ نامی شیعہ ملیشیا کو ایران کی حمایت حاصل ہے اور سیاسی طاقت کے ساتھ ساتھ ان کے پاس ایک مسلح فورس بھی ہے۔ کئی مبصرین نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے سال 2017 میں لبنان کے وزیر اعظم سعد ہریری کو اپنی حمایت کے باوجود استعفی دینے پر مجبور کیا تھا کیونکہ خطے کے تنازعات میں حزب اللہ کا ہاتھ تھا۔

بعد میں وہ لبنان واپس گئے تھے اور اپنے استعفی کو ملتوی کر دیا تھا۔

بیرونی قوتیں بھی اس سب میں شریک ہیں۔ امریکہ میں ٹرمپ انتظامیہ سعودی عرب کی حمایت کرتی ہے جبکہ ایران کو ایک بڑا خطرا ماننے کی وجہ سے اسرائیل بھی ایک طرح سے سعودی عرب کے ’ساتھ‘ ہے تاکہ ایران کو روکا جا سکے۔

اسرائیل شام میں ایران کے حمایت یافتہ جنگجو کی مسلسل پیش قدمی سے خوفزدہ ہے جو اس کی سرحد کے قریب آ رہے ہیں۔

سنہ 2015 میں سعودی عرب اور اسرائیل نے ایران کے ساتھ عالمی جوہری معاہدے کی شدید مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ اس سے ایران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے اور بم بنانے کے امکانات کم نہیں ہوں گے۔

علاقائی اتحادی کون ہیں؟
مشرق وسطی کا نقشہ ایک طرح سے شیعہ و سنی کے درمیان تقسیم کی عکاسی کرتا ہے۔

خلیج فارس میں سعودی عرب کے حمایتیوں میں دوسرے بڑے سنی ممالک ہیں، جیسے متحدہ عرب امارات، بحرین، مصر اور اردن۔


دوسری طرف ایران کے دوستوں میں شام کے صدر بشار الاسد ہیں جنہیں ایران دوست شیعہ ملیشیا گروہوں کی حمایت حاصل رہی ہے، جن میں لبنان میں قائم حزب اللہ بھی شامل ہے جس کے جنگجو سنی باغی گروہوں سے لڑتے ہیں۔

عراق میں شیعہ اکثریت والی حکومت بھی ایران کی حمایت کرتی ہے تاہم واشنگٹن کے ساتھ بھی عراق کے گہرے تعلقات ہیں، جن کی مدد سے انھوں نے دولت اسلامیہ کا مقابلہ کیا۔

دشمنی سے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟
یہ کئی اعتبار سے ایک علاقائی سرد جنگ ہے جس طرح امریکہ اور سوویت یونین کے بیچ کئی سال تک شدید فوجی کشیدگی رہی۔

یہ بھی پڑھیں:   داعش سے یورپی ممالک خوفزدہ - قادر خان یوسف زئی

ایران اور سعودی عرب براہ راست ایک دوسرے سے نہیں لڑ رہے لیکن خطے میں کئی پراکسی جنگوں میں شامل ہیں جن میں وہ خطے میں اپنی اپنی حلیف ملیشیا یا گروہوں کی پشت پناہی کرتے نظر آتے ہیں۔


شام کی مثال سب کے سامنے ہے جبکہ سعودی عرب نے ایران پر الزام لگایا ہے کہ انھوں نے یمن میں حوثی باغیوں کو بیلسٹک میزائل فراہم کیے جنھیں سعودی علاقوں پر چلایا گیا۔

ایران پر یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ اس نے خلیج فارس میں بھی اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں سے سعودی عرب اپنا تیل دنیا بھر کو بھیجتا ہے۔ امریکہ نے کہا ہے کہ حالیہ کچھ عرصے کے دوران بیرونی ممالک کے تیل کے ٹینکروں پر حملوں میں ایران ملوث تھا تاہم ایران اس الزام کی تردید کرتا ہے۔

کیا سعودی عرب اور ایران میں براہ راست جنگ ہونے جا رہی ہے؟
اب تک تہران اور ریاض نے صرف پراکسی جنگیں لڑی ہیں۔ دونوں ملک براہ راست جنگ کے لیے تیار نہیں۔ تاہم حوثی باغیوں کے سعودی عرب کے دارالحکومت پر کسی بڑے حملے یا حالیہ واقعے کی طرح اگر اس کی کسی اہم اقتصادی جگہ کو نشانہ بنایا گیا تو معاملات ہاتھ سے نکل بھی سکتے ہیں۔

سعودی عرب کے انفراسٹرکچر پر حوثیوں کے حملے نے تہران اور ریاض کے تعلقات کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے۔ خلیج کی بحری سرحد پر، جہاں دونوں ممالک ایک دوسرے کا سامنا کرتے ہیں، بڑھتی کشیدگی کی وجہ سے بڑی لڑائی بھی شروع ہو سکتی ہے۔


امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کے لیے خلیج فارس میں آمد و رفت کی آزادی اہم ایشو ہے اور کوئی بھی جھڑپ یا تنازع جس سے آبی راستے متاثر ہو سکتے ہیں امریکی بحریہ یا فضائیہ کو حرکت پر مجبور کر سکتی ہے۔ یہ راستے بین الاقوامی شپنگ اور تیل کی ترسیل کے لیے اہم ہیں۔

امریکہ اور اس کے اتحادی کافی عرصے سے ایران کو مشرق وسطیٰ میں ایک عدم استحکام پیدا کرنے والی قوت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ سعودی حکومت کے لیے ایران ایک خطرہ ہے اور یہ تاثر ملتا ہے کہ سعودی ولی عہد اس کے خلاف کوئی بھی اقدام کرنے کے لیے تیار ہیں تاکہ ایران کا بڑھتا اثر و رسوخ روکا جا سکے۔

تیل کی تنصیبات پر حالیہ حملوں نے سعودی عرب کی کمزوری کو نمایاں کر دیا ہے۔ دونوں میں جنگ چھڑنے کے زیادہ امکانات کسی سوچے سمجھے منصوبے کے بجائے اچانک کسی واقعے کے رونما ہونے سے ہیں۔ لیکن سعودی عرب کی جارحانہ پالیسی اور ٹرمپ انتظامیہ کی خطے میں پالیسی کے بارے میں ابہام بھی خطے میں ٹینشن کی وجہ ہے۔