’سعودی عرب پر حملے جنوبی ایران سے کیے گئے‘

امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ امریکہ نے ایران میں اس مقام کا پتہ چلا لیا ہے جہاں سے سنیچر کو سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر ڈرونز اور کروز میزائل داغے گئے تھے۔

ایک سینئر امریکی اہلکار نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ یہ مقام جنوبی ایران میں خلیج کے شمالی سرے پر واقع ہے۔

اہلکار کا مزید کہنا تھا کہ سعودی ایئر ڈیفنس نے ڈرونز اور میزائلوں کو نہیں روکا کیونکہ ان کا رخ یمن کے حملوں کو روکنے کے لیے جنوب کی جانب تھا۔

ایران ان حملوں میں کسی بھی قسم کی شمولیت سے انکار کرتا ہے۔

یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے بقیق آئل پراسیسنگ پلانٹ اور خوریص آئل فیلڈ پر حملے کے لیے ڈرون بھیجے تھے۔

اس سے قبل امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ یہ بات یقینی دکھائی دے رہی ہے کہ سنیچر کو سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر حملوں کے پیچھے ایران کا ہی ہاتھ تھا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ کسی اقدام کا فیصلہ کرنے سے قبل مزید ثبوت چاہتا ہے تاہم وہ پرامید ہیں کہ جنگ کا خطرہ ٹالا جا سکے گا۔

سنیچر کو سعودی عرب میں بقیق اور خریص کے علاقوں میں سعودی تیل کمپنی 'آرامکو' کی تنصیبات پر ہونے والے حملوں میں دنیا میں تیل صاف کرنے کا سب سے بڑا کارخانہ بھی متاثر ہوا ہے اور جہاں کمپنی کی نصف پیداوار معطل ہو گئی ہے وہیں تیل کی عالمی رسد میں پانچ فیصد کی کمی آئی ہے۔

امریکہ کی جانب سے ایران کو ان حملوں کے لیے ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے پیر کو اس دعوے کے ثبوت کے طور پر کچھ تصاویر بھی جاری کی گئیں تاہم ایران کے صدر حسن روحانی نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ یمنی عوام کی جانب سے ردعمل ہے۔

یمن کے حوثی باغیوں نے ان حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے۔

پیر کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ سعودی عرب امریکہ کا کلیدی اتحادی ہے جس کی مدد کے لیے وہ تیار ہیں تاہم وہ اس بات کے حتمی تعین کا انتظار کریں گے کہ حملوں کا ذمہ دار کون تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یقینی طور پر لگ رہا ہے کہ یہ ایران کا کام تھا۔‘

خیال رہے کہ سعودی حکام نے اپنے ردعمل میں جہاں یہ کہا ہے کہ حملے میں ایرانی ہتھیار استعمال ہوئے وہیں ایران کو ان حملوں کا براہِ راست ذمہ دار ٹھہرانے سے گریز بھی کیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا انھیں ردعمل دینے کی جلدی نہیں۔ ’ہمارے پاس بہت سے آپشن ہیں اور سب سے پہلے اس سلسلے میں اتحادیوں سے بات ہو گی۔‘


ان کا کہنا تھا کہ ’میں کسی نئے تنازعے میں نہیں پڑنا چاہتا لیکن بعض اوقات آپ کو ایسا کرنا پڑتا ہے۔ یہ بہت بڑا حملہ تھا اور اس کا جواب اس سے کہیں بڑا حملہ ہو سکتا ہے۔‘

امریکی صدر نے یہ بھی بتایا کہ امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو سعودی عرب کا دورہ بھی کریں گے تاہم انھوں نے اس دورے کی تفصیلات کا ذکر نہیں کیا۔

اس سے قبل شمالی بحرِ اوقیانوس کے ممالک کے فوجی اتحاد نیٹو کے سربراہ نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال تشویشناک ہے۔

ہانس سٹولٹنبرگ کا کہنا ہے کہ ان حملوں سے خطے میں کشیدگی بڑھے گی۔ انھوں نے ایران پر یہ الزام بھی لگایا ہے کہ وہ خطے کو ’غیر مستحکم‘ کر رہا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہم تمام فریقوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ دوبارہ ایسے حملے نہ ہونے دیے جائیں کیونکہ ان کا پورے خطے پر منفی اثر ہو گا اور ہمیں حالات کے بگڑنے کے خطرے پر بھی شدید تشویش ہے۔‘

اس سے قبلا سعودی وزارتِ خارجہ نے پیر کی شب جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا ہے کہ جہاں ابتدائی تحقیقات سے اشارے ملے ہیں کہ حملے میں استعمال ہونے والے ہتھیار ایرانی تھے وہیں اس سلسلے میں ابھی تحقیقات جاری ہیں کہ حملہ کہاں سے کیا گیا۔

سعودی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کے اور دیگر عالمی ماہرین کو مدعو کرے گی کہ وہ زمینی حقائق کا جائزہ لیں اور تحقیقات کا حصہ بنیں۔

ان کے مطابق سعودی عرب اپنی سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے تحقیقات کے نتائج کی بنیاد پر مناسب اقدامات کرے گا۔


یمن کے لیے اقوامِ متحدہ کے مندوب مارٹن گرفتھس نے پیر کو سلامتی کونسل کو بتایا کہ وہ واضح طور پر نہیں جانتے کہ ان حملوں کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے تاہم اس نے خطے میں لڑائی کے امکانات کو بڑھا دیا ہے۔

برطانیہ کے وزیرِ خارجہ ڈومینک راب نے بھی خطے میں عدم استحکام کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملے عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

یورپی یونین اور چین کی جانب سے بھی الگ الگ بیانات میں خطے کے حالات پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔

اس سے قبل امریکہ نے سعودی تیل تنصیبات پر حملے میں ایران کے ملوث ہونے کے دعوے کے ثبوت میں کچھ سیٹلائٹ تصاویر اور خفیہ معلومات جاری کیں اور ساتھ ہی حوثی باغیوں کے یہ حملے کرنے کی صلاحیت پر بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا تھا۔

سنیچر کو ہونے والے ان حملوں کی ذمہ داری یمن کے حوثی باغیوں نے قبول کی تھی جبکہ ایران ان میں ملوث ہونے کے الزام کی تردید کرتا ہے۔

تاہم اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر امریکی حکام نے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ ان حملوں کی سمت اور حد دیکھنے کے بعد ان کے پیچھے حوثی باغیوں کا ہاتھ ہونے پر شکوک پیدا ہو گئے ہیں۔

نیویارک ٹائمز سے بات کرنے والے امریکی حکام کا کہنا تھا کہ بقیق میں تیل صاف کرنے کے کارخانے اور خریض میں تیل کے کنوؤں پر ہونے والے ان حملوں میں ڈرونز اور میزائلوں کا استعمال کیا گیا تاہم سب اپنے نشانے پر نہیں لگے۔

ایک اہلکار کے مطابق ان مقامات پر 19 اہداف کو نشانہ بنایا گیا اور یہ حملے مغرب اور شمال مغرب سے کیے گئے جبکہ یمن سعودی عرب کے جنوب میں واقع ہے۔

اتوار کو ایک ٹویٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا تھا کہ امریکہ جانتا ہے کہ مجرم کون ہے اور وہ ان حملوں کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کے لیے تیار ہیں لیکن وہ سعودیوں سے یہ سننے کے منتظر ہیں کہ اس حملے کے پیچھے کون ملوث تھا اور وہ کس طرح آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔

ایران کی جانب سے امریکہ کے تازہ الزامات پر ردعمل سامنے نہیں آیا ہے تاہم ایران کے وزیرِ خارجہ جواد ظریف پہلے ہی امریکہ کے سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو کے اس الزام کو ’صریحاً دھوکے بازی‘ قرار دے چکے ہیں کہ ان حملوں کے پیچھے تہران کا ہاتھ تھا۔


تیل کی عالمی منڈی پر اثرات
سعودی عرب میں سنیچر کو تیل کی تنصیبات پر حملوں کا اثر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر دیکھنے میں آیا تھا اور پیر کو بازار کھلتے ہی عالمی منڈی میں تیل کی قیمت گذشتہ چار ماہ کی بلند ترین سطح کو جا پہنچی۔

سعودی تنصیبات کے مکمل طور پر بحال ہونے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں اور ان حملوں کی وجہ سے تیل کی عالمی رسد میں فوری طور پر پانچ فیصد کمی آ گئی ہے۔

پیر کو عالمی منڈی میں کاروبار کے آغاز پر ہی خام تیل کے بیرل کی قیمت میں 19 فیصد اضافہ ہوا اور وہ 71.95 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی تھی۔ اس کے علاوہ تیل کی قیمت کا دوسرا اہم پیمانہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت میں 15 فیصد اضافہ ہوا اور وہ 63.34 ڈالر تک پہنچ گئی۔

تاہم بعد میں صدر ٹرمپ کی جانب سے امریکی ذخائر سے تیل جاری کرنے پر قیمت میں تھوڑی کمی آئی تاہم اب بھی اس میں دس فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے اور یہ 66.28 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے۔ بلوم برگ کے مطابق ایک دن کے کاروبار میں یہ 1988 کے بعد ہونے والا سب سے بڑا اضافہ ہے۔