مودی۔ ٹرمپ بھائی بھائی- نصرت جاوید

پیر کی صبح اُٹھا تو وائٹ ہائوس کے ترجمان کی جانب سے اس خبر کی تصدیق دیکھنے کو ملی جس میں دعویٰ ہوا تھا کہ امریکی صدر بھی ٹیکساس کے شہر ہوسٹن میں 22ستمبر کے روز ہونے والے بھارتی نژاد افراد کے اجتماع میں شریک ہوگا۔ واشنگٹن میں کئی برسوں سے مقیم ایک بھارتی صحافی سیما سروہی نے مذکورہ خبر کو ہفتے کے روز ’’بریک‘‘ کیا تھا۔بخدا مجھے اعتبار نہیں آیا تھا۔ اس کے باوجود اس خبر کے حوالے سے پورا کالم لکھنے کو مجبور ہوگیا۔ہوسٹن میں جو ہجوم اکٹھا ہونا ہے اصل مقصد اس کا نریندرمودی کو بھارتی نژاد امریکی شہریوں کی جانب سے ’’ خوش آمدید‘‘ کہنا ہے۔اس Eventکو "Howdy Modi"کا نام دیا گیا ہے۔ ٹیکساس کی روزمرہّ زبان میں یہ ’’گڈمارننگ اورHow Do You Doکہنے کا شارٹ کٹ اظہار ہے۔ 50ہزار افراد نے اس تقریب میں شرکت کے لئے رجسٹریشن کروالی ہے۔ٹرمپ کی وہاں آمدکی خبر مزید لوگوں کو شرکت پر اُکسائے گی۔ رونق لگ جائے گی۔

وائٹ ہائوس نے ٹرمپ کے ارادے کی تصدیق کردی تو مودی نے پیر کی صبح خوشی سے جھومتے ہوئے دوٹویٹ لکھے۔ٹرمپ کی بھارتی وزیر اعظم کے استقبال کے لئے ہونے والے اجتماع میں شرکت کو امریکہ-بھارت تعلقات کے حوالے سے ’’تاریخی‘‘ ٹھہرایا۔واقعہ یقینا ’’تاریخی‘‘ ہے۔آج تک کسی امریکی صدر نے کسی غیر ملکی سربراہِ حکومت کے ’’اپنے لوگوں‘‘ سے ہوئے اجتماع میں شرکت نہیں کی۔ ٹرمپ مگر ’’روایت شکن‘‘ ہے۔اپنے تعصبات وترجیحات کا ڈھٹائی سے اظہار کرتا رہتا ہے۔ 2016میں صدارتی انتخابی مہم کے دوران اس نے نیوجرسی میں پانچ ہزار بھارتی نژاد امریکی شہریوں کے اجتماع سے خطاب کیا تھا۔ اپنے خطاب کے دوران اس نے وعدہ کیا کہ امریکی صدر منتخب ہونے کے بعد وہ بھارت کے ساتھ امریکہ کی ’’دوستی‘‘ کو توانا تر بنائے گا۔ اس وعدے پر قائم رہا۔آئندہ برس اس کو دوبارہ صدارتی انتخاب لڑنا ہے۔اس کا خیال ہے کہ خود کو مودی کا قریب ترین دوست دکھاتے ہوئے وہ 30لاکھ سے زائد بھارتی نژاد امریکی شہریوں کے دل جیت لے گا۔بات مگر اگلے سال کے صدارتی انتخاب تک ہی محدود نہیں ہے۔ہوسٹن امریکہ کا تیل اور گیس کے کاروبار کے حوالے سے اہم ترین مرکز ہے۔

ٹیکساس میں اپنے قیام کے دوران بھارتی وزیر اعظم امریکہ سے تیل اور گیس خریدنے کے کئی معاہدوں پر دستخط کرے گا۔زیادہ تر توجہ گیس کی ترسیل پر دی جائے گی۔بھارتی سرکار کے تحت چلنے والی دو گیس کمپنیوں نے امریکہ کی LNGکے کاروبار سے متعلق چند بڑی کمپنیوں میں شراکت داری کے لئے بھاری مقدار میں حصص خرید لئے ہیں۔گیس کے جونئے ذخائر یہ کمپنیاں دریافت کریں گی ان سے نکالی گئی گیس بحری جہازوں کے ذریعے براہِ راست بھارت میں فروخت کے لئے بھیج دی جائے گی۔بھارت اپنی تیل اور گیس کی طلب پوری کرنے کے لئے بنیادی طورپر ایران پر تکیہ کرنے کا منصوبہ بنائے ہوئے تھا۔ اقتصادی اور جغرافیائی حوالوں سے بھارت کا ایران پر انحصار معقول ترین فیصلہ نظر آتا ہے۔ٹرمپ کا امریکہ مگر ایران کو اقتصادی اعتبار سے مفلوج بنانے پر تلا بیٹھا ہے۔بھارت نے اس کی خواہش کو پورا کرنے کے راستے ڈھونڈ لئے ہیں۔ٹرمپ کے America Firstوالے جنون کی تسکین ہوگئی۔ مودی-ٹرمپ بھائی بھائی ہوگئے۔میرے کئی دوستوں نے گلہ کیا ہے کہ ٹرمپ کی مودی کی خاطر ٹیکساس میں ہونے والے اجتماع کی خبر سے میں ’’جل‘‘ گیا ہوں۔ محض حسد میں یہ بات فراموش کر بیٹھا کہ ریاستوں کے باہمی تعلقات میں تجارتی مفادات ہی فیصلہ کن اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔

خارجہ امور پر مسلسل نگاہ رکھنے کا دعویٰ کرتے ہوئے مجھے اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔دست بستہ عرض کرنے کو مجبور ہوں کہ تجارتی مفادات کی اہمیت کا مجھے وافرعلم ہے۔ٹرمپ کے ’’شوخے پن‘‘ اورOpticsسے محبت کو بھی خوب جانتا ہوں۔بطور پاکستانی امریکہ-بھارت تعلقات کے بارے میں فقط ’’حسد‘‘ کا شکارنہیں۔میرا اصل دُکھ یہ ہے کہ 5اگست کے بعد سے ہمیں امریکی صدر سے یہ توقع تھی کہ وہ 80لاکھ کشمیریوں پر آرٹیکل 370کے خاتمے کے بعد سے نازل ہوئی اذیتوں کے ازالے کے لئے اپنا اثرورسوخ استعمال کرے گا۔22جولائی کے روز پاکستانی وزیر اعظم کو وائٹ ہائوس میں اپنے دائیں ہاتھ بٹھاکر اس نے ازخود کشمیر کو ایک سنگین مسئلہ قرار دیا تھا۔اس کے حل کے لئے ثالث کا کردار ادا کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔اس کی مذکورہ گفتگو کے باوجود مودی سرکار نے آرٹیکل 370کو ختم کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو بلکہ سنگین تر بنادیا۔ہم اس کی جانب سے ’’ثالثی‘‘ کے وعدہ کو بھرپور انداز میں یاد دلانے میں ناکام رہے۔فرانس میں 26اگست کے روز ٹرمپ کی مودی سے ایک ملاقات ہوئی۔اس ملاقات کے اختتام پر ٹرمپ نے صحافیوں کو یہ بتایا کہ مقبوضہ کشمیر میں نظر بظاہر معاملات بھارتی حکومت کے ’’کنٹرول‘‘ میں ہیں۔یہ بات عیاں ہے کہ اگر معاملات ’’کنٹرول‘‘ میں نظر آئیں تو ثالثی کی گنجائش پیدا نہیں ہوتی۔

ٹرمپ کو ہم یہ حقیقت بتانے میں ناکام رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں حالات ہرگز معمول کے مطابق نہیں ہیں۔ 80لاکھ کشمیریوں کو ابلاغ،رابطے اور معلومات کے حوالے سے دنیاکے پسماندہ ترین علاقوں میں بھی میسر ذرائع سے محروم کرتے ہوئے بلکہ ایک وسیع وعریض جیل میں محصور کردیا گیا ہے۔ٹرمپ کو کم از کم اس حقیقت کا اعتراف تو کرنا چاہیے۔بنیادی انسانی حقوق نامی شے سے ٹرمپ ہرگز آشنا نہیں۔مسلمانوں پر نازل ہوئی مصیبتوں کو اس کا ذہن دیکھنے سے ویسے بھی قاصر ہے۔اس کی سوئی مگر کچھ ترجیحات پر اٹک جاتی ہے۔ America Firstکے علاوہ وہ آئندہ صدارتی انتخاب لڑتے ہوئے امریکی شہریوں کو یہ بھی دکھانا چاہ رہا تھا کہ اس نے افغانستان میں اٹھارہ برس سے جاری جنگ کو ایک امن معاہدے کے ذریعے ختم کردیا ہے۔امریکی افواج اس ملک سے اب ’’محفوظ اور باعزت انداز‘‘ میں اپنے وطن لوٹ رہی ہیں۔ کشمیر پر ثالثی کی انگریزی زبان والی ’’گاجر‘‘ اسی تناظر میں اس نے ہمیں دکھائی تھی۔طالبان سے امن معاہدہ مگر ہو نہیں پایا ہے۔کشمیر کو لہذا امریکی صدر نے فی الوقت بھلادیا ہے۔اپنے گھر تک محدود ہوا میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے اپنائی کوئی ایسی حکمت عملی دیکھنے سے ہرگز محروم ہوں جو ٹرمپ کو کشمیر پر توجہ دینے کو آمادہ کرسکے۔

تحریک انصاف کے اعظم سواتی اور زلفی بخاری ہمیں یہ امید دلارہے تھے کہ مودی جب ہوسٹن میں بھارتی نژاد امریکی شہریوں سے خطاب کرنے پہنچے گا تو امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کی ایک کثیر تعداد کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی دکھاتے ہوئے بھرپور مظاہروں کا اہتمام کرے گی۔ ہمیں ہرگز خبر نہیں کہ مجوزہ مظاہروں کو متاثر کن بنانے کے لئے کونسی حکمت عملی اپنائی گئی ہے۔ٹرمپ کی مودی کی خاطر جمع ہوئے ہجوم میں موجودگی کے دوران مجوزہ مظاہروں کو اب مزید منظم انداز میں ترتیب دینا ہوگا۔امریکی صدر کی مودی کے لئے ہوئے اجتماع میں شرکت کی وجہ سے ہوسٹن میں ’’سکیورٹی‘‘ کے انتظامات بھی سنگین تر ہوجائیں گے۔اس حقیقت کو نگاہ میں رکھتے ہوئے اس امر کو بھی یقینی بنانا ہوگا کہ کشمیریوں کے ساتھ یک جہتی کے اظہار کے لئے ترتیب دئیے مظاہروں کو ’’ممکنہ دہشت گردی‘‘ کے نام پر روکنے کی کوشش نہ ہو۔

مجھے ہرگز خبر نہیں کہ اعظم سواتی اور زلفی بخاری صاحب اس حوالے سے کیا حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں۔وزیر اعظم کے حالیہ دورئہ امریکہ کے دوران زلفی بخاری صاحب کی ٹرمپ کی بیٹی اور داماد سے بھی ایک ملاقات ہوئی تھی۔یہ دونوں ٹرمپ کی فیصلہ سازی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ زلفی بخاری صاحب نے اگران دونوں کے دل اپنی سفارت کارانہ صلاحیتوں سے واقعتا جیت لئے ہیں تو مؤثر لابنگ کے تمام تر ذرائع استعمال کرتے ہوئے ٹرمپ کو اب اس بات پر قائل کرنے کی کوشش ہوسکتی ہے کہ وہ تھوڑی دیر کو پاکستانی نژاد امریکیوں کے اس اجتماع میں بھی شریک ہوجائے جو عمران خان صاحب کو خوش آمدید کہنے کے لئے نیویارک میں منعقد کرنے کا اہتمام کیا جارہا ہے۔