ویپنگ اور ای سیگریٹ علی- معین نوازش

ویسے تو آج کل کے سیاسی ماحول اور بدحال معاشی حالات میں انہی موضوعات پر لکھنے کا دل کرتا ہے لیکن کچھ مسائل ایسے ہوتے ہیں جن پر روشنی ڈالنا بے حد ضروری ہو جاتا ہے۔ پچھلے ہفتے ایک بڑی اہم خبر ویپنگ (Vaping) اور ای سگریٹ (E-Cigarette) سے متعلق سامنے آئی۔ ویپ اور ای سگریٹ بیٹری سے چلنے والی سگریٹ نما ڈیوائسز ہوتی ہیں لیکن ان میں تمباکو نہیں بلکہ ایک لیکوڈ استعمال ہوتا ہے جس کو یہ ڈیوائسز دھویں میں بدل دیتی ہیں۔ ان ڈیوائسز کو سگریٹ کے متبادل کے طور پر مترادف کرایا گیا۔ یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ سگریٹس صحت کے لیے کتنا خطرناک ہوتے ہیں اور ان سے پھیپھڑوں کی دیگر بیماریوں کے ساتھ ساتھ کینسر کے بھی بہت زیادہ خطرات ہوتے ہیں، جو چیز سگریٹ کی طلب پیدا کرتی ہے، وہ اس کے اندر موجود کیمیکل نکوٹین (Nicotine) ہوتا ہے۔

یہ نکوٹین بہت خطرناک ہوتا ہے لیکن باقی کیمیکلز سے کم۔ اس لئے جو لوگ سگریٹ نوشی چھوڑنا چاہتے ہیں وہ نکوٹین کی ببل گم سمیت مختلف چیزیں کھاتے ہیں لیکن ویپنگ اور ای سگریٹ کے بعد یہی نکوٹین اب دھویں کی شکل میں لوگوں نے لینا شروع کر دی ہے۔ شروع میں ان ڈیوائسز بنانے والی کمپنیوں کا دعویٰ تھا کہ ان کی پروڈکٹس کے استعمال سے سگریٹ کی لعنت سے بچا جا سکتا ہے، چونکہ اس میں نکوٹین اور دھویں دونوں کا مزہ ہوتا ہے لہٰذا سگریٹ پینے والوں کو سگریٹ کی طلب کم ہوتی ہے لیکن پھر ان ڈیوائسز میں تمباکو کے ساتھ ساتھ مختلف فلیورز آنا شروع ہو گئے جس میں فروٹ، چاکلیٹ، مشروبات اور دیگر کھانے کی اشیاء کے فلیورز بھی شامل تھے،جس سے یہ ہوا کہ یہ ڈیوائسز اور ای سگریٹس نوجوانوں کے لئے باعثِ دلچسپی بن گئیں۔ کم عمر میں ہی نوجوان نکوٹین کے ایڈکٹ (addict) بننا شروع ہوگئے۔ یہ زیادہ خطرناک اس لئے بھی ہے کہ انسانی دماغ 21سال کی عمر تک پوری طرح نہیں بنتا اور نکوٹین کی وجہ سے دماغ کی بناوٹ میں رکاوٹ آجاتی ہے۔ اسی وجہ سے حاملہ خواتین کو سگریٹ پینے سے سختی سے منع کیا جاتا ہے۔

ویسے تو یہ کہا جاتا ہے کہ یہ ڈیوائسز 18سال سے بڑے افراد کے لیے ہیں لیکن دنیا بھر کے نوجوانوں میں ان کا استعمال عام ہے۔ امریکہ میں ایک سروے کے مطابق 18سال سے کم عمر 25فیصد نوجوانوں نے یہ تسلیم کیا کہ وہ 18سال سے قبل ای سگریٹس اور ویپ وغیرہ استعمال کر چکے تھے۔ اتنی کم عمر میں نکوٹین کے استعمال سے ڈپریشن اور انزائٹی (Anxiety) بھی بڑھتی ہے۔ پاکستان میں بھی نوجوان ایسی ڈیوائسز دھڑلے سے استعمال کرتے ہیں۔ کل ہی کی بات ہے کہ میں ایک ٹریفک اشارے پر کھڑا تھا اور سامنے والی گاڑی میں پانچ اسٹوڈنٹس بیٹھے تھے اور ہر ایک کے ہاتھ میں ای سگریٹس اور ویپ تھے اور پوری گاڑی دھویں سے بھری ہوئی تھی۔

چند سال پہلے ان ڈیوائسز کا ایک اسکینڈل بھی سامنے آیا تھا کہ ان کی بیٹریاں گرم ہو کر پھٹنا شروع ہو گئی تھیں لیکن اس کو نظر انداز کر دیا گیا۔ پھر جب والدین نے نکوٹین پر شور مچایا تو نکوٹین فری فلیورز مارکیٹ میں آنا شروع ہوگئے لیکن یہاں مسئلہ صرف نکوٹین کا نہیں بلکہ خطرناک کیمیکلز کی ایک لمبی فہرست کا ہے جو ان میں استعمال ہوتے ہیں۔ یہ کیمیکلز نہ صرف ہمارے پھیپھڑوں کو بری طرح متاثر کرتے ہیں بلکہ پاکستان جیسے ملک میں تو یہ بھی معلوم نہیں ہو پاتا کہ کون سے اور کتنے خطرناک کیمیکل فلیورز میں استعمال کیے جا رہے ہیں۔ امریکہ کے حوالے سے جب یہ خبر آئی کہ تھوڑے عرصے میں ساڑھے چار سو ایسے لوگ اسپتالوں میں داخل ہوئے ہیں جن کو پھیپھڑوں کی بیماریاں ویپنگ اور ای سگریٹ کی وجہ سے لاحق ہوئی ہیں اور ان میں سے چھ لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں تو امریکی ریاست مشی گن نے فوری طور پر تمام ای سگریٹس کو بین کر دیا اور ریاست نیویارک بھی جلد یہ قدم اٹھانے والی ہے۔ صدر ٹرمپ نے بھی بیان دیا کہ پورے امریکہ میں ای سگریٹس کو بین کیا جائے گا۔

ہمارے ہاں ایک تو مسئلہ یہ ہے کہ والدین اور ہمارے اربابِ اختیار و اقتدار ان چیزوں کو نہ تو سمجھتے ہیں اور نہ ہی ان کے بارے میں بروقت قانون سازی کرتے ہیں۔ اس وقت بارہ سال تک کے بچے بھی آرام سے جاکر ان چیزوں کو خرید سکتے ہیں اور ان کی فروخت پر کوئی چیک نہیں، بلکہ تمام بڑے شہروں میں ایسی دکانیں موجود ہیں جہاں پر ای سگریٹس اور ایسی اشیا ہی فروخت کی جاتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر ان چیزوں کو ’’Cool‘‘ ہونے کی نشانی سمجھا جاتا ہے اور نوجوان مختلف قسم کے ٹرِکس کرتے ہوئے وڈیوز بھی اَپلوڈ کرتے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ صرف نکوٹین خطرناک نہیں، تمام ویپ اور ای سگریٹس خطرناک ہیں۔ اور جو والدین یہ کالم پڑھ رہے ہیں، ان سے میری التجا ہے کہ اپنے بچوں کو اس لعنت سے باز رکھیں اور دوسرے افراد کو بھی اس مسئلے کے بارے میں بتائیں۔ ویپ کے صرف دو کش لینا ایک سگریٹ پینے کے برابر ہوتا ہے اور جو لوگ ویپنگ کرتے ہیں وہ دن میں کئی پیکٹ سگریٹ کے برابر دھواں لیتے ہیں۔ یہ بھی واضح رہے کہ جو لوگ ویپنگ کرتے ہیں ان کا سگریٹ کی طرف رجحان بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔ حکومت نے اسکولوں کے نواح میں سگریٹ کی فروخت پر تو پابندی عائد کر رکھی ہے لیکن ای سگریٹس کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی گئی حالانکہ یہ فکرمندی والدین اور حکومت دونوں کو ہونی چاہئے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو اس لعنت سے کیسے بچائیں۔