قائد اعظم کے آخری ایام اور سازشی افسانے- ڈاکٹر صفدر محمود

کشمیر کی حسین وادی کی ’’آتش چنار‘‘ آتش فشاں بن چکی ہے اور وہ آتش فشاں اب شعلے اگل رہا ہے۔

مودی حکومت کی آئینی ترمیم اور کشمیریوں پر توڑے جانے والے مظالم نے مسئلہ کشمیر کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ پاکستانیوں کی کشمیر سے قلبی وابستگی دیکھ کر مجھے قائداعظم کی کشمیریوں سے محبت یاد آتی ہے۔

زندگی کے آخری ایام میں قائداعظم زیارت میں زیر علاج تھے۔ قائداعظم کے معالج کرنل الٰہی بخش نے خون ٹیسٹ کرنے کے لئے خاص طور پر میو اسپتال لاہور کے پتھالوجسٹ ڈاکٹر غلام محمد کو زیارت بلایا۔ میری اُن سے تفصیلی ملاقات غالباً 1972-73ء میں ہوئی جس میں انہوں نے مجھے یہ واقعہ بطور عینی شاہد سنایا تھا۔

گزشتہ سال محترم منیر احمد منیر کی کتاب دی گریٹ لیڈر (حصہ اول) میں ڈاکٹر غلام محمد مرحوم کا انٹرویو پڑھتے ہوئے مجھے ڈاکٹر غلام محمد مرحوم سے سنی ہوئی بات لفظ بہ لفظ یاد آگئی۔ منیر صاحب نے اُن کا انٹرویو جون 1992ء میں کیا۔

ڈاکٹر غلام محمد نے ایک سوال کے جواب میں من و عن وہی الفاظ کہے جو میں نے اُن کی زبان سے سنے تھے۔ ملاحظہ فرمایئے ’’میں کوئٹہ ریذیڈنسی میں اُن کے (قائداعظم) بیڈ روم میں ان کا بلڈ سیمپل لینے کے لئے گیا تھا۔ پانچ بجے کا ٹائم تھا شاید۔ مس فاطمہ جناح نے ریڈیو آن کیا۔ کشمیر کی خبر تھی۔ جنگ پٹھانوں کی۔

قائداعظم نے کہا ’’آہ! کشمیر‘‘ حسب معمول بارعب آواز کے ساتھ۔ اسی کے بعد پھر بے ہوش ہو گئے‘‘۔ اس سے اندازہ کیجئے مسئلہ کشمیر قائداعظم کے دل کے کتنا قریب تھا اور وہ اسے کتنی اہمیت دیتے تھے۔

میں کئی بار لکھ چکا ہوں کہ تحقیق میں حرف آخر نہیں ہوتا۔ وقت نئے نئے حقائق اور راز بے نقاب کرتا رہتا ہے جس سے بہت سی آرا، تاثر اور تحریریں تبدیلی کے سانچے میں ڈھل جاتی ہیں۔

ہاں یہ اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ دہائیوں کے پروردہ مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرنا نہایت مشکل اور کٹھن کام ہوتا ہے لیکن محقق اور ریسرچ اسکالر کا مشن ہی بلاخوف و خطر سچ لکھنا اور تاریخی حوالے سے غلط فہمیاں رفع کرنا ہوتا ہے۔

گزشتہ کالم قائداعظم کی گیارہ ستمبر 1948ء کو کراچی آمد اور ایئر پورٹ پر وزیراعظم لیاقت علی خان کی آمد کے حوالے سے غلط فہمیوں کے ازالے کے لئے لکھا تھا جس پر تبصرہ کرتے ہوئے کچھ قارئین نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ کرنل الٰہی بخش نے اپنی کتاب میں اس کا ذکر نہیں کیا۔

میں ایک طالب علم کی حیثیت سے تحقیق کے تقاضوں سے آگاہ ہوں۔ کیپٹن نور حسین (بعد ازاں بریگیڈیئر) بحیثیت اے ڈی سی قائداعظم کے ساتھ تھے۔ وہ عینی شاہد کی حیثیت سے یہ تصدیق کر چکے ہیں کہ لیاقت علی خان کی گاڑی اس وقت ہوائی اڈے میں داخل ہوئی جب قائداعظم کی ایمبولنس نکل رہی تھی کیونکہ ان کو پرائیویٹ وزٹ کے سبب اطلاع تاخیر سے ملی تھی۔ وہ ایمبولنس کے پیچھے پیچھے آئے اور جب ایمبولنس خراب ہو گئی تو وہیں موجود رہے۔ کیپٹن نور حسین نہایت ذمہ دار اور سچے انسان تھے۔

انہوں نے یہی بات منیر احمد منیر صاحب کو بتائی اور اُن کا انٹرویو دی گریٹ لیڈر میں شامل ہے۔ پھر انہوں نے ان حقائق کی تصدیق ایک مضمون میں بھی کی جو ’’دی نیوز‘‘ میں چھپا۔

اب ایک مزید شاہد کا بیان سامنے آیا ہے۔ کریم اللہ 1948ء کے اوائل سے مس فاطمہ جناح اور قائداعظم کی سیکورٹی ڈیوٹی پر مامور تھے۔ چند برس قبل ان کی خود نوشت ڈائری چھپی جس میں وہ 11-9-48کو لکھتے ہیں:

Quid-e-Azam very sick - Ziarat to Karachi by plane. Liaquat Ali (PM) arrived at Karachi Airport.

(ماہنامہ نظریہ پاکستان، اسلام آباد۔ جون 2015)

لیاقت علی خان کی قائداعظم کے علاج معالجے میں عدم دلچسپی اور تعلقات میں سردمہری کے حوالے سے کچھ بے بنیاد باتیں لوگوں کے ذہنوں میں بٹھا دی گئی ہیں جن کی تحقیق کے ذریعے تصحیح کی جائے تو لوگ یقین نہیں کرتے۔ کچھ عرصہ قبل اسی بات پر کرنل شہباز صاحب نے مجھ سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔

کرنل الٰہی بخش نے اپنی کتاب کے صفحہ نمبر 11پر لیاقت علی خان کی زیارت آمد کا حال بیان کرتے ہوئے وزیراعظم کے (Deep Concern)کا تفصیل سے اظہار کیا ہے جو پڑھنے کے لائق ہے۔ بریگیڈیئر نور حسین نے جو دیکھا اور بیان کیا وہ میں گزشتہ کالم میں لکھ چکا ہوں۔

منیر احمد کی کتاب میں قائداعظم کے سیکورٹی آفیسر ایف ڈی ہنسوٹیا کا طویل انٹرویو شامل ہے جس میں وہ بیان کرتے ہیں ’’لیاقت علی خان زیارت بھی آئے، انہوں نے لاہور سے ڈاکٹر بھجوائے اور ڈاکٹر محمد علی مستری کو بھی بھیجا۔ مطلب کہ وہ بڑا خیال رکھتے تھے قائداعظم کا۔

اُن کو بڑی عزت دیتا تھا قائداعظم۔ یہ بات غلط ہے کہ قائداعظم سے اُن کی بنتی نہیں تھی‘‘۔ یہی باتیں اے ڈی سی کیپٹن نور حسین نے بیان کیں اور کرنل الٰہی بخش کی تحریر بھی ان کی تصدیق کرتی ہے لیکن ہم اپنا مائنڈ سیٹ بدلنے کو تیار نہیں کیونکہ ہمیں سازشی باتیں اور افسانوی کہانیاں بہت اچھی لگتی ہیں۔

کراچی کے ایک بیورو کریٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ قائداعظم کی سرکاری نماز جنازہ سے قبل گورنر جنرل ہائوس کے کمرے میں قائداعظم کی اثنائے عشری کے مطابق نماز جنازہ پڑھی گئی تھی۔

میرے پوچھنے پر بریگیڈیئر نور حسین نے بتایا تھا کہ میرا کمرہ اس کمرے کے ساتھ تھا جس میں قائداعظم کی میت رکھی تھی۔ میں رات بھر جاگتا رہا۔ میں نے ایسی کوئی بات نہیں دیکھی اور اگر ایسا ہوتا تو مجھے ضرور علم ہوتا۔

اسی حوالے سے بریگیڈیئر صاحب نے انکشاف کیا کہ میرے ایک ساتھی اے ڈی سی نے ایک بار قائداعظم کو ایک چٹ دی جس پر لکھا تھا کہ کراچی فلاں جگہ پر کل شام ’’مجلس‘‘ ہے۔

آپ کا انتظار رہے گا۔ قائداعظم نے چٹ پڑھتے ہی حکم دیا کہ اس اے ڈی سی کو پہلی دستیاب ٹرین سے پنڈی جی ایچ کیو بھجوا دیا جائے۔

بریگیڈیئر صاحب کا کہنا تھا کہ زیارت میں جب لیاقت علی خان قائداعظم سے ون ٹو ون ملاقات کے بعد نیچے دفتر میں آئے تو انہوں نے چوہدری محمد علی کو ہدایت دی کہ وہ خواجہ ناظم الدین اور مولانا شبیر احمد عثمانی کو کراچی میں موجود رہنے کے لئے فون کریں۔

بریگیڈیئر صاحب کا خیال تھا کہ اپنی شدید علالت کے پیش نظر یہ ہدایت قائداعظم نے اپنی نماز جنازہ اور سیاسی جانشینی کے حوالے سے دی تھی۔ کچھ باتیں رہ گئیں۔ باقی ان شاء اللہ پھر۔