آزاد خودمختار سيکولر کشمير : توقیر ریاض

رياست جموں و کشمير ميں سرگرم کم و بيش تمام قوم پرست جماعتوں کا اس بات پے اتفاق ھے کے کشمير کا دستور سيکولر ھونا چاہئے يعنی دستور سازی ميں مذہب کی دخل اندازی بلکل نہ ھو ، آسان الفاظ ميں رياست کا کوئی مذہب نہ ھو بلکہ يہ رياستی عوام کا نجی معاملہ رہے ۔ بجاۓ اسکے کے ہم سيکولرزم کی فائدے نقصانات گنے ميں لگ جائيں پہلے يہ طٰہ کرناضروری ھے کے اسلام کے پاس ايسا کوئی نظام معاشرت نہيں ھے جس ميں مختلف مذاہب کے لوگ مکمل مذہبی آزادی سے ايک رياست ميں رہ سکيں ۔

اسلئے يہ ضروری ھے کے کوئ ايسا نظام لايا جاۓ جو اقليتوں کے حقوق کے تحفظ کا ظامن ھو ۔ يہ سوچ و فکر ويسی ہی ھے جب آپکے پاس انفيکشن کے لئے اينٹی بائيوٹک ھو اور اپ پيراسيٹامول کے فوائد گنوانا شروع کر ديں ۔ دنيا کی تاريخ سب سے پہلا لکھا جانے والے دستور ميثاق مدينہ تھا جو نبی مہربان نے اللہ پاک کے حکم سے تحرير کروايا باوجود اس کے وھاں بہت سی قوميتيں اور مذاہب کے لوگ آباد تھے اس ميں سب سے پہلے اللہ تعالی کی حاکميت کو تسليم کيا گيا اور يہ امر اصولی طور پر طے کر ديا گيا کے رياستی معملات کسی دنياوی شخصيت کی بجاۓ اللہ تعالی سے متعلق کر دئيے جائيں ۔اسکی بر عکس سيکولر سٹيٹ ميں حکميت اعلی پارليمنٹ يا کانگريس کے سپرد کئے جاتے ہيں جسطر ح برطانيہ يا امريکہ ميں مروجہ ھے ۔
قرآن پاک ميں واضح حکم ھے کے جو کوئی اسکے مطابق جو اللہ نے نازل کيا فيصلہ نہ کرے وہی لوگ ظالم ہيں ۔اسی دستور ميں پہلی بار بنيادی انسانی حقوق ، عورتوں کے حقوق اور اقليتوں کے حقوق کو تسليم بھی کيا گيا اور تحريری شکل بھی دی گئ ۔جن کو ماڈرن دنيا نے دوسری جنگ عظيم کے بعد اقوام متحدہ کے زريعے چارٹر کا حصہ بنايا ۔اسی دستور مدينہ ميں پہلی بار ايک قوميت کا تصور پيش کيا گيا کے جو لوگ اس دستور کے تابع ھوں چائے کسی مذہب سے ھوں وہ ايک سياسی اور سماجی وحدت ھوں گے ، “ بنی عوف کے يہودی مسلمانون کے ساتھ ايک سياسی وحدت تسليم کئے جاتے ہيں ، يہوديوں کے کئے اُنکا دين اور مسلمانون کے لئے انکا دين “

مسلمان رياست ميں غير مسلموں کو برابری کے حقوق دئيے گے جسکے لئے جزيہ يعنی ٹيکس کا نظام متعارف کروايا گيا جس ميں غير مسلموں کے جان و مال کی حفاظت کے بدلے انھيں رياست کو ٹيکس دينا تھا جو آج تمام دنيا ميں رائج ھے اور يہ بات بھی اہم ھے کے اسلامی قوانيں ميں مسمانوں کو رياستی ٹيکس کے ساتھ ساتھ زکوۃ بھی دينا ھوتی ھے يعنی دہری زمہ داری ۔
قائداعظم نے دستور ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوۓ کہا تھا کے اپ اب آزاد ہيں مسجدوں ميں جانے کے لئے مندروں ميں جانے کے لئے رياست کا اس سے کوئ لينا دينا نہيں ، وہی اسلامی تصور ۔آج ہمارے ہاں دو مسائل ہيں ايک دينی علوم سے دوری دوسرا خود کو غير ضروری طور پر انٹيکلچوئل ثابت کرنے کی جستجو ، اسلام ايک آفاقی مذہب ھے جس ميں ہماری ، معيشت ، معاشرت ، سياست طے کر لی گئ پھر بھی اختلاف کی صورت ميں نبی اور اللہ کی طرف ہی لوٹنے کو کہا گيا ، يا پھر اجتہاد ۔ اگر کسی کو شک ہے کے وہ دين جسے مکمل ضابطہِ حيات کہا گيا اس نے رياست چلانے کا طريقہ ہی نہيں بتايا اُسے اپنے ايمان کی کفيت ہر غور کرنے کی ضرورت ھے ۔
زمامِ کار اگر مزدور کے ہاتھوں میں ہو پھر کیا! - طریقِ کوہکن میں بھی وہی حیلے ہیں پرویزی
جلالِ پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو - جُدا ہو دِیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی