زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری - ماریہ خان خٹک

سچ کہوں تو جب بچپن میں یہ دعا مجھے بچپن میں پڑھائی جاتی تھی تو نہ تو مجھے اس کے معنی معلوم تھے نہ ہی مفہوم ۔۔۔۔ تھوڑے بڑے ہوئے تو اک نئے ولولےاور جوش کے ساتھ پڑھتے تھے کہ:
" لب پہ آتی ہے دعا بن کہ تمنا میری - زندگی شمع کی صورت ھوخدایا میری " اس وقت میں سوچتی تھی کہ اسمبلی میں موجود طلباء جب یہ دعا پڑھتے ہیں تو رب کریم ضرور سنے گا اور ہم سب واقعی بڑے ھو کر اپنی زندگیاں دوسروں کو روشنی پہنچاتے ختم کردیں گے ۔

مجھے پورا یقین تھا کہ ہمارے لبوں پہ آنے والی یہ دعا محض الفاظ نہیں ہیں بلکہ ہمارا دین ، ایمان بھی ہے۔ لیکن شائد میرا اندازہ غلط ہورہاہے ، مجھے سمجھ آنے لگی ہے کہ بڑے بڑے بھاری اسکول بیگ کاندھے سے لٹکائے والدین جب اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو بہت سی چاکلیٹ دے کر اسکول کے باہر چھوڑتے ہیں تو وہ یہی کہتے ہیں کہ ۔۔۔ بابا ! مجھے اسکول نہیں جانا ، اور بابا کہتے ہیں کہ پڑھو گے نہیں تو کماؤگے کیا ؟ کھاوگے کیا ؟ کوئی تمہیں چپراسی کی نوکری پہ بھی نہیں رکھے گا ۔۔۔۔ اس مختصر سے وقت کو ساکت چھوڑ کر چند لمحوں پیچھے چلے جاتے ہیں ۔۔۔
لکڑی کی تختی یا سلیٹ ( دھاتی تختہ سیاہ) ہے اور تھوڑی سی سیاہی اور اک قلم ہے ۔ پاس کوئی نہیں ہے اور بچہ دوڑ کر اسکول کی طرف جاتا ہے بھاگتے ہوئے اور دوسرے دوستوں کو آوازیں دیتے ہوئے۔۔۔اس وقت اس کے ذہن میں ماں باپ یہ بٹھاتے کہ آپ نے آگے بڑھنا ہے ، ملک و قوم کی خدمت کرنا ہے۔۔۔۔۔واپس آجائے ۔۔۔۔اسی وقت کو یہیں ساکت لمحوں میں جوڑ دیجئے ۔۔
دونوں بچوں کو اک صف میں کھڑا کردیجئے اور معیار جانچئے کہ زندگی شمع کی صورت بنانے کا کونسا زمانہ درست ہے ۔ بچے بڑے ہوکر کل بھی ڈاکٹر ، انجینئر بن رہے تھے ، آج بھی بن رہے ہیں پہلے کی نسبت زیادہ اچھے اور ترقی یافتہ بن رہے ہیں ۔۔۔۔۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ بات کیا ہے اور کہاں سے ہے ۔۔۔۔ ہاں ! فقط یہی کہ ہم سب کچھ بن جاتے ہیں ۔

ہماری زندگیاں آسائیشوں سے پر ہوجاتی ہیں لیکن دوسروں کی زندگی کے اجالے چھین کر انہیں تاریک کرکے۔۔۔۔ ہماری زندگی مثل شمع کیا بنے گی جب ہم میں جلنے کی سکت اور برداشت ہی نہیں ہے ہم ان آسائیشوں پہ سمجھوتہ کریں تو کچھ بات بنے۔۔۔۔ ہم ایسے ڈاکٹر ہیں جو غریبوں کی زندگی کے اجالےچھین کر اپنے مستقبل کی راہیں روشن کریں ، ہم ایسے انجینئر بن کر جو غریبی کی چکی میں پسنےوالے شخص کو زنگ آلود مشین جتنی اہمیت بھی نہ دے ، ہم ایسے ٹیچرز بن کر جو بچوں کو چند نصابی جملے رٹا کر امتحان میں میں پاس ہونے کی تیاری تو کردیں ۔۔۔۔لیکن ان کے ذہنوں میں وہ تیل نہ ڈالے جس سے ان کو مثل دیا بن کر جلنا ہے۔۔۔۔ دوسروں کو روشنی فراہم کرنا ہے۔۔۔۔اگر یہ سب دعویدار ہیں کہ ان کی زندگیاں شمع کی صورت ہیں تو یقین مانیں وہ روشنی لالچ کی حبس سے پیدا ہونیوالی گرمی میں اضافے کا باعث ہی ہے ، جہاں صرف دم ہی گھٹ سکتا ہے ۔دوسروں کو فائدہ دینے کے عوض ان کا لہو تک نچوڑ دیتے ہیں ۔۔۔ اب ذرا نیچے کے لیول کو آجائیں بات صرف اسی تک محدود نہیں کہ بڑے لوگ ہی زندگی شمع کی صورت جلائیں۔۔۔۔ ذرا نچلے درجے میں سوچئے۔۔۔ آجائیں ریڑھی بان کی طرف ، جو ہر پھل اور سبزی کو انجیکٹ کرتا ہے تاکہ مصنوعی رنگ ذائقہ اور خوشبو بناکر زیادہ پیسہ بنے ، دکاندار کو دیکھیں جو ہر ناقص شے کو بڑھا چڑھا کر دھوکہ دہی کے اندھیرے کو مزید گہرا کردیتا ہے ۔گوالے تو ویسے ہی صدیوں سے مشہور ہے کہ نور سے سفید دودھ پانی کی ملاوٹ تو بہت ہلکی بات ٹہری تیزابی کیمیکل اور مضر صحت مادوں سے زندگی سے کھیل جاتے ہیں اور دودھ کی سفیدی حوس کی کالک بنا دیتے ہیں ۔

اور نچلے درجے پہ دیکھیں تو سڑک پہ بیٹھا فقیر تک روشن آنکھوں کے ہوتے ہوئے خود کو نابینا ظاہر کرتا ہے ۔ ہماری مثال بھی ایسے ہی ہوگئ ہے کہ ہم دنیاوی آسائشیں اور سہولیات اکٹھی کرتے کرتے یہ بھول جاتے ہیں کہ دوسروں کو جلاکر روشنی حاصل کرنے کی چاہ میں ہم کو طرف جارہے ہیں ۔ ہماری منزل یہ تو نہیں تھی۔۔۔۔ اگر ہم کسی جلتی ہوئی شمع کی کی روشنی میں روشن زندگی گذار رہے ہیں تو یہ کافی نہیں ہے کیونکہ دیا جلتے جلتے ختم ہوجاتا ہے اسی طرح ہماری راہوں کو روشن کرنے والے ختم ہوتے جائیں گے ۔ اگر ہم نے یہ روشنی برقرار رکھنی ہے تو خود کو ان دئوں سے روشن کرکے جلانا ہوگا ۔ اپنے کردار کی روشنیاں دور تک پھیلانا ہونگی ۔ ہمیں تن آسانیوں سے سمجھوتہ کرنا پڑے گا۔۔۔ اور اس کیلئے جو ہے تو سب سے پہلے اک استاد ہے چاہے وہ والدین کی صورت ہو یا درسی معلم کی صورت کہ یہی بچے اساتذہ کا اثاثہ کل ہیں ان کی بہترین ذہن سازی کرکے وہ انہیں اس قابل بناسکتے ہیں کہ ان کے جلنے تک یہ اس قابل ہوجائیں کہ ان کے بعد جلنے کیلئے ہمہ وقت تیار رہیں کہ کل جب یہ والدین بنیں تو یہ نہ کہیں کہ کھاوگے کیا کماوگے کیا ؟؟ بلکہ وہ یہ کہیں کہ تم دوسروں کیلئے جی سکتے ہو کیسے دوسروں کے کام آکر ان کے لئے آسانیاں فراہم کرسکتے ہو ۔ تاریخ گواہ ہے کہ جس جس نے بھی اپنی زندگی خلق خدا کیلئے خلاء اس کی روشنی آج بھی جگمگارہی ہے ، کہیں دیکھیں تو اپنے آس پاس بہت سے نام ستاروں کی مانند زمیں پر چمکتے پائیں گے جنہوں نے اپنی زندگی انسانیت کی خدمت کیلئے انسانوں کو اندھیروں سے نکالنے کے لئے خود کو جلا روشنی بن کر وقف کردیں ۔ انہی سے سیکھ کر انہی کی راہوں پہ چل کر خود جل کر اندھیرے مٹا کر دیا روشن کیجئے ۔