چند اور مفید اور دلچسپ کتب- ڈاکٹر عبدالقدیر خان

چند اچھی کتابوں پر کچھ تبصرہ آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں کہ آپ کو فرصت ملے تو ضرور ان کو پڑھیں۔ آپ بہت پسند کریں گے۔

(1) سب سے پہلے آپ کی خدمت میں دعوتِ شیراز ہے جو میرے پیارے عزیز دوست، سابق سینئر کسٹمز آفیسر اور وکیل جناب حسین احمد شیرازی نے تحریر کی ہے۔ شیرازی صاحب گمنام شخصیت نہیں، ان کی اس سے پہلے شائع کردہ کتاب ’’بابو نگر‘‘ کے کئی ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ جب 1976ء میں بھٹو صاحب نے مجھے ذمّہ داری سونپی تو ہمارا دفتر پرانے ایئر پورٹ کے سامنے تھا۔ یہ ٹوٹی پھوٹی عمارت تھی۔ انگریزوں نے اسے بطور گیراج بنایا تھا، بڑے بڑے کمرے تھے جس میں گڑھے تھے اور ان پر گاڑیاں کھڑی کرکے مرمت کی جاتی تھی، سامنے لوہے کی چادریں تھیں جن میں بڑے بڑے سوراخ تھے۔ میرے ساتھیوں نے (چند ہی تھے اس وقت) زور دیا کہ ہم اس جگہ کو قبول نہ کریں اور کوئی نئی عمارت بنائیں۔ میں نے ان کی رائے سے اتفاق نہ کیا اور اسکا قبضہ لیکر چھتوں پر تارکول میں بھیگے ہوئے ٹاٹ کے ٹکڑے ڈالے تاکہ بارش کا پانی اندر نہ گرے۔

دیکھئے بات کہاں سے کہاں جا پہنچی۔ میں نے چارج لیتے ہی تمام سامان ہوائی جہاز سے منگوانا شروع کر دیا۔ میں خود اکثر ایئر پورٹ چلا جاتا تھا، وہاں میری ملاقات جناب شیرازی صاحب (حسین احمد شیرازی) سے ہوئی۔ آپ اس وقت کلکٹر کسٹمز تھے اور ان کے ساتھ آغا صاحب سپرنٹنڈنٹ تھے، دونوں نے ہماری بے حد مدد کی۔ ڈاکٹر فاروق فارن پروکیورمنٹ کے انچارج تھے اور ان کے ساتھی ایئر پورٹ سے سامان لاتے تھے۔ شیرازی صاحب نے رن وے پر سگنل لگا دیا اور ہمیں اجازت دے دی کہ ہم اپنا سامان رن وے کراس کرکے دفتر لے جائیں کہ کوئی نہ دیکھے اور لمبا چکر کاٹ کر نہ لیجانا پڑے۔ اس سے ہمیں بے حد اچھی سہولت مل گئی اور ہمارا سامان باہر سے آتا اور آدھے گھنٹہ میں ہمارے پاس ہوتا، جس سے کام کی رفتار میں بہت تیزی آگئی۔ شیرازی صاحب آج کل لاہور میں پریکٹس کرتے ہیں اور ہمارے فلاحی اسپتال کے بورڈ کے ممبر ہیں اور اچھی مالی مدد بھی کرتے رہتے ہیں۔ ماشاء اللہ جیسے 40سال پہلے تھے ویسے ہی آج بھی نظر آتے ہیں۔

شیرازی بھائی کی عبارت و تحریر کا تو کچھ جواب نہیں لیکن اس کتاب میں 25چٹکلے لکھے ہوئے ہیں اور ہر ایک دوسرے سے بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شیرازی کو طنز و مزاح اور بات میں بات ڈال کر خوبصورت بنانے کا ہنر دیا ہے۔(2) دوسری کتاب Passive Voicesیا مجبور آوازیں ہیں جس کو کے ایل گابا نے لکھا ہے یعنی خالد لطیف گابا صاحب مصنف ہیں اور اس کی اشاعت و ایڈیٹنگ میرے عزیز دوست ڈاکٹر عرفان احمد خان نے کی ہے۔ گابا صاحب کی دو کتابیں بہت مشہور ہوئی ہیں ایک تو زیر تبصرہ کتاب اور دوسری Prophet of Desertیعنی پیغمبر ِ صحرا ہے۔’’مجبور آوازیں‘‘ میں انہوں نے ایک نہایت ذہین اور مخلص وکیل کی حیثیت سے تقسیمِ ہند کے بعد ہندوستان میں رہ جانے والے مسلمانوں کا مقدمہ لڑا ہے۔ ان کے دلائل میں بہت وزن ہے اور ان کی تحقیق اور مشاہدہ بہت موثر ہیں۔ آپ ان کی کاوش کو پڑھ کر خوش ہوں گے۔ یہ مولانا ابوالکلام آزاد کے جناب شورش کاشمیری کو دیئے گئے انٹرویو سے بہتر تو نہیں بلکہ مسلمانوں کی حالتِ زار پر اچھی روشنی ڈالتی ہے۔ اس کتاب پر ڈاکٹر عرفان احمد خان نے نظرثانی کی ہے۔(3) تیسری بہت ہی اہم اور مفید، معلوماتی کتاب مستعین احمد خان صاحب کی تحریر کردہ ہے، نام ہے The Compendium of Muslim Civilization۔

مجھے یہ کتاب حکیم اجمل خان کے عزیز جناب منیر نبی خان نے تحفتاً بھیجی ہے۔ جناب مستعین احمد خان بھی ان کے قریبی عزیز ہیں اور اس سے پیشتر آپ نے اردو میں بھی ایک اعلیٰ دینی کتاب مجھے مستعین خان کی مصنفہ، روانہ کی تھی جس کو میں اکثر استعمال کرتا ہوں اس میں ہر موضوع پر قرآنی آیات کا حوالہ دیا گیا ہے۔ جناب ڈاکٹر مستعین خان فرانس میں ایک یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے ہیں۔ انہوں نے 91مقالے اعلیٰ جرنلز میں شائع کئے ہیں اور ان کے علاوہ چھوٹے چھوٹے اہم معلوماتی مضامین بھی شائع کئے ہیں۔ فرانسیسی زبان پر مادری زبان کی طرح عبور حاصل ہے۔ ڈاکٹر خان صاحب نے چھٹی صدی عیسوی سے لے کر اکیسویں صدی عیسوی تک کے تمام حالات (مسلمانوں کی ترقی و زوال) بیان کئے ہیں۔ اس میں مذہب، آرٹس، سائنس و ٹیکنالوجی، لٹریچر، مذہبی واقعات پر بہت اچھی طرح روشنی ڈالی ہے اور تبصرہ کیا ہے۔ ایک طرح سے یہ کتاب ایک انسائیکلوپیڈیا ہے۔ اس کتاب کی اہمیت اور ذخیرہ معلومات کو دیکھ کر میں مشورہ دوں گا کہ ہر پڑھے لکھے گھر میں اس کتاب کا ہونا ضروری ہے۔ والدین خود بھی پڑھیں، بچوں کو بھی پڑھائیں اور پھر سوال و جواب کی شکل میں مذہبی مسائل کو مزید سمجھنے کی کوشش کریں۔ ایسی کتابیں خاص طور پر ہمارے غیر ممالک میں مقیم مسلمانوں کے لئے بے حد مفید ہوتی ہیں کہ کم از کم بچوں کو مذہب سے آگاہی ہوتی ہے۔