’جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں‘

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے سیاست چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔
یہ اعلان ایک ایسے موقعے پر سامنے آیا ہے جب ملک کے سیاسی حلقوں میں شریف فیملی کے ساتھ ڈیل کی افواہیں گردش کر رہی ہیں اور پاکستان میں عمران حکومت کے مستقبل کے حوالے سے بے یقینی کے سائے گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔

ہفتے کے روز لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں واقع 'منہاج القرآن سیکریٹریٹ‘ میں کینیڈا سے ویڈیو لنک کے ذریعے پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نےکہا کہ وہ اپنی خرابی صحت اور اپنی مذہبی و اصلاحی سرگرمیوں پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے سیاست کو خیرباد کہ رہے ہیں۔ انہوں نے اس موقعے پرایک سوال کا جواب دیتے ہوئے زور دے کر کہا کہ ان کے دوبارہ ملکی سیاست میں واپس آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ وہ پارٹی کی چیئرمین شپ سے بھی علیحدہ ہورہے ہیں، اپنے بیٹوں میں سے کسی کو پارٹی کی کمان نہیں دیں گے، اور نئی قیادت کا فیصلہ پارٹی کی شوریٰ کرے گی۔

ماڈل ٹاؤن حادثے سے متعلق بات کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا تھا کہ اس واقعے پر قانونی جنگ جاری ہے اور وہ مرتے دم تک جاری رہے گی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ موجودہ حکمرانوں نے دھرنوں کے دوران اور اس کے بعد بھی وعدے کیے تھے کہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کو انصاف دلوائیں گے، لیکن وہ متاثرین آج بھی انصاف کو ترس رہے ہیں۔
ڈاکٹر طاہراالقادری نے گلہ کیا کہ پاکستان کے سیاسی نظام میں متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے جگہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا، ''یہاں صرف بدمعاش لوگوں کی جگہ ہے جو پارٹیوں سے ٹکٹ خریدتے ہیں اور اپنے پیسے سے اسمبلیوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ جس پارٹی کا سورج طلوع ہونے والا ہوتا ہے وہ اس کے ساتھ ہوجاتے ہیں اور90 فیصد وہی افراد دوبارہ اسمبلیوں میں پہنچ جاتے ہیں اور ایسے افراد کا آئین پاکستان، قوم، اخلاقیات، امانت و دیانت کے ساتھ کوئی عزم نہیں ہوتا، وہ صرف لوٹ مار کے لیے اقتدار لیتے ہیں۔‘‘

طاہر القادری کے مطابق اب تک احتساب کے عمل میں جو کچھ ہوا ہے اس سے وہ مطمئن نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب نئے لوگوں کا امتحان ہے کہ وہ جس تبدیلی کا ذکر کرتے تھے اس پر وہ کہاں کھڑے ہیں، کتنی تبدیلی لاسکے ہیں اور کتنی لاسکیں گے؟

پاکستان کے سینئر صحافی اور ڈیلی دی نیشن کے ایڈیٹر سلیم بخاری نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ سیاست چھوڑنے کا قادری صاحب کا یہ فیصلہ بہت حیران کن ہے۔ ان کے بقول، ''طاہر القادری کی مذہبی اور اصلاحی سرگرمیاں اس وقت بھی جاری تھی اور ان کی صحت بھی اس وقت ٹھیک نہ تھی جب وہ نواز شریف کی حکومت کے خلاف دھرنا دے رہے تھے، اور ماڈل ٹاؤن واقعے کے بعد تو انہوں نے حکومت مخالف احتجاج کو عروج پر پہنچائے رکھا۔ اس لیے اس سوال کا جواب آنے میں ابھی کچھ وقت لگے گا کہ طاہرالقادری کے اس فیصلے کے پیچھے اصل کہانی کیا ہے۔‘‘

معروف صحافی طلعت حسین نے اپنی ایک ٹویٹ میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ 'مقاصد کے حصول کے بعد دریا برد کر دیا جانے والا ہر کارتوس یہی سمجھتا ہے کہ وہ خود سے ریٹائر ہو رہا ہے‘۔ بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ طاہرالقادری کے جانے سے پاکستان کے بالادست طبقے جمہوری حکومتوں کے خلاف استعمال کی جانے والی ایک موثر آواز سے محروم ہو جائیں گے۔

سلیم بخاری کے مطابق طاہرالقادری صاحب نے اپنے پیچھے کوئی موثر لیڈرشپ پیدا نہیں ہونے دی اس لیے ان کے جانے کا ایک مطلب یہ بھی ہے پاکستان عوامی تحریک میں ماضی جیسی طاقت باقی نہیں رہے گی۔

سلیم بخاری کا کہنا تھا، ''پاکستان کی موجودہ سیاست میں طاہر القادری کا کوئی رول باقی نہیں رہا تھا۔ ماڈل ٹاؤن کے مقتولین کو انصٓاف نہیں مل سکا، حکومتی کارکردگی سے وہ مطمئن نہیں ہیں۔ ان لوگوں کی بات میں بھی وزن ہو سکتا ہے جو یہ سمجھ رہے ہیں کہ جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں۔‘‘

پاکستان کے ایک اور سینیئر صحافی طاہر ملک نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ طاہرالقادری کی شخصیت میں مستقل مزاجی کا فقدان رہا ہے۔ ملک کا کہنا تھا، ''وہ انتخابی سیاست میں آنے جانے کے اعلانات کرتے رہے ہیں۔ کبھی وہ انتخاب کی بات کرتے تھے اور کبھی انقلاب کا پرچم تھام لیتے تھے۔ اصل بات یہ ہے کہ پاکستان کے موجودہ سیاسی منظر نامے میں اب ان کا رول باقی نہیں رہا تھا۔ اب تو دھرنے، لانگ مارچ اور احتجاج کی طاقت بھی مولانا فضل الرحمن کے پاس چلی گئی ہے۔‘‘

طاہر ملک کے مطابق، ''طاہرالقادری کی طاقت ان کے مدرسے تھے وہ کبھی بھی پاکستان کی 'پاپولر پالیٹیکس‘ کا حصہ نہیں رہے تھے۔ پاکستان کے عوام بہت مذہبی تو ہیں لیکن وہ مذہبی جماعتوں کو ووٹ نہیں دیتے۔ طاہرالقادی کی سیاست سے ریٹائرمنٹ نے اسی حقیقت کو ایک مرتبہ پھر ثابت کر دیا ہے۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں طاہر ملک کا کہنا تھا کہ ماڈل ٹاؤن واقعے کے مقدمات کو منطقی نتیجے تک پہنچائے بغیر سیاست سے ریٹائر ہو کر طاہرالقادری کا کینیڈا میں جا بسنا ان کی لیڈرشپ پر سوالیہ نشان ہے۔