’’تبدیلی ‘‘کس کو کہتے ہیں؟ حسن نثار

حضرت سلمان فارسیؓ مرشد کی ہدایت پر موصل سے حجاز کے لئے روانہ ہوئے تو کچھ رقم کی ادائیگی کے بعد بنو کلب کے ایک قافلے میں شامل ہوگئے۔ چند بھیڑیں بکریاں ان کا کل اثاثہ تھا۔ قافلے والوں نے بدمعاملگی کی۔ پہلے بھیڑ بکریاں ہتھیائیں اور پھر وادی القریٰ پہنچ کر خود ان کو بھی ایک یہودی کے ہاتھ بطور غلام فروخت کردیا۔ اس یہودی نے کچھ عرصہ بعد انہیں مدینہ کے بنو قریظہ میں اپنے ایک رشتہ دار عثمان بن الاشہل کو بیچ دیا اور یوں آپ مدینہ میں وارد ہوئے جہاں لازوال عظمت و جلالت ان کی منتظر تھی لیکن کیسے؟حضرت زیدؓ کے والد حارثہ یمن کے ایک ممتاز و معزز قبیلہ قضا سے تعلق رکھتے تھے ان کی والدہ سعدی بنت ثعلبہ مشہور زمانہ حاتم طائی کے قبیلے کی شاخ بنومعن تعلق رکھتی تھیں۔ بیٹے کے ساتھ میکے جارہی تھیں کہ راستہ میں بنو قین کی ایک جماعت نے غارت گری کی اورزیدؓ کو غلام بنا کر مکہ لے آئے اورعکاظ کے میلے میں چار سو درہم کے عوض بیچ دیا۔ حکیم بن حزامؓ ان کے پہلے آقا تھے لیکن انہیں آقاﷺکا غلام ہونا تھا۔صہیب بن سنانؓ عرب تھے۔ ان کے والد شاہ فارس کی طرف سے دریائے دجلہ کے کنارے اک مقام ابلہ کے حاکم تھے کہ رومیوں نے شب خون مارا اور صہیب کو پکڑ کر لے گئے۔ وہ رومیوں کے ساتھ پلے بڑھے ،بعد ازاں قبیلہ کلب کے لوگوں نے انہیں خرید لیا ا ور مکہ

میں فروخت کردیا۔اور خود حضرت بلالؓ ......حبشہ کے سیاہ فام غلام رباح کے سیاہ فام فرزند غلام ابن غلام، اگر مکہ کا سنگدل امیہّ ان کے قتل کا فیصلہ نہ کرتا تو وہ اپنے طوق غلامی سمیت کسی گوشہ ارض میں گمنام دفن ہوجاتے لیکن آج موذن اول جیسا کوئی دوسرا ہے ہی نہیں۔ یہ بلال ہے کہ کمال ہے جو جمال ہے جو جلال ہے!بیشمار مثالیں ہیں، ان گنت نام ہیں، غلام ابن غلام ابن غلام جو آزاد ہوجانے کے بعد بھی معتوب اور قابل نفرت ہی رہتے ہیں۔ طاقتوروں کا تکبر انہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ایک کم تر مخلوق میں تبدیل کردیتا ، فکری، روحانی، نفسیاتی، جذباتی طور پر آزاد ہونا، آزاد ہو کر بھی ان کے لئے ممکن نہ ہوتا اور یہ صورتحال نوزائیدہ لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے کی رسم جیسی نہیں تھی کہ ایک حکم سے یکسر منسوخ کی جاسکتی۔

اس رسم کا تو کسی کے پاس معقول جواز تھا بھی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں بھی بہت سے اہل درد اس رسم کو برا ہی سمجھتے تھے مگر اتنی اخلاقی جرأت نہیں تھی کہ اس کے خلاف آواز اٹھاتے لیکن غلامی کا معاملہ تو بالکل ہی دوسرا تھا۔ غلامی بطور’’ادارہ‘‘ بہت طاقتور، موثر اور انتہائی مضبوط تھی۔ غلام اپنے رئوساء، امراء اور مراعات یافتہ طبقہ کی ضرورت ہی نہیں عادت بن چکے تھے۔ غلام ان کی نخوت کی تسکین کا ذریعہ تھے، ان کے مرتبہ، مقام اور حیثیت کی علامت تھے۔اس لعنت کا خاتمہ تقریباً ناممکن تھا کہ بالفرض اگر بیک جنبش قلم غلامی ختم بھی کردی جاتی، ایک اعلان کے نتیجہ میں سارے غلام چشم زدن میں آزاد بھی ہوجاتے تو یہ سوچ کر ہی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں کہ معاشرہ پر کیسی قیامت ٹوٹ پڑتی کیونکہ غلاموں کی نہ کوئی ملکیت تھی مثلاً زمین، کھیتی، باغ یا مال مویشی نہ ان کے پاس درہم و دینار تھے کہ زندہ رہنے، پیٹ بھرنے کے لئے کوئی چھوٹا موٹا کاروبار ہی کرلیتے جبکہ جسمانی طور پر غلاموں کی یہ کمیونٹی انتہائی مضبوط تھی تو ایسی’’آزادی‘‘ کا نتیجہ کیا نکلتا سوائے اس کے کہ پورا معاشرہ درہم برہم ہوجاتا۔ راہزنی، ڈکیتی ، چوری چکاری۔

اس کا صرف ایک حل تھا کہ ایک طرف اس’’ادارہ‘‘ کو قائم رکھتے ہوئے یہ لازمی قرار پائے کہ’’جیسا خود کھاتے ہو اپنے غلاموں کو کھلائو، جیسا خود پہنتے ہو، اپنے غلاموں کو پہنائو، ان کے آرام ا ور عزت نفس کا خیال رکھو۔‘‘ سبحان اللہ، سبحان اللہ کہ غلامی کو قائم رکھتے ہوئے غلامی کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکا لیکن ضمیر جھنجھوڑنے، اک نئی جوت جگانے، تعلیم اور تربیت دینے کے لئے’’رول ماڈل‘‘ بھی تو دیکھیں کہ کل تک جو لوگ اپنے غلاموں، ان کی تعداد پر فخر کرتے تھے..........انہوں نے غلام خرید خرید کر آزاد کرنے شروع کردئیے۔ غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم ہوا تو ان کے چہروں پر مسکراہٹیں رقصاں ہوگئیں ۔ وہ اسلامی مساوات کے رشتے میں پروئے گئے تو عرب کے معزز قبیلوں سے ان کی رشتہ داریاں اور قرابت داریاں استوار ہونے لگیں۔ ذہنی فکری تربیت اور نشو و نما کی راہیں کھلیں تو انہیں غلاموں نے اپنی علمیت، شجاعت، حمیت، بلاغت اور قربانیوں کی ایسی ایسی داستانیں رقم کیں کہ خود تاریخ حیرت زدہ رہ گئی........افتادگان خاک ستاروں میں تبدیل ہوتے چلے گئے۔ کہیں امامت اور کہیں لشکروں کی قیادت انہیں سوپنی گئی اور پھر چشم فلک نے یہ بھی دیکھا کہ بیت المقدس کی فتح کے موقع پر’’غلام‘‘ اونٹ پر سوار ہے اور امیر المومنین عمر بن خطابؓ اونٹ کی مہار تھامے پیدل تشریف لارہے ہیں۔ عوام تو عوام.........یہ منظر دیکھ کر کیا اس کے با رے میں سن کر بھی اپنی اپنی قسم اور اپنے اپنے وقت کے قیصر و کسریٰ سہم جاتے ہوں گے۔اسے کہتے ہیں’’تبدیلی‘‘اور یہی تربیت حقیقی تبدیلی کا اکلوتا روڈ میپ ہے۔’’تبدیلی‘‘ ......ت، ب، د، ی، ل، ی جیسے چھ حروف کا مجموعہ، کوئی بازاری نعرہ یا چالو نغمہ نہیں اک روحانی فلسفہ ہے جس کی گہرائی اور گیرائی جانے بغیر’’تبدیلی‘‘ کی ’’ت‘‘ کا تصور بھی ممکن نہیں۔