یہ کہانی پھر کبھی- ہارون الرشید

تین صدیاں پہلے مغرب میں صنعتی انقلاب اور سلطانی جمہور کی تحریک پھوٹی تھی ‘بلکہ سائنسی انداز فکرکی ایک ہمہ گیر اخلاقی تحریک بھی ‘ مگر یہ کہانی پھر کبھی۔ رفیق سہگل مرحوم نے روزنامہ آفاق کے اجرا کی افتتاحی تقریب میں یہ کہا:دو آرزوئیں تھیں‘ ٹیکسٹائل مل اوراخبار۔ پروردگار نے آج دوسری تمنا بھی پوری کر دی۔ استاد گرامی جناب جمیل اطہر راوی ہیں کہ میزبان کے بعد روزنامہ عوام کے مدیر خلیق قریشی مرحوم اٹھے اوریہ کہا:میری خواہش بھی یہی تھی۔ حماقت یہ ہو گئی پہلے اخبار نکالا۔ روزنامہ آفاق غتر بودہو گیا۔ پارچہ بافی کا کاروبار پھیلتا گیا۔ ؎ بوٹ ڈاسن نے بنایا میں نے اک مضموں لکھا ملک میں مضموں نہ پھیلا اور جوتا چل گیا عشروںکے بعد سہگل خاندان کی ایک ہوش مند دخترنے بیکن سکول سسٹم کا اجرا کیا۔ پھل پھول رہا ہے۔ کامیابی اس چیز میں ہوتی ہے‘ جو آدمی کی پہلی ترجیح ہو۔ موضوع تو شہباز گل ہیں مگر سیاست سے جی اوب چکا۔ سامنے کی بات ہے کہ مشیر اگر حاکم سے زیادہ ذہین اور مستعد ہو تو آفت ہی آتی ہے۔ شاہ اگر چہ لکڑی کا ہو اور پیادہ سونے کا تو بھی پیادہ ہی پٹے گا‘ شاہ کی حفاظت کے لئے ۔کہا جاتا ہے کہ عثمان بزدار بہت دنوں سے بیزار تھے‘ بس یہ کہ وزیر اعظم کے دربار میں شہباز گل کی اہمیت سے خوفزدہ ‘ موقع ملا تو بڑے صاحب سے شکایت کی۔ وسیم اکرم پلس کی بات اگر نہ مانتے تو کیا کرتے۔

وزیر اعلیٰ آخر کو وزیر اعلیٰ ہوتا ہے ‘خواہ جناب بزدار ہی کیوں نہ ہوں۔ دو نکات سوشل میڈیا پہ اجاگر ہیں ۔ایک تو یہ کہ شہباز گل آرزو مند (Ambitious) زیادہ ہیں۔ثانیاً لہجہ ان کا تلخ اور کبھی توہین آمیز۔ ارے بھائی دوسری بات کا سبکدوشی سے کوئی تعلق نہیں۔ وزیر اعظم کے نزدیک عیب نہیں‘ یہ ہنرہے۔ ذہین آدمی ہیں‘ رویہ جارحانہ۔ یہی تو مطلوب ہے۔ شاعر نے کیا کہا تھا ؎ تمہاری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی وہ تیرگی جو مرے نامۂ سیاہ میں ہے لکھنے کو ایک دفتر لکھا جا سکتا ہے مگر بات بس اتنی ہے۔کہا جاتا ہے کہ وزیر اعلیٰ کی بریفنگ ابھی تمام نہ ہوئی تھی کہ گِل صاحب کمرے میں داخل ہوئے اور کہا:باقی بات میں آپ کو بتا دوں گا‘ ملاقاتی آپ کے منتظر ہیں۔ ایسے اور بھی بہت سے واقعات سنائے جاتے ہیں‘ کون تصدیق کرے‘کون تحقیق کرتا پھرے ‘محلات کی غلام گردشوں میں ازل سے ایسا ہی ہوتا آیا ہے اور ابد تک ایسا ہی ہوتا رہے گا۔بعض کا خیال شاید یہ ہو کہ اب شہباز گِل معتوب ٹھہریں گے۔ کیوں ٹھہریں گے۔؟ بات کرنے کا ڈھنگ رکھتے ہیں۔ نہلے پہ ہمیشہ دہلا پھینکتے ہیں۔ اینٹ کا جواب پتھر سے دیتے ہیں۔ کار ِسرکار میں ایسے لوگوں کی ضرورت ہمیشہ تھی۔ سوشل میڈیا اور میڈیا سیلوں کے اس زمانے میں اور بھی زیادہ ہے۔ اگر کوئی بڑی خطا سرزد نہیں ہوئی اور بظاہر بالکل نہیں ہوئی تو مرکز میں بلائے جائیں گے۔ نعیم الحق وغیرہ وغیرہ سے بدرجہا بہتر ہیں۔ فصیح ‘مرتب‘ محنتی اور دربار کے آداب سے آشنا۔

رہی غلام گردشوں میں پنپنے والی سازشیں تو وہ کب نہ تھیں۔ آدمی میں جب اقتدار کی ایسی شدید تمنا ہو تو راستہ نکل ہی آتا ہے۔ ملٹن نے کہا تھاTo Reign is Worth Ambition Though in Hellاقتدار کی تمنا آسودہ ہونی چاہیے خواہ جہنم میں ہو۔اور امام شافعیؒ کا وہی قول: میں یہ مان سکتا ہوں کہ کسی شخص نے شراب پی رکھی ہو لیکن نشے میں نہ ہو‘ مگر یہ نہیں مان سکتاکہ کوئی شخص اقتدار میں ہو اور نشے میں نہ ہو۔ چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی۔ اور میر صاحب نے یہ کہا تھا ؎ ان صحبتوں میں آخر جانیں ہی جاتیاں ہیں نے عشق کو ہے صرفہ نے حسن کو محابا ٹیلیفون پہ ترک سفارت خانے کے شکیل گیلانی صاحب تھے۔ ادھر ادھر کی باتوں کے بعد وہی سوال : ملک کا کیا بنے گا۔ عرض کیا: جب سے یہ دنیا بنی ہے‘ کاروبار حیات اسی طرح چلتا آیا ہے۔ یہ دنیا اچھی کب تھی کہ اب سنور جائے۔ رحمتہ اللعالمینؐ کے وصال کو چند عشرے ہی گزرے تھے کہ حسینؓ کا سر نیزے پر تھا۔وہ سر نانا ؐ جسے بوسہ دیا کرتے‘ جو نماز کے ہنگام گاہے آپؐ کے کندھوں پہ جھولتا رہتا‘خود سرکارؐ کے عہد میں زمانے کا حال کیا تھا؟ چند لاکھ کے سوا باقی لوگ کس عالم میں تھے۔ اللہ نے یہ دنیا اس لئے نہیں بنائی کہ استوار ہو جائے بلکہ خیرو شر کی کشمکش کے لئے ۔ اقوام اور ممالک کی نہیں‘ یہ افراد کی دنیا ہے۔

روز حساب مالک مجھ سے یہ نہیں پوچھے گا کہ عمران خان کی کارکردگی کیسی تھی ۔البتہ یہ ضرور پوچھے گا کہ دن کے دو بجے تھے اور وضو تک کا تجھے خیال نہ تھا۔ گھبرا کرشکیل صاحب بولے: اپنا عالم بھی یہی ہے۔ دوسروں کی اصلاح کے لئے جتنے پریشان ہم رہتے ہیں‘اس سے آدھی پرواہ اپنی کریں تو ویرانہ گلستان ہو جائے۔ ہم سب واعظ ہیں‘واعظ ؎ شیخ محشر میں جو پہنچے تو اعمال ندارد جس مال کے تاجرتھے وہی مال ندارد اسی اثناء عدنان عادل صاحب سے بات ہوئی۔ بولے: تم ٹھیک کہتے ہو۔ پھر ایک نکتہ بیان کیا۔ سبحان اللہ کہا کہ قرآن کریم پڑھنا شروع کیا تو انکشاف ہوا کہ ہمارا مذہبی تصور کتنا ناقص ہے۔سورہ المومنون کا مطالعہ کیا تو کھلا کہ اہمیت ایفائے عہد کی ہے۔ انفاق فی سبیل اللہ کی۔ ڈیڑھ سو مقامات پہ اگر نماز کا ذکر ہے تو سو سے زیادہ مرتبہ محتاجوں اور مفلسوں کی دست گیری کا۔ کبھی کبھی یہ طالب علم سوچتا ہے کہ علماء کرام کی اکثریت نے کتاب اللہ کی پہلی آیت پرکبھی غور کیا ہو گا؟ الم‘ یہ ہے وہ کتاب‘ جس میں کوئی شک نہیں‘ ہدایت ہے ان پاک بازوں کے لئے ‘غائب پر جو ایمان رکھتے۔پابندی سے نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے‘ اس میں سے دوسروں پہ خرچ کرتے ہیں۔ ’’جو کچھ ہم نے دیاہے‘‘ رزق کمایا نہیں جاتا‘ عطا ہوتا ہے‘ ورنہ احمد ندیم قاسمی اور خورشید رضوی کھرب پتی ہوتے‘ نواز شریف نہیں۔ وہ کیسے ہوتے۔

معاشرے کی ثقافتی اور تہذیبی بالیدگی ان کی ترجیح اوّل تھی۔ اپنی پہلی ترجیح کے لئے آدمی بروئے کار آتا ہے۔ احمد ندیم قاسمی نے یہ کہا تھا ؎ کچھ نہیں چاہتے ہم لوگ بجزاذن کلام ہم تو انسان کا بے ساختہ پن چاہتے ہیں اور خورشید رضوی نے یہ کہا ؎ حسرتوں کا بھی کوئی روز جزا ہے کہ نہیں میری حسرت میں تو تھا تیری اطاعت کرنا شاعر اور ادیب خود ترسی میں زندگی کیا کرتے۔ سحر سے شام تک ‘قاسمی ریاضت میں لگے رہتے‘ نعرہ فروشوں کے ہجوم میں رہے۔ آخر کو نعت کے ہو گئے تھے اور سارا ہنر اسی میں نچوڑ دیا ۔ سیاست کیاچیز ہے؟ سماج کی تعلیمی‘ اخلاقی ‘ تہذیبی اور تمدنی حیات کا ثمر۔کیاہمیں اس کی پرواہ ہے؟ یہ نواز شریف یا عمران خان نہیں جو انقلاب برپا کر سکتے ہیں بلکہ ایک ہمہ گیر علمی اور اخلاقی تحریک۔ بیچارے عمران خان‘ اور بیچارے نواز شریف‘سارا دن وعدے بیچتے ہیں شام پڑتی ہے تو جنگل میں بھٹکتے اور دلدل میں اتر جاتے ہیں‘ حیران اور آزردہ ۔ یہ قوم انہیںپوچھتی کیوں نہیں؟ان کی عظمت کے لئے مر کیوں نہیں جاتی؟ پھر ان کے کارندے اور میڈیا سیل بروئے کار آتے ہیں‘ حالات کو‘ حریفوں کو دشنام دینے کے لئے۔ اتنی توفیق بھی کسی لیڈر کو نہیں کہ اپنے خیالات کے جنگل میں جھانک سکیں ۔ تین صدیاں پہلے مغرب میں صنعتی انقلاب اور سلطانی جمہور کی تحریک پھوٹی تھی ‘بلکہ سائنسی انداز فکر کی ایک ہمہ گیر اخلاقی تحریک بھی ‘ مگر یہ کہانی پھر کبھی۔