تحریک نفاذ اردو - پروفیسر جمیل چودھری

یہ ایوان قائد اعظم اسلام آباد کا فاطمہ جناح ہال تھا جہاں نفاذ اردو کی کانفرنس ہورہی تھی، اردو میں ترانے گونج رہے تھے۔ ہال کی ایک دیوار پر لکھاتھا "اگر ہم ایک قوم ہیں تو قومی زبان کہاں ہے؟" دوسری طرف لکھاتھا "جسٹس جواد ایس خواجہ کی جرأتوں کو سلام"۔ کچھ دیر کے بعد ڈاکٹر عبدالقدیر خان تشریف لائے۔ ان کے ساتھ سٹیج پر عرفان صدیقی تھے۔ تب وہ وزیراعظم کے مشیر بھی تھے۔ ایک مقرر نے کہا کہ اردو کے نفاذ سے قومی یکجہتی میں اضافہ ہوگا۔ کئی دوسرے اردو کو اسلام کی زبان کہہ رہے تھے۔ لیکن جونہی ڈاکٹر عبدالقدیر خان کھڑے ہوئے، انھوں نے کہہ دیا کہ اگر میں انگریزی زبان نہ پڑھتا تو ایٹم بم ہرگز نہ بنا سکتا۔ اس فقرے نے ماحول کو بدل دیا۔ عرفان صدیقی فرما رہے تھے "کہ انہیں اردو سے روحانی تعلق ہے۔ میں نے مطالعہ اردو میں کیا، سوچا بھی اردومیں، اور لکھا بھی اردو میں۔" اور ساتھ یہ بھی کہا کہ میں نفاذ اردو میں کچھ نہیں کرسکتا کیونکہ یہ میرے دائرہ کا ر میں نہیں آتا۔ یہ کانفرنس 24 جولائی 2016ء کو ہوئی تھی۔

1973ء کے آئین کا آرٹیکل 251 اردوکو قومی زبان تسلیم کرتا ہے۔ تب نفاذ کے لیے صرف 15 سال کا عرصہ طے ہوا تھا۔ اور اب اس تحریری اور بنیادی دستاویز کو نافذ ہوئے 46 سال کا طویل عرصہ گزر چکا ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کا نفاذ اردو سے متعلق فیصلہ 8 ستمبر 2015ء میں آیا تھا۔ کئی درخواستیں تھیں۔ وکیل کو کب اقبال کی درخواست 2003ء میں دائر کی گئی تھی۔ دوسری اہم درخواست محمود اختر نقوی کی تھی جو 2012ء میں دائر کی گئی تھی۔ مقدمہ 7 ماہ چلتا رہا۔ اور پھر تاریخی فیصلہ سنادیاگیا۔ "In the governance of the federation and the provinces, there is hardly any necessity for the use of colonical language English which cannot be understood by the public at large".the judges however recognised the importance of English. ججوں نے بال حکومت کے کورٹ میں پھینک دی تھی۔

تحریک نفاذ اردو والوں کی یہ ایک بڑی فتح تھی۔ میں نے فیصلے کے 2 ماہ بعد بڑے عہدے پر کام کرنے والے اپنے ایک عزیز کو فون پر پوچھا کہ اسلام آباد کے سرکاری حلقوں میں فیصلے کے بعد کیا تبدیلی آئی؟ انہوں نے بتایا کہ محکموں کے ناموں کی تختیوں پر انگریزی کے ساتھ اردو نام بھی لکھ دیے گئے ہیں۔ باقی تمام جوں کا توں ہے۔ نواز شریف صاحب نے بھی ایک میمو 6 جولائی 2015ء کو جاری کر دیا تھا۔ اور کابینہ کے تمام ممبروں کو کہہ دیا تھا کہ احکامات کو اردو میں بیان کرنے کے لیے ضروری سرکاری دستاویز کے ترجمہ کیے جائیں۔ حکومت کے نمائندوں کوتقاریر اردو زبان میں کرنے کا بھی کہاگیا تھا۔ اپنی ہی کہی ہوئی بات کا وہ خود پاس نہیں رکھ سکے تھے۔ احسن اقبال جو ان کی کابینہ کے بہت زیادہ پڑھے ممبر شمار ہوتے تھے، انہوں نے 18جولائی کو بات کو گول مول کر دیاتھا۔ "Urdu will be second medium of language and all official buisness will be bilinguel" انھوں نے نئی زبان اردش کی باتیں بھی کی۔ کابینہ کے اہم ممبر احسن اقبال نے 14 اگست 2015ء کو بھی اردش کی اصطلاح استعمال کی۔ ان کے نزدیک یوں 2 زبانوں انگریزی اردو کا جھگڑا ختم ہوجائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   نیو ورلڈ آرڈر اور پاکستان - فائزہ فرید

ڈاکٹر شریف نظامی کی چلائی ہوئی تحریک نفاذ اردو کے اثرات ملک میں محسوس تو ہو رہے ہیں لیکن پنجاب نے 2009ء میں انگریزی زبان کو پہلی جماعت سے ہی بطور میڈیم نافذ کر کے اردو کے خلاف مکمل بغاوت کا اعلان کر دیا تھا۔ 2014ء میں صوبہ خیبرپختونخواہ نے بھی پنجاب کی پیروی کی۔ اردو کے نفاذ میں اٹھارھویں ترمیم اب ایک بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔ تعلیم کا شعبہ مکمل طور پر صوبوں کو دے دیاگیا ہے۔ سلیبس بنانے اور ذریعہ تعلیم طے کرنے کے اختیار اب صوبوں کے پاس آچکے ہیں۔ مرکز میں اب کوئی ادارہ اردو کے حق میں فیصلہ کرنے کا نہیں رہ گیا۔ سندھ سے قومی اسمبلی کی رکن ماروی میمن نے 2010ء میں ایک بل قومی اسمبلی میں لانے کی کوشش کی تھی، جس میں اردو کے ساتھ بلوچی، سندھی اور پشتو کو بھی قومی زبانیں تسلیم کرنے کے بارے کہا گیا تھا۔ لیکن وہ تحریک ناکام ہوگئی تھی۔ آج کل بھی کچھ عوامی نمائندے ایسی سوچ رکھتے ہیں۔ جوں جوں وقت گزر رہا ہے۔ نئے نئے مسائل جنم لے رہے ہیں۔ بزدار صاحب نے اردو کو ذریعہ تعلیم بنانے کے بارے کوئی حکم ضرور دیا ہے۔ اس پر عمل ہوتا ہے یا نہیں یہ دیکھنے کی بات ہے۔ ملک میں فروخت ہونے والی سب سے زیادہ کتابیں اردو میں ہی ہوتی ہیں۔ پاکستان کے معروف پبلشنگ ادارے سنگ میل کے 70فیصد ٹائٹل اردو کے فروخت ہوتے ہیں۔ ابھی تک پاکستان میں انگلش لکھنے والے عوام میں مقبول نہیں ہو سکے۔ انگریزی سکولوں کے پڑھے ہوئے نوجوانوں کی بات دوسری ہے۔

نفاذ اردو کے لیے اب صرف ایک ہی بڑاسٹیج رہ گیا ہے، اور وہ پارلیمنٹ ہے۔ نفاذ اردو تحریک والوں کو اب اپنا رخ ادھر کرنا چاہیے۔ وہاں سے نفاذ اردو کی تاریخ کا حکم حاصل کیا جائے۔ ایسا حکم جس میں صوبوں اور اضلاع کے درمیان خط و کتابت ایک خاص تاریخ کو شروع ہو اور ایسے ہی صوبے آپس میں اردو خط و کتابت شروع کریں۔ تمام صوبے میٹرک تک اردو کو ذریعہ تعلیم بنائیں۔ یونیورسٹیوں میں بھی تحقیقی مقالے بھی اردو میں لکھے جائیں، چاہے وہ معاشرتی علوم سے متعلق ہوں یا قدرتی علوم سے متعلق۔ پارلیمنٹ اپنا حکم ایک خاص عرصے میں نافذ کرائے۔ اسی فورم کے لیے کوشش ہونی چاہیے۔


بڑی اریسٹو کریسی ہے زبان میں

فقیری میں نوابی کا مزا دیتی ہے اردو


حکومتی نظام تعلیم کے باہر بے شمار انگریزی میڈیم زبان سکول بن چکے ہیں۔ کئی تعلیمی چیسزز بن چکی ہیں۔ مثال کے طور پر بیکن سکول سسٹم اور سٹی سکول سسٹم وغیرہ۔ ایک سروے کرنے والے ادارے کے مطابق2000ء کے بعد ایسے سکولوں کی تعداد میں 105 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ یہ ادارے زیادہ تر شہری علاقوں میں ہیں۔ یوں تعلیمی لحاظ سے دیہی پاکستان اور شہری پاکستان میں بھی فرق پڑگیا ہے۔ اور نوکریاں زیادہ تر انگریزوں ذریعہ تعلیم والے نوجوان لے جاتے ہیں۔ اردو کے نفاذ سے یہ فرق ختم ہوجائے گا۔ انگریزی میں پڑھے لوگ اپنے آپ کو Elite کلاس کا فرد سمجھتے ہیں۔ ابھی تک اعلیٰ ملازمتوں کے لیے امتحانات بھی انگریزی میں لیے جا رہے ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ نے2017ء میں ایک فیصلہ دیا کہ 2018ء میں منعقد ہونے والے سول سروسز کے امتحانات اردو میں لیے جائیں۔ لیکن پبلک سروس کمیشن کے حکام نے اپیل دائر کر دی اور فیصلہ تبدیل کرا لیا۔ ماوری میمن جنہوں نے علاقائی زبانوں کو قومی زبان کا درجہ دلانے میں2010ء میں بھی کوشش کی تھی، 2014ء میں پھر ناکام ہوئیں اور ان کے پیش کردہ بل کو آرٹیکل 251 کے خلاف قرار دےکر مسترد کر دیاگیا۔ میرے نزدیک اس مسئلہ کا سافٹ حل یہ ہے کہ اردو زبان میں علاقائی زبانوں کے وہ الفاظ شامل کرنے شروع کیے جائیں جو آسانی سے اردو میں جذب ہو سکتے ہوں۔ جب کئی سال اردو کے شعراء، ادیب اور لغات مرتب کرنے والے لوگ یہ کام سنجیدگی سے کرتے رہیں گے تو علاقائی زبانوں کے ترجمان بھی آہستہ آہستہ خاموش ہوتے جائیں گے۔ اگر انگریز لوگ "پٹکا" لفظ کو انگریزی کا حصہ بنا سکتے ہیں تو اردو والے اسے اپنی زبان کا حصہ بنانے میں کیوں ہچکچاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان نے کمرشل فلائٹ پر جانے کا کہا تو محمد بن سلمان کیا بولا

کوشش ہونی چاہیے کہ اردو زبان کو پاکستانی بنایاجائے۔ ابھی تک اس کی بنیادیں سنسکرت، عربی اور فارسی پر ہی استوار ہیں۔ ضروری ہے کہ آپ جس ملک کی اسے قومی زبان بنانے جارہے ہیں، اس ملک کے صوبوں میں بولی جانے والی زبانوں کے الفاظ بھی اردو میں شامل ہوں۔ کچھ ماہرین کی یہ بھی رائے ہے جیسے انگلینڈ والوں کی زبان انگلش ہے، فرانس والوں کی زبان کا نام فرانسیسی ہے اور جاپان والے اپنی زبان کو جاپانی کہتے ہیں، چین والے اپنی زبان کو چینی کہنا پسند کرتے ہیں، اسی طرح پاکستان کے لوگوں کی زبان کو "پاکستانی" کہا جائے۔ یہ تب ہوگا جب پاکستان کے صوبوں کی زبانوں کے کافی معروف الفاظ اردو میں شامل ہوجائیں گے۔ یہ کام قومی یکجہتی کے لیے بھی ضروری ہوگا۔ پاکستان میں لفظ اردو کی اجنبیت بھی ختم ہوجائے گی۔ ابھی تک علاقائی زبانوں کو قومی زبان کا درجہ دلانے کی کوششیں جاری ہیں۔ ان علاقائی زبانوں کے معروف الفاظ کو اردو میں شامل کرلینا ہی مسئلہ کا حل ہے۔ یہ کام اردو ڈکشنری بورڈ والوں کو بھی کرنا چاہیے۔ بورڈ کا یہ بڑا کارنامہ ہے کہ جوکام 1958ء میں شروع ہوا تھا، وہ2010ء میں مکمل ہو چکا ہے۔ اردو زبان کی لغت 22 جلدوں میں 52 سال بعد مکمل ہوچکی ہے۔

زبان کو ترقی دینے کے لیے بہت سے سرکاری اداروں نے کافی کام کیا ہے۔ پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز، ادارہ فروغ اردو اور نیشنل بک فاؤنڈیشن قومی زبان کی ترقی و توسیع میں مصروف رہتے ہیں۔ سرکاری اداروں نے دنیا کی معروف تاریخی، سائنسی فلسفیانہ اور ادبی کتابوں کے اردو زبان میں کافی تراجم کیے ہیں۔ اسلام آباد کی پطرس بخاری روڈ پر پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز اور ادارہ فروغ اردو کی خوبصورت عمارات ایک دوسرے کے سامنے موجود ہیں۔ دونوں میں ہونے والے کام کو بڑے پیمانے پر تسلیم کیاجاتا ہے۔ اب اردو میں ہر طرح کی دفتری اصطلاحات کی تراجم بھی موجود ہیں۔ پرائیویٹ اداروں نے بھی تراجم کاکام بڑے احسن طریقے سے کیا ہے۔ ڈاکٹر شریف نظامی کی تحریک نفاذ اردو کو اپنا دائرہ کار مزید پھیلانا چاہیے۔ سول ریٹائرڈ بیوروکریٹ اور ریٹائرڈ فوجی آفیسرز کو شامل کر کے تحریک کو مزید ماثر بنایا جاسکتا ہے۔ اردو کے لٹریری فیسٹیول صرف اسلام آباد اور کراچی تک محدود نہ رہیں۔ یہ اندرون سندھ، اندرون بلوچستان اور صوبہ خیبرپختونخواہ کے شہروں میں بھی منعقد ہوں۔