مظفر آباد تا چکوٹھی سیز فائر لائن احتجاجی مارچ - چودھری وقاراحمد بگا

آرٹیکل 370 کی منسوخی اورآرٹیکل 35A میں ترمیم کے بعد بھارتی مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست کو کرفیو لگا کر وادی کشمیر میں اس حد تک فوج تعینات کر دی گئی کہ انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق بھارتی زیراہتمام کشمیر دنیا کی سب سے بڑی جیل کی صورت اختیار کر چکا ہے۔آرٹیکل 370 اور 35A کے ماضی،حال اور مستقبل کے متعلق گزشتہ ہفتے ''تحریک آزادی کشمیر اور آرٹیکل 370-35A '' کے عنوان سے تفصیلی کالم لکھ چکا ہوں۔

اب کرفیوں کو لاگو ہوئے تین ہفتے ہونے کو ہیں۔گھروں میں راشن ختم، میڈیکل سٹوروں میں سپلائی نہ ملنے سے ادویات ناپید،سکول کالجز بند اور مقامی میڈیا مکمل بند ہو چکا۔بھارت غیر قانونی طریقہ سے آئین میں ترمیم کر کے کشمیر کو ہضم کرنے کی کوشش کر رہا تھا مگر یہی کوشش اب اسکے گلے کی ہڈی بن چکی۔آئین میں غیر قانونی طریقے سے ترمیم اور پھر کرفیوں سے سرینگر کے شہریوں کو تو احتجاج سے روک لیا گیا مگر پاکستان کے بڑے شہروں اور پاکستانی زیرانتظام کشمیر کے گلی محلوں،چوکوں چوراہوں اور چھوٹے بڑے شہروں سمیت دنیا بھر خصوصاً پورپین ممالک میں کشمیری کمیونٹی کی طرف سے احتجاج ریکارڈ کروائے جانے لگے۔ پاک بھارت کشیدگی پر 16 اگست کو بلائے جانے والے سلامتی کونسل کے اجلاس پرپاکستان اور چائینہ کی درخواست پر مسلہ کشمیر کے متعلق ڈسکشن منظور ہوئی اور 50 سال بعد سلامتی کونسل کا اجلاس مسلہ کشمیر پر منعقد ہوا۔اجلاس میں کوئی خاص نئی بات نہیں کی گئی البتہ اجلاس بلانے سے مسلہ کشمیر معاہدہ تاشقند اور شملہ معاہدہ کے ذریعے پاک بھارت کے اندرونی مسلہ کی پائپ لائن سے نکل گیا اور ایک دفعہ پھر بین الاقوامی مسلہ کے طور پر اقوام عالم کے سامنے آیا۔

راجہ فاروق حیدر خان نے 14 اگست کو آزادکشمیر اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم پاکستان عمران خان سمیت پاکستان سے آئے دیگر مہمان وزراء کے سامنے جذباتی ہو کر لائن آف کنٹرول توڑنے کا اعلان کیا اور چند ہی گھنٹوں بعد امریکہ کسی پرائیویٹ میوزک شو میں بطور مہمان خصوصی خوش قسمتی سمجھ کرشرکت کیلئے روانے ہو گئے۔ مسلہ کشمیر پر سیاست کر کے عروج پانے اور قائد کشمیر کا لقب پانے والے بیرسٹر سلطان محمود چودھری بھی منظر سے یوں غائب ہوئے جیسے جلوسوں میں جیبوں سے بٹوے۔ واحد ریاستی جماعت آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے موروثی قائد سردار عتیق خان بھی نیلا بٹ تک محدود ہو کر رہ گئے حالانکہ سردار عتیق احمد خان اور بیرسٹر سلطان قبل ازیں متعدد دفع سیز فائر لائن توڑنے کا برملا اعلان کر کے مُکرچکے ہیں۔پیپلز پارٹی آزادکشمیر نے مرد مجاہد بلاول بھٹو کو عید کی نماز مظفر آباد پڑھا کر حق ادا کر دیا اب انڈیا کو کشمیر سے نکل جانا چاہیے۔

جب تمام سیاسی قیادت حیلے بہانے اور ٹال مٹول کر رہی تھی تو 17 اگست 2019 کو سینٹرل یونین آف جرنلسٹ آزادکشمیر کے مرکزی جنرل سیکرٹری ملک عبدالحکیم کشمیری نے مرکزی صدر ظفیر بابا کی کال کو سابق صدر سینٹرل پریس کلب ابرار حیدر شاہ، مسعود عباسی، آصف رضا میر، غلام رضا کاظمی، فدا حسین اور اشتیاق آتش کے ہمراہ مرکزی ایوان صحافت میں پریس کانفرنس کی صورت میں اعلان کیا کہ 24 اگست 2019 کو سینٹرل یونین آف جرنلسٹ مرکزی ایوان صحافت مظفرآباد سے چکوٹھی لائن آف کنٹرول کی طرف مارچ کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں:   امت مسلمہ کے مسائل اور مذہب کارڈ - عمار مظہر

سینٹرل یونین کا ممبر ہونے کی وجہ سے مرکزی قیادت کی طرف سے کشمیر بھر کے صحافیوں کی طرح راقم کو بھی دعوت نامہ وصول ہوا اور ہندوستان کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں، میڈیا پر لاک ڈاؤن، ریاستی اخبارات کی بندش اورمسلسل کرفیو کے خلاف احتجاجی مارچ میں شرکت کیلئے چنار پریس کلب اسلام گڑھ کے دوستوں نے مظفرآباد جانے کا پروگرام بنایا اور 23 اگست صبح 10 بجے دِلوں میں مقبوضہ کشمیر کے مظلوم بھائیوں،لاچار بہنوں اور کمزور بزرگوں سے صرف ہمدردی لیئے ہمراہ جنرل سیکرٹری چنار پریس کلب امجد چودھری،جاوید اقبال بٹ،کاشف اکبر اور ابرار مغل اسلام گڑھ سے مظفرآباد کیلئے روانہ ہوئے۔270 کلو میٹر کا سفر بغیر کسی تھکاوٹ کے رات 9 بجے مرکزی ایوان صحافت مظفرآباد پہنچے جہاں مرکزی صدر CUJ ظفیر بابا،ابرار حیدر شاہ، مسعود عباسی، عبدالحکیم کشمیری، آصف رضا میر، غلام رضا کاظمی، فدا حسین اور اشتیاق آتش نے نہایت خلوص اور پیار کے ساتھ خوش آمدید کہا۔کچھ ہی دیر بعد پاکستان یونین آف جرنلسٹ کے صدر افضل بٹ صاحب کی آمد ہوئی اور انکی آمد کے چند لمحوں بعد ہی پاکستان یونین آف جرنلسٹ کے جنرل سیکرٹری رانا عظیم کی بھی آمد ہوئی۔دونوں سینئر قائدین کے ہمراہ نیشنل پریس کلب اسلام آباد، لاہور،گوجرانوالہ، ملتان، ایبٹ آباد، مری، راولپنڈی،گجر خان کے علاوہ دیگر شہروں سے سیکڑوں صحافی بھی مقبوضہ کشمیر کی عوام سے اظہار یکجہتی کیلئے مظفرآباد پہنچ آئے۔رات 12 بجے تک کراچی سے خیبر اور بھمبر سے تاو بٹ تک کے سیکڑوں صحافیوں سے مرکزی ایوان صحافت مظفرآباد کھچا کھچ بھر گیا۔

صحافیوں کی مظفرآباد بڑی تعداد میں آمد کو دیکھ کر چکوٹھی سیز فائر لائن پر بھارت کی طرف سے جارحیت کے خطرہ کے پیش نظر انتظامیہ نے چکوٹھی سے 3 یا 4 کلو میٹر پہلے چناری کے مقام پر راستے میں گاڑیاں لگا کر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی اور احتجاجی مظاہرین کیلئے محفوظ مقام پر جلسہ کیلئے پنڈال تیار کر دیا جسکی اطلاعت منتظمین کو دے دی گئی اور پیشگی ریڈ الرٹ جاری کر دیا۔میزبان صحافیوں مہمان صحافیوں کیلئے دس مختلف جگہوں پر کھانے اور رہائش کا انتظام کیا ہوا تھا جسکی وجہ سے پریس کلب سے مختلف شہروں کے صحافیوں کے گروپ بنا کر ہوٹلوں میں شفٹ کیا گیاجہاں پربہترین طعام و قیام کا بندوبست کیا گیا تھا۔ رات گزاری کے بعد اگلی صبح 24 اگست 9 بجے سائیں سہلی سرکار حاضری کے بعد پریس کلب پہنچے تو تمام صحافیوں کو ایک مرتبہ پھر ایوان صحافت میں پایا،کچھ پرانے شناساوں،نئے دوستوں اور اجنبی صحافیوں کے ہمراہ کالی پٹیاں باندھ کر مظفرآباد شہر سے باہر نکلنے کیلئے پیدل مارچ شروع کیا اور ہم کیا چاہتے،آزادی۔ہم چھین کے لیں گے، آزادی۔ ہے حق ہمارا،آزادی جیسے نعرے لگائے گے۔10بج کر30منٹ پر مظاہرین مظفرآباد شہر کے باہر سے گاڑیوں کے ایک بہت بڑے قافلے کے ساتھ چکوٹھی کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں مختلف جگہوں پر سکولوں کے بچوں، استاتذہ، تاجروں اور سول آبادی نے پھولوں کی پتیوں سے دو مختلف جگہوں پر قافلے کا استقبال کیا۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر سے جڑا جنوبی ایشاء کا امن - چوہدری ذوالقرنین ہندل

چھوٹے بچوں اور عام عوام کی طرف سے فقدالمثال استقبال دیکھ کر مظاہرین کے جذبہ حب الوطنی نے مزید جوش کھایا تو ہر صحافی کی خواہش سیز فائر لائن توڑنے کی تھی مگرشاہراہ سرینگر چناری کے مقام پر پولیس کے دستوں نے سیز فائر لائن پر حالات خراب ہونے کے باعث ریلی کو روک دیا تاکہ صحافی اپنا پروگرام علی گوہر گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج چناری کے گراونڈ جو کہ ایک محفوظ مقام پر ہے وہاں پرکریں مگر دور دراز سے آئے صحافیوں کا اسرار سیز فائر لائن پر جانے کا تھا جسکے باعث پہلے پہل پولیس اور صحافیوں میں گرما گرمی ہوئی البتہ ریلی کے قائدین نے صحافیوں کو چناری ہی جلسہ کرنے پر منایا جسکے باعث کچھ صحافی احتجاجی قیادت سے نالاں بھی ہوئے اور کچھ نے شاہراہ سرینگر پر دھرنا دے کر روڈ بلاک کر دی اور باقی ماندہ صحافیوں نے سکول گراونڈ میں جلسہ شروع کر دیا۔جلسہ میں تقریباً پانچ سو صحافیوں نے شرکت کی شرکاء سے صدر سینٹرل یونین آف جرنلسٹس محمدظفیر بابا، صدر پاکستان یونین آف جرنلسٹ افضل بٹ، رانا عظیم، صدر سینٹرل پریس کلب مظفرآباد طارق نقاش، کالم نگار شہزاد راٹھور، انور رضا، امجد چودھری، طاہر احمد عباسی، سردار ذوالفقار علی، ابرار حیدر شاہ ، عبدالحکیم کشمیری،مسعود عباسی، لیاقت بشیر فاروقی، شبیر اعوان، جاوید تبسم چودھری، بشیر عثمانی، راجہ شوکت، ذوالفقار بٹ، طاہر فارقی، جاوید چودھری، امتیاز اعوان،حیات اللہ اعوان ، وقاص چودھری اور دیگر نے خطاب کیا۔

جلسہ، پیدل مارچ اور ریلی کو نیشنل، انٹرنیشنل میڈیا سمیت بھارتی میڈیا نے بھی کوریج دی۔بطور مجموعی سینٹرل یونین کی کال پر بلائے جانے والا احتجاجی مارچ کامیاب اور بہترین رہا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ قلم کاروں کے بعد سیاست دان سیز فائر لائن کی طرف رخ کرتے ہیں یا امسال بھی محض اعلانات کی حد تک رہیں گے اور کشمیر کی بات Attention Seeking کیلئے کرتے رہیں گے۔اس تحریر کے پس منظر چند سوالات ہیں! کیا مسلہ کشمیر صرف بعض شخصیات کو دنیا میں متعارف کروانے کا نام ہے؟ اگر پاکستان آرمی یا انتظامیہ ایک مارچ کو لائن آف کنٹرول کی طرف جانے سے روکتی ہے تو باقیوں کا کوئی فرض نہیں کہ وہ بھی اس طرف مارچ کریں اور اقوام عالم کے مردہ ضمیر کو جھنجھوڑیں؟ جنہوں نے مارچ میں شرکت نہیں کی اور مارچ کرنے والوں پر بے جا تنقید کر رہے ہیں وہ بہتر ہیں یا وہ جو نیک نیتی سے مارچ میں شریک ہوئے اور مظلوم بہن بھائیوں سے اظہار یکجہتی کی؟ آرٹیکل 370 اور 35A میں رد و بدل کے بعد احتجاجی مظاہروں نے مسلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کیا یا ناقدین درست ہیں؟ کیا سیاست قیادت اس وقت مسلہ کشمیر کے بارے میں سنجیدہ ہے یا راہ فرار اختیار کر رہی ہے؟

ایک آزادی پسندکشمیری ہونے کی حیثیت سے ان سوالوں کے جوابات سوچیے اور رائے قائم کیجیے کیونکہ آپکی رائے ہی مقدم ہے۔
اللہ آپ کا اور میرا حامی و ناصر ہو!!!