آزادی مارچ یا…؟ خورشید ندیم

کل ہی میں نے چندے کی ایک پرچی دیکھی جو جمعیت علمائے اسلام پختون خوا کی طرف سے جاری کی گئی ہے۔ یہ ''آزادی مارچ‘‘ کے لیے وسائل جمع کرنے کی مہم ہے۔ اس پرچی پر لکھا ہے: 'تعاون بسلسلہ تحفظ ناموسِ رسالت‘‘۔ ایک مذہبی آدمی ہوتے ہوئے، میں مذہب کے اس سیاسی استعمال پر لرز اٹھا۔
اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اِس وقت پاکستان میں مذہب کو کوئی خطرہ لاحق ہے نہ ناموسِ رسالت کو۔ حکومت سے نہ کسی طبقے سے۔ ثم الحمدللہ۔ کوئی بد نصیب اگر انفرادی حیثیت میں اس کی جسارت کر بیٹھے تو ہمارا قانون اتنا توانا ہے کہ اس سے نمٹ سکتا ہے۔ اس کے لیے کسی تحریک کی ضرورت نہ کبھی رہی ہے نہ ہو گی۔ موجودہ حکومت نے ایک سال میں کوئی ایسا قدم اٹھایا ہے نہ ایسی سوچ کا اظہار کیا ہے جس سے یہ تاثر ملے کہ وہ اسلام کے خلاف ہے۔ اگر یہ امرِ واقعہ ہے تو پھر مولانا فضل الرحمن لوگوں کے مذہبی جذبات کو کیوں مخاطب بنا رہے ہیں؟
مولانا اوّل و آخر ایک سیاست دان ہیں۔ سیاست کو میں یہاں اسی مفہوم میں لے رہا ہوں جو مستعمل ہے۔

وہ اقتدار کے کھیل میں شریک ہیں۔ دیگر سیاست دان اس کھیل کے دوسرے کھلاڑی ہیں۔ اگر اخلاقی اور آئینی حدود میں رہتے ہوئے یہ کھیل کھیلا جائے تو اس میں کوئی خرابی نہیں۔ اس صورت میں یہ ایک قومی خدمت ہو گی جس کے لیے ہمیں سیاست دانوںکا شکر گزار ہونا چاہیے۔
بایں ہمہ، مولانا کی عوامی تائیدکی اساس مذہبی ہے۔ مولانا اگرچہ دیوبند کو ایک سیاسی تحریک اور نقطہ نظر قرار دیتے ہیں لیکن دیوبند سے وابستہ ایک عامی اسے ایک مذہبی حوالہ سمجھتا ہے۔ وہ دارالعلوم دیوبند سے واقف ہے، جمعیت علمائے ہند سے نہیں۔ یہی سبب ہے کہ ایک سماجی و مذہبی تحریک ہوتے ہوئے، مسجد اور مدرسہ دیوبندی مسلک کی طاقت کے اصل مراکز ہیں۔
یہ بات مولانا فضل الرحمن صاحب کو معلوم ہے۔ وہ اس مذہبی قوت کو ایک سیاسی قوت میں بدلنا چاہتے ہیں۔ یہ اس کے بغیر ممکن نہیں کہ وہ اس طبقے کے مذہبی جذبات کو متحرک کرتے ہوئے اسے اپنے سیاسی قافلے میں شامل کریں۔ وہ اسلام کو درپیش مفروضہ خطرے کا نعرہ بلند کریں اور لوگوں کو اس تحریک میں شامل کریں جو سر تا پا سیاسی ہے۔ مولانا کے پیشِ نظر ایک سیاسی مقصد ہے۔ وہ اسے دوٹوک انداز میں بیان کر چکے۔ یہ مقصد حکومت کا خاتمہ ہے۔ عام آدمی‘ جسے اس تحریک کا ایندھن بننا ہے، کو یہ بتایا جا رہا کہ تم دراصل اللہ کی راہ میں نکل رہے ہو۔ خدانخواستہ جان گئی تو شہادت ہاتھ آئے گی۔ کامیاب ہو گئے تو ملک میں اسلامی نظام قائم ہو جائے گا۔

یوں تم کسی صورت میں ناکام نہیں رہو گے۔ اب اسے عمل کو مذہب کے سیاسی استحصال کے علاوہ، کیا کوئی اور نام دیا جا سکتا ہے؟
مولانا کے سیاسی موقف کو میں سولہ آنے درست سمجھتا ہوں۔ وہ گزشتہ انتخابات کے بارے میں جو رائے رکھتے ہیں اور پھر موجودہ حکومت کی تشکیل کو جن عوامل کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں، میرے نزدیک اس میں رتی برابر مبالغہ نہیں۔ اس پر اگر حکومت کی ایک سالہ کارکردگی کو بھی شامل کر لیا جائے تو مولانا ایک مضبوط سیاسی موقف کے ساتھ کھڑے ہیں۔ کوئی ذی شعور شہری، ان کی ذات سے تو اختلاف کر سکتا ہے، ان کے مقدمے سے نہیں۔
میں مولانا کی اس سیاسی بصیرت کا قائل ہوں کہ انہوں نے ایک دن بھی اس معاملے میں مداہنت کا مظاہرہ کیا اور نہ وہ اپنے موقف میں کوئی تبدیلی لائے۔ انہوں نے پہلے ہی دن خان صاحب کی سیاست کے جن نتائج کی طرف متوجہ کیا، اب انہیں بچشمِ سر دیکھا جا سکتا ہے۔ اس موقف میں، ملک کی دو بڑی جماعتیں نون لیگ اور پیپلز پارٹی ان کے ساتھ کھڑی ہیں۔

اس فضا میں ان کے پاس ایک بہتر راستہ یہ تھا کہ وہ اس سیاسی مقدمے کے ساتھ کھڑے ہوتے، پوری قوم کو اپنا مخاطب بناتے اور سب طبقات کو متحرک کرتے۔ میرا احساس تھا کہ بڑی سیاسی جماعتیں، وکلا تنظیمیں اور سول سوسائٹی ان کی امامت میں صف آرا ہو جاتے۔ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو عوام ان سے دور ہوتے۔ مولانا نے اس راستے کو اگرچہ اختیار کیا‘ لیکن اصل انحصار اپنی جماعتی قوت یا مسلکی عصبیت پر کیا اور اسے کسی مذہبی عنوان پر ہی مخاطب کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے انہوں نے ملک بھر میں اپنی جماعت کو حکومت کے خلاف متحرک کرنے کے لیے جو اجتماعات کیے، انہیں بھی تحفظِ ناموس رسالت کا عنوان دیا۔ اب چندا بھی اسی عنوان سے مانگا جا رہا ہے۔
مجھے اس بارے میں کوئی شبہ نہیں کہ اسلام کو سب سے زیادہ خطرہ کسی خارجی قوت سے نہیں، ان داخلی قوتوں سے ہے جو اسے اپنے دنیاوی مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ مذہب کا سب سے خطرناک دنیاوی استعمال وہ ہے جو اقتدار اور سیاست کے لیے کیا جائے۔ پاکستان میں یہ کام تسلسل کے ساتھ ہوتا آیا ہے۔ اس نے اسلام کو نا قابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ماضی میں خود مولانا فضل الرحمن بعض ایسے اقدامات کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ 1985ء میں جب دیوبندی علما مولانا سمیع الحق اور قاضی عبداللطیف نے سینیٹ میں شریعت بل پیش کیا تو مولانا فضل الرحمن اس کے سب سے بڑے مخالفین میں شامل تھے۔ حسنِ ظن یہی ہے وہ شریعت کے نہیں، 'شریعت بل‘ کے خلاف تھے، جس کے محرکات، ان کے نزدیک سیاسی تھے۔ اسی طرح جب بے نظیر بھٹو صاحبہ کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے اسلام میں عورت کی حکمرانی کا مسئلہ اٹھایا گیا اور محترمہ کے خلاف ایک مذہبی تحریک برپا کرنے کی کوشش کی گئی تو مولانا نے خود کو اس سے الگ رکھا۔ وہ جانتے تھے کہ اس تحریک کا مقصد دینی نہیں، سیاسی ہے۔
سوال یہ ہے کہ مذہب کا یہ سوئے استعمال اگر ماضی میں جائز نہیں تھا تو آج کیسے جائز ہو گیا؟ کل عمران خان اور ان کے پشت بانوں نے ختمِ نبوت کے مسئلے کو حکومت کے خلاف استعمال کیا۔ آج اگر مولانا فضل الرحمن ناموسِ رسالت کو عمران خان کی حکومت کے خلاف استعمال کرنا چاہیں گے تو اس کی کیسے تائید کی جا سکتی ہے؟ اس کا تعلق سیاست سے نہیں، اس ملک میں مذہب کے مستقبل سے ہے۔

آزادی مارچ کا ایک پہلو خالصتاً سیاسی ہے۔ سوال یہ ہے کہ دھرنوں سے حکومتوں کے خاتمے کا یہ عمل اگر روایت بنتا ہے تو کیا، اس ملک میں کسی مستحکم سیاسی نظام کی ضمانت دی جا سکتی ہے؟ میں دھرنے اور احتجاج میں فرق کرتا ہوں۔ اس بحث سے سرِ دست گریز کرتے ہوئے، میں اس وقت ساری توجہ مذہب کے سوئے استعمال پر مرتکز کرنا چاہتا ہوں۔ یہ مذہب کی بقا کا سوال ہے۔
بلاول بھٹو نے اس معاملے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کیا۔ نون لیگ کو بھی چاہیے تھا کہ وہ مولانا کے ساتھ تعاون کے لیے یہ شرط رکھتی کہ احتجاجی تحریک کو سیاسی بنیادوں پر اٹھایا جائے۔ پھر یہ رویہ خود مذہب اور سیاست کی یک جائی کی نفی ہے۔ سیاست میں مذہب کا پہلا درس ہی یہ ہے کہ سچ بولا جائے اور اللہ کی آیات کو حقیر دنیاوی مفادات کے لیے نہ بیچا جائے۔

مولانا محترم کا یہ رویہ جمعیت علمائے ہند کی اُس روایت کے بھی خلاف ہے، مولانا جس کی جانشینی کا دعویٰ رکھتے ہیں۔ جمعیت کی سیاست مذہب کے سیاسی استعمال کے خلاف تھی۔ آل انڈیا مسلم لیگ پر ان کی ایک تنقید یہ بھی تھی کہ وہ مذہب کو سیاسی ایجنڈے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
میں ایک کم علم اور گناہ گار مسلمان ہوں۔ میرا دل اس خیال ہی سے لرز اٹھتا ہے کہ میں کسی حقیر دنیاوی مقصد کے لیے مذہب کو استعمال کروں۔ مولانا تو ماشا اللہ علم اور خدا خوفی میں مجھے سے کہیں آگے ہیں۔ میں ان سے توقع رکھتا ہوں کہ وہ شریعت بل کی طرح ہر اس اقدام کے خلاف آواز اٹھائیں گے جس سے مذہب کا سیاسی و جذباتی استحصال ہوتا ہو۔ مذہبی آدمی اس سے غافل نہیں رہ سکتا کہ ہمیں ایک دن اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونا اور اپنے اعمال کے لیے جواب دہ ہونا ہے۔