شوبز کی دنیا ناکام ترین کیوں؟ کرنے کا کام کیا ہے؟ حافظ محمد زبیر

پچھلے کچھ دنوں سے شوبز کی دنیا کی خبریں دیکھ رہا تھا۔ کچھ ٹاک شوز دیکھے کہ جن میں بالی وڈ کے ہیروز کے انٹرویوز سنے، مثلا انڈین ٹیلی ویژن چینل کا ٹاک شو "آپ کی عدالت" کسی حد تک ایک سنجیدہ ٹاک شو معلوم ہوا۔ اس آوارہ گردی کا مقصد یہ تھا کہ یہ معلوم ہو سکے کہ ان سیلیبریٹیز کی پرسنل لائف، آف دی اسکرین کیسی ہوتی ہے؟ ان کا بچپن کیسا تھا؟ کیسے فلم انڈسٹری میں آئے؟ ان کی سوچیں کیسی ہیں؟ پرسنیلیٹی میں کیسے کیسے اور کب کب ارتقاء ہوا؟ اور اب سوسائٹی پر ان کے کام اور شخصیت کا اثر کیسا اور کتنا ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔

گووندا ایک انٹرویو میں کہہ رہے تھے کہ پہلی مرتبہ جب انہوں نے فلم میں کسی عورت کو ہاتھ لگایا تو ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ پھر ان کی ٹریننگ ہوئی تو دو چار ماہ میں ہی یہ صورت حال تھی کہ جس لڑکی کو وہ ہاتھ لگاتے تھے، وہ کانپتی تھی۔ اور لوگ اس پر قہقہے لگا رہے ہیں۔ ایک طرف یہ شخصیت کا ارتقا ہے۔ دوسری طرف عامر خان بتلا رہے تھے کہ انہوں نے جوانی میں اپنی محبوبہ کو اپنے خون سے خط لکھا تھا لیکن وہ ساتھ ہی کہہ رہے تھے کہ انہوں نے غلط کیا تھا۔ وہ یہ بھی کہہ رہے تھے کہ مجھے بھی لڑکیوں کے خون سے لکھے خط موصول ہوتے ہیں، لیکن یہ سب غلط ہے۔ تو یہ شخصیت کا ایک ارتقاء ہے۔ تو دونوں تصویروں میں کچھ تو فرق ہے۔ کم از کم یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ عامر خان، تمام خانوں میں نسبتا بہتر ہے کہ کم از کم سماج کی اصلاح کا کوئی مقصد تو رکھتا ہے اور اس کے لیے ایک شو بھی کر رہا تھا۔

اسی طرح انڈیا کی فلم انڈسٹری کے ساتھ پاکستان کی ڈرامہ انڈسٹری کے شوبز کی دنیا کی ایک جھلک بھی دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ پہلا تاثر تو یہی ہے کہ اس دنیا کے باسیوں کے پاس سب کچھ ہے لیکن ایک چیز نہیں ہے، اندر کا سکون۔ دولت، شہرت، آسائش، چمک دمک، رونق دونق سب موجود ہے اور سب حقیقی ہے سوائے ایک چیز کے کہ وہ مصنوعی ہے اور وہ ان کی مسکراہٹ ہے۔ اداکارائیں زیادہ ڈیپریس نظر آتی ہیں۔ دوسرا تاثر یہ ہے کہ یہ دنیا کے ناکام ترین لوگ ہیں، اس لیے کہ ایک رشتہ تک نہیں نبھا سکتے۔ اکثر وبیشتر کی طلاقیں اور علیحدگیاں ہو چکی ہیں، اور بعض کی کئی بار ہوئیں، اور بعضوں میں یہ سب کچھ دیکھ کر رشتہ جوڑنے کی ہمت نہیں ہے، لہذا کنوارگی میں ہی اوور ایج ہو چکیں۔ وینا ملک، مطیرہ، ماہرہ خان، امبر خان، نادیہ خان اور صنم بلوچ کی طلاق ہو چکی۔ یہ صنم بلوچ کے سابقہ شوہر عبداللہ فرحت اللہ تو مجھ سے پڑھتے بھی رہے، اس وقت بھی ان کو شوبز میں آنے کا شوق تھا اور کافی ذہین تھے۔

عمر شریف کی دو شادیاں ناکام ہوئیں، شمعون عباسی کی تین اور نور بخاری کی چار، اور ان کی ابھی شاید پانچویں شادی ہو بھی گئی ہے۔ عینی خالد کی شادی چھ ماہ چلی، ستائش خان کی ایک ماہ اور عریج فاطمہ کی دو ہفتے میں طلاق ہوگئی۔ میشا شفیع نے علی ظفر پر الزام لگایا کہ اس نے مجھے جنسی طور ہراساں کیا ہے۔ سارا خان اور آغا علی کا رشتہ جڑنے سے پہلے ہی ٹوٹ چکا، نکاح ہوا نہیں اور علیحدگی پہلے ہوگئی۔ محسن عباس حیدر کی بیوی نے الزام لگایا کہ ان کا شوہر انہیں مارتا ہے اور کسی ماڈل میں انٹرسٹڈ ہے وغیرہ وغیرہ۔ اپنی پرسنل لائف میں یہ دنیا کے ناکام ترین لوگ ہیں، لیکن پھر بھی لوگ ان جیسی لائف کی حسرت رکھتے ہیں۔ پھر اکثر و بیشتر ان میں سے ڈرنک کرتے ہیں بلکہ اداکارائیں تک سگریٹ نوشی کرتی ہیں، اور ان کے فالوورز ان پر حسرتیں کرتے ہیں کہ ہم انہیں کیا سمجھتے تھے اور یہ کیا نکلے۔

پھر ڈارموں میں جو یہ بڑے بڑے ڈائیلاگ بولتے یا بولتی ہیں، اور وہ دانش کی ایسی باتیں ہوتی ہیں کہ شاید ہزاروں سادہ لوح ان ڈائیلاگز سے اپنی زندگی کا رخ صحیح کر لیتے ہوں گے لیکن ان کی اپنی زندگی کیا ہے؟ کیچڑ کی دلدل اور گندگی کا ڈھیر۔ بس ان کی لائف میں گلیمر ہے، اس گلیمر کا کیا فائدہ جو اندر کا سکون نہ دے۔ ان میں سے ایک بڑی تعداد مڈل کلاس سے تعلق رکھتی ہے کہ جن کی فیملیز نے ان کے اس دنیا میں آنے کو پسند نہ کیا لیکن وہ لڑ جھگڑ کر آ گئے، پھر کیا مل گیا؟ اسکرین پر ہنستے مسکراتے چہرے تنہائی میں ہچکیوں سے روتے ہیں۔ باغی کی کہانی تو انہوں نے خود بنائی ہے بلکہ قندیل بلوچ کی کہانی تو یہاں فیس بک پر موجود ہے، کوئی زیادہ پرانی تو نہیں۔ لاکھوں کے فالوورز رکھنے والے تنہائی کے عذاب میں مبتلا ہیں اور انھیں اعتماد کے لائق ایک دوست یا جیون ساتھی نہیں مل پاتا۔ سکون اللہ عزوجل نے اپنی یاد میں رکھ دیا ہے۔

اب یہ علیحدہ بات ہے کہ بعض اوقات پانچ وقت کی مسجد میں نماز پڑھنے والے کو بھی اللہ کو یاد کرنے کی توفیق حاصل نہیں ہوتی ہے۔ لیکن یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ سب بےسکونی میں ہیں۔ جس کا واقعتا اللہ سے تعلق ہے، وہ سکون میں ہے۔ یہ بات درست ہے کہ اس دنیا سے شر ختم نہیں ہو سکتا کہ اس کے خالق کا پلان یہی ہے کہ دنیا میں خیر کے ساتھ شر باقی رہے تا کہ لوگوں کی آزمائش ہوتی رہی۔ لہذا یہ کہ فلم اور ڈرامہ انڈسٹری ختم ہو جائے اور سب حاجی پرہیزگار نمازی بن جائیں تو یہ ممکن نہیں ہے۔ شوبز کی دنیا رہے گی، اگرچہ کچھ لوگ اسے چھوڑ دیں گے اور بعضوں نے چھوڑا بھی ہے اور بہت اچھا کیا اور یہی کرنے کا کام ہے لیکن ان کی جگہ کچھ اوروں نے لے لی تو یہ دنیا ویسی ہی آباد ہے اور رہے گی۔

تو ایک کرنے کا کام یہ بھی ہے کہ جو لوگ وہاں موجود ہیں، انھیں کچھ ایسی ڈائریکشن دے دی جائے کہ اگر وہاں سے نکلنا تمھارے لیے ممکن نہیں ہے یا حالات کی مجبوری تمھیں یہاں لے آئی، یا آگے بڑھنے کی بہت زیادہ انرجی ہے جو سنبھالے نہیں سنبھل رہی، یا اندر شر کا مادہ زیادہ ہے، بس نیکی ایک حد تک ہی ہو سکتی ہے تو کم از کم اپنی اس لائف کے لیے کچھ اقدار تو طے کر لو مثلا یہ کہ ڈرنک نہیں کرنا اور نامحرم کو ٹچ نہیں کرنا، نہ اسکرین پر اور نہ ہی آف دی اسکرین، یہی دو کام کر لو۔ تو جہاں ہو، وہاں خدا کے لیے کچھ کر کے دکھا دو، اور پھر اللہ سے امید لگا لو، امید ہے کہ تمہاری زندگی میں سکون بھی آ جائے گا۔ اس طوائف نے بھی تو کچھ کیا تھا ناں کہ جسے اللہ نے معاف کر دیا یعنی اس نے بھی کتے کو پانی پلایا تھا تو معافی ملی۔

تو کچھ نیکی تو کرو، اگرچہ سب نہ ہوتی ہو، اور کچھ گناہ تو چھوڑو اگرچہ سب نہ چھوٹتا ہو۔ یہ بھی کرنے کا ایک کام ہے اور یقینا ایک بڑا کام ہے۔ گووندا نہ بنو، عامر خان ہی بن جاؤ، یہ بھی تو کرنے کا ایک کام ہے۔ ہمارے بچپن کے اداکاروں میں ایک قادر خان ہوتے تھے، فلموں میں توحید پر ان کے کافی ڈائیلاگز تھے۔ اب ایک شاہ رخ خان ہیں کہ گھر میں مسجد بھی بنا رکھی ہے اور مندر بھی۔ قرآن بھی پڑھا جاتا ہے اور گیتا بھی۔ تو قادر خان بنو، شاہ رخ خان نہیں۔ یہ تو کم از کم کر سکتے ہو ناں۔ اور دوسرا کام جو والدین کے کرنے کا ہے کہ اپنی انرجیٹک لڑکیوں کو کسی کام پر لگاؤ، ورنہ تو ان کی انرجی انہیں اس دنیا میں لے جائے گی کہ جہاں ان کا جانا تمھیں خود پسند نہیں ہے۔ لیکن اگر والدین ہی بے شعورے ہوں جیسا کہ قندیل بلوچ کے والدین تھے، اور لڑکی میں انرجی زیادہ تھی تو اب یہ قسمت ہے، کیا کیا جا سکتا ہے۔ اور تیسرا کام جو عوام کے کرنے کا ہے کہ اس دنیا کے باسیوں کی زندگی پر ترس کھاؤ، نہ کہ رشک کرو۔ اور کبھی کبھی ان کے لیے دعا بھی کر دیا کرو۔