با اخلاق یا رذیل

فیاض۔۔ ماں باپ نے تو بڑے لاڈوں سے اس کا نام فیاض رکھا تھا۔ اس کا باپ مزدور تھا اور غریب مزدور کے لڑکے کو کوئی اس کے اصل نام سے نہیں پکارتا۔۔ سو یہ فیاض بھی گردش زمانہ سے پھجہ بن گیا تھا۔ ماں باپ کی غربت نے اسے پڑھنے نہ دیا شاید پڑھ لکھ جاتا تو زندگی سنور جاتی۔ مگر مزدور کا لڑکا مزدور ہی بنتا ہے ، سو فیاض بھی پھجہ مزدور بن چکا تھا۔
اور پچھلے کتنے ہی دنوں سے وہ بیمار تھا مگر اس کے باوجود مزدوری پہ آگیا تھا ۔ کیونکہ اس کے لاڈلے کی سکول کی فیس دینے والی رہتی تھی۔ اور سکول والوں نے کہا تھا کہ اگراس ماہ فیس نہ ادا کی گئی تو اس کا نام سکول سے نکال دیا جائے گا۔ اور یہی وجہ تھی کہ وہ اپنی بیماری کے باوجود کام پر آگیا تھا۔ سخت گرمی اور چلچلاتی دھوپ میں نیچے کھڑا وہ اوپر کھڑے مزدور کو اینٹیں کیچ کروا رہا تھا جسے وہ بڑی ہی چابک دستی سے کیچ کر رہا تھا۔گوکہ یہ اس کا روز کا کام تھا مگر آج نقاہت اس قدر تھی کہ یہ کام انتہائی مشکل لگ رہا تھا۔ بار بار وہ ہانپ جاتا تھا اور سانس لینے کو کھڑا ہو جاتا ۔ ایسے ہی وہ ذرا دم لینے کو رکا تو ٹھیکیدار سر پہ چھتری تانے اس طرف آ نکلا۔
ٹھیکیدار بھی کبھی اس کی طرح مزدور ہی ہوا کرتا تھا اور کئی جگہوں اور مواقع پہ اس کے ساتھ مزدوری کر چکا تھا مگر آج اس کے پاس پیسہ آگیا تھا، وہ گاڑیوں میں گھومتا تھا، اچھا کھاتا اور اچھا پہنتا تھا۔۔ سب حیران تھے کہ اس کی کایا کیسے پلٹ گئی۔ ہاں یہ بھی حیرانی تھی کہ اس قدر مالدار ہوجانے کے باوجود وہ سب سے بہت اچھے اخلاق سے بولتا تھا اور سب کی دل سے عزت اور قدر کرتا تھا اور سب کو ان کے اصل نام سے ہی پکارتا تھا۔ اس لیے جب اس نے فیاض کی حالت دیکھی تو چھتری تانے اس طرف نکل آیا ۔
ٹھیکیدار : کیا بات ہے فیاض صاحب ، لگتا آج طبیعت ٹھیک نہیں۔
فیاض: ہاں بس کچھ دنوں سے بخار کی شکایت ہے مگر بیٹے کی سکول فیس دینے والی ہے اس لیے کام پہ آجاتا ہوں۔
ٹھیکیدار: یار کئی بار کہا ہے کہ بچے کو میرے حوالے کردو میں اسے اپنے بچوں کے ساتھ انگلش میڈیم سکول میں داخل کرا دوں گا، پڑھ لکھ جائے گا تو اسکی زندگی بن جائے گی اور بڑھاپے میں تمہارا وقت بھی اچھا کٹے گا۔
فیاض: ہاں بات تو آپ کی ٹھیک ہے پر یار اکلوتا پتر ہے دور کرنے کو دل نہیں کرتا۔
ٹھیکیدار: اوہو فیاض صاحب کیا ہوگیا۔۔ اس کے اچھے مستقبل کیلیے یہ قربانی تو دینا پڑے گی نا۔ پھر وہ آپ کا ہی بیٹا رہے گا میں کونسا اسے آپ سے چھین لوں گا۔
فیاض: مگر یار۔۔۔
ٹھیکیدار: اگر مگر کچھ نہیں، میں آج شام کو گھر آؤں گا ، آج کی مزدوری منشی سے لیتے جاؤ اور ہاں گھر جا کر دوائی کھا کر آرام کرو۔ شام کو میں آپ کے گھر ملنے آؤں گا۔
فیاض: بہت شکریہ یار تمہارا۔
ٹھیکیدار: اوہ یار شکریے کی ضرورت نہیں، بس میں شام کو بیٹے کے اچھے سکول میں ایڈمیشن کے فارم لیتا آؤں گا۔
٭٭٭٭٭
شام کو ٹھیکیدار اپنی لش پش کرتی گاڑی میں پھجے کے گھر اترا تو ہاتھوں میں مٹھائی اور پھلوں کے شاپر بھی تھے۔ اور وہ ساتھ پھجے کے بیٹے کیلیے ایڈمیشن فارم بھی لایا ساتھ اور بھی کئی قسم کے فارم تھے۔
وہ فارم دیکھ کر بیٹے کا ماٹھا ٹھنکا۔۔ ٹھیکیدار نے بہتیرا زور لگایا کہ اس کے سامنے ہی فارم پر کرکے اسے دے دیے جائیں مگر پھجے کے بیٹے نے کہا انکل ہم کل آپ کو یہ فارم دے دیں گے۔ خیر جب پر زور اصرار کے باوجود فارم پر نہ کر وا سکا تو اس نے پھجے سے کہا کہ فیاض صاحب کل یہ اپنے ساتھ کام پہ ہی لے آئیے گا۔ اور چلا گیا۔
اس کے جانے کے بعد بیٹے نے کہا بابا ہم نے یہ فارم نہیں پر کرنے یہ قادیانیوں کے فارم ہیں۔ اور وہ لوگ کافر ہیں۔ پھجہ حیرانی سے بولا نہیں پتر ایسے نئیں کسی کو کافر کہہ دیتے۔ یہ تمہارے ٹھیکیدار انکل تو بہت اچھے ہیں۔ سب کی دل سے عزت کرتے ہیں اور اخلاق بہت اچھا ہے ان کا۔۔ یہ تو ہماری ہیلپ کرنا چاہتے ہیں۔ مگر بابا یہ لوگ قادیانی ہیں جو ہمارے پاک پیغمبر نبی اطہر ﷺ کو آخری نبی نہیں مانتے بلکہ یہ تو مرزا غلام احمد قادیانی کو اپنا نبی مانتے ہیں۔
جبکہ اللہ پاک نے قرآن پاک میں بڑی وضاحت سے فرمایا ہے کہ ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن الرسول اللہ وخاتم النبیین ۃ یعنی یہ محمد ﷺ تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں بلکہ اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں۔ اور بابا ہمارے اسلامیات والے سر نے بھی ہمیں یہ بتایا ہے کہ یہ لوگ اخلاق کے بہت اچھے ہوتے ہیں، مال ودولت سے لوگوں کے ایمان کا سودا کرتے ہیں اور مسلمانوں کو پھانسنے کیلیے اپنی بیٹوں تک کو اس رذیل اور برے کام میں داؤ پہ لگا دیتے ہیں۔ اس لیے بابا ہم یہ فارم نہیں پر کریں گے بلکہ اپنے رب کی رضا میں راضی رہیں گے۔
یہ ساری باتیں سن کر پھجے کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
آنسو۔۔۔
خوشی کے آنسو ۔۔ اس نے اپنے بیٹے کو اپنے سینے سے لگا لیا اور بھل بھل رونے لگا۔ وہ روتا جاتا تھا اور کہتا جاتا تھا پتر میں ایک انپڑھ انسان ہوں ان چالوں کو نہیں سمجھتا ، پر پتر تونے اپنے بابا کو رذالت اور پستی میں گرنے سے بچا لیا، تونے آج میری آنکھیں کھول دیں۔ میں آج کے بعد ان چالوں میں نہیں آؤں گا۔۔ کبھی ایسے لوگوں سے میل ملاپ بھی نہیں رکھوں گا۔ کیونکہ۔۔۔
کیونکہ میں جان گیا ہوں کہ ان کا اخلاق ایک میٹھی چھری ہے جس سے یہ ایمان والوں کے دلوں سے انا اور خودداری کو ذبح کرکے انہیں ایمان سے محروم کر دیتے ہیں۔
رائٹر سے رابطہ کرنے کے لیے کلک کریں۔

Comments

محمد مبین امجد

محمد مبین امجد

محمد مبین امجد انگریزی ادب کے طالب علم ہیں۔ مختلف اخبارات میں ہفتہ وار کالم اور فیچر لکھتے ہیں۔اسلامی و معاشرتی موضوعات میں خاص دلچسپی ہے۔ کہانی و افسانہ نگاری کا شوق رکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.