خواجہ صاحب کی جے - سعدیہ مسعود

(اپنے لیجنڈری استاد خواجہ صاحب کے حوالے سے کچھ یادیں اپنے پچھلے مضمون ’’سٹوڈنٹ شاپر ہوتا ہے ‘‘ میں شیئر کی تھیں۔ وہ مضمون دلیل پر شائع ہوا اورمیری توقعات کے برعکس ایک ہزار کے قریب شیئر ہوا۔ اس وقت کئی اہم باتیں رہ گئی تھیں، طوالت کے پیش نظر انہیں چھوڑ دیا تھا۔ اس مضمون میں انہیں سمو دیا ہے۔ یہ اس کا دوسرا حصہ، مگر اپنے طور پر ایک مکمل مضمون ہے۔ کسی کو خواجہ صاحب کی شخصیت اور ان کے بتائے ٹپس میں دلچسپی محسوس ہو تو وہ ہمارا پہلا مضمون پڑھ سکتا ہے، ایسا نہ کرنے والے اسی پر اکتفا کر سکتے ہیں۔ ہمارا مضمون پولیٹکل سائنس ہے، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے اس میں ماسٹر اور پھر ایم فل کیا۔ یہ ایم اے کے زمانے کی باتیں ہیں جب خواجہ علقمہ جیسے لیجنڈری استاد پولیٹیکل ڈیپارٹمنٹ میں پڑھاتے تھے۔ وہ بعد میں زکریا یونیورسٹی ملتان چلے گئے تھے۔)

خواجہ صاحب کا کہنا تھا کہ سوشل سائنسز بھی سائنس سے کسی طرح کم نہیں۔ وہ اسے سکھانے کے لیے بھی سرائیکی، پنجابی محاورے والی ’’سائنس‘‘ لڑاتے تھے۔ یہ سائنس سیکھنے کا احوال بھی کم دلچسپ نہیں۔ ایک دن کلاس میں آتے ہی خواجہ صاحب نے اعلان کیا کہ ان کو کچھ کام سونپنا ہے جس کے لیے کلاس کو دو یا تین گروپ میں تقسیم کرنا پڑے گا۔ ایک گروپ کا فوکس انٹرنیشنل ہوگا اور دوسرے کا نیشنل۔ کون کون کس گروپ کو جوائن کرنا چاہتا ہے؟ کلاس کے سبھی لائق فائق لوگوں نے انٹرنیشنل فوکسڈ ایکٹویٹی میں دلچسپی لی، اور میرے جیسے نکموں کے لیے نیشنل فوکسڈ ٹاسک ہی بچا۔ پوری کلاس ایک طرف اور اوردوسری طرف میں، میری جگری دوست آصفہ کے علاوہ ایک لڑکی اور تھی جو کسی سوچ میں گم ہونے کی وجہ سے ٹھیک سے سمجھ نہیں پائی کہ کلاس میں بات کیا ہوئی اور یوں کم درجے کے گروپ میں رہ گئی۔

سر سب سے پہلے ہماری طرف آئے اور بولے، اسائنمنٹ بہت سادہ ہے، اس کی ٹائم لمٹ بھی کافی ہے، اگلے تین مہینے تک آپ نے نواز شریف پر نظر رکھنی ہے۔ پھر تیزی سے دوسرے گروپ کی طرف مڑے اور ان کو بتانے لگے کہ کون کون اگلے تین ماہ تک امریکہ پر نظر رکھے گا، کون اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ پر نظر رکھے گا، کس نے انڈیا کو مانیٹر کرنا ہے، ایران افغانستان کس کی ذمہ داری ہیں۔ پوری کلاس حیرت سے گنگ بیٹھی تھی۔ سب آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے کہ تین مہینے تک یہاں بیٹھے بیٹھے نظر رکھنا کیسے ممکن ہے؟ ہماری ایسی ہونق شکلوں سے خواجہ صاحب یقینا محظوظ ہوا کرتے ہوں گے۔ سر ایک کے بعد ایک ایسی ہی بات کرتے چلے جاتے کہ ہم ہانپ جائیں یا بے ہوش ہی ہو جائیں۔ سب ہکے بکے بیٹھے تھے کہ کسی کی مری مری آواز سنائی دی، سر نظر رکھنا کیسے ممکن ہوگا۔ خواجہ صاحب تیزی سے اس سٹوڈنٹ کے پاس پہنچے اور بولے ''مجھے پہلے ہی شک تھا کہ کلاس میں اس بار کوئی بہت ہی ذہین سٹوڈنٹ آیا ہے، میں اب سمجھ گیا کہ وہ تم ہی ہو۔'' اس غریب کا تو معلوم نہیں کیا بنا؟ ہم سب شرمندگی اور صدمے سے اجتماعی طور پر فوت ہی ہوگئے۔ پھر سر کے دل میں نجانے کہاں سے رحم کی گرتی پڑتی کرن پہنچی، بولے،’’ نظر ایسے رکھنا ہے کہ اخبار اور ٹی وی پر ان کے ہر بیان اور ہر ایکٹویٹی کا ریکارڈ رکھنا ہے۔ ایک ڈائری میں سب نوٹ کرتے جاؤ بس۔ اس سے ہمیں ان کے ٹرینڈز کا اندازہ ہوجائے گا اور وہ کسی ایشو پر کیا ایکشن لے سکتے ہیں، ممکنہ طور پر ہم اس کی پیشین گوئی کے قابل ہو سکیں گے۔ زیادہ بہتر پیشین گوئی کے لیے زیادہ عرصہ نظر رکھی جائے گی۔ یوں خواجہ صاحب سے ایک اور اہم سبق سیکھنے کو ملا۔ سیاست سمجھنے میں یہ بات کام تو آئی لیکن ذاتی زندگی میں زیادہ کام آئی۔ (امید ہے شادی شدہ خواتین نے اس نکتے کو زیادہ غور سے پڑھا ہوگا۔)

یونیورسٹی میں ہونے والے ہر سیمینار میں شریک ہونا ہمارے لیے لازمی تھا۔ سیمینار میں اپنی موجودگی کا اظہار کرنا اس سے بھی زیادہ ضروری۔ ماس کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ایک سیمینار میں ہم نے مارے باندھے پہنچنا تھا۔ خواجہ صاحب نے ڈی ایس ایس (ڈیفنس اینڈ سٹریٹیجک سٹڈیز) گروپ کی پانچوں لڑکیوں سے پوچھا، آپ کیا سوال کریں گی؟ مجھے لکھ کر ابھی دکھائیں۔ پھر ہمارے لکھے ہوئے سوالوں کی انگریزی ٹھیک کروائی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ سوال جواب کے وقفے میں جب ہم لوگ پرجوش ہو کر ہاتھ کھڑے کرتے اور اپنے لکھے ہوے سوال پڑھتے تو خواجہ صاحب مڑ کر یوں دیکھتے جیسے ان کو ابھی معلوم ہوا کہ ہم آئے ہوئے ہیں، اور ساتھ ہی سوال پر ایسے سر ہلاتے جیسے بہت اہم سوال کر ڈالا ہم نے۔ یوں خواجہ صاحب کے ساتھ تیاری کر کے سیمینار میں جانے سے ہم جانے پہچانے سٹوڈنٹ بنتے گئے۔ اعتماد بڑھا، جھجھک ختم ہوئی۔

دوسرے ڈیپارٹمنٹ میں جا کر ان کی کلاسز اٹینڈ کرنا بھی معمول ہی تھا۔ حکم جاری ہوتا،’’شفیق صاحب آج اقبال پڑھا رہے ہیں، جا کے بولنا خواجہ صاحب کے سٹوڈنٹ ہیں، کلاس میں بیٹھنے کی اجازت دیں۔ ذرا مجھے بتانا یہ اردو والے اقبال کی فلاسفی کیسے پڑھتے ہیں۔‘‘ اسی طرح، ’’آج نجیب جمال صاحب علی گڑھ موومنٹ پر بات کریں گے، دیکھو تو یہ بخاری صاحب نے جو پاکستان موومنٹ میں پڑھایا ہے، کیا ویسے ہی پڑھاتے ہیں؟‘‘، ’’لاء ڈیپارٹمنٹ والے اپنی لائبریری میں آئین پاکستان پر اچھی کتابیں رکھتے ہوں گے۔ جاؤ، میرا کہنا اور اسائنمنٹ کے لیے اچھی سی بکس نکلوا لاؤ۔‘‘، ’’پاکستان کا جغرافیہ بڑا اہم ہے۔ دیکھو، یہ جغرافیہ ڈیپارٹمنٹ والے کیسے یہ سب پڑھتے ہیں؟ کیا انھیں سچ میں آپ لوگوں سے زیادہ پتہ ہے؟‘‘، ’’یہ انگریزی والے آج کوئی کوئز پروگرام کر رہے ہیں ۔صرف ان کی ہی انگریزی اچھی ہے یا تم لوگوں کو بھی کچھ سمجھ میں آتا ہے۔ جاؤ میں نے بات کر لی ہے۔‘‘، ’’لائبریری میں کیٹلاگنگ کیسے ہوتی ہے، ساری دنیا میں مختلف موضوعات کو نمبرز کیسے دیے جاتے ہیں، یہ ہم لائبریری سائنس والوں سے سیکھنے چلتے ہیں۔‘‘

ہر ڈیپارٹمنٹ میں چیئرمین اور اساتذہ ہماری خوب آؤ بھگت کرتے، ہم بھی اکڑ اکڑ کے بیٹھتے کہ ہم تو ہیں ہی بڑے پڑھاکو اورسیریس بندے کہ اتنے شوق سے آئے ہیں آپ کے شعبہ کو رونق بخشنے۔ استاد جہاں پہچانتے تھے، وہاں سٹوڈنٹس خاص طور پر ہوسٹل کی لڑکیوں پر بڑا رعب پڑتا تھا کہ ہم ان کے استادوں کے ساتھ دوستوں کی طرح اٹھتے بیٹھتے تھے۔ ہم نے اس دور میں نئے زاویوں سے چیزوں کو جاننا اور دیکھنا سیکھا۔

یہ ایم اے کے پہلے سال کے شروع کی ہی بات تھی، جب ایک دن خواجہ صاحب نے کہا، جب تک میں یہ سگریٹ ختم کروں اپنے اپنے ڈریس سے میچ کر کے ایک ایک کتاب لائبریری سے ایشو کروا کے لے آؤ۔ ہم نے عذر پیش کیا کہ سر لائبریری تیسری منزل پر ہے، اپنے سیکشن سے وہاں جائیں، واپس آ کر لائن میں کھڑے ہو کر کتاب ایشو کروائیں، یہ اتنی دیر میں کیسے ممکن ہے؟ بولے، جاؤ، جاؤ، دس منٹ میں واپس آنا ہے۔ آفس سے باہر نکل کے ہم ایک دوسرے کا منہ دیکھ رہے تھے۔ یہ کیسے ممکن ہے اور پھر اچانک ہی سب نے دوڑ لگا دی۔ ہمارے ساتھ ایک ہماری کلاس فیلو عبایا اور نقاب کے ساتھ دوڑتی چلی گئی۔ لائبریری میں گھستے ہی دھڑ دھڑ اوپر بھاگے، میچنگ کتابیں نکالیں، واپس بھاگے، ایشو کروانے کے لیے لائن میں کھڑے تھے کہ ایک مہربان بندے نے پوچھا خواجہ صاحب کے سٹوڈنٹ ہو؟ یک زبان ہو کر پانچوں بولے جی۔۔۔ اس بندے نے رجسٹر نکالا اور سائیڈ پر نئی لائن بنانے کو کہا۔ کتابیں ایشو کروا کراسی رفتار سے بھاگ کر واپس خواجہ صاحب کے آفس پہنچے۔ انہوں نے بڑے ٹھنڈے لہجے میں بس اتنا کہا، اوکے، اور پڑھانا شروع کر دیا۔ لیکچر کے آخر میں کسی نے ڈرتے ڈرتے پوچھ لیا، سر کتابوں کا کیا کرنا ہے؟ بولے بس ساتھ لے جاؤ آج، اور کیا؟ چودہ دن کے لیے ایشو ہوئی ہیں ناں؟ ہم مایوس تھے کہ کچھ کرنا ہی نہیں تھا تو منگوائی ہی کیوں؟ خیر کسی نے بول ہی دیا، سر! اتنی مشکل سے ایشو ہوئیں تو بولے بھئی اتنے تعلقات تو بناؤ کام کی جگہوں پر کہ آپ کے کام آسانی سے ہو جائیں۔ لڑکیاں ہوں تو بس اچھے سے سلام کرنا کافی ہے۔ لائبریری میں، یونیورسٹی بس میں، کینٹین پر، بنک، ہوسٹل میں، ہر جگہ بس اچھے سے، تمیز سے سلام کرو، سب کام ہوجایا کریں گے۔ لیکن دانت نکالنے کی ضرورت نہیں۔ اتنے سلام کیے، اتنے سلام کیے، آج تک کرتے ہیں۔ الحمدللہ سبھی نے عزت دی اور کام بھی ہوئے۔

کتابیں ہاتھ میں لے کے اپنے ہی شعبے میں گھومتے رہنا۔ ویسے ہی کلاس فیلوز پر رعب پڑ جاتا ہے۔ بندہ اکڑ جاتا ہے، جب کوئی پوچھ لے یہ کون سی کتاب ہے؟ اب اتنا تو پتہ ہونا چاہیے کہ موضوع کیا ہے اور لکھی کس نے ہے؟ کہاں سے شائع ہوئی، کب شائع ہوئی؟ یہ وہ معمولی باتیں ہیں جو خواجہ صاحب کے خاص شاگرد بننے کی کوشش میں ہمیں پتہ ہونا ضروری تھیں۔ کتابیں کئی روز سے کمروں میں سجی ہوئی تھی۔ کسی نے یاد دلایا کہ واپس کر دیتے ہیں اب، کہیں جرمانہ ہی نہ لگ جائے۔ ایک سیانی بی بی نے مشورہ دیا، واپس کرنے سے پہلے سر کو بتا دینا چاہیے۔ سر سے پوچھا، آج ہم بکس واپس کر دیں؟ کہنے لگے دکھاؤ ذرا۔ پہلا صفحہ کھولا، کتاب کا نام کیا ہے، کب کہاں پبلش ہوئی؟ یہ ضرور دیکھا کرو۔ پیش لفظ دیکھ لینے سے پتہ چل جائے گا کتاب میں ہے کیا۔ یہ جو کتاب کا لائبریری کا نمبر ہے، اس کو کہیں نوٹ کر لو اور اس کے ٹاپکس بھی ساتھ ہی لکھ لو، واپس کرنے سے پہلے ایسا کر لو۔ سب لکھ لیے جانے کے بعد بولے، اچھا سب اپنی اپنی کتاب سے جو نوٹ کیا ہے، وہ بولو۔ باری باری ہم بول رہے تھے اور وہ لقمہ دیتے، ارے یہ تو انٹرنیشنل ریلیشنز میں کام آ سکتا ہے۔ یہ فارن پالیسی آف میجر پاورز کا بنا بنایا موضوع مل گیا۔ نوٹ کر لو اس کے ساتھ ہی۔ اب پانچ کتابیں ایسی تھیں جن کے موضوعات اور وہ ہمارے کس کس اختیاری مضمون کی تیاری میں ہماری مدد کر سکتی ہیں، اس کی وضاحت ہمارے پاس تھی۔ بس ایک دوسرے کو اس کی فوٹو کاپی دینی تھی۔ اس کے بعد کئی میچنگ بکس نکالتے رہے دو سالوں میں۔

سر ہمیں مزید بڑھاوا ایسے دیتے کہ ہاں بھئی کون سی کتاب آج کل پڑھ رہی ہیں؟ فلاں استاد بتا رہے تھے کہ خواجہ تمھارے سٹوڈنٹ تو آج کل بڑا پڑھ رہے ہیں۔ کپڑوں سے میچ کرتی کتابوں کے ساتھ خاص طور پر بغداد کیپمس سے اولڈ اور وہاں سے خواجہ فرید کیمپس کے چکر لگانا بھی یونیورسٹی کی زندگی کا حصہ بنا۔ ایسا بہت بار کیا۔ لائبریری میں کتابوں کے جھرمٹ میں تصاویر بنا بنا کر اپنے ابا کو بھیجنا بھی اہم امور میں شامل رہا۔

خواجہ صاحب کا کہنا تھا کہ پاکستانی قوم کرائسز میں کام کرنے والی قوم ہے۔ اور میں اس قوم سے کام لینا اچھی طرح جانتا ہوں۔ آپ سب کو اپنے تعلیمی سفر میں ٹیسٹ یاد ہوں گے۔ لائق سے لائق بندے کو بھی ٹیسٹ موت سے بدتر نظر آتا ہے۔ پر اس کا توڑ ہمارے استاد محترم نے یہ نکالا تھا کہ ٹیسٹ ہمیشہ ہی بنا کسی پیشگی نوٹس کے لیا، کیونکہ جانتے تھے کہ دوسری صورت میں ٹیسٹ کی نوبت کم سے کم اس سال تو نہیں آنے والی۔ ٹیسٹ میں سادہ سا ایک سوال ہوتا کہ جو گذشتہ موضوع آپ نے پڑھا ہے، بس اس کے بارے میں جو کچھ یاد ہے تو لکھ ڈالیں۔ عموما زیادہ سے زیادہ وقت دس منٹ ملتے۔ ایک بار پوچھنے پر بتایا تھا کہ دس منٹ اس لیے کہ پتہ ہے، اس سے زیادہ وقت بھی مل جائے تب بھی کون سا تیر مار لینا ہے کسی نے۔ ٹیسٹ کا ذکر اس لیے ضروری ہے کہ ٹیسٹ میں ہمیں مارکس نہیں ریمارکس ملتے تھے۔ ایک پورا ہفتہ جس موضوع کو پڑھنے کے بعد آپ نے مر مر کے دس جملے بھی لکھ دیے تو خواجہ صاحب کے ریمارکس ہوتے Well done Sadia! Keep it up. Your Writing is clear, Great ساتھ میں ایک سمائلی فیس۔

ہم ان ریمارکس کو خواجہ صاحب کا خط کہتے اور سب کو دکھانے میں ذرا نہیں شرماتے تھے، بلکہ اگلی بار خوشی سے ٹیسٹ دیتے۔ کم از کم ٹیسٹ میں ہماری عزت بحال رہنے کے احساسات رہتے۔ بعد میں جب یونیورسٹی میں خود پڑھانے کا موقع ملا تو ایسے ہی ریمارکس ٹیسٹ میں لکھتے تھے۔ ایک ایک طالب علم کو محسوس ہو کہ وہ کچھ خاص ہے۔ بہت اچھا رزلٹ رہا اس کا ہمیشہ۔

یونیورسٹی بس میں سیٹ لینے کا طریقہ بھی خیر سے استادوں کے استاد سے ہی سیکھا۔ یونیورسٹی کی بس میں آدھے آدھے کی تقسیم ہو جاتی تھی کمبائن پوائنٹ میں (اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کی بس کو پوائنٹ کہا جاتا ہے)۔ ہوتا یہ تھا کہ لڑکے تو بھاگ کر کوشش کرتے کہ ہاف سے زیادہ بس میں آگے ہو کر بیٹھ جائیں اور وہیں سے ان کا حصہ شروع ہوجائے۔ لڑکیاں قریب کی سیٹوں پر ہی بیٹھ جاتیں اور ایک بھی لڑکا بیٹھ گیا تو اب آگے جانے سے ہچکچاتیں۔ یوں لڑکیوں کو کھڑے ہونا پڑتا اور لڑکے مزے سے بیٹھے رہتے اور ہر بریک پر گرتی پڑتی لڑکیوں کو دیکھ کر خوش ہوتے۔ یہ خواجہ صاحب تھے جنہوں نے ہمیں بتایا کہ آگے سے آگے جاؤ، چاہے پہلے سے لڑکے بیٹھے ہوں۔ سیٹ خالی ہے، جا کے بیٹھ جاؤ، جن کو سیٹ نہیں ملی، وہ لڑکیاں بھی تمہارے قریب آ کر کھڑی ہوجائیں گی۔ پہلے تو کوئی بھی لڑکا اردگرد لڑکیاں ہوں تو سیٹ پر نہیں بیٹھے گا، سیٹ چھوڑ دے گا۔ ایک لڑکا بیٹھا ہے، باقی دو سیٹ خالی ہیں تو آپ کیوں کھڑی رہیں گی، جا کے بیٹھ جائیں۔ وہ سیٹ نہیں بھی چھوڑے گا تو بھی میرا یقین کریں وہ آپ کو کھا نہیں جائے گا۔ سر کی اس بات سے بہت حوصلہ ملا کہ کھائے گا کوئی نہیں۔

اتنے سالوں بعد بھی سب گھر والوں کے ساتھ، جب کبھی عوامی مقامات پر کسی بینچ پر، جا کے دھڑلے سے بیٹھے اور پہلے بیٹھا شریف آدمی اٹھ کے چلا گیا تو ہم پہلے کی طرح نعرہ لگاتے ہیں: خواجہ صاحب کی جے۔