کیا قرآن از خود قطعی ہے؟ محمد زاہد صدیق مغل

سوال یہ ہے کہ کیا قرآن مجید کے الفاظ و عبارات از خود اس کے وہ معنی متعین کرنے کے لیے کافی ہیں جو شرعی معنی کے طور پر مسلمانوں کے یہاں مسلم سمجھے جاتے ہیں؟ اس سوال کا جواب اگر نفی میں ہو تو پھر ایک مزید سوال جنم لیتا ہے جس کا تعلق الہامی کتب کی معنویت سے ہے۔ وہ یہ کہ اگر قرآن سمیت کسی بھی الہامی کتاب کے معنی معاشرتی تناظر کے مرہون منت ہوتے ہیں تو پھر ان معنی کی آفاقیت کا کیا مطلب؟ کیا اس کا مطلب یہ نہیں کہ مختلف معاشرتی تناظر سے تعلق رکھنے والے لوگ الہامی کتاب کے الگ معنی متعین کریں؟ یہ دونوں سوالات باہم ایک دوسرے کے ساتھ متعلق ہیں۔ انھیں ترتیب وار پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

پہلے سوال پر توجہ مرکوز کیجیے اور ایک لمحے کے لئے ایک ایسے شخص کا تصور کیجیے جو نہ تو کسی مسلمان معاشرے میں پیدا ہوا اور عدم دلچسپی کی بنا پر اس نے مسلمانوں کے طرز زندگی کے بارے میں کوئی معلومات بھی حاصل نہ کیں۔ دوسرے الفاظ میں وہ قرآن، سنت اور مسلمانوں کے طرز زندگی کے بارے میں "خالی الذہن" ہے۔ فرض کیجیے کہ ایسا شخص کسی لمحے سورہ بقرہ کی آیات طلاق کا مطالعہ کرتا ہے جن میں طلاق و خلع کے طریقہ کار کے بارے میں ضروری ہدایات دی گئی ہیں۔ آیات کا مطالعہ کرتے ہیں: "طلاق دو بار ہے، پھر اس کے بعد یا تو روک لینا ہے بھلائی کے ساتھ اور یا چھوڑ دینا ہے احسان کے ساتھ۔ اور تمھارے لیے جائز نہیں ہے کہ تم نے انہیں جو دیا ہے اس میں سے کچھ واپس لو سوائے اس سے کہ دونوں کو اندیشہ ہو کہ وہ اللہ کی حدود برقرار نہ رکھ سکیں گے۔ پھر اگر تمہیں خوف ہو کہ وہ اللہ کی حدود کو برقرار نہ رکھ سکیں گے تو ان پر کوئی حرج نہیں کہ عورت کچھ فدیہ دے کر جان چھڑا لے۔ پھر اگر وہ طلاق دے اپنی بیوی کو تو وہ حلال نہ ہوگی اس پر یہاں تک کہ نکاح کرے کسی دوسرے خاوند کے ساتھ۔ پھر اگر وہ دوسرا طلاق دے تو کچھ حرج نہیں اگر یہ دونوں رجوع کرلیں ایک دوسرے کی طرف"۔

کیا اس آیت کا مطالعہ کرنے سے اس خالی الذہن شخص کے ذھن میں مسلمانوں کے یہاں مروجہ طلاق و خلع کے موجودہ تصورات واضح ہوجائیں گے؟ اس حوالے سے درج ذیل مسائل و سوالات پر غور کیجئے:

1) طلاق کا معنی نکاح (جس کا ایک خاص شرعی طریقہ ہے) کے بعد عورت کو اس بندھن سے آزاد کردینا ہے۔ اگر یہ شخص قرآن کے چند دیگر نظائر کا مطالعہ کرے تو قرین قیاس ہے کہ وہ طلاق کے اس مفہوم کو پا لے۔ تو یہ مسئلہ حل ہوا

2) "تمہارے لئے جائز نہیں ہے کہ تم نے انہیں جو دیا ہے اس میں سے کچھ واپس لو" اس کا معنی کیا ہے؟ کیا یہ اصول دو طلاق کے بعد لاگو ہوگا یا تین کے بعد؟ ربط آیات میں اس بات کا ذکر "دو طلاق" کے بعد ہے نہ کہ تین۔ نیز کچھ واپس نہ لینے سے کیا مراد ہے؟ کیا صرف "مہر کی رقم" یا نکاح کے بعد جو کچھ بھی دے دیا ہو؟

یہ بھی پڑھیں:   “نہیں، قرآن نہ سنو” عابدہ بانو

3) خلع کا معنی یہ ہے کہ عورت مہر کی رقم واپس کرکے آزادی حاصل کرلے۔ کیا یہ مفہوم آیت کے اس حصے سے لازما اخذ ہوتا ہے کہ "ان پر کوئی حرج نہیں کہ عورت کچھ فدیہ دے کر جان چھڑا لے"؟ کچھ "فدیہ دینے" سے مراد "شوہر کو" کچھ دینا مراد کیوں کر لیا جائے؟ فدیتا کیا ادا کرنا ہے، صرف "مہر ہی رقم" یا اس سے کچھ زائد و کم؟

4) خلع کا معاملہ طلاق کے معاملے سے کلیتا الگ ہے یا ان میں کوئی باہمی ربط ہے؟ یعنی بیوی کو خلع کا یہ حق کب حاصل ہوگا؟ مرد کے دو طلاق دے چکنے کے بعد یا اس کے بغیر بھی؟ ربط آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب مرد دو طلاق دے چکے تب عورت کو فدیے کا آپشن حاصل ہوگا۔ پھر "تیسری طلاق" کا معاملہ خلع کے ساتھ متعلق ہے یا دو طلاق کے ساتھ (یعنی تیسری طلاق کا عطف دو طلاق پر ہے یا خلع پر)، اس کا تعین از خود آیت کی رو سے کیسے ہوگا؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ تیسری طلاق کا حق تب ہوتا ہے جب دو کے بعد عورت پہلے خلع کا مطالبہ کرچکے؟ اور کہیں ایسا تو نہیں کہ تیسری طلاق کے بعد رجوع کے لئے دوسرے مرد کے ساتھ نکاح کا معاملہ بھی تب ہی ہوگا جب عورت پہلے خلع لے چکی ہو؟

چنانچہ وہ حضرات جن کے خیال میں قرآن مجید کے محض الفاظ و جملے ہی اس کے "شہر معنی" کی قطعی وضاحت کا بنیادی ذریعہ ہیں وہ یہ بتائیں گے کہ قران مجید کی وہ کونسی آیات ہیں جو مسئلہ نمبر 2 تا 4 کے ان احتمالات کو رد کرتی ہیں جو اس خالی الذھن شخص کے تناظر میں پیش کئے گئے؟ یہ صرف ایک مثال ہے، سنت، سیرت رسول اور اسلامی تاریخ سے نابلد اس خالی الذھن شخص کے تناظر میں اگر آیات قرآنی کا مطالعہ کیا جائے تو تقریبا ہر ہی مسئلے میں ایسے سوالات پیدا ہوجاتے ہیں جو اس شخص کے لئے تقریبا واضح ہوتے ہیں جو ماسواء قرآن ان دیگر تناظرات سے واقف ہوتا ہے اور جن کی مدد سے وہ الفاظ اور جملوں کو قطعی تصور کرتا ہے۔

اب آئیے دوسرے سوال کی طرف کہ اگر قرآن اپنے معنی کی وضاحت کے لئے خود اپنے سے باہر معاشرتی تناظر کے وجود کا بھی متقاضی ہے تو کیا اس سے یہ معلوم نہیں ہوا کہ الہامی کتب کے کوئی بھی معنی آفاقی نہیں ہوتے نیز یہ کہ مختلف تجربات کے نتیجے میں بربا ہونے والے معاشروں کے لوگ اس بات کا حق رکھتے ہیں کہ وہ اپنے معاشرتی تناظر میں قرآنی الفاظ کے معنی متعین کریں؟ یہ وہ سوال ہے جو فلسفے میں لسانیات کے جدید مباحث میں چوٹی کی اہمیت رکھتا ہے اور اس کے زیر اثر عرب و برصغیر کے بعض مفکرین ایسی ہی رائے رکھتے ہیں۔ اسی سوال کا جواب دینے کے لئے لوگوں نے یہ مقدمہ قائم کیا کہ سارا قرآن از خود قطعی الدلالت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   خواجہ فہد اقبال - پانی اور وحی

اس اشکال کا جواب سمجھنے کے لئے یہ سمجھنا لازم ہے کہ یہ نتیجہ کہ "الہامی کتب کا معنی ہر معاشرتی تناظر میں الگ ہوگا" صرف اس مقدمے سے اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ "قرآنی الفاظ و جملوں کے معنی معاشرتی تناظر کے مرہون منت ہیں"۔ اس نتیجے کے لئے ایک مزید مقدمہ بھی درکار ہے اور وہ یہ کہ "قرآنی الفاظ و جملوں کے معنی کا تعین کرنے کے ضمن میں کوئی مخصوص تناظر حجت نہیں ہے"۔ جب تک یہ مقدمہ فرض نہ کیا جائے تب تک یہ نتیجہ اخذ نہیں ہوتا کہ "قرآنی الفاظ کے معنی ہر کسی نے اپنے تناظر میں اخذ کرنا ہیں اور یہی جائز و درست طریقہ فہم قرآن ہے"۔ چنانچہ ہمارا کہنا یہ ہے کہ اللہ تعالی نے صرف قرآنی الفاظ ہی نازل نہیں کئے بلکہ اس کے ساتھ اپنے رسولﷺ کو بھی مبعوث کیا، اس رسول نے جس طرح زندگی گزاری، الفاظ قرآنی کی جو تشریحات اس نے پیش کیں، ان الفاظ اور تشریحات کی بنیاد پر اس نے جو معاشرتی تناظر قائم کیا جو پھر برقرار رہا اور اس تناظر کے اندر فقہائے امت نے اخذ احکامات کا جو علمی تناظر وضع کیا، یہ سب تناظر بھی حجت ہے اور مسلمانوں نے صرف الفاظ قرآنی کی حفاظت ہی نہیں کی بلکہ اس تناظر کی حفاظت بھی کی جو الفاظ قرآن کے معنی کی وضاحت میں حتمی کردار ادا کرتا ہے نیز اسے بھی نسل در نسل منتقل کیا۔ لسانی فلسفے میں جن لوگوں نے یہ دعوی کیا کہ الہامی کتب کے کوئی معین معنی نہیں ہوتے انہوں نے یہ فرض کررکھا تھا کہ الہامی کتب کی تشریح کے ضمن میں کوئی مخصوص تناظر کسی بھی طرح کی ترجیحی حجت نہیں رکھتا (اس مفروضے کی بنیاد اس فلسفے میں پیوست مخصوص تصور آزادی ہے جس کی تشریح کا یہ موقع نہیں، اس کی تفصیل ایک اور تحریر میں دی گئی ہے)۔

ظاہر ہے یہ ایک لغو مفروضہ ہے جس کی نہ تو کوئی نقلی دلیل ہے اور نہ ہی عقلی۔ "خیر القرون" دیگر تمام قرون سے اعلی و افضل ہے، جو شخص اس مفروضے پر یقین رکھتا ہے وہ لسانی مباحث کی الجھنوں کا شکار نہیں ہوسکتا اور جو اس مفروضے کا انکار کرتا ہے وہ یا تو قرآنی معنی کی آفاقیت کا انکار کرتا ہے اور یا پھر قرآن کے بذات خود قطعی الدلالت ہونے کا مقدمہ قائم کرتا ہے اور یہ بات واضح ہے کہ یہ دونوں ہی مقدمات غلط ہیں جن سے مسئلہ سلجھنے کے بجائے مزید الجھتا چلا جاتا ہے۔

ٹیگز