سوالات جن سے دل میں گناہ کا احساس ہوتا ہے - فرح رضوان

تو مسئلہ یہ ہے کہ آپ نرم مزاج واقع ہوئے ہیں، خاک و خون اور آگ اور مظالم کے چند کلپس جو آپ نے صرف احوال جاننے کی غرض سے دیکھے، وہ روح میں پیوست ہوگئے، اور اب …. طبعیت سے سوال جو کرتے ہوئے بھی دل میں گناہ کا احساس ہوتا ہے، مگر یہ سوالات جان بھی نہیں چھوڑتے تو ایسے میں کیا کریں؟

اللہ کو تو آپ یاد کرتے ہی ہیں، ذرا شیطان کا وعدہ جلدی سے یاد کیجیے! جی جناب! اس نے یہی تو کہا تھا کہ سیدھی راہ پر بیٹھ کر انسانوں کو دائیں بائیں آگے پیچھے سے بہکاؤں گا، تو اب وہ یہی گیم کھیل رہا ہے۔

دیکھیں! یہ ویڈیوز بنانا، ان کو پھیلانا بھی اقوام عالم کے علم میں لانے، شواہد اور یکجہتی کے لیے اہم ہیں، اور جو رپورٹنگ کرتے ہیں، ماہرنفسیات یا ڈاکٹرز ہیں، اسلامک اور ہیومن رائٹس کے ضمن میں جدوجہد یا دیگر کام کرنے والوں کی ضرورت ہوتی ہے، ایسی ویڈیوز دیکھنا نشر کرنا۔

اب پہلی بات یہ جان لیں کہ یہ ویڈیوز آپ پر دیکھنا فرض نہیں، واجب بھی نہیں، اور ضروری بھی نہیں، تو پھر نہ دیکھیں۔ آخر کو قبل اور بعد از اسلام انبیاء علیہم السلام کے سچے پیروکاروں پر جو فتنے برپا ہوئے، آپ نے ان کی وڈیوز بھی تو نہیں دیکھیں نا! مگر مستند تاریخ پڑھ کر آپ احوال جانتے ہیں، ان کی قدر بھی کرتے ہیں، آپ نے چنگیز خان اور تاتاریوں کے جوروستم کی ویڈیوز بھی نہیں دیکھیں، مگر پھر بھی آپ کا ایمان سلامت ہے، الحمد للہ، تو اسی طرح آپ اگر آج کے دور میں کسی بھی ظلم کی وڈیو نہیں دیکھیں گے تو آپ کے ایمان پر کوئی حرف نہیں آئے گا۔ آپ صرف مستند خبریں سن یا پڑھ رہے ہیں، فی الحال یہی کافی ہے۔ مگر یہ غور کرنا بھی بنتا ہے کہ تاتاریوں سے جنگ لڑی اور جیتی کیسے گئی؛ جی ہاں! ان کو دعوت اسلام دے کر، جب وہ مسلمان ہوئے تب فتح اور امن نصیب ہوئے۔ اور آج بھی اگر ہم امت وسط کا کردار نبھائیں، پہلے خود ڈھنگ سے اسلام کو سمجھ کر اپنا کر مسلمان بنیں اور ساتھ ہی پیغام اسلام آگے پہنچائیں تو کام بنتے ان شا اللہ دیر نہ لگے گی۔

مسئلہ نمبر دو یہ کہ سوشل میڈیا پر تو انتہائی نڈر لوگ دکھائی دیتے ہیں تو ہم اگر ویڈیوز پکچرز نہ لگائیں، نہ دیکھیں نہ کمنٹ کریں، تو ضمیر ملامت کرتا ہے۔ کیا کمزور دل ہونا گناہ ہے؟

دیکھیں! حسان کسی بھی لڑکے کا نام ہو سکتا ہے؛ لیکن یہی نام اگر صحابی کا ہوگا تو ہم ادب سے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، اور انتہائی تکریم سے آپ کی اسلام کے لیے خدمات دیکھتے ہیں، سراہتے ہیں، اش اش کرتے ہیں، جبکہ ہم جانتے ہیں کہ ایک طرف تو قرآن کا حکم ہے کہ مسلمانوں کو جنگ کے لیے ابھاریں، مگر دوسری طرف غزوۂ خندق کے موقع پر حضرت حسان رضی اللہ عنہ کی درخواست پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا آپ کو میدان جنگ اور قتال سے فاصلے پر رکھنا ہمیں بہت کچھ سکھاتا ہے کہ جس طرح پانچوں انگلیاں برابر نہیں، اسی طرح ہر فرد ہر میدان کا سپہ سالار نہیں ہو سکتا، ہر ایک کا محاذ مختلف ہے؛ لہٰذا خود کو پہچانیں اور اپنے ہی محاذ پر قوی مؤمن بن کر مضبوطی سے جمے رہیں تو ان شاءاللہ کافی ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:   سوشل میڈیا سے فرار! - شیخ خالد زاہد

مسئلہ نمبر تین وہ وسوسے جن کو ہم اپنے ذہن کے سوالات سمجھتے ہیں، ان کا کیا ہو؟ جیسے کہ دنیا میں اتنا ظلم کیوں ہے؟ اللہ تعالیٰ مظلوم کی سنتا کیوں نہیں؟ ظالم کو روکتا کیوں نہیں؟ تو سادہ جواب تو یہی ہے کہ اللہ کی مرضی؛ لیکن تفصیل میں جانا چاہیں تو بات ہے ساری آزمائش کی کہ انسان کب، کیا، کیوں، کیسا، کس کے لیے کرتا ہے؟

مسئلہ نمبر چار ظلم و بربریت کا شکار، مظلوم و لاچار …..
تو سب سے پہلے یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے، قرآن کا ایک ایک کلمہ حق ہے، سچ ہے، قرآن میں ہی یہ موجود ہے لایکلف اللہ نفسا الا وسعھا، کسی نفس کی برداشت سے بڑھ کر اللہ اس پر بوجھ نہیں ڈالتا یا نہیں آزماتا۔ اس بات کو صرف سمجھنے کی غرض سے ذبیحہ اور کھٹکے سے مرنے والے مویشیوں کی مثال سامنے رکھی جاسکتی ہے؛ کہ سائنس کے انکشافات سے قبل لوگ سمجھتے ہی نہیں تھے کہ بظاہر کھٹکے والی موت آسان لگتی ہے، مگر سخت تکلیف دہ ہوتی ہے، جبکہ ذبیحہ میں جانور تڑپتا نظر آتا ہے مگر یہ اللہ کا وہ نظام ہے جس سے ایمان تازہ ہوتا ہے کہ ہر شے پر اس کی رحمت چھائی ہوئی ہے۔ ادھر ذبیحہ کے نروز کٹ کر ذہن سے منقطع ہونے سے درد سے بیگانہ ہو جاتے ہیں تو دوسری طرف اس کے تڑپنے سے زائد خون جسم سے باہر نکل کر انسانوں کے لیے فائدہ مند ہو جاتا ہے۔

سوال ہے کہ کیا تمام تر ظلم صرف کشمیر میں ہی ہوتا آیا ہے یا فلسطین و افغانستان میں؟ لوگ حکمرانوں، کرتا دھرتاؤں، عطائیوں، جعلی ادویات، نقلی مسیحاؤں کی غفلتوں سے تڑپ تڑپ کر نہیں مرتے؟ شراب کے نشے میں روڈ ایکسیڈینٹس اور گھریلو جھگڑوں میں بھی لوگ مرتے ہیں، فساد کسی کم درجے کا یہ بھی نہیں، یہ تو دسترس میں ہے، اس پر پٹیشنز، ویڈیوز کے نتائج کیا نکلے؟ اچھا جناب اگر صفر کے آس پاس ہی کا نتیجہ ہے تو ایسا کیونکر ہوا؟

یہ بھی پڑھیں:   باقی سب کون ہیں ؟ - اسماء طارق

کیونکہ جب ہم نے ہاتھ سے برائی کو روکا تو ہاتھ میں جان نہ تھی، وہ آلودہ تھے، بہت سے اپنوں کو ایذا دینے سے کمزور ہو چکے تھے۔ جب بات کی تو بات میں دم نہ تھا کہ زبان کو اس سے قبل اللہ کی یاد سے غافل رکھا اور دیگر فتنوں میں مشغول۔ جب آخری درجہ یعنی دل میں برا جاننے کا وقت آیا تو وہاں تو عجیب بقرہ منڈی کا سماں تھا، دل کا کوئی خانہ خالی نہ پایا کہ جہاں کوئی بچھڑا محبت سے پل پلا کر مقدس گائے نہ بن رہا ہو۔ فساد تو ہمارے دل کی زمین پر بھی بڑا برپا ہے، پر ناک کے نیچے دکھتا کسے ہے بھلا؟ تو انی کنت من الظالمین سمجھ کیسے آسکے گا بھلا؟

جی جی وہ مسئلہ رہ گیا تھا، طاقت سے بڑھ کر آزمائش نہیں والا … تو ایسا کریں کہ کسی بچے کے ساتھ دن گزاریں اور نوٹس کریں کہ وہ بھی ایک جیتا جاگتا کھاتا پیتا انسان ہے، مگر ذرا سا گرم اسے بہت لگے گا، ذرا سی مرچیں، ذرا سا وزن جبکہ آپ کے لیے یہ سب بےحیثیت، آپ تیز گرم چائے پکڑ بھی لیں گے، پی بھی لیں گے، ہیوی ویٹ لفٹر کئی گنا وزن کھیل کھیل میں اٹھا لے گا اور بچہ ورطہ حیرت میں پڑ جائے گا۔

ایک نازک سی ماں کس کرب عظیم سے گزر کر بچے کو جنم دیتی ہے، یہ حوصلہ یا کرشمہ اللہ کی عنایت کے سوا ممکن ہی نہیں۔ مگر ایسا ہوتا ہے تو کیوں ہوتا ہے؟ سوال اب بھی یہی ہے۔

سورہ آل عمران میں جنگ احد کے موقع پر مسلمانوں کی غفلت سے بھاری جانی نقصان پر اللہ تعالیٰ پہلے تو سخت خفگی کا اظہار فرماتے ہیں، مگر پھر یہ بھی بتلا دیتے ہیں کہ اس عظیم نقصان کے بدلے اللہ تعالیٰ کو ان شہادت پانے والوں کے بلند درجات بھی تو عطا فرمانے تھے۔

تو بس آپ اللہ سے دعائیں کریں دوسروں کے حق میں، اپنے حق میں کہ حق کو حق دکھلا دے، باطل کو باطل، یہ کہ مصیبت کا بہترین اجر عطا فرمائے، یہ کہ ہمارے ہاتھ، زبان، دل پاک صاف مضبوط فرمادے، اور یہ بھی کہ امت وسط کا کردار بہترین طور پر نبھا سکیں اور یہ کہ ہر اندرونی بیرونی فتنے سے ہماری حفاظت فرمائے، ہمارا قبلہ ہماری سمت درست فرمادے۔ آمین