کون جیتا؟ ایک منفرد شماریاتی کہانی - حنا نرجس

وین سے اترتے ہی ہانیہ اور تانیہ کھلے دروازے سے اندر کی طرف بھاگیں. مما کو سلام کیا. مما وین کا ہارن سن کر ان کے دستک دینے سے قبل ہی دروازہ کھول چکی تھیں. اب ہانیہ اور تانیہ کا رخ دادو کے کمرے کی جانب تھا. دونوں کی کوشش ہوتی کہ دادو کو سلام کرنے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جائیں. دادو نے دونوں کو پیار کیا، سکول میں گزرے دن کے متعلق پوچھا، پھر کہنے لگیں، "تم لوگ جلدی سے کپڑے بدل کر کھانا کھا لو. ایک سرپرائز تمہارا انتظار کر رہا ہے."
"سچ مچ، دادو! "واہ! مزا آ جائے گا پھر تو!"

ان دونوں نے جلدی سے جوتے بدلے. ہاتھ منہ اور پاؤں دھوئے. پھر کپڑے بدلے. اتنے میں مما میز پر کھانا لگا چکی تھیں. وہ دونوں سرپرائز کے بارے میں جلد از جلد جان لینا چاہتی تھیں اسی لیے بڑے بڑے نوالے جلدی جلدی منہ میں ڈالنے لگیں. مما نے ٹوکا، "ہانیہ تانیہ کھانا آرام سے کھاؤ. چھوٹے نوالے بناؤ اور نگلنے سے پہلے انہیں اچھی طرح چباؤ."

کھانا کھا کر دونوں نے دعا پڑھی، ہاتھ دھوئے اور دادو کے کمرے میں پہنچ گئیں. وہ بھی کھانا کھا چکی تھیں. بستر پر ان کے قریب دو بے حد خوبصورت سکول بیگز پڑے تھے.
"واؤ دادو! یہ اتنے پیارے بیگز کہاں سے آ گئے؟" تانیہ نے پوچھا.
"یہ تو بہت نرم اور خوبصورت ہیں. کتنے دلکش رنگ ہیں ان کے. یہ آئے کہاں سے، دادو؟ بابا نے تو کہا تھا کہ اس سال نئے بیگز لینے کی ضرورت نہیں ہے. میں یہ گلابی والا لوں گی." ہانیہ نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے بابا کی شکایت بھی کر دی اور گلابی بیگ ہاتھ میں اٹھا لیا.
"نہیں آپی، یہ نہیں ہو سکتا. آپ نے پچھلے سال بھی گلابی لیا تھا. اب آپ نیلا لو گی." تانیہ نے کہا.

"رکو بچو، پہلے میری بات تو سنو. یہ بستے تمہارے چچا نے اسلام آباد سے بھجوائے ہیں اور کہا ہے کہ پہلے انتخاب کا حق اسے ملے گا جس کا رزلٹ دونوں میں سے زیادہ اچھا ہو گا."
"وہ مارا! نمبرز تو میرے زیادہ ہیں. فائیو ہنڈرڈ میں سے فور ہنڈرڈ اینڈ ففٹین. بس یہ گلابی والا میرا ہے." ہانیہ نے پرجوش ہوتے ہوئے ایک بار پھر گلابی بیگ اٹھایا.
"نمبرز تو میرے بھی بہت اچھے ہیں، آپی. ٹھہرو میں دونوں کے رزلٹ کارڈز لے کر آتی ہوں." تانیہ یہ کہتے ہوئے دونوں کے مشترکہ کمرے سے رزلٹ کارڈز لے آئی. لیکن یہ کیا؟ اس کا چہرہ کچھ بجھا بجھا سا تھا.
"میرے نمبرز تھری ہنڈرڈ اینڈ ون ہیں." اس کا لہجہ بھی پست تھا.
"دیکھا، میں نے کہا تھا نا کہ میرے نمبرز زیادہ ہیں." ہانیہ اتراتے ہوئے بولی.

دادو نے دونوں رزلٹ کارڈز لے کر بغور دیکھے اور کہا، "تانیہ کے کل نمبر تھری ہنڈرڈ اینڈ ففٹی ہیں جبکہ ہانیہ تمہارے کل نمبر فائیو ہنڈرڈ ہیں. ہم موازنہ کیسے کر سکتے ہیں جب کل نمبر ہی مختلف ہوں"
"اچھا!" ہانیہ تانیہ دونوں سوچنے لگیں. جب کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکیں تو دادو سے ہی سوال کر دیا، "دادو، پھر پتہ کیسے چلے گا کہ کس کا رزلٹ زیادہ اچھا ہے؟"
"تمہاری مما باورچی خانے میں مصروف ہے شاید. اپنے بابا کو آنے دو، وہی یہ مسئلہ حل کرے گا." دادو نے تو آرام سے کہہ دیا لیکن ہانیہ تانیہ کو رات تک انتظار کرنا بہت مشکل لگ رہا تھا.

اچانک ہارن کی آواز آئی اور وہ دونوں بیرونی دروازے کی طرف لپکیں. چھوٹے ماموں کسی غیبی مدد کی طرح بالکل صحیح وقت پر پہنچے تھے. دادو نے دیکھا وہ دونوں ماموں کے دائیں بائیں ان کا ایک ایک ہاتھ تھامے اندر آ رہی تھیں. مما بھی آ کر حال چال دریافت کرنے لگیں. نانو نے کڑھی بھجوائی تھی.

ہانیہ تانیہ نے فوراً اپنا مسئلہ ماموں کے سامنے رکھا. ماموں نے کہا یہ کون سا بڑا مسئلہ ہے، ابھی حل کیے دیتا ہوں. انہوں نے دو پرچیوں پر دونوں کے نام اور نمبرز لکھے، انہیں بند کیا، پھر ہلا جلا کر میز پر پھینک دیں اور دادو سے ایک پرچی اٹھانے کو کہا. پھر اٹھائی گئی پرچی کھولی، یہ ہانیہ کی تھی. تانیہ اب بالکل روہانسی ہو چکی تھی. پھر بھی کوشش کر رہی تھی کہ آنسو آنکھوں سے بہہ نہ نکلیں.

ہانیہ گہری سوچ میں گم ہو گئی. پھر کہنے لگی، "ماموں مجھے یہ طریقہ اطمینان بخش نہیں لگا. پرچی تو کسی کی بھی ہاتھ میں آ سکتی ہے. کیا کوئی ٹھوس طریقہ نہیں ہے جاننے کا؟"

"جیو میرے بچے! شاباش! میں تو یونہی شرارت کر رہا تھا. آؤ اب صحيح طریقہ استعمال کرتے ہیں." یہ کہتے ہوئے انہوں نے جیب سے موبائل فون نکالا، کیلکولیٹر پر کچھ حساب کتاب کیا اور کہا، "ہانیہ کے نمبرز ایٹی تھری پرسنٹ جبکہ تانیہ کے نمبرز ایٹی سکس پرسنٹ ہیں. سو تانیہ جیت گئی!" انہوں نے تانیہ کی کمر پر پیار سے تھپکی دی وہ کچھ دیر قبل اس کی آنکھوں میں نمی دیکھ چکے تھے. تانیہ کی آنکھیں اب کے خوشی سے چمک رہی تھیں.

"اب کے آپ نے ٹھیک ٹھیک اندازہ لگایا ہے نا، ماموں؟ اب آپ مذاق تو نہیں کر رہے نا؟" تانیہ مزید یقین دہانی چاہتی تھی.

"بالکل صحیح والا طریقہ استعمال کیا ہے. آؤ تم دونوں کو بھی سکھا دوں. دیکھو جب ایسی صورت حال ہو تو ہم پرسینٹیج کا طریقہ استعمال کرتے ہیں،جو بہت آسان ہے. دیکھو، ہانیہ تمہارے حاصل کردہ نمبروں فائیو ہنڈرڈ اینڈ ففٹین کو کل نمبروں فائیو ہنڈرڈ سے ڈیوائڈ کیا اور پھر ون ہنڈرڈ سے ملٹی پلائے کر دیا. حاصل ہوا، ایٹی تھری.

تانیہ، اسی طرح تمہارے تھری ہنڈرڈ اینڈ ون کو تھری ہنڈرڈ اینڈ ففٹی سے ڈیوائڈ کیا، پھر ون ہنڈرڈ سے ملٹی پلائے کیا، حاصل ہوا ایٹی سکس. جب ہم پرسینٹیج کی بات کرتے ہیں تو ہم ہنڈرڈ میں سے حاصل کردہ نمبروں کی بات کر رہے ہوتے ہیں. یوں کل نمبر برابر ہو جاتے ہیں پھر حاصل کردہ نمبروں کا ٹھیک ٹھیک موازنہ کیا جا سکتا ہے."

"اس سے صرف نمبروں کا حساب ہوتا ہے بیٹا یا کوئی اور بھی فائدہ ہے؟" دادو نے پوچھا.

"اور بھی بہت سے فائدے ہیں، آنٹی. حساب کتاب آسان ہو جاتا ہے. ایک مثال دیتا ہوں. اگر ایک دکان دار سات سو روپے کی ایک قمیض پر آپ کو دس فیصد رعایت دے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ہر سو روپے پر دس روپے چھوڑ دے گا."

"یعنی سات سو روپے کی قمیض پر ستر روپے رعایت ہو گی اور قمیض چھ سو تیس روپے میں ملے گی. ایسے ہی ہو گا، بیٹا؟" دادو نے بنا کیلکولیٹر کے حساب لگاتے ہوئے پوچھا.

"جی بالکل! آپ تو بہت جینئس ہیں، آنٹی." ماموں نے سراہا.

"ارے یہ تو بڑا دلچسپ اور آسان ہے. آؤ تانیہ، ہم اپنے مڈ ٹرم ایگزیم کے رزلٹ کا بھی موازنہ کرتے ہیں. انہوں نے باری باری اپنے حاصل کردہ نمبروں کو کل نمبروں سے ڈیوائڈ کیا پھر ون ہنڈرڈ سے ملٹی پلائے کیا. ہانیہ کی پرسینٹیج نائنٹی فور جبکہ تانیہ کی نائنٹی تھری تھی.

"دیکھو مڈ ٹرم میں میرا رزلٹ تم سے بہتر تھا." ہانیہ چہکی.

"لیکن میں تو یہ سوچ رہا ہوں کہ تم لوگوں کی پرسینٹیج سالانہ امتحانات میں مڈ ٹرم امتحانات کے مقابلے میں ایک دم اتنی کم کیسے ہو گئی؟" ماموں نے کہا.

"یہی بات میں مما سے کہتی ہوں، ماموں. پتہ ہے کیا، میری پوزیشن کلاس میں بہت نیچے چلی گئی ہے. مما مصروف رہنے لگی ہیں. اب وہ ہمیں خود نہیں پڑھاتیں اور ٹیوٹر انکل کا پڑھانے کا انداز آسان نہیں ہے. اس بار ہمارے نمبر میتھس اور سائنس میں بہت کم آئے ہیں." ہانیہ واقعی پریشان تھی.

"اچھا یہ بات ہے. آپ پریشان نہ ہو، میں آپی سے بات کرتا ہوں. چلو تانیہ بچے، بیگ تو منتخب کرو اپنے لیے. اب انتخاب کا اختیار پورا کا پورا آپ کے پاس ہے." ماموں نے خوشگوار لہجے میں کہا. مما بھی کام ختم کر کے وہیں آ گئی تھیں.

تانیہ آگے بڑھی. گلابی بیگ کو بغور دیکھا، پھر نیلے بیگ کو، پھر ہانیہ کے چہرے پر نگاہ ڈالی، پھر ایک دم پیچھے ہٹتے ہوئے فیصلہ کن لہجے میں بولی،
"ہانیہ، میں چاہتی ہوں پہلے آپ منتخب کرو."
"لیکن..."
"لیکن ویکن کچھ نہیں. بس کہا نا، پہلے آپ لے لو. میری خوشی اسی میں ہے."

ہانیہ نے کچھ دیر سوچا، پھر نیلا بیگ اپنے لیے اٹھا لیا اور گلابی تانیہ کو پکڑا دیا. دونوں کھلکھلا کر ہنس دیں. اب انہیں چچا کا شکریہ ادا کرنا تھا.

دادو، مما اور ماموں نے ہانیہ تانیہ کے ایثار کے اس مظاہرے پر ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور کھل کر مسکرا دیے.

Comments

حنا نرجس

حنا نرجس

اللّٰہ رب العزت سے شدید محبت کرتی ہیں. ہر ایک کے ساتھ مخلص ہیں. مسلسل پڑھنے پڑھانے اور سیکھنے سکھانے پر یقین رکھتی ہیں. سائنس، ٹیکنالوجی، ادب، طب اور گھر داری میں دلچسپی ہے. ذہین اور با حیا لوگوں سے بہت جلد متاثر ہوتی ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.