عظیم المیہ - صائمہ وحید

برصغیر کے مسلمانوں نے قائد اعظم کی صالح قیادت میں کلمہء طیبہ کے سائے میں اسلامی نظریاتی مملکت کی بنیاد رکھی۔اورعزت،وقار،آذادی کے ساتھ جینے کا عزم،عہد کیا۔اس عہد کو نبھانے کےلئے آگ اور خون کے دریا عبور کیے۔،، کتنی عصمتیں، جوانیاں قربان کیں۔ تب اللہ تعالیٰ کی غیبی نصرت سے انگریز اور ہندو کی کی غلامی سے آزادی ملی جو سب سے بڑی نعمت خداوندی ہے۔

اور دنیا کے نقشے پر "اسلامی جمہوریہ پاکستان" نمودار ہوا۔ ایک عظیم نظریاتی تاج محل۔۔جسکی چمک دمک۔۔اود دھمک۔بھادت۔۔استعماری طاقتوں۔۔دشمنوں کی آنکھ میں شہ تیر کی طرح چبھ رہی ہے۔ دشمن کی عیاری،مکاری۔۔اپنوں کی غداری نے پاکستان کے نظریاتی تاج محل کو نظریاتی جھونپڑی میں بدلنے کی کوشش کی ہے ۔ نظریاتی اساس ،اقدار پر کافی ضرب لگائی ہے۔ پاکستان کا نظریہ عین اسلام ہے ۔ جس کے مطابق ہمارا تعلیمی، عدالتی، سیاسی، معاشی نظام کی تشکیل و ترویج پاکستان کے ارباب اقتدار واختیار کی ذمداری تھی، جنھوں نے قوم کو اسلامی نظام بن کی ثمرات وبرکاتہ سے محروم رکھا ہے۔

آج 72 سال بعد ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود اپنی شہ رگ "مقبوضہ کشمیر" کو آزاد کرانے سے قاصر ہیں۔ ہم بحیثیت مجموعی پاکستان کی نظریاتی، جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ۔دفاع میں سنگین غفلت کے مرتکب ہوئے ہیں۔جو مسلمانان پاکستان کے لئے ہی نہیں امت کے لئے بھی عظیم المیہ۔۔سانحہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے۔ قوم ان نظریاتی سوداگر وں سے دامن چھڑا کر۔۔دوبارہ " اسلامی نظریاتی مملکت " کی تعمیر و تشکیل کی جدوجہد کی آواز ویڈیو میں "کلمہء طیبہ" کے سائے میں شروع کریں۔ ہر تعصب، تردد، مفاد سے بالا تر ہوکر ۔ پاکستان کو نظریاتی بنیادوں پر مضبوط کرکے ہی۔۔امن، استحکام ۔۔آزادی کی تکمیل کی جاسکتی ہے.