کیا یہ شہر سوتیلا ہے ؟ - مہوش کرن

میرے خیال سے یہاں موجود سب ہی لوگ کچرے اور ملک کی صفائی کے بارے میں اتنے ہی حساس ہوں گے جتنے کے آج کل حکومتی ادارے کراچی کے لیے حساسیت کے دعوے کرتے نظر آرہے ہیں، یا کم ہونگے یا شاید زیادہ، مگر کراچی کے بارے میں سب ہی لوگ کچھ نا کچھ سوچتے تو ضرور ہونگے ؟؟؟ یہ کونسا شہر ہے جو ہمیشہ ہی کسی نہ کسی طرح خبروں کی زینت بنا رہتا ہے یا یوں کہا جائے کہ کسی نہ کسی مصیبت میں گرفتار رہتا ہے۔

کسی زمانے میں ہر وقت فائرنگ، حالات کی خرابی، شٹرڈاؤن یا پہیہ جام ہڑتال، تعلیمی ادارے بند، امتحان منسوخ وغیرہ۔ پھر خودکش یا ٹائم بم بلاسٹ کے واقعات کی خبریں جو حد درجہ بڑھتی ہی گئیں یہاں تک کہ ایک دفعہ میں خود بھی بمع بچوں کے جائے حادثہ سے چند سیکنڈ پہلے ہی گزری تھی۔ اس کے بعد ہم ہیٹ اسٹروک سے بچنے کے لیے سب سے قیمتی چیز یعنی اپنی جان تک کا نظرانہ دینے لگے، کیونکہ ہسپتالوں میں ایمرجنسی کا بندوبست نہیں تھا اور مرنے کے بعد قبرستان میں مُردوں کو دفنانے کی جگہ نہیں ہوتی، اور آج بھی قبر کی جگہ لینے کے لیے بھی سفارش چلتی ہے۔۔۔۔۔ لیکن اس کے باوجود کراچی ہمیشہ دیتا ہی رہا، امن کا پیغام، دوستی کا درس، غریب کو چھت، روٹی اور روزی۔۔اب آج کل “کلین اینڈ گرین کراچی" کا خوب شور شرابہ ہے۔ جب حکمران تیز بارش کے وقت کیفے پیالہ پر بیٹھے چائے پراٹھا کھا رہے تھے میرے کتنے بیٹے اور بھائی کرنٹ لگنے سے مر رہے تھے، کیونکہ سڑکوں پر بہتے پانی میں کرنٹ تھا۔ حالانکہ بارش کا پہلا قطرہ گرنے سے لے کر آخری قطرہ گرنے تک بجلی بند رہی، لیکن بقول حکام کہ لوگوں نے پولوں پر کُنڈے جو ڈالے ہوئے ہیں اس لیے کھلے تاروں میں کرنٹ آرہا تھا، جبکہ دوسری طرف کہتے ہیں کہ ہم نے بجلی جان بوجھ کر بند کی تاکہ پانی میں کرنٹ نہ آئے۔ گٹر لائنیں اور نالے جو پانی کی نکاسی کی ضامن ہونی چاہئیں وہ سب کے سب گندگی اور کچرے سے بھرے پڑے تھے لہٰذا پانی سڑکوں اور چوراہوں سے سفر کرتا گلیوں سے گزرتا ہوا گھروں کے اندر داخل ہوگیا،.

یہ بھی پڑھیں:   ’’ازالہ کون کرے گا۔۔۔‘‘ - احسان کوہاٹی

قربانی کے جانور تو جانور مگر قربانی کرنے والے انسان بھی دو دن تک کھڑے کے کھڑے رہ گئے۔ کتنے گھروں میں عید کی نماز کے بعد نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔۔۔اور عید کے بعد ہر طرف گندگی اور آلائشوں کے ڈھیر، جس کی وجہ سے مکھیوں اور مچھروں کی بے تحاشہ افزائش اور ہمہ وقت پھوٹتی خطرناک بیماریاں، جو اس وقت تقریباً ہر گھر میں لاحق ہیں ۔۔۔لیکن حکومتیں بس کراچی کی گیند کو ایک کورٹ سے دوسرے کورٹ میں پھینکتی رہیں۔ بلدیاتی ادارے کہتے ہیں یہ سندھ حکومت کا کام ہے، سندھ حکومت کہتی ہے یہ مئیر کراچی کی ذمہ داری ہے، وہ کہتے ہیں ہمارے پاس وفاق سے بجٹ نہیں آتا، وفاق کہتا ہے کہ ہم سارے فنڈز ذمہ داروں تک پہنچا دیتے ہیں، کوئی کہتا ہے کہ کراچی میں کچرا ہی اتنا ہے ہم نے تو صرف نالے صاف کرنے کی بات کی تھی، یہاں تو روزانہ کی بنیاد پر بارہ سے تیرہ لاکھ ٹن کچرا جمع ہوتا ہے تو ہم کیا کر سکتے ہیں ،،،
یعنی کہ جتنے منہ اتنی باتیں۔ مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ کچرا روزانہ کی بنیادوں پر ٹھکانے کیوں نہیں لگایا جاتا ؟؟؟ الغرض یہ کہ کراچی سب کا ہے لیکن کراچی کا کوئی نہیں ہے۔ جو شہر ملکِ پاکستان کی معیشت کو اپنے کندھوں پر اٹھائے کھڑا ہے اُسے سنبھالنے والا کوئی نہیں، وہ جو “روشنیوں کا شہر" اور “شہرِ قائد" کہلاتا تھا، اندھیروں میں غرق کر کے پستیوں کی طرف دھکیلا جارہا ہے، جس سے پورے پاکستان کی معیشت کو نقصان پہنچا کر دوسری طرف سے بھی تباہی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔۔۔ کیا یہ بات سوچنے والوں کے لیے لمحۂ فکریہ نہیں ہے ؟