دامن میں کوہ کے - بریرہ صدیقی

تاحد نگاہ پھیلے سر بفلک کہساروں، اور گہرے سبزرویہ درختوں کے طویل سلسلے کے ساتھ ساتھ بل کھاتی سڑک کے کنارے آباد کٹیا نما ہوٹل سمیت وادی میں ہر سو رات اپنی گھنی زلفیں پھیلا چکی تھی۔ اقبال کامنظوم تخیلاتی حسن، " لیلی شب کھولتی ہے آکے جب زلف رسا" کے مصداق، مجسم شکل میں سامنے تھا، اور کوہ کےدامن میں اس چھوٹے ہٹ کے زیادہ تر مکین، اندر کمروں میں محو استراحت تھے۔

جبکہ باقی مسافران شب بالکنی پے بیٹھےماحول کے فسوں خیز حسن کے قصیدے پڑھنےاور شاعرانہ کیفیت طاری کیے چائے پینے میں مگن تھے،جب اترتی دھند کے اندھیرے میں میری بیٹی نے سڑک کی دوسری جانب کچھ دور دو ٹمٹماتی اور حرکت کرتی روشنیوں کی طرف اشارہ کیا۔ " شاید بلی ہے" میں نے گمان پیش کیا۔ " نہیں بھیڑے کاجوڑا ہے، ابھی یہاں سے ہی گزر کے گیا ہے"۔ بھائی، جسے کمزور دل حضرات پر بجلیاں گرانے میں ملکہ حاصل ہے، اور جو ہوٹل مالک سے طویل گپ شپ کے بعد لوٹے تھے، نےکمال طمانیت سےمعلومات میں اضافہ کیا۔ " اور یہاں پہاڑ کے اس پار ایک چیتا رہائش پذیر ہے، کبھی کبھار بھوکا ہو تو ادھر بھی آ نکلتا ہے"۔۔ لاحول ولا قوت۔۔ جم کاربٹ پرخطرایڈونچر مہم کے دوران جو ہتھیار ساتھ رکھتا تھا ان میں سے ایک بھی اس وقت موجود نہیں سوائے ان چھری چاقو کے جو کچن کے سامان میں ساتھ ہے۔ میں نے دل میں سوچا اور دروازوں کی مضبوطی کا نظروں میں جائزہ لیا۔ماحول کی خوبصورتی یکبارگی ماند پڑنے لگی کہ کسی بھوکے چیتے کی شکم سیری کا سامان بنتے ہوئے لقمہ اجل کو لبیک کہنے کا تصور خاصا روح فرسا تھا۔ رات کے آخری پہر جب محفل اختتام پذیر ہوئی تو میں نےدن بھر کے واقعات پر غور کرنا شروع کیا۔ اختلاف طبائع کے حسین امتزاج پر مبنی یہ قافلہ جب عازم سفر ہونے کو تھا تو مہم جوئیانہ طبیعت کے مالک بھائی کے خیال میں اب کی بار ہمالیہ سر کرنے کی کوشش میں کوئی حرج نہیں تھا جبکہ دوسرے بھائی مصر تھے،مناظر کم و بیش سبھی ایک سے ہیں، مری سے آگے کے پرخطر راستوں پر جاکر موت کو دعوت دینے کی نسبت کہیں بہتر ہے،مری ہی رہ کر عالم خیال میں دیگر علاقوں کی سیر کر لی جائے۔ اور اب جب یہاں ٹھنڈیانی پہنچ کر آشکار ہوا کہ رات کے پیش نظر،واپسی کے بجائے یہیں پڑاو کیاجائے گا تو ان کا اپنے ٹھکانے کی تفصیل پیچھے گھر والوں کو بتادیناکامشورہ ،کہ کسی ناگہانی صورت میں ہم تک بآسانی رسائی ممکن ہو اس وقت نہایت صائب لگ رہاتھا۔

تاہم رات بخیرو خوبی بسر ہوئی اور ناخوشگوار حادثے سے محفوظ رہے۔ ٹھنڈیانی کی خوشگوار اور تروتازہ صبح کوہماری چھوٹی بہن انتہائی مہارت سے کیمرے کی آنکھ میں قید کرنے میں منہمک تھی۔سامان پیک کرتے ہوئے حتی الامکان، خودانحصاری کا نکتہ پیش نظر ہو تو ہائی جینک بستروبرتن جیسے مسائل سے بچ کر، نہایت آرام دہ سفر ممکن رہتا ہےاور کسی پریشانی کا سامنا نہیں ہوتا۔ وقت رخصت نہایت بوجھل دل سے اس چھوٹی سے سلطنت شاہی کے فرمانروا کو الوداع کہنے کو آخری نظر ڈالی تو یقین ہوا ایسی ہی کسی کٹیا کی خواہش اقبال رح نے کی ہوگی کہ " دامن میں کوہ کے اک چھوٹا سا جھونپڑا ہو"۔ آپ کی قوت مشاہدہ، حافظہ اور متخیلہ ساتھ دے تو ان راستوں پر سفر کے دوران محسوس ہوتا ہے، رب آپ سے ہمکلام ہے، " اللہ ہی ہے جوہواوں کو بھیجتا ہے اور وہ بادل اٹھالاتی ہیں، پھر وہ ان بادلوں کوآسمان میں پھیلادیتا ہے،جس طرح چاہتا ہے اور ٹکڑوں میں تقسیم کر تاہے، پھر تو دیکھتا ہے کہ بارش کے قطرے بادل میں سے ٹپکتے چلے آتے ہیں، وہ یہ بارش جب اپنے بندوں پر برساتا ہے تووہ یکایک خوش و خرم ہوجاتے ہیں" .آتش گل سے بھڑکتی وادیاں، اور جھرنے اور آبشاریں، ہرسو ہرارنگ اور ہرے رنگ کے کئی کئی رنگ۔ پھوٹتی کونپلیں، وہ جنھیں اقبال آج کل کے ایس ایم ایس نوٹیفیکشن سے تشبیہہ دیتے ہوئے کہتے ہیں، " گل کی کلی چٹک کر پیغام دے کسی کا"۔، نت نئے پرندوں کی موسیقی اور آپ سے ہمکلام سناٹا!!! کسی اختیاری کوشش کے بغیر تعریف و تسبیح زبان پر جاری ہوتی ہےاور آپ ازخود یگانہ ازہمہ بیگانہ کی کیفیت میں رہتے ہیں۔

قاری وحید ظفر قاسمی کا حمدیہ کلام دلوں کے تار چھیڑتاجارہاتھا اور مسافر عالم بے خودی میں تھے۔ نتھیاگلی ٹریکس پر ایک باسعادت جوان کو وہیل چیئر اپنی والدہ کو سیر کرواتے دیکھ کر دل باغ باغ ہوگیا، اکثر ہماری فہرست میں سے بزرگوں کو مائنس رکھنے کاچلن عام ہوچکا ہے، درحقیقت ذرا سا تردد خودکرنا پڑتا ہے اور یہ بخوشی ساتھ دینے کوتیار ہوتے ہیں۔ گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے علاقے میں صفائی کے معیار کو بلند کرنے میں گزشتہ کچھ عرصہ سے جو خدمات سرانجام دی ہیں وہ لائق ستائش ہیں۔ بلدیہ کا عملہ صفائی میں ہروقت مستعد ہے، جس کا نتیجہ صفائی کے معیار میں بتدریج اور بہترین اضافے کی صورت میں نکلا ہے۔ یہ اقدامات ان حالات میں کیے گئے ہیں جب گزشتہ کئی سالوں میں ،جہاں سیاحت کے رحجان نے فروغ پایا، سیاحوں کی کثرت سے آمدورفت نےزمینی آلودگی کے مسائل کو کئی گناہ بڑھا دیا تھا۔ راول ڈیم کا علاقہ ،جہاں تاحال ایسا کوئی اقدام نہیں کیاگیا، ہنوز،آبی تعفن، مردہ مچھلیوں اور گندگی کے جوہڑ کا نمونہ پیش کررہاہے۔ ،یہاں گلیات میں مخصوص فاصلوں پرڈسٹ بن کی فراہمی، سائن بورڈز کے ذریعے راستوں کی نشاندہی کےساتھ ساتھ نئے تفریحی مقامات تک عوام کی رسائی کو ممکن بنانا ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔تاہم خدشہ یا سوال یہ ہے کہ اس تبدیلی کو مستقل اور یقینی کیسے بنایا جائے۔ بالعموم دیکھا گیا ہے کہ بزور بازوکی جانے والی اصلاحات دیرپا ثابت نہیں ہوتیں، دوسری ناقابل فہم بات، عمومی رویے کی ہے۔

ایک پاکستانی، ڈاکٹر، انجینیئر، ریسرچر یا طالبعلم جس ذمہ دارانہ رویے کا مظاہرہ باہر کے ممالک میں جاکر کرتا ہے اس کی توقع یہاں نہیں کی جاسکتی۔ دین، جس ضابطہ اخلاق کا پابند کرتا ہے، وہ بذات خود اپنے اندر معاشی ، تقافتی، معاشرتی اور سیاسی انقلاب کا ضامن ہے۔ فکری انقلاب دیرپا اور مستقل ہے، جو آپ کو ایک ذمہ دار شہری بناتا ہے۔ اور انفرادی سطح پر ہر فرد خود کو احکام الہی کاپابند اورجوابدہ سمجھے تو بیشتر مسائل حیات حل ہوجائیں، اور خطہ پاک، جنت ارضی میں بدل جائے۔ یہاں کی مٹی میں روئیدگی باقی ہے اور نمی بھی۔ مسئلہ ایک بہترین اور ہمہ گیر نظام رائج کرنے کا ہے۔
برسبیل تذکرہ ،دوسری قابل توجہ چیز ، مقامی آبادی کے حوالے سے ہے، جنہیں دیکھ کر انگریزی کے مشہور افسانے کی یادآگئی۔کسی بادشاہ نے اپنی ریاست کو تین حصوں میں تقسیم کرکے ان کے نگران مقرر کیے اور ایک ماہ کی قلیل مدت کے بعدان کے درمیان مقابلے کے انعقاد کااعلان کروایا۔ وقت مقررہ پر، شاہی سواری جائزہ لینے کو نکلی،پہلی ریاست کو دیدہ زیب اور اونچی عمارتوں سے مزین کردیاگیا تھا،دوسری ریاست میں عمارات اور راستوں پر بیش قیمت آرائشی کام کرکے خوبصورتی سے سجایا گیا تھا، آخری ریاست کی باری آئی تو سادہ عمارات کے ساتھ ساتھ، تمتماتے پررونق چہروں والے انسانوں کا ہجوم تھا جو بادشاہ کے استقبال کو دوریہ راستوں پر، پھولوں کے گلدستے پیش کرنے اور پتیاں نچھاور کرنے کو بے تاب تھا۔

اس کے برعکس پچھلی دونوں ریاستوں کی رعایا مفلوک الحال اور اس قدر لاغر تھی کہ استقبال کو چند ایک لوگوں کے سوا کوئی موجود نہ تھا۔ چناچہ آخری ریاست اول انعام کی حقدار قرارپائی۔ ہم نے چیریز بیچنے والےدوننھے بھائیوں سے،ان کے سکول کے بارے میں پوچھا،نہایت اکتائے ہوئے جواب دیا کہ سکول نہیں جاتے کام کرتے ہیں۔اگرچہ اسکول نہ جانے کا جواب سن کربھتیجے کی آنکھیں حسرت اور رشک میں ڈوب چکی تھیں، جیسے بزبان خاموشی کہ رہا ہو، " شکر کرو ایک آزمائش سے تو محفوظ ہو، اور کیا چاہیے"۔ لیکن ان بچوں کے چہرے حالات کی چغلی کھا رہے تھے۔ چائلڈ لیبر پر بھی مکمل پابندی ، بالخصوص ان علاقوں میں،جہاں غیرملکی سیاحوں کی آمدورفت متوقع ہو، قابل غور ہے۔
میدانی علاقے کاواپس رخ کرتےہوئے طمانیت اپنی جگہ،لیکن جماعت پنجم کاسبق " وادئ کاغان کی سیر" ناسٹیلجک احساسات لیےساتھ ساتھ ہوتاہے۔۔ " عالیہ فہمی ، رابعہ کی قلمی سہیلی تھی، اگرچہ رابعہ۔کی خط وکتابت، برطانوی اور ہسپانوی لڑکیوں سے بھی تھی لیکن اسے سب سے زیادہ خوشی عالیہ کاخط پاکر ہوتی کہ اس کانام بہت مانوس اور پاکستانیوں جیسا تھ اس بار عالیہ نے لکھا تھا کہ اس کے ابا پاکستان آرہے ہیں اور اسے ساتھ لےآنے پررضامند ہیں" ۔۔ اور سیاحوں کے رجسٹر میں لکھے گئے تاثرات دور تک پیچھا کرتے ہیں، " میں جہاں کہیں بھی جاوں گی،اورجہاں رہوں گی، جھیل سیف الملوک اور لالہ زار میرے ساتھ ساتھ ہونگے"۔