موقف دوسروں کا اور تعبیر ہماری - مفتی منیب الرحمن

ہم کشمیر کی موجودہ صورتِ حال کے حوالے سے متاثرہ فریق ہیں، چین کے علاوہ اہم سربراہانِ ریاست وحکومت اوراقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا کوئی واضح پالیسی بیان نہیں آیا، ہماری وزارتِ خارجہ خود ہی اُن کی ترجمان ہے۔ یہ اشعار ہمارے حسبِ حال ہیں:


زِ اِختلاف ایں و آں، سر رشتہ را گم کردہ اَم

شُدپریشان خواب مَن ،اَز کثرتِ تعبیر ہا

گوہر چوں خود شناسی، نیست دَر بحر وجود

ما بہ ِگردِ خویش می گردیم چوں گردابہا

لفظ گر دارد تفاوت، صورت و معنی یکیست

اختلاف کفر و دیں، آئینہ دارِ وحدت است

اہل ہمت را نباشد، تکیہ بر بازوئے کس

خیمہ ٔ افلاک ،بے چوب و طناب استادہ است

عزت اَرباب معنی، نیست اَز نام ِپدر

بے نیاز اَز بحر گردد قطرہ، چون گوہر شود


ترجمہ:’’ ایں وآں (یہ اور وہ) کے اختلاف میں پڑکر میں نے اپنے کلام کا مقصود ہی گم کردیا، سو کثرتِ تعبیر کے سبب میرا خواب ہی بکھر گیا۔ اس کائنات کے سمندر میں خودشناسی یا خود آگاہی سے بڑھ کر کوئی قیمتی موتی نہیں ہے، میں سمندر میں اُبھرنے والے گرداب کی طرح اپنی ذات کے گرد ہی گھومتا رہتا ہوں۔ الفاظ میں اگرچہ فرق ہوتاہے ،صورت ومعنیٰ تو ایک ہی ہے ،کفر اور دین کا اختلاف بھی وحدت کا آئینہ دار ہے (کیونکہ عربی کا مقولہ ہے: چیزیں اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہیں ،یعنی شرک کی حقیقت سمجھے بغیر توحید کی معنویت کاپوری طرح ادراک نہیں کیا جاسکتا )۔ اہلِ عزیمت واستقامت کو دوسروں پر انحصار نہیں کرنا چاہیے (یعنی خود اعتمادی اور خود انحصاری ہی انسان کا کمال ہے )، (تم دیکھتے ہوکہ) اَفلاک کا خیمہ کسی ستون اور اُس سے بندھی جانے والی رسی (طنّاب) کے سہارے کے بغیر کھڑا ہے۔ اہلِ کمال کی عزت نسبی تفاخُر پر نہیں ہوتی (بلکہ ذاتی خوبیوں کی بناپر ہوتی ہے )، قطرہ جب سمندر سے بےنیاز ہو جاتا ہے اور اپنی خوبی پر انحصار کرتا ہے تو قیمتی موتی بن جاتا ہے‘‘۔

یہ اشعار خود شناسی، عرفانِ ذات اور خود اعتمادی کی تعلیم دیتے ہیں، محض نسبی برتری پر تفاخُر کسی کام کا نہیں ہے، اپنے اندر کمال پیدا کرو، ہر انسان کو قدرت نے بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا ہے، اپنے اندر خوابیدہ جوہر قابل اور ٹیلنٹ کو دریافت کرو، یہ کام جُہدِ مسلسل اور محنتِ شاقّہ کے بغیر نہیں ہوتا:


نامی کوئی بغیر مشقت نہیں ہوا

سو بار جب عقیق کٹا تب نگیں ہوا


اسی حقیقت کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:’’لوگوں کی مثال کانوں کی سی ہے ، جیسے چاندی اور سونے کی کانیں ، اُن میں سے جو زمانۂ جاہلیت میں کسی جوہرِ قابل کے حامل تھے ، اسلام قبول کرنے کے بعد جب انہوں نے دین کی کامل فہم حاصل کی تو وہ انسانیت کا بہترین اثاثہ قرار پائے ، (مسلم:2638)‘‘۔ کسی عارف نے کہا ہے: ’’جس نے خود کو پہچان لیا تو اس نے اپنے رب کو پہچان لیا‘‘۔

یہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’ہم عنقریب ان کو اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھائیں گے : آفاق( کائنات) میں اور خود ان کی اپنی ذات میں حتیٰ کہ ان پر آشکار ہوجائے گا کہ یہ قرآن حق ہے، کیا ان کے لیے یہ کافی نہیں کہ آپ کا رب ہرچیز پر گواہ ہے، (حم السجدہ: 53)‘‘۔اس آیت سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ ’’انفُس وآفاق‘‘ میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں موجود ہیں اور انسان اپنی ذات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ایک بڑا شاہکار ہے۔ پس جس طرح فرد کے لیے خود آگاہی اور خودشناسی ضروری ہے، اسی طرح امتوں، ملّتوں اور قوموں کے لیے بھی اپنی امکانی استعدادکا ادراک ضروری ہے۔ علامہ اقبال نے کہا ہے:


اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے مقبوضہ کشمیر بالخصوص سری نگر کے محاصرے پر بند کمرے میں اجلاس منعقد کیا۔ ہماری حکومت بالخصوص وزارتِ خارجہ نے اسے اپنی بہت بڑی کامیابی سے تعبیر کیا اور کسی حد تک یہ درست بھی ہے کہ 1965ء کے بعد پہلی بار مسئلہ کشمیر کسی نہ کسی اعتبار سے اقوامِ متحدہ میں زیرِ بحث آیا۔ سو ہم اسے ایک علامتی کامیابی سے تعبیر کرسکتے ہیں، اس کا کریڈٹ ہم سے زیادہ مودی حکومت کے اقدامات اور مظلوم کشمیریوں کی عزیمت واستقامت کو جاتا ہے ۔لیکن چونکہ ہمارے ہاں آج کل حقائق کو زیرِ بحث لانے کا کلچر نہیں ہے ،اس لیے کسی نے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ اس اجلاس کا کیا نتیجہ نکلا اور اس کے بطن سے پاکستان یا مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے لیے خیر کی کون سی صورت پیدا ہوئی ، کیونکہ اجلاس کے بعد نہ کوئی پریس ریلیز آیااور نہ کوئی متفقہ پالیسی بیان آیا ، البتہ سی این این کی سائٹ پر یہ پڑھنے کو ملا کہ جو اسٹیٹ منٹ زیرِ بحث تھا ،اس کے نتیجے میں پاکستان تنہا ہوجاتا ۔چین کے نمائندے نے یقینا ایک پالیسی بیان دیا ، چین مقبوضہ کشمیر کی حیثیت بدلنے کے اعتبار سے جزوی طور پر خود بھی متاثر ہے، لیکن چین بھی آخری حد تک جانے کے لیے آمادہ نظر نہیں آتا، صرف احتجاجی بیانات تک ہی محدود ہے، جنابِ شاہ محمود قریشی اور محترمہ ملیحہ لودھی عالمی رہنمائوں سے رابطہ کر کے خود ہی اُن کی ترجمانی فرماتے ہیں۔ سلیم کوثر نے کہا ہے:


میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے

سر آئینہ مرا عکس ہے پس آئینہ کوئی اور ہے


عالمی طاقتوں کے سربراہوں یا اقوامِ متحدہ کی طرف سے جو علامتی بیانات آئے ،کسی میں یہ نہیں کہا گیا کہ بھارت نے یک طرفہ طور پر عالمی معاہدات کو نظر انداز کر کے مقبوضہ کشمیر کی حیثیت کو تبدیل کرنے کا جو اِقدام کیا ہے، وہ اُسے واپس لے اور اصل صورتِ حال کو بحال کرے، بین الاقوامی برادری یا اقوامِ متحدہ کی طرف سے انضباطی اور تادیبی کارروائی توبہت دور کی بات ہے، کسی نے بھارت کے اس اقدام کی مذمت بھی نہیں کی۔ سعودی عرب اور امارات سمیت جن برادرمسلم ممالک پر زیادہ اعتماد تھا اور جاندار رَدِّعمل کی توقع تھی، اُن کے عملی اقدامات مخالف سَمت میں نظر آئے۔ ایسے عالَم میں کہ چار ہفتوں سے کشمیری مسلمانوں کو بھارتی افواج نے محاصرے میں لے کر یرغمال بنارکھا ہے، مسلسل کرفیو کا عالمی ریکارڈ قائم کیا جارہا ہے، متحدہ عرب امارات کی حکومت نے ظالم، غاصب اور قاتل مودی کو بلا کر اپنے بڑے قومی اعزاز سے نوازا، اسی اثنا میں سعودی عرب نے بھارت کے ساتھ سرمایہ کاری کا بہت بڑامعاہدہ کیا، یہ تمام اقدامات مقبوضہ کشمیر کے مظلومین کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں۔ ہم چونکہ اپنے معاشی بحران کی وجہ سے ان دونوں ممالک کے زیرِ بارِ احسان ہیں، اس لیے حکومتی سطح پر کوئی توانا احتجاج بھی نہ کرسکے۔ علامہ اقبال نے سچ کہا ہے:


تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے

ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات


غالب کا یہ شعر بھی ہمارے حسبِ حال ہے:


قرض کی پیتے تھے مے اور سمجھتے تھے کہ ہاں

رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن


ہمارے جو وزراء مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے بیرونِ ملک گئے ،نہ انہوں نے امریکا سمیت مغربی ممالک کی کسی مجلسِ مفکرین سے سنجیدہ مکالمہ کیا ،نہ حقوقِ انسانی کے اداروں کا دروازہ کھٹکھٹایا اور نہ مغربی حکمرانوں سے مفید ملاقاتیں کرسکے ، برطانیہ ، امریکا اور یورپی ممالک میں بھی اپنے ہم وطنوں سے ہی مکالمہ کیا یا پاکستانیوں کے بعض احتجاجی اجتماعات سے خطاب کیا، یہ ایک طرح کی خود کلامی ہی قرار پائے گی۔ اسی طرح FATF کے حالیہ اجلاس کو بھی ہم نے اس معنی میں اپنی کامیابی سے تعبیر کیا ہے کہ ہمیں بلیک لسٹ نہیں کیا گیا ،جبکہ واچ لسٹ والی ہماری پوزیشن بدستور قائم ہے، متعدد اقدامات کے باوجود ہمیں نیک چلن کی سند نہ مل سکی، پس پاکستان اور بھارت کے اعتبارسے یہ تعبیرات کافرق ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر، انٹرنیشنل لاء کیا کہتا ہے؟ آصف محمود

ہمارے معاشی منصوبہ ساز ہمیں یہ بشارت سنا رہے ہیں کہ معیشت خطرے سے نکل آئی ہے اور گاڑی استحکام کے ٹریک پر رواں ہوچکی ہے، دعا ہے کہ ہمارے خدشات غلط ثابت ہوں اورحقیقی صورتحال حکومتی دعوے کے مطابق ہو، لیکن ظاہری علامات اور اعداد وشمار اس کی تائید نہیں کر رہے اوراگر نوڈیل بریگزٹ ہوا جیساکہ اس کے خطرات موجود ہیں اور بھارت و امریکا میں بھی معاشی تنزُّل کے اشاریے نظر آرہے ہیں، توہماری معیشت کے لیے خطرات بڑھ جائیں گے۔ رِیَل اسٹیٹ سمیت کئی شعبوں میں معیشت جامد ہے ، ہم جب کاروباری طبقے سے پوچھتے ہیں تو وہ مایوسی کا اظہار کرتے ہیں ، حکومت نے حزبِ اختلاف کو دبانے اورمحصولات کو بڑھانے کے لیے جو اقدامات کیے ہیں،اُن کے سبب کاروباری طبقے پرجو خوف کی فضا طاری ہوئی ،وہ بدستور قائم ہے اور حکومت کی یقین دہانیوں پر تاجر اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔اب حکومت اعتماد کی بحالی کے لیے تگ ودو کر رہی ہے ، لیکن بصد ادب عرض ہے: ’’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘‘۔

اس خرابی کا سبب یہ ہے کہ بحیثیتِ قوم ہم اپنے رویّوں میں انتہا پسند واقع ہوئے ہیں، جَست لگاکر ایک انتہا سے دوسری انتہا تک پہنچ جاتے ہیں، اعتدال اور حکیمانہ روش ہمارے مزاج کا حصہ نہیں ہے، ہم عواقب پر غور کیے بغیر اقدامات کرلیتے ہیں اور جب نتائج خلافِ توقّع آتے ہیں تو پہلے اپنے اقدامات پر اصرار کرتے ہیں اور ناکامی کی صورت میں رجوع کرلیتے ہیں، لیکن اس عرصے میں حکومت اور کاروباری طبقات کے درمیان جو بے اعتمادی پیدا ہوجائے ، اس کا ازالہ مشکل ہوجاتا ہے۔ جنابِ وزیرِ اعظم سیاست میں اکثر کرکٹ کی اصطلاحات استعمال کرتے ہیں اور مسلسل مزاحمت کو اپنی خوبی بتاتے ہیں ، لیکن حکمرانی ایک سائنس ہے، اس میں حالات سے مطابقت پیدا کرنی پڑتی ہے۔ مسلسل مخاصَمت سے اَنا کو تسکین تومل جاتی ہے ، لیکن قوانینِ فطرت اپنی جگہ کارفرما ہوتے ہیں۔ آج کل معروف لبرل دانشور برانگیختہ کر رہے ہیں کہ کشمیر کی تحریکِ آزادی کو انگیخت کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے بیرونی مدداور رسد کانظام ناگزیر ہے، یعنی اب ریاستی کردار ادا کرنے کا وقت آگیا ہے۔

کچرا سیاست: اصل مسائل پر گفتگو کی کسی میں ہمت نہیں رہی یا شجرِ ممنوعہ قرار پایا ہے، لہٰذا گزشتہ ایک ماہ سے کراچی کے کچرے پر سیاست ہورہی ہے ، میڈیا بھی اس کا حصہ ہے ، یہ سب کھلواڑ ہے، تماشا ہے،اہلِ کراچی کی توہین ہے۔ سید مراد علی شاہ، علی زیدی، وسیم اختر، سعید غنی سمیت تمام حضرات جانتے ہیں کہ بیماری کرونک ہے، نمائشی اقدامات بے سود ہیں، اور ان کا مقصد صرف کراچی کے عوام کو بے وقوف بنانا ہے۔ اس کا ایک ہی حل ہے کہ کراچی کے حالات بہتر بنانے کے لیے ایک مالیاتی پیکج منظور کیا جائے۔ ایک با اختیار غیر سیاسی کمیشن کی نگرانی میں وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتیں یکسوئی کے ساتھ اس پر عمل درآمد کریں، اس کے ٹی او آر واضح اور جامع ہوں۔