حجاب عورت کا محافظ ہے - نگہت فرمان

حجاب اسلام کا خواتین کو عطاکردہ بہترین تحفہ اور اس کا محافظ ہے۔ قرآن کریم کا ہر حکم مسلمان مرد و عورت کے لیے بجا لانا لازمی ہے، اسی لیے حجاب کا حکم جب آیا تو دنیا نے دیکھا کہ افضل ترین خواتین نے افضل ترین مردوں سے حجاب کیا۔ جن کی پاکیزگی کی گواہی خود رب کائنات نے دی۔ حجاب کا حکم قرآن کریم کی سورۃ نور کی آیت نمبر 31میں نازل ہوا۔ ’’اور اے نبیﷺ مؤمن عورتوں سے کہہ دیں کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ سنگھار نہ دکھائیں بجز اس کے کہ جو خود ظاہر ہوجائے اور اپنے سینوں پر اپنی چادروں کے آنچل ڈالے رکھیں۔‘‘ ان آیات کو پڑھنے و سمجھنے کے بعد کیا کوئی مسلمان یہ کہہ سکتا ہے کہ حجاب صرف کلچر یا معاشرتی اقدار ہے۔ یہ قرآن کا واضح حکم ہے جسے سمجھ کر مسلمان خواتین بڑے فخر اور بغیر کسی احساس کمتری کا شکار ہوئے اپنائے ہوئے ہیں، انہیں ہر لمحہ یہ احساس تسکین دے رہا ہوتا ہے کہ میرے رب کے لیے میں سب سے قیمتی ہوں اور وہ مجھے اسی لیے محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔

حجاب پابندی یا جبرکی علامت نہیں بلکہ یہ تو انعام الہی ہے کہ جیسے سیپ کے اندر موتی محفوظ ہوتا ہے، ایسے ہی حجاب میں عورت۔ حجاب کا پسماندگی اور دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ ہمارا فخر اور وقار ہے۔ مغربی ممالک کے اندر جب عورتوں کے اندر دینی شعور بڑھا تو خوف زدہ مغرب نے اس پر پاپندی عائد کرنی شروع کردی، اقوام متحدہ نے اس پابندی کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے نظرثانی کا مطالبہ کیا مگر اس پر کان نہ دھرے گئے۔

فرانس وہ پہلا یورپی ملک تھا جس نے 2011ء میں عوامی مقامات پر چہرے کے نقاب پر پابندی عائد کی تھی، جبکہ جرمنی میں چہرہ چھپانے پر جزوی پابندی ہے۔ پھر ہالینڈ، جرمنی، ڈنمارک، اٹلی اور بیلجیم میں حجاب پر پاپندی عائد کر دی گئی۔ حجاب کے خلاف آج بھی مختلف مغربی ممالک میں مختلف ہتھکنڈے استعمال کیے جارہے ہیں کہیں قانون سازی کی جارہی ہے تو کہیں تعلیم و نوکریوں کے دروازے بند کیے جا رہے ہیں۔ کہیں دہشت گردی ہو تو بھی نقاب کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ حال ہی میں سری لنکا میں ایسٹر پر ہونے والے افسوس ناک حملے کے بعد وہاں بھی نقاب پر پابندی لگادی گئی۔ واضح رہے اس کے خلاف بل پہلے پیش کیا گیا تھا لیکن اس حملے کے بعد ہنگامی طور پر صدارتی قانون کے تحت پابندی لگائی گئی۔ گزشتہ سال ڈنمارک میں حجاب پر پابندی لگائی گئی۔ اس ضمن میں سارا نامی 30 سالہ مسلمان خاتون کا کہنا تھا کہ ’ان کا سسٹم سے اعتماد ہی اٹھ چکا ہے‘، انہوں نے بتایا کہ وہ ترکی سے ہجرت کرنے والے والدین کے ہاں ڈنمارک میں ہی پیدا ہوئیں اور 18 سال کی عمر سے نقاب کر رہی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مجھے احساس ہوگیا کہ جمہوریت قابل عمل نہیں،جب مسئلہ مسلمانوں کے خلاف ہو تو آزادی اور حقوق کی بات کرتے ہیں، لیکن جب بات مسلمانوں کی آتی ہے تو وہ لباس کےا نتخاب کا حق بھی چھین لینا چاہتے ہیں۔ اس پابندی کے نتیجے میں ڈینش معاشرے میں مسلمانوں کے گھلنے ملنے کے بجائے مخالفانہ جذبات میں اضافہ ہوگا۔ چہرے کے نقاب کا معاملہ پورے یورپ میں ہی خاصہ متنازع رہا ہے، اور رہے گا، کیوں کہ یہ ہمارا تشخص و پہچان مٹانا چاہتے ہیں، لیکن جس طرح پہلے یہ ناکام رہے ان شاء اللہ آئندہ بھی رہیں گے۔ پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   حجاب کی آڑ میں - سجاد میر

ان بے چاروں کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کے معاشی و معاشرتی سرگرمی اور ترقی کا کوئی کام اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک عورت کو نمائش کے لیے نہ پیش کر دیں۔ انھوں نے دنیا میں کہنے کو معاشی ترقی تو حاصل کر لی لیکن انسانی اقدار کو تباہ کر دیا ہے۔ خاندانی استحکام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا ہے۔ عورت جب شوہر کی قوامیت کا سائبان چھوڑ کر اور بےحجاب ہو کر باہر نکلتی ہے تو ہوس ناک نگاہوں کا شکار ہوتی ہے، خود بھی جھوٹ میں تسکین تلاش کرتی اور بے آبرو ہوتی ہے۔ مغربی ممالک نے خود تو اپنا معاشرہ تباہ کردیا اب نشانہ ہماری طرف ہے۔ لیکن یہ دیکھ کر بہت خوشی محسوس ہو تی ہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے دوسرے اسلامی ممالک کی طرح پاکستان میں بھی 4 ستمبر کو عالمی یوم حجاب کے طور پر پورے جوش و خروش سے منانے کا اہتمام کیا جا رہا ہے جس کا مقصد حجاب کا استعمال عام کرنے کے ساتھ اس کی اہمیت اور افادیت کو بھی اجاگر کرنا ہے۔ اب سے چند سال پہلے تک حجاب محدود تھا لیکن پھر اس پر لگائی جانے والی بڑی طاقتوں کی پابندیو ں نے اسے وہ مقام دلوا دیا کہ اب بڑے بڑے فیشن ایبل کالجز کی لڑکیاں بھی اسے بطور فیشن ہی صحیح اپنائے ہوئے ہیں۔ ضرورت ان کو بس یہ باور کرانے کی ہے کہ حجاب ہمارا فخر ہے اور دنیا کی کوئی طاقت ہمارا یہ حق ہم سے چھین نہیں سکتی۔ یہ حجاب ہی ہے جو ہمیں بے شمار برائیوں اور عیوب سے بچاتا ہے۔ اہل مغرب کی تقلید کرنے والے اور نام نہاد روشن خیال اس کو معیوب سمجھتے اور اس کو عورت کے لیے ایک قید تصور کرتے ہیں۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ عورت گھر کی زینت ہے اور عربی زبان میں لفظ عورت کا مطلب ہی چھپا کر رکھنے کے ہیں اور انسانی فطرت ہے کہ وہ اپنی قیمتی متاع کو چھپا کر رکھتا ہے۔ خود سے زیادہ اس کی حفاظت کرتا ہے۔ اسلام عورت کو آرائش و زیبائش سے نہیں روکتا بلکہ حدود میں یہ سب کچھ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ زیب و زینت کی جائے مگر حجاب کا خیال رکھا جائے، نامحرموں کے سامنے اس کی نمائش سے گریز کیا جائے، تاکہ معاشرے کے دیگر افراد کو گناہوں اور گم راہی سے بچایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:   صرف خواتین کے لیے، تم عورت ہو - ہما فلک

ہمارا دین پاکیزہ زندگی گزارنے کے لیے مکمل رہنمائی کرتا ہے۔ انسان اپنے ظاہری حلیے سے پہچانا جاتا ہے۔ اس کےمذہبی اور اخلاقی رجحانات اس کے ظاہری حلیے سے ظاہر ہوتے ہیں۔ جو باطن کا بھی آئینہ دار ہوتا ہے۔ لباس ہماری زندگی میں بہت اہمیت رکھتا ہے اور بحیثیت ایک مسلمان ہمیں اپنے لباس میں اس کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ ہم ایک مسلمان باوقار خاتون دکھائی دیں۔اسی لیے رب کائنات نے بھی کہا کہ "تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور نہ ستائی جائیں"ـ

جاب یقینا خواتین کا وقار ہے اور اس کا تعلق براہ راست شرم وحیا سے ہے۔ کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے ہمارے معاشرے میں دوپٹے، چادر یا حجاب کے بغیر باہر نکلنا معیوب سمجھا جاتا تھا اور خواتین پردے کا خاص خیال رکھتی تھیں اور بچیوں کو بھی اس بات کی تربیت دی جاتی تھی۔ لیکن معاشرہ ترقی کرتا گیا اور اخلاقی و مذہبی اقدار پامال ہوتی گئیں، جس کے بہت سے نقصانات سامنے آئے ہیں۔ اس فیشن انڈسٹری نے دوپٹے کو عورت کے لباس سے گھٹا دیا ہے اور وہ دوپٹہ و چادر جس سے خواتین کو چھپانے کا حکم تھا، کاندھوں پر بوجھ لگنے لگا ہے۔ اسی کے نتیجے میں ہم اپنے معاشرے میں برائیاں پنپتے دیکھرہے ہیں، ہوس زدہ نگاہیں کسی بھی کونپل کو مچل دیتی ہیں، ہم کچھ عرصہ روتے پھر بھول جاتے ہیں۔ اس کا سدباب کرنا ازحد ضروری ہے۔

حجاب کی عادت ابتداء ہی سے بچیوں کو ڈالیں، انہیں محفوظ رکھنے کے لیے ورنہ جن مسائل سے مغربی معاشرہ نبرد آزما ہے، ہمیں بھی اسی سب کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ابھی ابتداء ہے، ابھی سے اس سیلاب بے حیائی کے آگے بند باندھ لیں، اور حجاب و حیا کو اپنا حقیقی محافظ جانی،ں اسی میں عافیت ہے۔ شاعر مشرق علامہ محمد اقبالؒ عورت کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں؎


بتولےؓ باش و پنہاں شو ازیں عصر

کہ در آغوش شبیرےؓ بگیری


سیّدہ فاطمۃ الزہرا [بتول] بن جائو، اور اس زمانے کی نظروں سے چھپ جائو کہ تمھاری گود میں ایک شبیرؓ پرورش پاسکے۔

ایک ایسے دور میں جب اقبال کی شاعری شوقیہ لوگ کوٹ کرتے ہیں، ہمیں اس کی اصل روح کے ساتھ سمجھنا ہوگا۔ اگر غور کریں تو یہ احکام ہمارے لیے کتنے سود مند ہیں اور پاکیزہ معاشرے کے قیام کی طرف اہم قدم بھی۔ بس یہی سوچ کر اپنے رب کی رضا اور بچوں کے مستقبل کے لیے خود کو ان احکامات کا پابند کرلیں۔