مسلمان خواتین کے برقعہ پہننے کے حق میں تقریر کرنے والے تن من جیت سنگھ کون ہیں؟

برطانیہ کے دارالعوام میں چار ستمبر کو پارلیمان کے ممبر تن من جیت سنگھ کو یہ تو اندازہ تھا کہ وہ ایوان میں کیا کہہ رہے ہیں اور اس کا کیا ردِ عمل ہو گا لیکن شاید ان کو یہ اندازہ ہرگز نہیں تھا کہ ان کی تقریر کو بعد ازاں دنیا بھر میں اتنی پذیرائی ملے گی۔

ان کی تقریر مسلمان خواتین کے برقعہ پہننے کے حق میں تھی۔ ڈیڑھ منٹ کی یہ تقریر سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایسی وائرل ہوئی کہ اب تک ساڑھے چھ لاکھ کے قریب لوگ اسے دیکھ چکے ہیں، دو ہزار سے زائد لوگوں نے اس پر تبصرے اور اتنی ہی تعداد میں ہی لوگوں نے اسے شیئر بھی کیا۔

مختصراً یہ برطانیہ کے دارالحکومت لندن کے مضافاتی علاقے سلاؤ سے تعلق رکھنے والے تن من جیت سنگھ ایک دم اتنے مشہور ہوئے کہ کئی لوگوں نے یہ بھی کہا کہ ان جیسے رہنماؤں کو انڈیا اور پاکستان جیسے ممالک میں ہونا چاہیے جہاں ان کی زیادہ ضرورت ہے۔

چار ستمبر کو تن من جیت سنگھ پارلیمان کے وقفہ سوالات کے سیشن میں وزیرِ اعظم بورس جانسن سے مخاطب تھے۔ انھوں نے اپنے خطاب میں بڑے جذباتی انداز میں وزیرِ اعظم کو یاد دلایا کہ انھوں نے ماضی میں مسلمان خواتین کو برقع پہننے کی وجہ سے 'لیٹر بکس' اور 'بینک چور' کہا تھا جس پر نہ تو اب تک انھوں نے اور نہ ہی ان کی جماعت نے معافی مانگی اور نہ ہی ملک میں اسلاموفوبیا کے متعلق کوئی قدم اٹھایا ہے۔

تن من جیت نے اپنے خطاب میں کہا کہ 'اگر میں پگڑی پہننے یا کراس پہننے، یا کپا یا ٹوپی پہننے کا فیصلہ کرتا ہوں، یا وہ (خواتین) حجاب یا برقع پہننے کا فیصلہ کرتی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس سے اس اسمبلی کے معزز اراکین کو یہ حق مل جاتا ہے کہ وہ حلیے کے بارے میں توہین آمیز اور باعثِ تفریق بیان دیں۔‘


'ہم میں سے وہ جن کو چھوٹی عمر سے ہی مختلف ناموں سے پکارا جانا برداشت کرنا پڑتا ہے جیسا کہ 'تولیے کے سر والا' یا 'بونگو بونگو لینڈ سے آنے والا'، وہ یہ اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ مسلمان خواتین کو کتنا دکھ اور تکلیف ہوتی ہو گی جب انھیں اس طرح بیان کیا جائے کہ وہ 'بینک چور' اور 'لیٹر بکس' لگتی ہیں۔'

تن من جیت کے ان الفاظ پر درالعوام تالیوں سے گونج پڑا اور وزیرِ اعظم پریشان دکھائی دیے لیکن سلو کے ممبر پارلیمان یہاں پر نہیں رکے۔ انھوں نے وزیرِ اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جعلی تحقیقات کے پیچھے چھپنے کے بجائے وہ آخر کار کب اپنے توہین آمیز اور نسل پرستانہ الفاظ پر معافی مانگیں گے۔ انھوں نے الزام لگایا کہ وزیرِ اعظم کے ان الفاظ کی وجہ سے ملک میں نفرت پر مبنی جرائم میں صرف ایک ہفتے میں 375 فیصد اضافہ ہوا تھا۔

تن من جیت جو آل پارٹیز پارلیمانی گروپ آف برٹش مسلمز کے وائس چیئر بھی ہیں کہتے ہیں کہ بورس جانسن کے اخبار میں اس کالم کے چھپنے کے بعد 'کئی مسلمان خواتین کے حجاب اتارنے کی کوشش کی گئی، کئی ایک کو برا بھلا کہا گیا اور کئی ایک پر انڈے اور ٹماٹر پھینکے گئے۔'

تن من جیت سنگھ کون ہیں؟
تن من جیت سنگھ برطانیہ کے علاقے سلو میں انڈین نژاد سکھ خاندان کے ہاں پیدا ہوئے۔ انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم برطانیہ اور انڈیا میں حاصل کی۔ انھوں نے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کے والدین چاہتے تھے کہ وہ اپنے پنجابی کلچر کے متعلق بھی کچھ جانیں اور اسی وجہ سے انھیں بچپن میں پنجاب بھیجا گیا تھا۔ تن من جیت نے اس روایت کو جاری رکھا ہے اور اپنے بچوں کو بھی پنجابی اور ثقافت سیکھنے کے لیے کچھ عرصہ پنجاب میں رکھا۔

تن من جیت سنہ 2017 میں سلاؤ سے ممبر پارلیمان منتخب ہوئے۔ ان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ پگڑی پہننے والے پہلے سکھ ممبر پارلیمان ہیں۔ اس سے پہلے سکھ ممبر پارلیمان تو تھے لیکن وہ پگڑی نہیں پہنتے تھے۔


تن من جیت نے ریاضی اور منیجمنٹ سٹڈیز میں یونیورسٹی کالج لندن سے ڈگری کے بعد اوکسفوڈ کے کیبل کالج سے شماریات میں تعلیم حاصل کی اور پھر کیمبرج یونیورسٹی کے فٹز ولیم کالج سے جنوبی ایشیا کی تاریخ اور سیاست میں ایم اے کیا۔

ممبر پارلیمان بننے سے پہلے تن من جیت بھی اپنے والدین کی طرح تعمیرات کے کاروبار سے وابستہ تھے۔ اپنی مختلف قسم کی تعلیم کے ساتھ ساتھ وہ مختلف زبانیں بھی بولتے ہیں جن کی تعداد بقول ان کے آٹھ ہے جس میں پنجابی، اردو، ہندی، فرانسیسی، جرمن، لاطینی، اطالوی اور خود ان کے بقول ’تھوڑی سی انگلش‘ بھی شامل ہے۔

'جتھے کھڑے آں، اوتھے کھڑے آں'
تن من جیت کہتے ہیں کہ سچ بولنے پر اور ظلم اور زیادتی کے خلاف آواز اٹھانے پر کئی لوگ خلاف بھی ہو جاتے ہیں اور سوشل میڈیا پر آپ کو ٹرول بھی کرتے ہیں۔ 'لیکن میں تو جو سچ سمجھتا ہوں وہ سینہ ٹھونک کر کہوں گا۔' انھوں نے کہا کہ ہمیں پنجابی میں سکھایا جاتا ہے کہ 'جس چیز پر وشواس ہے اس پر ڈٹ جاؤ۔ جتھے کھڑے آں، اوتھے کھڑے آں چاہے کوئی نال ٹرے یا نہ ٹرے۔'

'کشمیریوں کو برا تو ضرور لگے گا'
تن من جیت کا کشمیر پر موقف بھی ان کی اصول پرست سیاست کا عکاس ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر کسی سے اس کی زمین کو ایک دم چھین لیا جائے تو اسے تو برا لگے گا ہی۔ اس کے علاوہ پوری ریاست کو لاک ڈاؤن کرنا بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ چاہے کشمیروں کا حق ہو، چاہے پنجابیوں یا کسی کا بھی حق ہو ہم جیسے لوگوں کو اس پر ضرور بولنا چاہیے۔

'بہت سے لوگ پنجاب میں مجھے کہتے ہیں کہ آپ اس مسئلے میں کیوں پڑ رہے ہیں۔ میں انھیں کہتا ہوں کہ اگر کل کو پنجاب کی سٹیٹ کو دو حصوں میں بانٹ دیا جائے اور اسے یونین ٹیریٹری بنا دیا جائے تو اس سے پنجابی بالکل نہیں خوش ہوں گے اور میں ان کے حق میں بھی ایسے ہی کھڑا ہوں گا جیسے اب کھڑا ہوں۔ پنجاب کا دارالحکومت چندی گڑھ ایک یونین ٹیریٹری ہے اور وہ ہم پنجابیوں کو بالکل پسند نہیں اور اگر پوری سٹیٹ کو ہی یونین بنا دیں گے تو لوگوں کو ضرور برا لگے گا۔'