سورج کی روشنی جیسی تمام صفات والا 'مصنوعی سورج'

انسان طویل عرصے سے اس کوشش میں ہے کہ وہ ایسی روشنی کا اہتمام کرلے جس میں قدرتی سورج کی روشنی جیسی تمام صفات ہوں۔با الفاظ دیگر وہ مصنوعی سورج بنانا چاہتا ہے تاکہ وہ جب اور جیسے چاہے اس سے قدرتی سورج جیسی روشنی حاصل کرسکے۔

مختلف ممالک کے سائنس دان اس ضمن میں کوششیں کرتے رہے ہیں، لیکن تاحال ان میں سے کسی کو بھی کامیابی حاصل نہیں ہوئی ایسی ہی ایک کوشش مارچ 2017 کے اواخر میں جرمنی میں کی گئی۔

جرمن سائنس دانوں نے دنیا کا سب سے بڑا 'مصنوعی سورج چند سال قبل روشن کیا۔ انہیں توقع ہے کہ اس کی روشنی ماحول دوست ایندھن کی تیاری کے لیے استعمال کی جاسکے گی۔یہ تجربہ جرمن شہر کولون کے مغرب میں 19 میل دور واقع شہر ژیولِش میں کیا گیا۔

یہ سورج 149 بڑے بڑے لیمپس (فلم پرو جیکٹر اسپاٹ لائٹس) پر مشتمل ہے، ماہرین کے مطابق اس تجربے کا بنیادی مقصد توانائی کے نئے ماحول دوست ذرائع تلاش کرنا ہے، اس تجربے کو Synlight کا نام دیا گیا ہے۔

جرمن ایرواسپیس سینٹر ڈی ایل آر کے سائنس دان اس مصنوعی سورج کی تیز روشنی اور حرارت کے ساتھ تجربات کر کے یہ پتا لگانا چاہتے ہیں کہ سورج سے جو بے پناہ توانائی روشنی کی صورت میں زمین تک پہنچتی ہے، اُسے کیسے زیادہ مؤثر طریقے سے محفوظ کیا جا سکتا ہے۔

اس مقصد کے لیے 149 بڑے بڑے لیمپس استعمال کر کے زمین پر آنے والی قدرتی سورج کی روشنی سے 10 ہزار گنا تیز روشنی پیدا کی گئی۔ جب تمام لیمپس نے روشنی کو ایک نقطےپر مرکوز کیا تو اُس وقت یہ آلات 3500 ڈگری سینٹی گریڈ درجۂ حرارت پیدا کر رہے تھے۔

تجربہ کرنے والے سائنس دانوں کے مطابق جب یہ مصنوعی سورج روشن کیا جاتا ہے اگر اُس وقت کوئی شخص تجربہ گاہ میں چلا جائے تو فوراً جل جائے گا۔ اس تحقیق سے وابستہ ماہرین کے مطابق اس تجربے کا مقصد قدرتی سورج کی روشنی کو ہائیڈروجن ایندھن کی تیاری کے لیے استعمال کرنا ہے۔ یاد رہے کہ سولر پاور اسٹیشنز میں شیشوں کو سورج کی روشنی، پانی کی جانب مرکوز کرنے کےلیے استعمال کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں پانی بخارات بن کر اڑتا ہے۔ یہ بخارات بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

اس نئے تجربے میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ کیا اس طرح سورج کی روشنی سے پانی کو بخارات میں تبدیل کر کے ہائیڈروجن حاصل کیا جا سکتا ہے جسے طیاروں اور گاڑیوں کے ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاسکے۔

قدرتی سورج بنیادی طور پر روشنی کی شکل میں توانائی فراہم کرتا ہے، لیکن یہ مصنوعی سورج روشن کرنے کے لیے توانائی استعمال کرنا پڑتی ہے۔ ان تجربات میں استعمال ہونے والے لیمپس بجلی سے چلتے ہیں۔

چار گھنٹوں کے اس تجربے میں اتنی بجلی استعمال ہوئی جتنی چار افراد پر مشتمل گھرانہ ایک سال میں استعمال کرتا ہے تاہم سائنس دانوں کو توقع ہے کہ مستقبل میں قدرتی سورج کی روشنی کو ہائیڈروجن حاصل کرنے کے لیے کاربن نیوٹرل ذریعے سے استعمال کیا جاسکے گا۔

جرمن ماہرین کے مطابق ان تجربات کے دوران جن نکات پر توجہ مرکوز کی جائے گی، اُن میں سے ایک کا تعلق مؤثر طور پر ہائیڈروجن پیدا کرنے سے ہے، جو طیاروں کے لیے مصنوعی ایندھن تیار کرنے کی جانب پہلا قدم ہے۔

ان تجربات کا مقصد پانی کے مولیکیولز کو توڑ کر آکسیجن اور ہائیڈروجن میں تقسیم کرنا ہے۔ ہائیڈروجن کو خاص طور پر مستقبل کی بہت ماحول دوست توانائی کے ذر یعے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

مذکورہ تجربہ خاص طور پر تیار کی گئی تجربہ گاہ میں کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق ایسے تجربات قدرتی ماحول میں اس لیے نہیں کیے جاسکتے کہ دھوپ کی شدت مختلف مقامات پروقتا فوقتا تبدیل ہوتی رہتی ہے۔اس لیے تجربہ گاہ میںیہ مصنوعی سورج تیار کیا گیا ہے تاکہ تجربات کے لیے مسلسل یکساں شدت کی روشنی اور حرارت میسر آسکے ۔

تجربہ گاہ میں کیے جانے والے تجربات سے زیادہ درست نتائج حاصل ہونے کی امید کی جا رہی ہے۔ اسی طرح یہ توقع بھی کی جا رہی ہے کہ پانی کےسالمے توڑ کر ہائیڈروجن حاصل کرنے کا ایسا طریقہ معلوم ہو سکے گا جو آج کل رائج طریقوں کے مقابلے میں کافی سستا بھی ہو گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مصنوعی سورج کی روشنی اصل سورج کی روشنی سے ملتی جلتی ہے۔ اس میں استعمال کیے جانے والے لیمپس کی اندرونی سطح چمک دارہے اور ان میں سے ہر ایک کا قطر ایک میٹر ہے۔

ان تمام لیمپس کو 14 میٹر اونچے اور 16 میٹر چوڑے تختے پر شہد کی مکھیوں کے چھتے جیسی شش پہلو شکل میں نصب کیا گیا ہے۔ان کی روشنی ایک نقطے پر مرکوز کرنے سے اتنی زیادہ روشنی حاصل ہوتی ہے جو 10 ہزار سورج کی روشنی جتنی تیز ہوتی ہے۔

اس مصنوعی سورج سے دیواروں پر پڑنے والی بالواسطہ روشنی کی حِدّت بھی اتنی شدید ہے کہ انسان اُسے محض ایک سیکنڈ تک ہی برداشت کر سکتا ہے۔

چین میں بھی مصنوعی سورج

گزشتہ برس ایک خبر آئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ چینی سائنس دانوں نے ایک اور کارنامہ کر دکھایا ہے جس سے دنیا حیران رہ گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق چینی سائنس دان نظامِ شمسی کے سورج سے آٹھ گنا زیادہ گرم مصنوعی سورج بنانے میں کامیاب ہو گئے اور اس کا تجربہ بھی کر لیا گیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق تجربے کے دوران اس مصنوعی سورج کا درجہ حرارت 50 ملین ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی زیادہ تھا۔

یہ سورج ہیفی انسٹیٹیوٹ آف فزیکل سائنس (Hefei Institute of Physical Science) کے ماہرین نے بنایا ہے۔اس انسٹیٹیوٹ سے وابستہ سائنس داں، ژو جیانان(Xu Jiannan) کے مطابق یہ مصنوعی سورج تھرمو نیوکلیئر فیوژن کے عمل کے ذریعے توانائی پیدا کرتا ہے اور اس کے ذریعے لامحدود توانائی حاصل کی جا سکتی ہے۔

تجربے کے دوران اس سورج سے 102 سیکنڈز تک 50ملین ڈگری سینٹی گریڈ تک توانائی حاصل کی گئی۔ یہ توانائی ہا ئیڈ روجن کے ریڈیو ایکٹیو آئسوٹوپس کے تعامل سے حاصل کی گئی۔ ہائیڈروجن بم بھی تھرمو نیوکلیئر فیوژن کے عمل کے ذریعے تاب کاری اور توانائی پیدا کرتا ہے۔ اس تجربے کے بعد یہ خبر بھی آئی تھی کہ چینی سائنس دان ہائیڈروجن گیس کی ایسی قسم بنانے کے قابل ہوگئے ہیں جو سورج سے تین گُنا زیادہ گرم ہے، یہ مصنوعی شمسی توانائی لازوال توانائی کے طور پر استعمال ہوگی جو موجودہ ایندھن کے ذرائع پر انحصار ختم اور دنیامیں توانائی کے بحران کا مسئلہ حل کردے گی۔بتایا گیا کہ چین نے یہ تجربہ ہیفی میں واقع انسٹیٹوٹ آف فزیکل سائنس کے بڑے مقناطیسی فیوژن ری ایکٹر میں کیا۔

یاد رہے کہ یہ ری ایکٹر 1950کی دہائی میں روس کی جانب سے بنایا گیا تھا۔ اس مصنوعی سورج کے مرکزے کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ 15 ملین ڈگری سینٹی گریڈ کا درجۂ حرارت رکھتا ہے۔گوکہ جرمن سائنس دانوں کی جانب سے کیے گئے گزشتہ تجربے میںاس سے زیادہ درجہ حرارت حاصل کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا لیکن وہ اسے اتنی دیر تک برقرار نہیں رکھ پائے تھے۔

ماہرین کے مطابق یہ بہت بڑی کامیابی ہوسکتی ہے لیکن اس عمل کو بہتر بنانے میں شاید دُہائیاں لگ جائیں تب جاکر شاید اسے توانائی کے ذریعے کے طور پر استعمال کیا جاسکے گا۔