امن کا شہر اور سلامتی کا سفر - ڈاکٹر میمونہ حمزہ

حرم کی جانب جانے والے ہر سفر کی اپنی ہی شان ہے، ’’واذّن فی الناس بالحج‘‘ کا اعلان صدیوں پہلے کیا گیا، اسی وقت سے حج و عمرہ کے قافلے بیت عتیق کی جانب رواں دواں رہتے ہیں، پیدل بھی اور سوار بھی، زمینی سفر بھی اور سمندری اور ہوائی بھی، مگر ہر جانب سے آنے والوں کی پکار ایک ہی ہے ’’لبیک اللھم لبیک، لبیک لا شریک لک لبیک ۔۔‘‘

ہم عمرہ ادائیگی کے لیے چھٹیوں کے انتظار میں تھے، معلوم ہوا کہ یہ سفر پہلے سے مختلف ہوگا، یعنی اب کی بار اپنی گاڑی سے، جو اگر خرید لی گئی، ڈرائیونگ ٹیسٹ پاس کرنے کا مرحلہ تازہ تازہ ہی سر ہوا تھا۔ نئی نکور گاڑی پورے دن کی مشقت کے بعد رات کی آخری سانسوں میں گھر پہنچی تھی، اور دو دن بعد عمرے کے سفر کا آغاز تھا۔ صاحب کام سے واپس آئے تو کچھ پریشان تھے، راستے میں کسی چیک پوائنٹ سے گزرتے ہوئے گاڑی کے ٹائر میں کیل لگ گئی، اور اسے چار پانچ انچ پھاڑ کر دوسری جانب نکل گئی، یعنی ہماری کشتی بھی آغاز ِ سفر ہی میں عیب دار ہو گئی، جسے عیب دار بنانے والا دکھائی بھی نہ دیا کہ مثل ِ موسی سوال کیا جاتا: ’’أخرقتہا لتغرق اھلہا‘‘، (تم نے اس میں اس لیے سوراخ کر دیا ہے کہ یہ مسافروں کو ڈبو دے) ٹائر کے شگاف کے بعد سفر کھٹائی میں پڑنے کا امکان تھا، مگر صاحب نے ہمت نہ ہاری اور دوسرا ٹائر خریدنے مارکیٹ پہنچ گئے، مگر کیا کیجیے کہ جاپانی گاڑی کے لیے ہر جگہ چینی ٹائر! یعنی ہر جگہ دو نمبر مال، بہت دیر سے واپسی ہوئی۔ اگلے دن صبح سویرے نکلنے کا پروگرام تھا، لیکن ہم دس بجے گھر سے نکلتے ہوئے سوچ رہے تھے کہ ذاتی گاڑی کے فوائد کے ساتھ کچھ نقصانات بھی ہیں، جس میں سے ایک سستی وکاہلی ہے، ہم سے آگے رہنمائی کے فرائض ادا کرتے ڈاکٹر صاحب بھی اپنی فیملی کے ساتھ تھے۔ پٹرول بھروا کر گاڑی مدینہ کی شاہراہ پر آئی تو ہمارے ذہن میں جھماکا ہوا، اوہ ۔۔، ہم اپنا اقامہ گھر ہی چھوڑ آئے تھے، سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ یہ دھماکہ خیز اطلاع اپنے ہم سفر کو دیں یا نہیں، اس اطلاع کے نتیجے میں سفر ِشوق میں مزید تاخیر ہوتی، سو اﷲ سے دعا مانگی اور خاموش ہو رہے۔

اپنی گاڑی پر سفر کے شوق میں ہم نے زاد ِ راہ کافی بڑھا لیا تھا، تھرماس بھر ابلتا پانی، چائے اور کافی کے لوازمات، گھر کے بنے سینڈوچز، کیک اور نجانے کیا کیا۔ ذہن و روح کی غذا اور علم کی افزائش کے لیے تلاوت ِ قرآن کی ریکارڈنگ، اور’’ الرحیق المختوم‘‘ کی آڈیو، اور دعا کی کئی کتابیں اور قرآن مجید کا نسخہ! یہ سفر بہت ہی خوبصورت تھا، مدینہ جاتے ہوئے ’’مدینہ کے والی‘‘ کا تذکرہ! ہم نے خاص طور پر ہجرت ِمدینہ کا واقعہ سنا، اور مل کر اﷲ کی نعمتوں کا تذکرہ کیا جو اس نے ہم پر کی ہیں، اس میں سب سے نمایاں تذکرہ اس خطے میں آباد ہونے کی نعمت کا تھا، جس کا جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے۔

القصیم سے مدینہ کا راستہ بہت خوبصورت ہے، آغاز ِ سفر میں شہر کے اندر کھجوروں کے باغات دل موہ لیتے ہیں، یہ علاقہ مدینہ منورہ کے بعد سعودی عرب کا سب سے زیادہ کھجوریں پیدا کرنے والا علاقہ ہے۔ یہاں کھجوروں کا سب سے بڑا باغات کا سلسلہ صالح بن عبد العزیز الراجحی کا ’’مزارع الراجحی‘‘ ہے، جسے ارضی جنت کہا جاتا ہے، جس میں دو لاکھ کھجور کے درخت ہیں۔ یہ نہ صرف دنیا کا سب سے بڑا کھجوروں کا باغ ہے بلکہ یہ دنیا کا سب سے بڑا ’’وقف‘‘ کا ادارہ بھی ہے، جس کی کوئی کھجور بیچی نہیں جاتی بلکہ سو کے قریب خیراتی اداروں اور حرمین شریفین کے زائرین کے لیے وقف ہے، جس کا زیادہ تر حصّہ رمضان میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس باغ کے علاوہ بھی راستے میں کھجوروں کے کئی باغات نظر آتے ہیں، جن کے سیدھے درخت بڑے پروقار لگتے ہیں، اور رکوع میں جھکے ہوئے اور زمین پر پڑے درخت اور شاخیں قرآن کی زبان میں ’’نخل خاویہ‘‘ اور ’’نخل منقعر‘‘ کی تصویر دکھائی دیتے ہیں۔

کچھ دیر آگے سڑک کے دونوں جانب صحرا کی وسعتیں تھیں اور ان میں بکھرے اونٹ، بھورے اور کالے اونٹ اور سفید بھی، کسی وادی میں پورا کا پورا بھورے اونٹوں کا گلہ اور ایک سفید اونٹ اور کہیں اس کے برعکس! ان کی گزرگاہوں کو محفوظ بنانے کے لیے ’’معبر جمال‘‘ یعنی خصوصی اوور ہیڈ برج جس سے اونٹ ایک وادی سے دوسری وادی میں اترتے ہیں، پہاڑوں اور ٹیلوں کے اتنے خوبصورت رنگ اور ہر رنگ دوسرے سے جدا، ٹیلے اور پہاڑ پر آبشار، صحرا کا سفر بھی بیابان میں نہ تھا بلکہ اﷲ تعالی کی خوبصورت زمین پر تھا، جس کی کشائش، روشنی اور صفائی دل پر عجب اثر کرتی ہے!

ظہر کے قریب گاڑی کا زاد لینے رکے، تو وہیں ظہر کی نماز ادا کی گئی، ایک بھورے رنگ کا صحرائی جہاز ایک اوپن روف ہائی ایس میں بیٹھا تھا، جی ہاں، وہی صحرائی جہاز جو کئی کئی ماہ صحرا میں بغیر کھائے پیے سفر جاری رکھتا تھا، آج پانی اور گھاس کی وادی میں خود گاڑی پر سفر کر رہا تھا، شاید یہ بھی ترقی کے ثمرات ہیں، جب انسان نے اس سے اتنا فائدہ اٹھایا تو اونٹ کیوں پیچھے رہے، ’’اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی‘‘۔

گاڑی آگے بڑھی تو صحرا کا حسن ایک درخت تنہا نظر آیا، جسے دیکھ کر حدیث رسول ﷺ یاد آگئی، جب صحرا کے مسافرکا اونٹ کھو گیا جس پر اس کا پانی اور کھانا تھا، اور وہ اسے تلاش کرتے کرتے تھک گیا اور مایوسی میں ایک درخت کے نیچے لیٹ گیا، آنکھ کھلی تو اونٹ سامان کے ساتھ سامنے کھڑا تھا۔ خوشی میں پکار اٹھا۔ اے اﷲ، میں تیرا رب تو میرا بندہ !! (اتنی خوشی میں وہ الٹ بول گیا) اﷲ توبہ کرنے اور پلٹ آنے والے بندے سے اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے۔

عصر کے وقت مدینہ میں داخل ہوئے، خوابوں کے شہر میں داخلہ! اس سفر میں حبیب ِخدا، رسول اﷲ ﷺ پر درود و سلام لبوں پر جاری رہا، مدینہ منورہ جیسا پیارا شہر دنیا کے کسی خطے میں موجود نہیں، جس کی فضائیں بھی مسکراتی ہیں اور ہوائیں یاد ِالہی کی سرسراہٹ سے چلتی ہیں، دل میں بہار آجاتی ہے، حرم ِ نبوی میں داخل ہوئے اور نماز ادا کر کے وہیں صحن میں کھانا کھایا، عشاء پڑھ کر قیام گاہ کا رخ کیا، تھکاوٹ سے جلد ہی نیند کی وادی میں چلے گئے۔

صبح نمازِ فجر کے بعد ایک پاکستانی ہوٹل سے تگڑا قسم کا ناشتہ کیا، اور کچھ دیر بعد مکہ کا سفر شروع ہو گیا، ہمارے رہبر ڈاکٹر صاحب نے کل تو’’رہ نورد ِ شوق‘‘ کا خاصا خیال رکھا تھا، اور ہمیں پیروی میں مشکل نہیں آئی تھی، مگر آج احرام پہنے محبتوں کے سفر پر اڑے جا رہے تھے، اور ہم بھاگ بھاگ کر انہیں پکڑنے کی کوشش کرتے، راستے میں ریت کا طوفان بھی تھا، ’’عواصف رملیہ‘‘ ہمارے دل کو ڈرائے دے رہے تھے، لیکن ہمیشہ ہی لبیک کی پکار ڈھارس بندھا دیتی۔ راستے میں ظہر کے لیے وقفہ کیا تو وہیں ’’البیک‘‘ کا نشان دیکھ کر پیٹ نے بھوک بھوک پکارنا شروع کر دیا۔

مکہ کی حدود نظر آئیں تو جذبہء شوق دو چند ہو گیا، ہماری دعائیں کہ عصر تک حرم پہنچ جائیں، مگر پارکنگ نہیں مل رہی، ایک پارکنگ، دوسری، تیسری، آخر شاہراہ ِ ابراہیم خلیل اﷲؑ پہنچ گئے، یہاں بھی ٹریفک کا ازدحام، ایک شرطے نے ٹریفک میں خلل دور کرنے کے لیے ڈنڈا ہماری گاڑی پر مارا، نئی نکور گاڑی کو پیٹ کر ہمارا دل زخمی کر دیا۔

کچھ آگے دونوں گاڑیوں کے سوار نیچے اترے اور کبوتر چوک کے قریب ایک ہوٹل میں پہنچ گئے، ابھی وضو کر کے فارغ ہی ہوئے تھے کہ صاحب بھی گاڑی پارک کرکے آگئے، مغرب کی نماز سے پہلے ہم سب حرم میں پہنچ چکے تھے، ہر جانب اﷲ کے مہمان تھے، دنیا کے ہر کونے سے سمٹ کر آئے ہوئے بندے اﷲ کے سامنے سربسجود تھے، اس کے حضور قیام کر رہے تھے۔ اس بڑے گھر کی محبت دل میں سموئے، اس کے دیدار سے آنکھوں کو فیض یاب کرتے ہوئے کھڑے بیٹھے اور ہر حال میں اﷲ کا ذکر کرتے ہوئے اس کے حکم پر چلنے کے لیے کوشاں تھے۔ نماز مغرب ادا کر کے طواف شروع کیا، اتنے لوگ!! کھوے سے کھوا چل رہا تھا۔ سعودی عرب کے رہائشی بھی ویک اینڈ پر کثرت سے عمرہ کے لیے آتے ہیں، اس لیے آج اﷲ کے گھر میں رونق بہت تھی۔ کہتے ہیں یہاں جتنے بھی پروانے آجائیں، اچھے ہی لگتے ہیں۔

عشاء پڑھ کرحرم ٹاور میں کھانا کھا کر واپس لوٹے، اور جلدی سونے لیٹ گئے تاکہ صبح تازہ دم اٹھیں۔ نصف شب کو اچانک صاحب کا موبائل بج اٹھا، شدید نیند میں اٹھایا تو مخاطب عربی میں بات کر رہا تھا، جتنی بات انہیں سمجھ آئی وہ یہ تھی کہ ’’سیارہ (کار) حادثے کا شکار ہو گئی ہے‘‘، اور یہ اطلاع پولیس کی جانب سے دی جا رہی تھی۔ میں نے متعلقہ نمبر پر فون کیا تو یہی کہا گیا کہ آپ کی گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے، مزید تفصیل وہاں پہنچ کر حاصل کر لیں۔ انجانے خطرے کے احساس نے جھنجوڑ کر رکھ دیا، صاحب کہتے ہیں کہ انہیں لگا کہ گاڑی تباہ ہوگئی ہے، شاید بلندی سے نیچے گر گئی ہو، بہرحال حواس سلامت ہوئے، تو پہلا خیال یہی آیا کہ یہ محض آزمائش ہے، ہمارے مال کی آزمائش! یقیناً فرشتوں نے ڈھارس بندھائی تھی، کہ میں نے صاحب سے کہا: ’’ایک وہ وقت بھی تھا جب ہمارے پاس گاڑی تو درکنار سائیکل تک نہ تھی، اور آج یہ حال ہے کہ ہم سر سے پاؤں تک اﷲ کی نعمتوں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ یہ سب ہم نے زور ِ بازو سے نہیں کمایا، بلکہ یہ اﷲ کی عطا ہے، اگر گاڑی کو کچھ ہو گیا ہے تو بھی اﷲ نے اپنا مال ہی واپس لیا ہے، اور ہو سکتا ہے کہ وہ ہمیں اس سے بڑھ کر عطا کر دے۔‘‘ صاحب کہتے ہیں کہ ان باتوں سے ان کا غم دور ہو گیا، الحمدﷲ۔ انہوں نے وضو کیا اور ڈاکٹر صاحب کے ساتھ پارکنگ میں چلے گئے، ان کے جانے کے بعد ہم بھی مصلے پر بیٹھ گئے، اور اﷲ سے عافیت کی ڈھیر ساری دعائیں مانگیں، تہجد تک وہ بھی واپس آگئے اور بتایا کہ ایک سعودی شہری کی گاڑی پارک کرتے ہوئے پھسل کر ہماری گاڑی سے ٹکرا گئی ہے، اور اس طرح پھنس گئی ہے کہ نکل نہیں سکی۔ پولیس نے دونوں گاڑیوں کی آٹھ زاویوں سے تصویریں بنا لی ہیں، اور دوسری گاڑی کے مالک سے رابطے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حادثہ گاڑی کے سامنے کی جانب سے ہوا تھا، اوردوسری گاڑی ابھی تک اس کے ساتھ جڑی ہوئی تھی، اس لیے اندازہ نہیں تھا کہ نقصان کتنا ہے۔ رات گزر رہی تھی، ہم سب وضو کر کے حرم کی جانب چل دیے، اور فجر پڑھ کر واپس آئے۔ اس دوران طبیعت میں اطمینان اتر آیا، واپسی پر مزے دار ناشتا کیا، اور کچھ دیر آرام کیا۔

آج جمعہ کا دن تھا، ہم مسجد ِحرام کی جانب چلے، ہمارا ہوٹل کبوتر چوک کے قریب ہی تھا، لیکن جمعہ سے بہت پہلے ہی قریبی راستے بند کر دیے گئے تھے، اور زائرین کو گھما دیا گیا تھا۔ کافی دور تک چلتے ہوئے ہم حرم کی نئی عمارت میں داخل ہو گئے، جہاں صفا مروہ کی جانب راستہ قریب تھا، یہ ’’جبل ِ عمر ‘‘ والی سائیڈ تھی۔ اسی بات کی خوشی تھی کہ ہم نمازِ جمعہ سے کافی پہلے حرم میں جگہ پا چکے تھے۔ تحیۃ المسجد ادا کر کے تلاوت ِ قرآن پاک کی، اور پھر دعا کا دور شروع ہو گیا۔ دعا مانگتے ہوئے ’’لا اقسم بہذا البلد، وانت حلّ بہذا البلد‘‘ اور ’’لایلاف قریش، ایلافھم رحلۃ الشتاء والصیف‘‘ پڑھتے ہوئے آنکھیں بہنے لگیں، امن کے شہر میں ہمیں امن درکار تھا اپنے لیے بھی اور اپنے مال اسباب کے لیے بھی۔ بس اچانک ہی عبد المطلب یاد آگئے جو ابرہہ کے پاس اپنے اونٹ چھڑانے کے لیے چلے گئے تھے۔ اور مکہ کا جاہلیت کا امن یاد آیا، جب باپ کا قاتل بھی حرم میں نظر آجاتا تو اس سے بدلہ نہیں لیا جاتا تھا، اور عہد ِ نبویﷺ کا زمانہ بھی یاد آیا جب رسول مآب ﷺ ایک یتیم بچے کو اس کا مال دلوانے کے لیے جاہلی سردار ابوجہل کے دروازے پر پہنچ گئے تھے۔ میرا دل دکھ رہا تھا، اور میں نے اﷲ سے فریاد کی کہ ’’یا اﷲ، ہم تیرے گھر میں عبادت کرنے بڑے شوق سے آئے ہیں، یہاں غریب الوطن ہیں، ہمیں یہاں کوئی ایسا نقصان لاحق نہ ہو جو یہاں کی حسین یادوں کو تلخ بنانے والا ہو۔ اے اﷲ، تو رات کی پریشانی سے بڑھ کر کوئی پریشانی نہ دینا، بلکہ اطمینان در اطمینان دینا، اپنی عطا پر ہمارے یقین کو اور بڑھا دینا‘‘۔ میں نہ جانے کتنی دیر دعا مانگتی رہی۔ بس ایسے لگ رہا تھا جیسے قطرہ قطرہ شہد نما مٹھاس ذہن اور دل کے غبار کو دھو رہی ہے۔

جب جمعہ پڑھ کر ہم باہر نکلے تو ہاتھوں پر پڑنے والی ہلکی ہلکی پھوار نے اور بھی مسحور کر دیا۔ ہوٹل سے سامان لیا اور ٹیکسی لیکر پارکنگ میں پہنچے، گاڑی کے پاس کھڑے پولیس اور دوسری گاڑی کے مالک کا انتظار کرنے لگے، کافی دیر بعد پولیس اہلکار تو آگیا مگر ٹکر مارنے والی گاڑی کا مالک نہ آیا۔ (شاید وہ بھی حرم میں دعاؤں میں مصروف ہو)۔ ہماری گاڑی کو ڈاکٹر صاحب نے بڑی مہارت سے اس گاڑی سے الگ کیا، اور موبائل پولیس کی جانب سے ہمیں پولیس سٹیشن پہنچنے کا کہا گیا۔ دونوں گاڑیاں ایک پولیس سٹیشن پہنچیں تو پتا چلا یہ ان کا علاقہ نہیں تھا جہاں وقوعہ ہوا، اس لیے دوسرے سٹیشن پر جانا پڑے گا۔ ہم حیران ہو گئے کہ یہاں بھی پاکستانی تھانوں کی مانند حدود اربعہ کے مسائل ہیں۔ اگلے تھانے میں پہنچے تو وہاں گاڑی کا سارا کیس مع تصاویر پہنچ چکا تھا۔ متعلقہ افسرجلد ہی نتیجے پر پہنچ گیا۔ اس نے کہا، اتوار کو آجائیں، فریق ِثانی کو بھی پہنچنے کا کہہ دیا گیا ہے، زیادتی اس کی ہے، جس قدر اس نے نقصان کیا ہے اس کا ہرجانہ ادا کرے گا، ’’آپ کو فلوس (ریال) ملیں گے‘‘، مگر صاحب نے اس سعودی باشندے کو معاف کر دیا، کیس خارج کر دیا گیا۔ اس دوران ہم نے پولیس سٹیشن مسجد میں نماز بھی اداکر لی۔ گاڑی میں سوار ہونے سے پہلے گاڑی کا بغور جائزہ لیا تو پتا چلا کہ اﷲ نے بہت بڑا کرم کیا ہے،گاڑی کا نقصان نہ ہونے کے برابر ہوا ہے۔

ہم مکہ سے مدینہ کی جانب چلے، ہلکی تاریکی پھیل رہی تھی، سڑک پر اچانک موٹر سائیکلوں کا کاروان آگیا، یہ سب کے سب نوجوان تھے، جینز شرٹس پہنے ہوئے، وہ خوب اٹھکیلیاں کر رہے تھے، کچھ کی بائیکس کے سائلنسر آواز دے رہے تھے۔ ہمیں پاکستان کے جشن ِ آزادی کے دن کے موٹر سائیکلسٹ یاد آگئے، ان سے بچ بچ کر گاڑی نکالی گئی، آگے چل کرعشاء اور عشائیہ کے لیے رکے، بچوں کا من پسند پزا لیا، تھرماس میں گرم پانی بھروایا، اورگاڑی میں پٹرول بھروا کر قافلہ پھر چل پڑا۔ اب کے ڈاکٹر صاحب کی گاڑی فراٹے بھرتی نگاہوں سے اوجھل ہو گئی، تاریک رات میں تنہا یہ سفر، ہمیں ہول آنے لگا۔ اپنے ڈر کو دور کرنے کے لیے اﷲ سے استعانت طلب کی، صاحب اور بچے بھی بآوازِ بلند ذکر اذکار اور دعاؤں میں لگ گئے۔ ہماری دعائیں گاڑی کی رفتار کا مقابلہ کرتے ہوئے آسمان کی جانب محو ِ پرواز تھیں۔ ہمیں شاہراہ ِالھجرۃ پر سفر کرتے ہوئے ان دو ساتھیوں کا سفر ِ ہجرت یاد آرہا تھا، جن دو کا تیسرا اﷲ تھا، جب رسول اﷲ ﷺ نے ابوبکرؓ کا خوف یہ کہہ کر دور کر دیا تھا کہ: ’’لا تحزن انّ اﷲ معنا‘‘ (غم نہ کرو اﷲ ہمارے ساتھ ہے)، اس رات اوپر سیاہ آسمان تھا، جس پر تارے بھی نہ دکھتے تھے، نیچے سیاہ صحرا تھا، جس کے بیچ میں سیاہ ناگ کی مانند طویل سڑک پر دوڑتی ہوئی گاڑی عجب تنہائی کا منظر پیش کر رہی تھی۔ گاڑی میں ہم چار’’ اکیلے‘‘ تھے، اور آنکھوں کا خوف دور کرنے کے لیے بس اتنا یاد کر لینے کی ضرورت پڑتی تھی: ’’انّ اﷲ معنا‘‘، اور پھر واقعی اﷲ کی معیت محسوس ہونے لگتی، اطمینان طاری ہوتا تو اونگھ آنے لگتی، اور پھر صاحب کا اصرار، کوئی نہ سوئے، واقعی نیند بھی تو متعدی مرض کی مانند ساتھ والے پر بھی اثرات مرتب کرتی ہے۔ ہم کبھی چائے بناتے، کبھی کافی اور کبھی چیونگم آفر کرتے۔ مدینہ کے راستے میں درود شریف کا ورد بھی بہت مزا دیتا ہے، منزل قریب دکھنے لگتی ہے۔ ہم ابھی مدینہ سے باہر تھے، جب اگلی گاڑی سے پیغام ملا کہ پاکستان ہاؤس میں ہماری بکنگ ہو چکی ہے، اس لیے گوگل میپ کے ذریعے آرام سے پہنچ جائیں۔ مدینہ میں داخل ہو کر ہم نے اﷲ کا شکر ادا کیا۔ دو دن کی اتنی مشقت نے بہت تھکا دیا تھا۔

صبح اٹھے تو تازہ دم تھے، صحن ِ مسجد ِنبوی میں نماز ادا کی، جہاں سکون ہی سکون تھا، مسجد ِنبوی ؐ کی ٹھنڈی میٹھی روشنی دل کے اندر اترتی ہوئی محسوس ہوتی ہے، اذان کی آواز پر جسم کا رواں رواں پکار اٹھتا ہے، اﷲ اکبر اﷲ اکبر۔ مدینہ میں عاشقان ِ رسولﷺ کا وہ گروہ بھی دکھائی دیا جو مدینہ کی گلیوں اور شاہراہوں میں ننگے پیر چلتا ہے، خواہ سردی ہو یا گرمی! یہ کیسا عشق ہے، اس پر تبصرہ نہیں کر سکتے، بس ان کے لیے دعا ہے کہ مسواک ہاتھوں میں اٹھائے اﷲ کے نبی ﷺ کی محبت دل میں بسائے جو کچھ بھی کریں، ان میں سب سے اہم آپ ؐکے مشن کو زندہ کرنا ہے، اس دین کا پیغام ان تک پہنچانا ہے جن تک نہیں پہنچا، اور جو غفلت سے بھول بیٹھے ہیں انہیں یاد کروانا ہے۔
نماز پڑھ کر باہر آئے تو رہائش گاہ کے راستے میں پاکستانی ہوٹل نظر آیا، گرما گرم ناشتا، اور واپس جا کر آرام۔

نماز ِ عصر کے بعد ہم نے ٹیکسی لی اور زیارات کے لیے نکل گئے، مسجد ِ قبا میں دو نفل ادا کیے، جو اسلام کی پہلی مسجد ہے، اور مدینہ داخلے سے پہلے نبی محترمﷺ نے یہاں قیام فرمایا تھا، یہاں دو نفل کا ثواب ایک عمرہ کے برابر ہے۔ پھر احد کا پہاڑ دیکھنے گئے، جس کے بارے میں رحمت للعالمین ﷺ نے فرمایا: ’’احد ایک شان والا پہاڑ ہے، یہ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں‘‘۔ اس ٹیلے پر کھڑے ہوئے جہاں رسول اﷲ ﷺ نے احد کے روز پچاس تیر اندازوں کو بڑی واضح ہدایات کے ساتھ کھڑا کیا تھا، اور ان کی غلطی سے جنگ کا پانسہ بدل گیا تھا۔ ہم نے وقت بچانے کا اہتمام کیا تھا مگر عصر کے بعد کا وقت بڑی تیزی سے گزر رہا تھا، جب ٹیکسی نے ہمیں مسجدِ نبوی کے ایک جانب اتارا، مغرب کی اذان ہو چکی تھی، اور اس کے دروازے تک پہنچتے نماز بھی شروع ہو چکی تھی، ہم نے مسجد کے چکنے فرش پر صف بنا لی، تشہد میں بیٹھتے ہوئے اندازہ ہوا کہ اب عمر ہر جگہ بیٹھنے کی نہیں ہے، بس ایک خوشی تھی کہ باجماعت نماز میں شمولیت کا اجر پا لیا ہے۔ عشاء کے وقت ہم خواتین کے حصّے میں پہنچ چکے تھے۔

اگلی صبح فجر کے بعد ہم نے ناشتا کیا، ڈاکٹر صاحب نے ہمیں جانے کا کہہ دیا، انہوں کچھ دیر بعد نکلنا تھا۔ ہم گاڑی میں سامان رکھ رہے تھے، جب ایک بس ہماری گاڑی کے انتہائی قریب آکر کھڑی ہو گئی، گاڑی نکالنے کا راستہ بند ہو گیا۔ بچے سامان ڈگی میں ڈال رہے تھے، جبکہ میاں صاحب بس ڈرائیور سے درخواست کرنے گئے کہ وہ گاڑی ذرا آگے کر لے، ابھی وہ اسے متوجہ بھی نہ کر پائے تھے کہ اچانک ڈرائیور نے آگے پیچھے دیکھے بغیر گاڑی چلانی شروع کر دی، اور اتنے قریب سے گزرا کہ ہماری گاڑی کی ڈگی سے اس پر ایک لمبا نشان پڑ گیا۔ ڈرائیور چیختا چلاتا باہر نکلا، اس کی بس بھی بالکل نئی تھی۔ جب ہمارے میاں نے اسے’’ انگریزی ‘‘میں بتانے کی کوشش کہ اس نے اپنا ہی نہیں ہمارا بھی نقصان کیا ہے، اور دائیں بائیں دیکھنے کی زحمت گوارا نہیں کی، اس نے جواباً ہمیں دھمکانے کی کوشش کی، موبائل فون نکال کر ایک جانب کمپنی کو خبر دی اور دوسری جانب بڑی اکڑ سے بولا: ’’شرطہ یاتی‘‘ یعنی پولیس ہی آئے گی۔ ہم نے بھی دم ٹھونک کر اسے شرطہ بلانے کو کہا، مگر کیا شرطہ ہماری سنے گا، یا اس عرب افریقی ڈرائیور کی، صاحب کچھ پریشان تھے۔ اتنی دیر میں کمپنی کی دوسری بس بھی آگئی، اس کا ڈرائیور باہر نکلا، اور دونوں فریقوں نے اسے اپنی جانب کا مؤقف سنانا شروع کیا۔ ہم بے بسی سے دیکھ رہے تھے کہ ایک بنگالی بھائی گاڑی سے نکلا اور عینی شاہد کے طور پر دوسرے ڈرائیور کو بتایا کہ میں کھڑا دیکھ رہا تھا، غلطی آپ کے ڈرائیور کی ہے جس نے بنا دیکھے گاڑی کو حرکت دی اور کھڑی گاڑی کا نقصان کیا۔ ہم نے اللہ کا شکر ادا کیا جس نے ہمیں سچا گواہ فراہم کر دیا۔ صاحب نے اسے کہا کہ پولیس کو بلا لو، میں یہیں انتظار کر رہا ہوں۔ اب پہلے دوسری بس نے حرکت کی اور موقع سے چلی گئی، اور اس کے بعد برہم ڈرائیور اپنی بس میں بیٹھا اور بڑے آرام سے بس لے کر چلا گیا۔ ہم اپنے نقصان کا کیا تقاضا کرتے، مدینہ منورہ میں معافی کا اعلان کرتے القصیم کی جانب چل پڑے۔

اللہ تعالی کا ذکر اور شکر کرتے ہوئے سفر گزر گیا، اپنے شہر میں داخل ہوئے تو امن اور سلامتی کے ساتھ واپسی پر خوشی کا احساس ہو رہا تھا۔ ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم۔ آمین

Comments

Avatar

میمونہ حمزہ

ڈاکٹر میمونہ حمزہ عربی ادب میں پی ایچ ڈی ہیں اور انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی میں اعزازی طور پر تدریس کے فرائض ادا کرچکی ہیں۔ کئی کتابوں کے عربی سے اردو میں تراجم کر چکی ہیں، جن میں سے افسانوں کا مجموعہ "سونے کا آدمی" ہبہ الدباغ کی خود نوشت "صرف پانچ منٹ" اور تاریخی اسلامی ناول "نور اللہ" شائع ہو چکے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.