ناک بند کرنے سے کیا تعفن ختم ہو جاتا ہے؟ تنویر شہزاد

پاکستان میں سوشل میڈیا کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے، کئی مرتبہ تو لگتا ہے کہ جیسے سماجی رابطوں کے ذرائع نے قومی میڈیا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے، سوشل میڈیا کبھی حکومت وقت کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کر دیتا ہے اور کبھی میڈیا پر پابندیوں کے سخت ماحول میں وہ باتیں بھی سامنے لے آتا ہے، جن کے بلیک آؤٹ کا حکم طاقتور حلقوں کی طرف سے دیا گیا ہوتا ہے۔

پیر نو ستمبر کو جاری ہونے والے ایک نادر شاہی حکم نامے کے تحت پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے تھانوں میں چھوٹے پولیس اہلکاروں کےموبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔اس حکم نامے کے بعد راولپنڈی پولیس کے سربراہ نے پولیس اسٹیشن آنے والے شہریوں کے موبائل فون بھی گیٹ پر رکھوانے کے احکامات جاری کر دیے تھے جنہیں میڈیا کے دباؤ پر بعد ازاں واپس لے لیا گیا۔ موبائل فون کے حوالے سے یہ اقدام پنجاب پولیس کے اہلکاروں کی جانب سے ملزمان پر تشدد کیے جانے کی متعدد ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد سامنے آیا۔ یاد رہے چند دن پہلے اے ٹی ایم مشین توڑ کر کیمرے کو منہ چڑانے والا ملزم پولیس کی حراست میں جاں بحق ہوگیا تھا۔ ملزم کی پولیس کی حراست کے دوران مبینہ طور پر تشدد کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر سامنے آئیں جنہیں لاکھوں لوگوں نے شیئر کیا تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ویڈیو‍ بھی ایک پولیس اہلکار کے ذریعے ہی باہر آئیں۔

مجھے لگتا ہے کہ موبائل فون پر پابندی لگا کر اس بات کوشاید تسلیم کر لیا گیا ہے کہ تھانے کے اندر قانون سے بالاتر کچھ ایسے کام ہوتے ہیں جن کے منظر عام پر آنے کا خدشہ ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کے مطابق جس تھانے میں پولیس والا اپنا فون نہیں لے جا سکے گا۔ وہاں عام آدمی کو فون لے جانے کی اجازت کون دے گا۔ ایک سوشل میڈیا صارف نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے ایک ٹوئیٹر پیغام میں کہا ہے کہ بہتر ہوگا اگر تھانے میں لوگوں کے پیسے لے جانے پر بھی پابندی لگا دی جائے تاکہ پولیس نظام میں رشوت کا خاتمہ کیا جا سکے۔

ڈیجیٹل احتساب سے خوف کا معاملہ صرف تھانوں تک ہی محدود نہیں بلکہ پاکستان کے بہت سے دیگر سرکاری اور غیر سرکاری ادارے بھی سیٹیزن جرنلزم، سوشل میڈیا اور موبائل فوٹوگرافی سے پریشان ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے امتحانی مراکز میں نقل کی ویڈیوز سامنے آئیں تو امتحانی مراکز میں موبائل لے جانے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ سکیورٹی کے نام پر وی وی آئی پی تقریبات میں موبائل لے جانے پر پہلے ہی پابندی ہے، سٹیٹ بنک آف پاکستان سمیت کئی دفاتر میں آپ موبائل فون نہیں لے جا سکتے۔

یہ بھی پڑھیں:   اقبال، مسجد اور راہ داری - عالیہ زاہد بھٹی

ماضی میں جب بھی کوئی ماورائے قانون حرکت کرتا تھا تو اس واردات کے منظر عام پر آنے میں بہت وقت لگتا تھا، جب سے سوشل میڈیا نے عوام کو 'امپاور‘ کیا ہے تب سے عوام تک اطلاعات کی فراہمی کا عمل تیز ہو گیا ہے، حج انتظامات میں کہاں کوتاہی ہو رہی ہے، کونسا پولیس والا سر بازار رشوت لے رہا ہے، سانحہ ساہیوال میں دہشت گرد قرار دے کر مارے جانے والوں کی اصل حقیقت کیا ہے، صلاح الدین پر تفتیش میں کیا گزری، لاہور پولیس کے سربراہ کے دفتر کے باہر بزرگ خاتون کے ساتھ پولیس کا ناروا سلوک اور پاکپتن دربار پر سکیورٹی اہلکاروں کا زائرین پر تشدد سمیت بہت سی خبریں ہمیں موبائل فون سے بنائی جانے والی ویڈیوز کے ذریعے ہی ملیں ہیں۔

پاکستان میں بہت سے لوگوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے ہی پتہ چلا کہ منہاج یونیورسٹی میں سحری اور افطاری میں کھانے کی ناقص معیار کی شکایت کرنے والی طالبات پر عوامی تحریک کے خرم نواز گنڈاپور کیسے برسے۔ پیپلز پارٹی کی امیدوار صوبائی اسمبلی وحیدہ شاہ نے الیکشن کمیشن کی خاتون اہلکارکو تھپڑ مارا یا وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے مقامی صحافی کو خبر لگانے پر مغلظات سے کیسےنوازا۔ اور تو اور محسن عباس حیدر کا اپنی اہلیہ پر تشدد کا واقعہ بھی شاید عوام کے سامنے نہ آتا اگر ہم پرانے میڈیا کے زمانے میں جی رہے ہوتے۔

آپ کو مریم نواز کی طرف سے جاری کردہ وہ ویڈیو بھی یاد ہو گی جس میں احتساب عدالت کے جج ارشد ملک اپنے ایک دوست کو نواز شریف کیس کے حوالے سے اپنے اوپر ڈالے جانے والے دباؤ کے بارے میں بتا رہے ہیں۔ آپ شاید قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے حوالے سے منظر عام پر آنے والی اس ویڈیو کو بھی نہیں بھولے ہوں گے جس میں جج صاحب ایک خاتون سے ایسی گفتگو کر رہے ہیں جو سننے والے کے دل میں ''خوشگوار دھڑکنیں‘‘ پیدا کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔

یہ ساری ویڈیوز پاکستانی معاشرے کا اصلی چہرہ ہمارے سامنے لا رہی ہیں۔ پاکستان کی حکومت کو موبائل فون اور سوشل میڈیا کے ذریعے سچ سامنے لانے والی ان ویڈیوز کو بنانے والوں کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ یہ لوگ گورننس کی بہتری کے لیے وہ اطلاعات سامنے لا رہے ہیں جن اطلاعات کو فراہم کرنے میں حکومتی ایجنسیاں یا تو ناکام رہی تھیں یا پھر حکومت سے جھوٹ بول رہی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں:   واضح کرو کہ اصلی ہو یا نسلی -حبیب الرحمن

ان ویڈیوز نے گزشتہ عام انتخابات کے دوران بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔ ان دنوں مشہور ہونے والے ایک واقعے کے مطابق پاکستان کے سابق صدر فاروق لغاری کے صاحبزادے اور سابق رکن سینیٹ جمال خان لغاری اپنی انتخابی مہم کے دوران اپنی گاڑیوں کے کاروان کے ہمراہ کافی عرصے بعد جب اپنے حلقے میں پہنچے تو ان کا ٹاکرا نوجوان ووٹرز سے ہوا۔ مقامی استاد سیف الدین نے ان سے پوچھا کہ وہ پانچ برس تک غیر حاضر رہے اور آج ووٹ مانگنے آ گئے ہیں۔ اس پر جمال لغاری نے جواب دیا کہ وہ ووٹ مانگنے نہیں بلکہ کسی کی فوتگی پر ان کے خاندان سے تعزیت کرنے جا رہے ہیں۔ اس پر وہاں موجود افراد میں سے کسی نے انہیں بتایا کہ جس کی تعزیت کرنے وہ جا رہے ہیں اس کو فوت ہوئے پانچ برس ہو چکے ہیں۔ ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ اس علاقے میں جہاں ان کا خاندان دہائیوں سے انتخابات جیتتا رہا ہے وہاں آج بھی پینے کا صاف پانی نہیں، بہتر سڑکیں نہیں، بنیادی سہولیات معیار کے مطابق نہیں۔

اس تمام مکالمے کو سیف الدین نے فیس بُک پر اپ لوڈ کیا۔ محض چند گھنٹوں میں ان کی ویڈیو وائرل ہوئی اور پھر وہاں سے ٹی وی چینلز نے اس کو اٹھا لیا۔ ان کی اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد پاکستان کے خصوصاً صوبہ پنجاب اور سندھ سے بیشمار ایسے واقعات سامنے آ ئے جہاں ووٹر انتخابی مہم کے دوران اپنے امیدواروں سے گزشتہ پانچ برس کی کارکردگی پر سوال اٹھا تے رہے ہیں۔

سوشل میڈیا کے ذریعے سامنے آنے والی قباحتوں کا تدارک بھی ضروری ہے لیکن ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ حکومت پابندیاں لگانے کی بجائے اصلاحات کا عمل تیزی سے مکمل کرے کیونکہ ناک بند کر لینے سے آس پاس کا تعفن ختم نہیں ہوتا، مسائل کا حل عوامی حقوق پر قدغنوں والی پابندیاں نہیں بلکہ شفافیت پر مبنی پالیسیوں کے ذریعے نظام کی بہتری ہے۔