مُحَرَّم و صفر میں شادی کرنا - نیاز فاطمہ

شازیہ دیوار سے ٹیک لگائے اپنے ہلکان جسم کو سہارا دیے بیٹھی تھی کل سے اس نے کچھ نہ کھایا تھاشازیہ کو جتنی نقاہت محسوس ہورہی تھی اس سے زیادہ لوگوں کے تبصرے اس کے دماغ میں ہتوڑے کی طرح برس رہے تھے .

یہ غم کم تھا کہ شادی کہ محض دو ماہ بعد ہی بیوہ ہو کر پھر میکے کی دہلیز پر آبیٹھی تھی اوپرسے لوگوں کی چہ میگوئیاں اسےکچوکے لگا رہی تھی جولوگ مُحَرَّم میں شادیاں کرتے ہیں ان کے ساتھ ہمیشہ یہی ہوتا ہے . ارے منع بھی کیا تھا بھائی صاحب کو مت بیاہوں مُحَرَّم میں بیٹی کو مگر بھائی صاحب سنتے کہاں ہے . کسی کی , کتنی مرتبہ سمجھایہ ہے کہ مُحَرَّم صفر میں شادیاں نہیں کرتےمنحوس ہوتا ہے, ارے وہ نہیں تھے سلیم صاحب ان کی بیٹی کی شادی ہوئی تھی مُحَرَّم میں , بیچاری اب تک بے اولاد ہے ۔ شازیہ کے باب نے شازیہ کی شادی اس لیے مُحَرَّم میں کی تھی کہ ان توہمات کے خاتمے میں اپنا حصہ ڈال سکےمگر شازیہ کی قسمت میں ہی یہی تھا کہ شادی کے محض دو ماہ بعد ہی اس کے شوہر کا کار ایکسیڈینٹ میں انتقال ہوگیا اور معاشرے کا اعتقاد مزیدمظبوط ہوگیا. ہمارے معاشرے میں میں بد عقیدگی اور توہمات بہت بڑھ گئی اس کی ایک بہت بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم بہت عرصہ ہندو قوم کے ساتھ رہے ہیں اور اس قوم میں بد شگونی لیناعام بات ہےآپﷺ نے ایک حدیث میں بد شگونی کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے کہ ''یہ محض ایک خیال ہے جو دل میں پیدا ہوجاتا ہے چناچہ اس وہم کی بنیاد پر کسی کام سے پپچھے مت ہٹو''(صحیح مسلم537)عرب کے مشرکین بہت بدشگونی لیا کرتے تھے وہ سفر سے پہلےپرندہ اڑاتے اگر وہ دائیں طرف مڑتا تو نیک شگون لیتے اور اگر بائیں طرف کو اڑتا بدشگون لیتے اور اپنا کام ترک کردیتے .

یہ بھی پڑھیں:   آئیے نکاح آسان بنائیں، مہم چلائیں - عارف جتوئی

ہم جانتے کہ نبی ﷺ نے بدشگونی لینے کو ناپسند فرمایا ھے اور اللہ سبحان و تعالی ارشاد فرمایا یہ حالات ہم لوگوں میں پھیرتے رہتے ہیں . ہمارا مشاہدہ ہے کہ کھبی کسی کو کوئی خوشی ملتی ہے تو اسی انسان پر کھبی غم کے پہاڑ ٹوٹتے ہیں . اللہ سبحان و تعالی نے یہ دنیا فانی بنائی ہے اس کی خوشیاں بھی فانی اس کا غم بھی فانی ایک حدیث میں آپﷺ نے بدشگونی کو شرک قرار دیاہے ہمارے ہاں اس طرح کی کئی توہمات پائی جاتی ہے مثلا بلی کا راستہ کاٹ جانا,تو بلی کا کسی موقع پر رونا وغیرہ مگر خاص کر ہم جس کی بات کر رہے ہیں وہ مُحَرَّم و صفر میں شادی کو بد شگونی قرار دینا اس طرح کی بد شگونیاں عرب کے مشرکین لیتے تھے جیسے ان کے ہاں شوال میں نیک کام کرنا بدشگونی سمجھا جاتاتھا اور وہ بھی شوال میں شادی نہیں کیاکرتے تھے مگر اس ہی مہینے میں آپ صلی الله علیه وسلم نے امی عایشہ سے نکاح فرما کر باطل عقیدے کی نفی کردی ۔ایک مرتبہ صحابہ نے سوال کیا ہم سے اگر کوئی بد شگونی کا شکار ہوجائے تو اس کا کفارہ کیا ہوگا اس پرآپﷺنے ارشاد فرمایا:یوں کہواللّٰھُمِّ لاَ خَیْرا الاخَیْرُکَ وَلاَ طَیْر الا طَیْرُکَ وَلاَ اِلٰہ غیرک "ترجمہ: اے اللہ بھلائی فقط تیری طرف سے ہے اور انسان کو وہی آفت پہنچتی ہے جو تونے مقدر میں لکھی ہو اور تیرےعلاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں (مسنداحمد) نبی کریمﷺ نے اپنی امت میں سے ستر ہزار لوگوں کو بغیر حساب کتاب کے جنت میں جانے کی نوید سنائی ہے جن کی ایک صفت یہ ہوگی کہ وہ بدشگونی نہیں لیتے ہو ں گے ( اللہ ہمیں بھی ایسے لوگوں میں شامل فرمائیں آمین )