افغانستان پر ٹرمپ کی ’’آنے والی تھاں‘‘ واپسی- نصرت جاوید

یہ کالم لکھنے سے قبل سوشل میڈیا کا سرسری جائزہ لیا۔محترمہ فردوس عاشق اعوان صاحبہ کی ایک ویڈیو وائرل ہوچکی تھی۔ مذکورہ ویڈیو میں وزیر اعظم کی معاون خصوصی متنبہ کررہی ہیں کہ ان دنوں اقتدار میں موجود افراد نے اگر کماحقہ پرفارم نہ کیا تو ان کی چھٹی ہوجائے گی۔ وزیر اعلیٰ ہی نہیں وزیر اعظم کو بھی اپنی کارکردگی دکھانا ہوگی۔
ذاتی طورپر مجھے اس ویڈیو میں کوئی قابل توجہ شے نظر نہیں آئی۔محض جوش خطابت کی روانی تھی۔سوشل میڈیا پر چھائے ’’محققین‘‘ مگر اصرار کررہے ہیں کہ محترمہ فردوس عاشق اعوان صاحبہ کے ذریعے حکومتی نظام کے ’’حقیقی‘‘ نگہبانوں اور پاسبانوں کا ’’پیغام‘‘ دیا گیا ہے۔’’وارننگ‘‘ نما پیغام میں بجائے لطف اندوز ہونے کے پریشانی میں مبتلا ہوگیا۔مجھے گماں تھا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے مقامی اور عالمی سیاست کے بارے میں ہماری ہمہ وقت رہ نمائی فرمانے والے خواتین وحضرات امریکی صدر کے ان تین ٹویٹس کی تشریح فرمارہے ہوں گے جو ہمارے ہاں اتوار کی صبح نمودار ہوئے۔

ان کے ذریعے ڈونلڈٹرمپ نے انکشاف کیا کہ وہ طالبان کے ایک وفد سے کیمپ ڈیوڈ میں ملاقات کرنا چاہ رہا تھا۔طالبان نے مگر گزشتہ جمعرات کو کابل میں امریکی سفارت خانے کے قریب ٹریفک پر نگاہ رکھنے والے ایک ناکے پر حملہ کردیا۔اس حملے کی وجہ سے ایک امریکی فوجی ہلاک ہوگیا۔اپنے "Great-Great"فوجی کی ہلاکت سے خفاہوکر امریکی صدر نے طالبان کے وفد کی میزبانی سے انکار کردیا۔نظر بظاہر طالبان کے ساتھ دوحہ میں گزشتہ کئی مہینوں سے جاری مذاکرت اب ’’ختم‘‘ کردئیے گئے ہیں۔سوال مگر یہ اٹھتا ہے کہ مذکورہ مذاکرات سے اگر ’’مثبت‘‘ نتائج برآمد ہونے کی توقع باقی نہیں رہی تو زلمے خلیل زاد بدستور اپنے منصب پر فائز ہے یا نہیں۔آخری خبریں آنے تک نہ تو اس سے استعفیٰ طلب کیا گیا نہ ہی خلیل زاد نے ازخود اس خواہش کا اظہار کیا۔دریں اثناء اتوار کی چھٹی سے لطف اٹھانے کے بجائے امریکی وزیر خارجہ اس دن صبح سے شام تک امریکہ میں نیوز اینڈ کرنٹ افیئرز سے متعلق اہم ٹی وی نیٹ ورکس کے تقریباََ تمام مشہور پروگراموں میں شرکت کرتا رہا۔ اس کی ’’چھٹی‘‘ ڈونلڈٹرمپ کے طالبان کے ضمن میں لئے فیصلے کی وضاحتیں بیان کرنے میں غارت ہوگئی۔

سوشل میڈیا پرعقل کل بنے خواتین وحضرات عالمانہ رعونت سے مجھے یہ سمجھا سکتے ہیں کہ ’’تجھ کو پرائی کیا پڑی…‘‘ امریکہ جانے اور طالبان۔ ہمارا ان سے کیا لینا دینا۔کاش معاملہ اتنا ہی سادہ ہوتا۔ یاد دلانے کو مجبور ہوں کہ وائٹ ہائوس پہنچنے کے بعد ٹرمپ پاکستان کے خلاف انتہائی تضحیک آمیز زبان میں ٹویٹس لکھتا رہا۔اس نے ہمیں ’’جھوٹا‘‘ اور ’’دوغلا‘‘ پکارا۔ مسلسل الزام لگاتا رہا کہ اس کے ملک سے ’’اربوں ڈالر‘‘ لینے کے باوجود ہم افغانستان میں امریکہ کی مدد کرنے کے بجائے اس کے لئے مشکلات پیدا کرتے رہے۔ہمیں Moreoverوالی تکلیف پہنچانے کے لئے اس نے جنوبی ایشیاء کے بارے میں ایک نئی پالیسی کا اعلان بھی کردیا۔ اس پالیسی کے ذریعے ہمارے ازلی شریک یعنی بھارت کو اس خطے کا تھانے دار بنانے کا عندیہ دیا گیا۔ہمارے علاوہ چین کو بھی تکلیف پہنچانے کے لئے امریکہ سائوتھ چائنہ سمندر کو Indo-Pacificپکارنا شروع ہوگیا۔پاکستان ان دنوں سیاسی بحران کا شکار تھا۔

نواز شریف وزارتِ عظمیٰ کے منصب کے لئے سپریم کورٹ کی جانب سے تاحیات نااہل ٹھہرائے گئے۔ بعدازاں احتساب عدالت میں چلائے مقدمات کے نتیجے میں جیل بھیج دئیے گئے۔ان کی فراغت کے بعد شاہد خاقان عباسی نے نئے انتخابات تک وزارتِ عظمیٰ چلائی۔ امریکہ سے معاملات سنوانے کی کوشش بھی کی۔ ’’نجی دورے‘‘ کے نام پر امریکہ گئے۔ وہاں عام مسافروں کی طرح ایئرپورٹ پر ہاتھ اٹھاکر تلاشی دی۔ہم نے موصوف کا مذاق اڑایا۔ تاہم وہ امریکی نائب صدر سے ملاقات میں کامیاب ہوگئے۔ ایک سابق امریکی وزیر خارجہ بھی پاکستان آیا۔ اس وزیر خارجہ کی ان دنوں پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف سے واشنگٹن میں ایک ملاقات بھی ہوئی۔پاک-امریکہ تعلقات مگر سنورنہ پائے۔ پھر پاکستان میں نئے انتخابات ہوئے اور عمران خان صاحب وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوگئے۔عمران حکومت کے اقتدار کے فقط چھ ماہ بعد امریکی صدر پاکستان کی تعریف کرنا شروع ہوگیا۔ ہمارے وزیر اعظم کو بہت چائو سے واشنگٹن بلایا گیا۔انہیں مدعو کرنے کی کاوشیں اپریل کے اواخر میں شروع ہوگئی تھیں۔

عمران خان صاحب نے مگر امریکی پیغام بروں کو احساس دلایا کہ وہ ٹرمپ سے ملاقات کے لئے بے چین نہیں ہیں۔ واشنگٹن جولائی تک انتظار کرے۔کئی امریکی سفارت کاروں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ ان کا صدر پاکستانی وزیر اعظم کے Hard to Getرویے کو اپنے لئے Snubشمار کرے گا۔ایسا مگر ہوا نہیں۔ وائٹ ہائوس جولائی میں عمران خان صاحب سے ملاقات کے لئے وقت نکالنے کو مجبور ہوگیا۔ بالآخر 22جولائی کے روز امریکی صدر اور پاکستانی وزیراعظم کی ملاقات ہوگئی۔باقاعدہ مذاکرات سے قبل اس دن امریکی صدر نے ہمارے وزیر اعظم کو دائیں ہاتھ بٹھاکر مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ثالث کا کردار ادا کرنے کا بھی اعلان کردیا۔امریکی صدر کی اہلیہ نے عمران خان صاحب کے ساتھ بہت اشتیاق سے تصویر کھچوائی۔ وزیر اعظم نے واشنگٹن میں مقیم پاکستانیوں کے ایک ہجوم سے تاریخی خطاب بھی کیا۔واشنگٹن سے اسلام آباد لوٹ کر وزیر اعظم صاحب نے اپنے استقبال کے لئے آئے وزراء کو ایئرپورٹ پر بتایا کہ انہیں یوں محسوس ہورہا ہے کہ وہ ایک اور ورلڈکپ جیت کر پاکستان واپس آئے ہیں۔جزئیات سمیت یہ تمہید باندھنے کا مقصد آپ کو احساس دلوانا ہے کہ ہمارے وزیر اعظم کی واشنگٹن میں گرم جوش پذیرائی کا اصل سبب افغانستان تھا۔

ہماری چاپلوسی کا واحد مقصد پاکستان کو اس امرپر آمادہ کرنا تھا کہ وہ افغانستان میںٹرمپ کی ترجیحات اور ٹائم ٹیبل کے مطابق ’’امن‘‘ کی بحالی میں اپنا کردار ادا کرے۔متوقع کردار کو یقینی بنانے کے لئے IMFسے پاکستان کے لئے ایک بیل آئوٹ پیکیج کے اجراء میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی گئی۔ہماری معیشت کی ’’بحالی‘‘ اور ’’استحکام‘‘ کو یقینی بنانے کے لئے IMFنے بلکہ اپنے دو پسندیدہ ماہرینِ معیشت ڈاکٹر حفیظ شیخ اور رضاباقر ہماری حکومت کی ’’نذر‘‘ کئے۔ وزارتِ خزانہ کی کلید ان دنوں شیخ صاحب کے پاس ہے۔ رضاباقر سٹیٹ بینک آف پاکستان کو خودمختار بنائے چلے جارہے ہیں۔

IMFسے بیل آئوٹ پیکیج کے حصول کے بعد ہمیں امید یہ بھی ہے کہ امریکہ اب FATFسے ہماری جان چھڑانے میں مدد گار ہوگا۔ اتوار کی صبح پاکستان میں موصول ہوئے ٹویٹس سے مگر بنیادی پیغام یہ ملا ہے کہ افغانستان کے حوالے سے ٹرمپ نے جو منصوبہ بنارکھا تھا اس کی ترجیحات اور ٹائم ٹیبل کے مطابق پائیہ تکمیل تک نہیں پہنچ رہا۔ افغانستان کے حوالے سے معاملات ’’آنے والی تھاں‘‘ پرواپس آگئے ہیں۔افغانستان کے حوالے سے ٹرمپ کی لگائی گیم اگر اس کی خواہشات کے مطابق طے شدہ اہداف تک نہیں پہنچ رہی تو پاکستان کے بارے میں واشنگٹن میں حال ہی میں دکھائی گرم جوشی بھی برقرار نہیں رہے گی۔ گرم جوشی سردمہری میں تبدیل ہونا شروع ہوجائے تو اسے دیگر حالات میں نظرانداز کیا جاسکتا ہے۔ممکنہ سرد مہری کا اظہار مگر IMFاور FATFکی فیصلہ سازی کے ذریعے ’’سزا‘‘ دیتی نظر آئے تو ہمارے لئے فکر مند ہونا ضروری ہے۔سوشل میڈیا پر چھائے عقلِ کل خواتین وحضرات کی اس تناظر میں بے اعتنائی پر بخدا مجھے رشک آتا ہے۔کاش میں ان جیسا اطمینانِ قلب حاصل کرسکوں۔ اپنی توجہ محترمہ فردوس عاشق اعوان صاحبہ کے فرمودات پر مرکوز رکھوں اور ان فرمودات میں موجود ’’پیغام‘‘ کو سمجھنے کی صلاحیت حاصل کرسکوں۔