محکمانہ جرأت مندی اور وہ بھی پولیس میں- ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

وکیل نے لیڈی کنسٹیبل کو کیوں تھپڑ مارے۔ اس کے خلاف فوری طور پر قانونی کارروائی ہونا چاہئے تھی۔ کیا وکیل انسانی مخلوق سے الگ چیز ہیں اس سے پہلے بھی وکلا کی طرف سے اس طرح غنڈہ گردی اور بدمعاشی کی گئی ہے۔ یہ قانون کے رکھوالے سمجھے جاتے ہیں اور یہی قانون توڑتے ہیں جیسے ان کو قانون توڑنے کا حق حاصل ہے۔ ایسے واقعات اکثر تھانوں میں بھی پیش آتے ہیں۔ خبریں چھپتی ہیں اور کچھ بھی نہیں ہوتا۔ پولیس کے مظالم کے لیے پولیس گردی کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔

تھانہ لڈن میں 50 سالہ خاتون پر تشدد کیا گیا جبکہ ایک نیک دل لیڈی محرر شکیلہ نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ میں اپنی ماں کی عمر کی خاتون پر تشدد نہیں کر سکتی۔ سارے ظالمانہ واقعہ کی پول بھی شکیلہ نے کھولی۔ میں اس بہادر خاتون کو سلام کرتا ہوں۔ شکیلہ نے بتایا کہ جب میں نے تشدد سے انکار کیا تو میرا تمسخر اڑایا گیا۔ اچھے دل والے آر پی او سے خاتون کا طبی معائنہ کرایا گیا اور ظالم پولیس اہلکاروں کو گرفتار کر لیا مگر وہاں اہلکاروں کو پروٹوکول دیا جا رہا ہے۔ اس کا ازالہ کرنا کیا ڈی پی او صاحب کے اختیار میں نہیں ہے۔ آر پی او نے جرأت مندانہ کام کیا۔ اپنے محکمے کے لوگوں کی حمایت نہیں کی۔ پولیس تشدد سے زخمی خاتون کا طبی معائنہ کرایا جس پر اچھے دل والی لیڈی محرر شکیلہ نے بغیر کسی قصور کے گرفتاری دے دی۔ آر پی او صاحب شکیلہ سے تو اچھا سلوک کریں۔ تشدد سے انکار پر پولیس اہلکاروں نے شکیلہ کا مذاق اڑایا۔ ا س واقعے کا پہلے بہادر آر پی او نوٹس لیں۔

٭٭٭٭

بڑے دنوں نے بعد کیپٹن صفدر کی بات سامنے آئی ہے۔ انہوں نے دوسرے سیاستدانوں اور اپنی بیوی مریم نواز سے بھی مختلف بات کی۔ یہ اصل میں پیشین گوئی کی ہے۔ الیکشن ہونے والے ہیں۔

مظلوم کشمیریوں کے لیے نوائے وقت اپنی روایت کے مطابق مسلسل حمایت میں مختلف انداز میں بات کرتا ہے۔ اس سے پہلے بھی ظالموں کے خلاف اور مظلوموں کی حمایت میں ’’نوائے وقت‘‘ نے اپنی اس روایت کو جاری رکھا ہے۔ اب بھی کشمیری مظلوم مسلمانوں کے لیے نوائے وقت کے پہلے صفحے پر نمایاں طور پر اپنی حمایت کا اعلان ہوتا ہے اور یہ سلسلہ کئی دنوں سے جاری ہے۔ یہ الفاظ بھی خاص طور پر لکھے گئے ہیں۔ مظلوم کشمیری مسلمانوں کی حمایت کے لیے نوائے وقت مسلسل حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ مظلوم کشمیریوں کے حالات نازک ہیں اور کشمیری لوگ قربانیاں دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی نوائے وقت کشمیر کے لیے آواز اٹھاتا رہا ہے۔

٭٭٭٭

چودھری نثار ایک اہل اور اہل دل سیاستدان ہیں۔ وہ کم کم بولتے ہیں۔ مگر جب بولتے ہیں تو ڈٹ کر بولتے ہیں۔ انہوں نے مختصر بات کی ہے مگر بڑے کام کی بات کی ہے۔ انہوں نے کہا یہ وقت باہم دست و گریباں ہونے کا نہیں ہے۔ یہ خیال چودھری نثار صاحب کا ہمیشہ کے لیے ہے۔ کبھی کسی وقت ہمیں آپس میں دست و گریباں نہیں ہونا چاہئے۔ باہم افہام و تفہیم سے محبت اور پیار سے تمام مسائل حل کرنا چاہئے۔

چودھری نثار ایک بہادر آدمی ہے۔ انہوں نے کھلم کھلا کبھی کبھی اپنے لیڈر نواز شریف سے بھی اختلاف کیا۔ ڈٹ کر اس کا اظہار کیا اور کسی بات کی پرواہ نہیں کی۔ اس لیے لوگ ان کے دیوانے بھی ہیں۔ لیڈر اس لیے بھی ڈرتے ہیں کہ وہ کہیں ان کی جگہ نہ لے لیں۔ انہوں نے کبھی کسی منصب کے لیے لالچ نہیں کیا اور اس کے لیے کوشش تو بالکل نہیں کی۔ البتہ یہ ہوا کہ لوگ ان کو کئی آفر کرتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں۔

مسلم لیگ میں نمایاں انداز میں رہتے ہوئے کئی لیگی رہنمائوں کو خطرہ ہے کہ وہ عمران خان کی آفر قبول نہ کر لیں۔ یہ بھی بڑی بات ہے کہ وہ ن لیگ کا ایک بڑا لیڈر ہے اور عمران خان کا دوست ہے۔ نواز شریف جس کو پسند ہی نہیں کرتے ایک اور بڑی خوبی چودھری نثار کی ہے کہ کئی جماعتیں ان کی منتظر رہتی ہیں۔

یہ بھی بڑی بات ہے کہ ایک بڑی سیاسی جماعت میں کوئی لیڈر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کرے اور لیڈر خیال رکھے۔ چودھری نثار علی جماعت میں ہیں اس میں یہ بھی ایک بڑی بات ہے کہ چودھری صاحب وفا دار حیا کے آدمی ہیں۔ وہ مسلم لیگ ن میں ہیں اور کئی جماعتیں ان کے لیے تڑپتی ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ جائیں ۔ میں ابھی چودھری صاحب کے لیے کچھ اور بھی لکھنا چاہتا ہوں۔ کسی دوسرے کالم میں اظہار کروں گا۔