قومی ترجیحات- علی معین نوازش

گزشتہ ایک ماہ میں پاکستانی قوم کی یکجہتی، ہمت اور عزم کا اظہار وغیرہ بہت خوش آئند باتیں ہیں، اس سے پاکستان اور پاکستان کے حوالے سے امید بھی مستحکم ہوتی ہے۔ کوئی شک نہیں کہ جس طرح ہم سب بحیثیت ِ قوم کشمیر کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں اور جس طرح ہماری حکومت سے لے کر اداروں تک، سب نے کشمیریوں کے لئے اسٹینڈ لیا ہے، اس طرح کی قومی یکجہتی بہت عرصے بعد دیکھنے کو ملی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہماری حکومت اور دفتر خارجہ کی طرف سے جو کوششیں نظر آئی ہیں، میڈیا نے جس طرح ہر وقت اس ایشو کو اجاگر کیا ہے اور جس طرح ہماری قوم باہر نکلی ہے، یہ سب کچھ بہت قابلِ تعریف ہے۔ ہمارے اسکولوں، کالجز اور یونیورسٹیوں کے اسٹاف اور طلبہ نے بھی بڑھ چڑھ کر اس نیشنل کاز کے لیے آواز بلند کی ہے۔ سفارتی طور پر بھی ہم نے پوری دنیا کو کشمیر کی حقیقت سے روشناس کرایا ہے اور کشمیریوں کی آواز بنے ہیں۔ اس سے واقعی ایسا لگ رہا اور نظر آرہا ہے کہ کشمیر واقعتاً ہماری قومی ترجیح ہے۔

کچھ ناقدین یہ کہتے ہیں کہ یہ سب کرنے کے باوجود بھی ہم کرفیو تو ہٹا نہ سکے اور نہ ہی کشمیریوں کی مدد کر پائے تو اس سب کا کیا فائدہ؟ میں سمجھتا ہوں کہ اگر آج بھی کشمیر میں کرفیو ہے تو اس میں کوتاہی پاکستان کی نہیں بلکہ بین الاقوامی کمیونٹی کی ہے۔ وہ بین الاقوامی کمیونٹی جس نے تجارتی تعلقات کے لیے اپنے ضمیر کی آواز کو دبا دیا ہے۔ اگر کوتاہی ہے تو شاید بھارت میں موجود ہوشمند اور باشعور طبقے کی ہے جس نے مودی اور اس کی شدت پسندانہ سوچ کو بھارت پر حاوی ہونے دیا۔

اگر اس سب معاملے میں پاکستان کی کہیں کوئی کوتاہی غلطی ہے تو وہ یہ کہ ہم نے بھارت سے معیشت، ٹیکنالوجی، تعلیم اور ترقی میں مقابلہ نہیں کیا۔ آپ شاید یہ جان کر حیران ہوں گے کہ 1990تک ہماری معیشت بھارت سے زیادہ مستحکم تھی لیکن پھر بھارت ہم سے بہت آگے نکل گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان نے اپنے ہیومن ریسورسز پہ بھی انویسٹ نہیں کیا۔ آج مائیکرو سافٹ، گوگل اور دیگر کئی اہم اور بڑی امریکی کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو بھارتی ہیں۔ علاوہ ازیں ہم بہت عرصے سے اپنا بیانیہ بین الاقوامی کمیونٹی میں نہیں منوا سکے۔ ہماری قومی ترجیحات ٹھیک نہیں رہیں، افسوس ہوتا ہے کہ جب پاکستانی بھارتی ویزے کے لیے مارے مارے پھرتے ہیں کیونکہ انہوں نے بھارت میں اپنا علاج کرانا ہوتا ہے۔ جب پاکستان میں ہم کڈنی اور لیور انسٹیٹیوٹ جیسے ادارے بناتے ہیں تاکہ پاکستانیوں کو انڈیا نہ جانا پڑے تو ان کا حشر کیا ہوتا ہے، وہ آپ سب کے سامنے ہے۔ تو ایسے میں سوال یہ ہے کہ پاکستان اب یہاں سے آگے کہاں جائے؟

اگر پچھلے کچھ دنوں نے کوئی بات ثابت کی ہے تو وہ یہ کہ اگر ہم سب اپنی توانائیاں صحیح ترجیحات پر صرف کریں تو ہم متحد بھی رہیں گے اور بہت اچھے کام بھی کر سکیں گے جن کے مثبت نتائج سےسبھی مستفید ہوں گے۔ یہی جذبہ اور صلاحیت جو ہم کشمیر کے لئے استعمال کر رہے ہیں اور ان شاء اللہ کرتے رہیں گے، بہت ضروری ہے کہ ہم دیگر معاملات میں بھی بروئے کار لائیں اور ان کو بھی اسی طرح کی قومی ترجیح بنائیں۔ ان میں سرفہرست تعلیم بالخصوص سائنس و ٹیکنالوجی کی تعلیم کا معاملہ ہے۔ یہ وہ شعبہ ہے جس میں ہم بہت پیچھے رہ گئے ہیں اور ہماری آدھی سے زیادہ آبادی کو یا تو سرے سے تعلیم ملتی ہی نہیں ہے یا اگر ملتی ہے تو غیر معیاری تعلیم ملتی ہے۔ آنے والے دنوں میں تعلیم بالخصوص سائنس و ٹیکنالوجی کی اہمیت مزید بڑھ جائے گی کیونکہ ہم ایک نالج اکانومی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اگر ہمارے لوگ تعلیم یافتہ نہیں ہوں گے تو چھوٹے سے چھوٹا کام کرنا بھی ان کے لئے مشکل ہو جائے گا۔ یہ پاکستان اور پاکستانیوں کے لیے شاید مستقبل کا اہم ترین مسئلہ ہے لیکن ابھی تک یہ ہماری قومی ترجیح نہیں ہے۔ دوسرا اہم مسئلہ صحت کا ہے جس طرح میں نے کہا کہ ایسی صورتحال ہمارے لیے باعث شرمندگی ہونا چاہئے کہ علاج کے حصول کے لیے پاکستانی بھارتی ویزے کے لیے مارے مارے پھر رہے ہوں۔ تیسرا اہم مسئلہ معیشت کا ہے جو پچھلے ایک سال سے ہماری بہت اہم قومی ترجیح بنی ہوئی ہے اور شاید ہم نے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ اسے مستحکم بنانا بہت ضروری ہے البتہ اکنامک ریفارمز کو عملی جامہ پہنانا آسان کام نہیں۔ ہمارا قومی اتحاد معیشت کو ٹھیک اور معاشی ڈھانچہ درست کرنے کے لئے بھی درکار ہے۔

سچی بات یہ ہے کہ پاکستان کے مسائل بڑے ہیں اور ان کو حل کرنے کے لیے تمام لوگوں کا ایک صفحے پر آنا بہت اہم ہے۔ اگر ہم ان تین بنیادی مسائل کو اپنی قومی ترجیح بنائیں تو ہم اپنی حقیقی منزل کے بہت قریب پہنچ سکتے ہیں۔ ہمارے اندر ان کو حل کرنے کی پوری صلاحیت ہے۔ ہم جس طرح کشمیر کے لیے اکٹھے ہوئے یا جس طرح دہشت گردی کے خلاف بحیثیت ِ قوم ڈٹ گئے، اس سے ہماری بھرپور صلاحیت کا اندازہ ہوتا ہے، صرف ترجیحات کو درست کرنا باقی ہے۔